انعامِ اخروی
تحریر: صغیر جعفری
ہر ذی شعور انسان اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ ہماری یہ زندگی عارضی ہے۔ ہر ذی روح کو فنا ہے سوائے حی و قیوم اللہ تعالیٰ ذوالجلال والاکرام کے:
"کل من علیھا فان و یبقی رب ذوالجلال والاکرام" (سورة الرحمن)
جب ہم اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں تو پھر ہمیں آخرت کی فکر سب سے پہلے کرنی ضروری ہے۔ ہمیں تھوڑا سا سفر کرنا ہو اس کے لیے اسباب مہیا کرتے ہیں، اہتمامِ ضروریہ کے ساتھ سفر شروع کرتے ہیں اور ہماری واپسی بھی اسی اہتمام کے ساتھ ہوتی ہے۔ تھوڑے سے عارضی سفر کی واپسی تک کے انتظام تو ہم کرتے ہیں، تو کیا ہم سفرِ آخرت جس سے واپسی بھی ممکن نہیں ہے، اس کی تیاری بھی اسی اہتمام کے ساتھ کر رہے ہیں جیسے دنیاوی سفر کی کرتے ہیں؟ یہ صرف سوچنے کی نہیں بلکہ اس سفر کی تیاری اعمالِ صالح کے ساتھ عمل کرنے کی ہے۔
اور جو بھی اس دنیا میں اچھے عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس جہان کے ساتھ آخرت میں بھی انعام عطا فرمائیں گے:
"من عمل صالحا من ذکر او انثی و ھوا مومن فلیحیینہ حیات الطیبہ"
ترجمہ: خواہ مرد ہو یا عورت جو بھی ہو وہ نیک عمل کرے گا تو اسے اس دنیا میں پاکیزہ زندگی اور آخرت میں بہترین اجر دیں گے۔
اس دنیا میں تو ہم مومن کی زندگی دیکھ رہے ہوتے ہیں مگر آخرت کی دنیا کے انعامات ہم دیکھنے سے قاصر ہیں، تو ہمیں اللہ تعالیٰ ان کی اخروی زندگی کی جھلک یوں بھی دکھاتے ہیں کہ ان انعام یافتہ ہستیوں کے اجسام کی حفاظت ان کی قبور میں فرماتے ہیں۔ ان کی وفات کے کئی سالوں بعد بارشوں کا پانی قبور میں آنے کے بعد جب قبور کھلتی ہیں تو ان کا جسم ترو تازہ ہوتا ہے اور کفن تک میلا نہیں ہوتا۔
ع۔ محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا صلی اللہ علیہ والہ وسلم
اس قحط الرجال کے دور میں انسان اپنی معاشی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ہمہ وقت حتی المقدور مسلسل محنت اور کوشش میں مصروف ہے۔ اپنی بے پناہ مصروفیات اور معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے اللہ تعالیٰ کے احکامات اور فرائض کی ادائیگی میں کمی و کوتاہی کا شکار ہے مگر اللہ تعالیٰ ہماری کوتاہیوں کو نظر انداز فرما کر ہمارے رزق میں کمی نہیں فرماتے۔
اپنے نیک بندوں کو اس دنیا میں اور آخرت میں بھی اس کا بہترین اجر فرماتے ہیں اور ہم دنیا کے لوگوں کو دنیا میں جو اجر عطا فرماتے ہیں تو ہماری عاقبت کو بہتر فرمانے کے لیے معجزات بھی دکھاتے ہیں جیسے کہ ابھی میں نے عرض کیا کہ:
محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا صلی اللہ علیہ والہ وسلم
کچھ عرصہ پہلے سعودی عرب میں زور دار بارش کے بعد پانی شہدائے احد کی قبور میں داخل ہو گیا۔ جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قبور میں سے ان کے اجسام کو نکالا گیا تو وہ بالکل ترو و تازہ تھے۔
آج بھی اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے معجزے دکھاتے ہیں۔ ایسا ہی معجزہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دکھایا ہمارے چک 119 ای بی تھانہ احمد یار میں۔ ہم سب کے پیارے بھائی ملک نعیم صادق، ملک میجر ندیم صادق کے چھوٹے بھائی کو عین جوانی میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس بلا لیا، جس کا ہر ایک کو دکھ ہے۔
ہمارے قدیمی قبرستان ٹبہ نیک پاک میں ان کی قبر کے لیے کھدائی کی گئی۔ جب پانچ فٹ گہری کھدائی کی گئی تو نیچے سے ایک اور قبر نکل آئی۔ یہ قبر کچی تھی مگر اس کی لحد جو پہلے ترچھی بنائی جاتی تھی جسے سامی والی قبر کہا جاتا تھا، اس لحد کو کور (cover) کرنے کے لیے پختہ اینٹیں لگائی جاتی تھیں۔ یہ پختہ اینٹیں خریدی نہیں جاتی تھیں (کیونکہ ٹبہ نیک پاک ایک قدیمی شہر کی باقیات میں سے ہے، جب زور کی بارش ہوتی تھی تو ٹبہ کی زمین سے مٹی کے برتن اور سکے نکلتے جو تانبے کے تھے، ان سکوں کی ایک سائیڈ پر کلمہ طیبہ اور دوسری سائیڈ پر سلطان محمد فاتح کا نام کندہ تھا۔ محکمہ آثارِ قدیمہ نے یہاں سے نکلنے والے مٹی کے برتن اور سکے ہڑپہ میوزیم میں محفوظ کیے ہوئے ہیں)۔
جب کسی کی ان اینٹوں پر کلہاڑی یا اوزار لگا تو وہ اینٹیں اکھڑ گئیں۔ اینٹیں اکھڑنے سے اس قدیمی قبر میں سے خوشبو آنے لگی اور وہاں کی فضا خوشبو سے معطر ہو کر چار سو پھیل گئی۔ جب اینٹوں کو ہٹا کر دیکھا گیا تو میت کا کفن بالکل تازہ تھا، کفن کے دونوں بند بندھے ہوئے تھے جس سے پتا چلا کہ یہ کسی عورت کی میت ہے۔ پھر فاتحہ شریف پڑھ کر اس قبر کو بند کر دیا گیا اور بھائی ندیم صادق کے لیے نئی قبر کھودی گئی۔ جتنی دیر نئی قبر کھودنے اور قبر کی تیاری میں لگی، اس سارے وقت میں قدیمی قبر سے نکلنے والی خوشبو مسلسل آتی رہی۔
"بڑے بزرگوں کو بھی علم نہیں تھا کہ یہ قبر کس بہشتی خاتون کی ہے۔ اندازے کے مطابق یہ قبر پچاس سال پہلے کی قبر ہے…"
سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ دکھا کر ہمیں یہ سبق سکھایا ہے کہ اللہ اپنے نیک بندوں کو دنیا و آخرت میں کتنا خوبصورت اور شاندار اجر و انعام عطا فرماتے ہیں۔
#hamaridigest #hamaridigestdigital #InameAkhrawi #SagheerJafri #IslamicArticle

No comments:
Post a Comment