Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Wednesday, April 8, 2026

!ایک واقعہ جس نے سوچ بدل دی


 !ایک واقعہ جس نے سوچ بدل دی

ایک دن فجر کی نماز پڑھ کر نکلا تو ایک مسجد سے فوتگی کا اعلان ہوا۔ موسم خراب تھا اور مسجد کے سپیکر میں بھی شاید کوئی خرابی تھی، اس لیے اعلان پوری طرح سمجھ نہ آ سکا۔ ابھی گھر نہیں پہنچا تھا کہ واٹس ایپ پر میسج ملا۔ نام پڑھ کر دل بہت رنجیدہ ہو گیا۔

چونکہ شوگر کی وجہ سے اکثر صبح سویرے بھوک محسوس ہوتی ہے، اس لیے چائے کے ساتھ ایک کیک رس لیا اور پیدل ہی فوتگی والے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور موسم کافی سرد تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو گھر کے باہر دس بارہ لوگ کھڑے تھے، جن میں سے اکثر محلے دار تھے۔

میت دوسرے شہر سے دیر رات پہنچی تھی۔ میں نے غور کیا کہ تمام مرد مہمان باہر ہی کھڑے تھے۔ مجھے بہت افسوس ہوا کہ اتنا بڑا محلہ ہونے کے باوجود کسی نے اس غمزدہ گھر کا سہارا بننے کے لیے اپنی بیٹھک پیش نہیں کی تھی۔

میں نے مرحوم کے بیٹے سے اجازت لی اور اپنے ایک ٹینٹ سروس والے دوست کو فون کیا۔ اللہ اسے جزا دے، اس نے آدھے گھنٹے میں مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ ٹینٹ اور دری کا انتظام کر دیا۔

:کرنے کے کام
خبر ملتے ہی اس دن کی اپنی غیر ضروری مصروفیات ترک کر دیں۔

فوراً اہل خانہ کے ہمراہ جائیں تاکہ آپ مردوں کو اور آپ کی اہلیہ خواتین کو دلاسہ دے سکیں۔

تعزیتی الفاظ کے بعد کہیں: "میں حاضر ہوں، کوئی بھی خدمت میرے ذمہ لگا دیں۔"

گھر کے باہر صفائی اور چارپائیوں کا انتظام کرنے میں مدد کریں۔

پینے کے پانی کا کولر اور گلاس مناسب جگہ پر رکھیں۔

اگر فوتیگی رات کو ہوئی ہو تو صبح اپنے گھر سے چائے اور ناشتے کا انتظام کر کے لواحقین کی مدد کریں۔

چائے بناتے ہوئے کچھ مقدار بغیر چینی کے بھی نکال لیں (شوگر کے مریضوں کے لیے)۔

خواتین کے لیے پردے میں بیٹھ کر چائے پینے کا انتظام کریں۔

گرمیوں میں برف اور سردیوں میں بیٹھک یا ٹینٹ کا انتظام کریں۔

گھر میں چھوٹے بچوں کے لیے دودھ وغیرہ کا خیال رکھیں۔

اگر گھر میں کوئی دائمی مریض ہو تو اسے وقت پر کھانا یا دوائی پہنچائیں۔

گھر کے پالتو جانوروں کی خوراک کا بندوبست کریں۔

مسجد میں اعلانات کروانے میں لواحقین کا ہاتھ بٹائیں۔

گنجائش کے مطابق خاموشی سے مالی امداد یا "قرضِ حسنہ" پیش کریں۔

میت لے جانے کے بعد باہر پڑے سامان (پنکھے، کرسیاں) کی حفاظت کے لیے کسی کو بٹھا دیں۔

تدفین کے مراحل میں بھرپور حصہ لیں اور نڈھال لواحقین کو سہارا دیں۔

قبرستان میں تدفین کے وقت آنے والوں کے لیے پانی کا انتظام رکھیں۔

قبر کھودنے والوں کے لیے چائے پانی کا خیال رکھیں۔

تدفین کے بعد جب مہمان چلے جائیں تو ادھار لی گئی چارپائیاں اور سامان واپس پہنچانے میں مدد کریں۔

تین دن تک مختلف اوقات میں جا کر دلجوئی کرتے رہیں۔

میت والے گھر میں کھانے سے گریز کریں بلکہ اپنے گھر سے کھا کر جائیں۔

اگر آپ کے ہاں کوئی خوشی کی تقریب ہو تو اسے سادہ رکھیں یا جنازے تک ملتوی کر دیں۔

اپنی ذات سے جتنا ممکن ہو اس گھر کو سکون پہنچائیں۔

No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages