Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Friday, September 18, 2026

سرکاری دفتر: جنت کا دروازہ | طارق بلال لیل | ہماری ڈائجسٹ

 سرکاری دفتر:   جنت کا دروازہ

: سرکاری دفتر کے اندر فائلیں لیے پریشان کھڑا شہری اور ڈیسک پر چائے پیتا افسر

طارق بلال لیل

کہتے ہیں جنت کا دروازہ کھٹکھٹانے سے کھلتا ہے۔ لیکن میں نے آج سرکاری دفتر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو پتہ چلا جنت تک پہنچنے سے پہلے برزخ سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور وہ برزخ کا نام ہے "کل آنا"۔ کام تھا صرف ایک دستخط کا۔ سوچا 10 منٹ کا کام ہے۔ گھر سے وضو کر کے نکلا، نیت کی کہ آج کوئی نیکی کروں گا۔

دفتر 9 بجے کھلتا ہے۔ میں 8:45 پر پہنچ گیا تاکہ پہلے نمبر پر لگوں۔ چوکیدار نے گیٹ پر روک کر کہا "سر 10 بجے آئیں گے"۔ میں نے کہا بھائی بورڈ پر 9 بجے لکھا ہے۔ وہ مسکرایا اور بولا "بورڈ انگریزی میں ہے، وقت اردو میں چلتا ہے"۔

خیر 10 بجے اندر گیا تو پتہ چلا صاحب چائے پی رہے ہیں۔ چائے کے بعد اخبار پڑھیں گے۔ اخبار کے بعد فون آئے گا۔ فون کے بعد میٹنگ ہے۔ میٹنگ کے بعد ظہر ہے۔ ظہر کے بعد طبیعت ناساز ہے۔ میں نے پوچھا بھائی کام کب ہوگا؟ جواب ملا "فائل جمع کروا دیں"۔

فائل کہاں جمع ہوگی؟ "کمرہ نمبر 4"۔ کمرہ نمبر 4 گیا تو وہاں تالا لگا تھا۔ باہر چوکیدار سویا ہوا تھا۔ اسے جگایا تو بولا "وہ صاحب تو حج پر گئے ہیں"۔ میں نے کہا کاغذ پر تو آج کی تاریخ ہے۔ بولا "تاریخ غلط پرنٹ ہو گئی ہے"۔

دوسرے کمرے گیا تو وہاں 3 بندے لائن میں کھڑے تھے۔ پوچھا کیا مسئلہ ہے؟ ایک بولا میرا پینشن کا کیس ہے 2 سال سے۔ دوسرا بولا میری زمین کا انتقال ہے 5 سال سے۔ تیسرا بولا میں تو بس چکر لگانے آیا ہوں، عادت پڑ گئی ہے۔ میں نے کہا یار ایک دستخط چاہیے۔ وہ تینوں ہنس پڑے اور بولے "بیٹا دستخط سستے نہیں ہوتے، قیمت چکانی پڑتی ہے"۔ میں نے کہا قیمت کیا ہے؟ بولے "صبر کی"۔


دن کے 2 بج گئے۔ بھوک لگ آئی۔ کینٹین گیا تو سموسہ 50 روپے کا اور چائے 90 روپے کی۔ پوچھا اتنی مہنگی کیوں؟ بولا "سرکاری ریٹ ہے"۔

واپس آیا تو پتہ چلا صاحب لنچ پر گئے ہیں۔ سیکرٹری نے کہا "آپ فارم فل کریں"۔ فارم لیا تو 8 صفحے کا تھا۔ نام، پتہ، والد کا نام، دادا کا نام، نانا کا نام، مرغی کا نام۔ سب فل کیا۔ آخر میں لکھا تھا "گواہ کے دستخط"۔ میں نے کہا گواہ کون؟ بولا "جو بندہ آپ کو جانتا ہی نہ ہو"۔

شام 4 بجے صاحب تشریف لائے۔ فائل دیکھی اور بولے "اس پر فلاں کا نو سی نہیں لگا"۔ میں نے کہا وہ کون ہے؟ بولے "کمرہ نمبر 13"۔ کمرہ نمبر 13 گیا تو وہاں بورڈ لگا تھا "اس کمرے کو کمرہ نمبر 9 میں شفٹ کر دیا گیا ہے"۔ کمرہ نمبر 9 گیا تو وہاں صفائی ہو رہی تھی۔ مالی نے کہا "صاحب تو ریٹائر ہو گئے"۔

میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا یا اللہ مجھے معاف کر دے۔ میں جنت نہیں مانگتا، بس اپنا کام کرا دے۔ گھر آیا تو بیوی نے پوچھا کیا بنا؟ میں نے کہا "اللہ کا شکر ہے زندہ واپس آ گیا ہوں"۔

اگلے دن پھر جانا ہے۔ کیونکہ سرکاری کہاوت ہے "کام آج نہیں ہوا تو کل سہی، کل نہیں ہوا تو پرسوں سہی، پرسوں نہیں ہوا تو پھر کبھی سہی"۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ سسٹم خراب ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب اس سسٹم کے عادی ہو گئے ہیں۔ رشوت نہیں دیں گے تو کام نہیں ہوگا، کام نہیں ہوگا تو مجبوراً دینی پڑے گی۔ پھر کہتے ہیں قوم ترقی کیوں نہیں کرتی۔ بھائی جس قوم کا ایک دستخط 7 دن میں نہ ہو، وہ ملک چاند پر کیا خاک جائے گا۔

خدارا! سرکاری دفاتر کو جنت کا دروازہ نہ بنائیں۔ اسے عوام کی خدمت گاہ بنائیں۔ ورنہ یاد رکھیں، جس دن عوام تنگ آ گئی، اس دن یہ دروازے خود ٹوٹ جائیں گے۔

No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages