ٹوکیو کی گھڑی وار زندگی سے جب جی گھبرایا، تو روح نے کسی ایسی جگہ پناہ مانگی جہاں قہقہے بلند ہوں اور جہاں وقت تھم سا جائے۔ پھر کیا تھا، گولڈن ویک اینڈ پہ پانچ سہیلیوں کا قافلہ نکلا اور جاپان کے زندہ دل شہر اوساکا کے رنگوں میں رنگ گیا۔
کبھی نارا کے با ادب ہرنوں سے اپنی جان بچائی، تو کبھی کیوٹو کی سحر انگیز خاموشی میں خود کو تلاش کیا۔اوساکا کا وہ اسٹریٹ فوڈ، شنکانسن کی وہ برق رفتار مسافت اور ان سب کے بیچ چھپی وہ شرارتیں، جنہوں نے اس سفر کو ایک لازوال داستان بنا دیا۔
! حاضرِ خدمت ہے اس جادوئی سفر کی پہلی باقاعدہ قسط۔
قسط اول: اوساکا کی پہلی رات
جاپان میں جب 'گولڈن ویک' کی دستک سنائی دیتی ہے، تو فضاؤں میں چھٹیوں کا ایک ایسا جادو رچ جاتا ہے کہ ٹوکیو کی مشینی زندگی کی گھڑیاں تھم سی جاتی ہیں۔ یہ صرف چند دنوں کی چھٹیاں نہیں ہوتیں، بلکہ ہر اس انسان کے لیے ایک 'پروانہِ فرار' ہوتا ہے جو فائلیں بند کر کے زندگی کو اس کے اصل رنگوں میں دیکھنا چاہتا ہے۔
جاپان میں اپریل کے آخر اور مئی کے پہلے ہفتے میں چار قومی تعطیلات ایک ساتھ آتی ہیں۔ ان چھٹیوں کے اس سلسلے کو جاپانیوں نے گولڈن ویک کا نام دیا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب پورا جاپان کام کا بوجھ اتار کر سڑکوں، ٹرینوں اور ہوائی اڈوں کی راہ پہ نکل پڑتا ہے۔
ہماری میز پر بھی جب مئی کے اس سنہری ہفتے کا کیلنڈر کھلا، تو ہماری نفاست پسند طبیعت نے ایک انگڑائی لی۔
ٹوکیو کا نظم و ضبط اب آنکھوں کو کھٹکنے لگا تھا۔ ہم نے اپنی پانچ سہیلیوں کی طرف دیکھا، جن کی آنکھوں میں اسی فرار کی تڑپ تھی جو ہمارے دل کا حال تھا۔ وہاں ایک شورِ برپا ہوا، بس پھر کیا تھا، نقشے پھیلا دیے گئے اور بحث چھڑ گئی کہ کہاں جایا جائے؟
کوئی ہکاڈو (Hokkaido) کی برف پوش چوٹیوں کا قائل تھا، تو کوئی اوکیناوا (Okinawa) کے ساحلوں کا اسیر۔ مگر ہم نے جب 'اوساکا' کا نام لیا، تو جیسے سب کے دلوں کی دھڑکنیں ایک ہی تال پر بجنے لگیں۔ وہ شہر جو زندہ دلی، تاریخ اور ذائقوں کا مرکز ہے۔ جہاں کی فضاؤں میں نفاست کا ایک قدیم لمس اور زندگی کی شوخی کا وہ سحر انگیز امتزاج ہے جو مسافر کو کسی مسحور کن داستان میں جکڑ لیتا ہے۔
ایک طویل بیٹھک لگی، ہر شے کو ایک ترتیب دی گئی۔ جس میں ٹوکیو سے اوساکا تک کی شنکانسن (بلٹ ٹرین) کی ٹکٹوں کی بکنگ سے لے کر، نارا کے ہرنوں سے ملاقات اور کیوٹو کے بانسوں کے جنگل میں بھٹکنے تک کے تمام منصوبے کاغذ پر قلم بند کئے گئے۔
مصروف دن گزار کر رات کے پرسکون لمحوں میں اپنے بنائے گئے منصوبہ پہ تھوڑی روشنی ڈالتے ہوئے ہم نے اپنی ڈائری میں لکھا:
"یہ سفر صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ تک کی مسافت نہیں، بلکہ یہ تو روح کی تازگی کا ایک بہانہ ہے۔"
اور پھر وہ جمعہ کی شام آئی، جب ٹوکیو اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر ہم نے اس سفر کا آغاز کیا جو اب ہمارے حافظے کا سب سے روشن باب بن چکا ہے۔
ٹوکیو کی وہ شام کسی اداس افسانے کے آخری ورق جیسی تھی۔ جب ڈھلتے ہوئے سورج نے بلند و بالا عمارتوں کے شیش محلوں پر اپنی نارنجی رنگت بکھیری، تو ہمارے اندر ایک بغاوت نے سر اٹھایا۔ یہ شہر، جو اپنی گھڑی کی سوئیوں پر چلتا ہے، اب ہمیں تھکا رہا تھا۔ اس کے پرفیکٹ ہونے کا رعب ہمارے اعصاب پر سوار تھا اور ہم بس اس انتظار میں تھے کہ کب اس نظم و ضبط کے حصار کو توڑ کر کسی ایسی سمت نکل جائیں جہاں زندگی اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ بکھری ہوئی ہو۔
ٹوکیو اسٹیشن پر جب ہم شنکانسن کے پلیٹ فارم پر کھڑے تھے، تو ہوا میں تازہ بھنی ہوئی کافی اور جاپانی سوپ (Ramen) کی ایک ایسی مہک رچی بسی تھی جو مسافروں کو الوداع کہہ رہی تھی۔
شنکانسن کیا تھی، وقت کے سینے پر دوڑتی ہوئی ایک سیمابی لکیر!
جیسے ہی وہ سفید براق ٹرین پلیٹ فارم پر رکی، ہمارے سوار ہوتے ہی ٹرین نے رفتار پکڑلی، ٹوکیو کی روشنیاں ایک دھندلی لکیر بن کر پیچھے رہ گئیں۔ کھڑکی سے باہر اندھیرا تھا، مگر ٹرین کے اندر ہماری گفتگو کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ ڈھائی گھنٹے کی یہ مسافت کسی خواب کی طرح گزری۔
جب شِن اوساکا اسٹیشن پر قدم رکھا، تو پہلی چیز جس نے ہمارا استقبال کیا، وہ وہاں کی ہوا کی تمازت تھی۔
اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی ہم اس شہر کے مرکز ڈوٹونبوری (Dotonbori) پہنچے، جو اپنی رنگین نیون لائٹس اور دیو قامت اشتہارات کے لیے مشہور ہے۔
ڈوٹونبوری کی اس رنگین اور جگمگاتی رات میں، جہاں ہر طرف سے اٹھتی ہوئی اشتہا انگیز خوشبوئیں انسانی حواس کو مفلوج کر رہی تھیں، ہم ایک مشہور 'ٹاکویاکی' اسٹال کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔
بھاپ اڑاتے وہ سنہری گولے، جن کے اندر آکٹوپس کے ٹکڑے کسی پوشیدہ راز کی طرح چھپے ہوئے تھے، میری سہیلیوں کے لیے کسی آسمانی نعمت سے کم نہ تھے۔ انہوں نے تو آؤ دیکھا نہ تاؤ، گرم گرم بالز پر ایسے حملے کیے کہ جاپانی دکاندار بھی اپنی روایتی سنجیدگی بھول کر انہیں حیرت سے دیکھنے لگا۔
ایک سہیلی نے آکٹوپس کا وہ 'مشکوک' لقمہ ہمارے بالکل ناک کے پاس لا کر لہرایا اور بڑے ہی اصرار سے کہا،
"علینہ! کھاؤ نا، خدا کی قسم بہت ذائقہ دار ہیں،"
ہم نے ان لجلجے سے آکٹوپس کے ٹکڑوں کو دیکھا، جو گرمی سے یوں ہل رہے تھے جیسے ابھی زندہ ہو جائیں گے۔
ہم نے ایک گہری، فلسفیانہ سانس لی، اپنے لباس کی شکنیں درست کیں اور ان لڑکیوں کی طرف ایک ایسی نگاہِ غلط انداز ڈالی جو ایک شہزادی اپنی کنیزوں کی نادانی پر ڈالتی ہے۔
اور دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوئے:
"اے نفسِ نفیس! دیکھ رہی ہو ان سادہ لوح لڑکیوں کو؟ انہیں لگتا ہے کہ ہم، جو گلاب کے عرق اور کیوڑے کی خوشبوؤں کے پروردہ ہیں،
اس 'نامعلوم' سمندری مخلوق کو اپنے حلق کے نیچے اتاریں گے؟
"ہم"، جن کا ذائقہ نفاست کی بھٹی میں تپ کر کندن ہوا ہے، کیا اب اس لجلجی سی شے سے اپنی زبان ناپاک کریں گے؟
توبہ ہے، استغفار ہے!"
ہماری نفاست تو وہ نازک آبگینہ ہے جو کسی غیر حلال خوشبو کے تصور ہی سے کرچی کرچی ہو جائے۔"
ہم نے ان کی طرف ایک ترس آمیز نگاہ ڈالی اور بڑے ہی شاہانہ تمکنت سے گویا ہوئے:
"بی بی! یہ جو تم بڑے شوق سے مچھلی کے کسی دور پار کے کزن کو ہڑپ کر رہی ہو، اسے تم ہی مبارک رکھو۔ ہم ان لقموں کو چھو کر اپنی انگلیوں کی پوروں کو بھی گناہ گار نہیں کرنا چاہتے۔"
لو جی! علینہ کے اندر کی 'مغل شہزادی' جاگ گئی ہے،"
ایک سہیلی نے وہی لجلجے آکٹوپس کا ایک ٹکڑا ہوا میں لہرا کر منہ میں فٹ کرتے ہوئے کہا۔
ہم نے مسکرا کر اپنی آنکھیں بند کر لیں اور سوچا:
"کاش یہ لڑکیاں جان پاتیں کہ "ہم" کس مٹی کے بنے ہیں۔ ہماری بھوک پیاس بھی نفاست و نزاکت کی محتاج ہے۔ ہم بھوکے رہنا تو قبول کر سکتے ہیں، مگر اپنی اس شاہانہ طبیعت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ آخر کو "ہماری ڈائجسٹ" کی ایڈیٹر ہونا کوئی مذاق تو نہیں، جہاں ہر لفظ نفاست کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے، وہاں لقمہ کیسے بے احتیاطی سے لے لیا جائے؟"
ہم نے اپنی بھوک کو مخاطب کر کے دھیرے سے کہا:
"صبر کر اے شکمِ ناتواں! تجھے اس شہرِ کفر میں کچھ ایسا ہی کھلائیں گے جو تیری نفاست کے معیار پر پورا اترے، چاہے وہ کسی پرسکون نکڑ پر فروخت ہونے والا گرم بھٹا ہی کیوں نہ ہو۔"
ہماری سہیلیوں کے تروتازہ چہرے اور ان کے پیٹ سے نکلنے والی اطمینان کی آوازیں ہمارے زخموں پر نمک چھڑک رہی تھیں۔
ٹاکویاکی کے اس اسٹال پر ہم نے اپنی "تلاشِ حلال" کی مہم شروع کی، مگر وہاں ہر چیز یا تو سمندر کے کسی عجیب و غریب جاندار سے منسوب تھی یا اس میں 'سویرین' (Soverien) اور دیگر مشکوک اجزا کا تڑکا تھا۔
ہماری نظریں اسٹال کے ہر کونے کو یوں اسکین کر رہی تھیں جیسے کوئی سراغ رساں کسی مجرم کو ڈھونڈ رہا ہو، مگر افسوس! وہاں ہمارے نفاست اور عقیدے کے معیار پر پورا اترنے والا ایک دانہ بھی نہ تھا۔
اوساکا کی نیون روشنیاں اب ہماری آنکھوں میں چبھنے لگی تھیں اور بھوک کا یہ عالم تھا کہ معدے میں جیسے کسی جاپانی سامورائی نے جنگ چھیڑ رکھی ہو۔ ہم نے اپنی سہیلیوں کی طرف ایک شاہانہ حقارت سے دیکھا جو اب 'تاکویامی' کے بعد کسی اور مشکوک اسٹال کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
"لڑکیو! اگر تمہاری پیٹ پوجا ختم ہوگئی ہو، تو کیا اس فقیرِ منش کی جھولی میں بھی کچھ ڈالنے کی سعی کرو گی؟" ہم نے ذرا بلند آہنگ میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ہماری حالت دیکھ کر بالآخر سہیلیوں کو ترس آ ہی گیا۔
"لڑکیو! یہ علینہ تو بھوک سے نڈھال ہو کر یہیں کسی جاپانی مندر کی مورتی بن جائے گی، چلو اب اس کی 'حلال خور' فطرت کے لیے کچھ ڈھونڈتے ہیں،" بڑی سہیلی نے اعلانِ جنگ کیا۔
اب اوساکا کے 'نمبا' (Namba) اور 'شنسائی باشی' (Shinsaibashi) کے علاقوں میں ہماری ایک نئی مہم کا آغاز ہوا۔ اسٹیشن سے ڈوٹونبوری کا فاصلہ صرف 10 سے 12 منٹ کی پیدل مسافت ہے۔ اوساکا کے جنوب میں واقع نمبا محض ایک مقام نہیں، بلکہ ایک جیتی جاگتی کیفیت کا نام ہے۔ اسے اوساکا کا 'انٹرٹینمنٹ حب' کہا جاتا ہے۔
نمبا اپنی بے پناہ رونق، اسٹریٹ فوڈ کے ٹھیلوں اور فلک بوس اشتہارات کے لیے مشہور ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں جاپان کی قدیم روایات اور جدید ترین ٹیکنالوجی ایک دوسرے کے گلے ملتی دکھائی دیتی ہیں۔
نمبا کی گلیوں میں قدم رکھتے ہی ہمیں یوں لگا جیسے ہم کسی رنگین فلم کے سیٹ پر آ گئے ہوں۔ ہر طرف دیوہیکل کیکڑے اور مچھلیاں دیواروں سے لٹکی ہمیں گھور رہی تھیں، جیسے پوچھ رہی ہوں، "بی بی! تم ہماری دنیا میں کیا ڈھونڈ رہی ہو؟"
ہم نے ایک جگہ 'رامین' (Ramen) دیکھا، مگر معلوم ہوا کہ اس کی یخنی میں کسی ایسے جانور کا حصہ شامل ہے جس کا نام لیتے ہی ہماری نفاست وضو ٹوٹنے کے ڈر سے لرز اٹھے۔
ایک اور جگہ 'سوشی' (Sushi) کی دکان تھی، مگر وہاں کچی مچھلی کے ساتھ 'مرن' (Mirin) یعنی چاول کی شراب کا تڑکا تھا۔
توبہ توبہ! ہم نے فوراً وہاں سے رخ موڑ لیا۔
ہر دکان کے سامنے رکتے، اس کے مینو کو یوں باریک بینی سے دیکھتے جیسے ہم کسی نئے قلمکار کی تحریر کی نوک پلک درست کر رہے ہوں۔
نمبا سے ذرا آگے شمال کی طرف بڑھیں تو شنسائی باشی کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے، جو دنیا بھر کے سیاحوں اور خاص طور پر خواتین کے لیے کسی 'جنت' سے کم نہیں۔
ڈوٹونبوری سے شنسائی باشی (Shinsaibashi-suji Arcade) کا فاصلہ تو محض ایک منٹ کا ہے، یعنی آپ نے پل پار کیا اور آپ شاپنگ کی اس 'جنت' میں داخل ہو گئے۔ لیکن یہ گلی خود اتنی طویل ہے کہ اگر آپ ایک سرے سے دوسرے سرے تک نارمل رفتار سے چلیں تو 15 منٹ لگتے ہیں، یہ ایک تقریباً 600 میٹر طویل ڈھکی ہوئی شاپنگ اسٹریٹ ہے جہاں دنیا کے مہنگے ترین برانڈز سے لے کر جاپان کے مقامی کاسمیٹکس اور کپڑوں کی دکانیں ایک لامتناہی قطار میں موجود ہیں۔ یہاں کا ہجوم ایسا ہوتا ہے کہ جیسے پورا جاپان اسی ایک گلی میں امڈ آیا ہو۔
"علینہ! دیکھو وہ کتنا خوبصورت کیک ہے!" ایک سہیلی نے دور لگے ایک مدہم سے بورڈ کی طرف اشارہ کیا۔ ہم نے بڑے وقار کے ساتھ بیکری کی دکان کے اندر قدم رکھا، جاپانی سیلز گرل سے اپنے مخصوص 'انگریزی و پشتو ایکسنٹ' میں پوچھا کہ
"کیا اس میں جلیٹن (Gelatin) یا الکحل ہے؟"
جب اس نے معصومیت سے سر ہلایا، تو ہم نے اپنے دل کو سمجھایا،
"اے علینہ! یہ بصری لذت تو ہو سکتی ہے، مگر تمہارے شایانِ شان نہیں۔"
ہم نے ایک امید کے ساتھ وہاں قدم بڑھائے، مگر ہائے ری قسمت! ہم نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور سوچا،
"اے علینہ! کیا تیری نفاست تجھے آج اوساکا کی ان چمکتی سڑکوں پر فاقہ کشی کروا کر ہی دم لے گی؟"
اب تو تھکن سے پاؤں من من بھر کے ہو رہے تھے آخر کار، جب ہم ہار کر ایک نکڑ پر کھڑے ہوئے، تو ہماری نظر اس بوڑھے جاپانی پر پڑی جو ایک چھوٹی سی ریڑھی پر 'یاکی-ایمو' (بھنی ہوئی شکرقندی) بیچ رہا تھا۔
اس سادہ سی شے میں نہ کوئی ملاوٹ تھی، نہ کوئی مشکوک ذائقہ۔ ہم نے اسے پکڑ کر یوں محسوس کیا جیسے ہمیں گم شدہ خزانہ مل گیا ہو۔
جب ہم نے اس کا پہلا لقمہ لیا، تو اس کی سادہ سی مٹھاس نے معدے کے ساتھ ساتھ روح کی کڑواہٹ کو بھی دھو ڈالا۔
سچ تو یہ ہے کہ اس رات ہمیں احساس ہوا کہ نفاست کا مطلب صرف سفید پوشی یا مہنگے برانڈز نہیں، بلکہ خود کو ان حالات میں بھی برقرار رکھنا ہے جہاں دنیا آپ کو اپنے رنگ میں رنگنا چاہتی ہو۔
ہم نے یہ سیکھا کہ جب آپ اپنی جڑوں اور اپنے اصولوں (چاہے وہ حلال رزق کی تلاش ہو یا نفاستِ طبع) پر قائم رہتے ہیں، تو قدرت بالآخر آپ کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیتی ہے۔
اوساکا کی اس پہلی رات نے ہمیں یہ سبق دیا کہ مسافر وہی ہے جو منزل سے زیادہ راستے کے تجربے کو گلے لگائے۔
ہماری سہیلیوں نے 'ٹاکویاکی' کے ذائقے سمیٹے، اور ہم نے 'صبر اور استقامت' کی لذت پائی۔ رات کے اس پہر، جب ہم تھکے ہارے اپنے ٹھکانے کی طرف لوٹ رہے تھے، تو ہمیں محسوس ہوا کہ ہمارے بیگ بھلے ہی خالی ہوں، مگر ہمارا دل اس رات کے مشاہدات سے لبالب بھر چکا تھا۔
جاری ہے۔۔!
یہ تو اوساکا کی صرف پہلی جھلک تھی، ایک بھوکی پیاسی رات کی روداد۔۔۔مگر ابھی تو سورج طلوع ہونا باقی ہے۔وہ صبح جب اوساکا کا قلعہ (Osaka Castle) اپنی پوری تاریخ کے ساتھ ہمارا منتظر تھا، اور جب نارا کے ہرنوں نے ہماری نفاست کا ناطقہ بند کر دیا تھا، اس کا احوال ابھی پردہِ غیب میں ہے۔
علینہ خان

No comments:
Post a Comment