Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Friday, September 18, 2026

لفظوں کا استعمال | اردو کالم | ڈاکٹر شاہد ایم شاہد | ہماری ڈائجسٹ

لفظوں کا استعمال

تحریر: ڈاکٹر شاہد ایم شاہد (اردو کالم)


: لفظوں کا استعمال اور انداز گفتگو کی اہمیت پر ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کا اردو کالم

ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں قریباً سات سے اٹھ ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان میں قریباً 7139 زبانیں زندہ ہیں، جبکہ ایک ہزار زبانیں ایسی ہیں جنہیں لسانی اور دیگر خطرات لاحق ہیں اور ان کی معنویت کھونے کا خدشہ موجود ہے۔

دنیا میں امریکہ، چین، بھارت اور انڈونیشیا جیسے بے شمار ممالک ہیں جہاں سینکڑوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ہر زبان کا اپنا لب و لہجہ، تاثیری رنگ، مٹھاس، کشش اور اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ زبانیں اپنے اندر الفاظ، جملے، ترکیبیں، محاورے، مرکبات، امثال، اور نثری و شاعری تاثیر رکھتی ہیں۔

انسان، زبان اور تہذیبی معمولات

انسان روزمرہ زندگی میں جس بھی خطے کا باسی ہو، وہ اس کی زبان، ثقافت اور تہذیب کو اپنا کر زندگی کے معمولات سرانجام دیتا ہے۔ انسان اپنی زبان سے ہزاروں الفاظ، سینکڑوں جملے اور کئی ایسے محاورے کہتا ہے جن کی اثر انگیزی دوسروں کے اذہان و قلوب تک رسائی کے ساتھ ساتھ فضا میں بھی اپنا تاثر قائم کرتی ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں اربوں لوگ اپنی زبان سے گفت و شنید کرتے ہیں، ایک دوسرے تک اپنے احساسات و جذبات منتقل کرتے ہیں اور پیشہ ورانہ سرگرمیاں فروغ دیتے ہیں۔

"مثلاً اگر کوئی استاد ہے تو وہ طلبہ کو درس و تدریس سے مستفید کرے گا، اور اگر کوئی وکالت کے شعبے سے منسلک ہے تو وہ حق و سچ کی جنگ لڑنے کے لیے دلائل اور اسباب کا بھرپور استعمال کرے گا۔"

لفظ اپنے اندر مثبت تاثیر بھی رکھتے ہیں اور کانٹوں کی چبھن جیسا مزاج بھی۔ جب یہ ہماری زبان سے صادر ہوتے ہیں تو دوسروں کی شخصیت پر خاص تاثر چھوڑتے ہیں۔ الفاظ کا استعمال، چناؤ، ادائیگی اور لب و لہجہ متاثر کن ہونا چاہیے تاکہ شخصیت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں، مبادا ان کی اثر انگیزی کڑواہٹ میں تبدیل ہو کر بدظن کر دے۔

انسان کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو اس کا اندازِ گفتگو ہے، جس سے اس کے تصورات، تجربے اور مشاہدے کی جھلک نظر آتی ہے۔ اگر انسان مثبت سوچ کا پیروکار ہے تو قدرت اس کا ساتھ دیتی ہے، فہم و فراست عطا کرتی ہے اور خوابوں کی تعبیر کے دروازے کھولتی ہے۔

عموماً انسانوں کے اندر اس وقت تکلیف کا احساس بڑھتا ہے جب الفاظ کا استعمال منفی طور پر کیا جاتا ہے۔ دنیا کی ہر زبان میں ایسے الفاظ رائج ہیں جو اپنے اندر زندگی کا احساس بھی رکھتے ہیں اور موت کا تصور بھی۔

انسان کی گفتگو جتنی زیادہ سحر انگیز ہوگی، وہ اپنی طاقت سے قلب و ذہن کو اسی قدر خوشگوار رکھے گی اور دوسروں کو ان کی قدر و قیمت کا احساس مہیا کرے گی۔ ایک ان پڑھ اور تعلیم و تربیت یافتہ انسان کے درمیان یہی فاصلے اور حدیں ہیں جو اسے مقبول بھی بناتے ہیں اور رد کیے جانے کا احساس بھی فراہم کرتے ہیں۔

کیا کبھی ہم نے اپنی زندگی پر غور و خوض کیا ہے کہ ہمارے ارد گرد کیا ہو رہا ہے؟ ہماری زبان، ثقافت اور تہذیب کس طرح اپنے گہرے نقوش مرتب کرتی ہے؟ اس خلاء کو پر کرنے کے لیے ہر والدین کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو شگفتہ بیانی سکھائیں۔ ان کی شخصیت کے اندر ایک ایسی روح داخل کریں جو زبان اور کردار کے حوالے سے ان کی خاص رہنمائی کرے۔

اسی حقیقت کی تلاش میں ہر والدین ایک ایسے ماحول کو ڈھونڈتا ہے جہاں بازاری گفتگو کا تصور نہ ہو بلکہ علم و ادب کا گہرا احساس اور پرچار ہو جو جسم و روح پر اپنائیت اور خوشیوں کو فروغ دے۔

معاشرتی ہم آہنگی اور لفظوں کا درست انتخاب

روزمرہ زندگی میں اگر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور قدروں کو فروغ دینا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے لفظوں کا استعمال اس انداز سے کرنا چاہیے تاکہ جب وہ دوسروں کے کانوں سے ٹکرائیں تو انہیں خوشگواری، ہمدردی اور پیار کا احساس فراہم کریں۔

اس سے نہ صرف زندگی مستحکم ہوگی بلکہ معاشرے پر بھی قائل کرنے کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے، ہم آہنگی پیدا ہوگی اور اطمینان کی فضا قائم ہوگی۔ چنانچہ یہ کہنا حق بجانب ہے کہ لفظوں کا استعمال روح کو خوشی بھی فراہم کر سکتا ہے اور غم کے بادلوں کی تاریکی سے بھی بھر سکتا ہے۔

No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages