موبائل نہیں، وقت دیجیے!
تحریر: سید ساجد علی شاہ
انسانی تاریخ میں ہر دور اپنے ساتھ نئی ایجادات، نئے رجحانات اور نئے چیلنج لے کر آیا ہے، مگر موجودہ دور کی سب سے طاقتور ایجاد اگر کوئی ہے تو وہ موبائل فون ہے۔ اس نے دنیا کو ایک گلوبل گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے۔ فاصلے سمٹ گئے، معلومات چند لمحوں میں دستیاب ہونے لگیں؛ کاروبار، تعلیم، علاج اور رابطے کے بے شمار دروازے کھل گئے۔ لیکن ہر ایجاد کی طرح اس کا مثبت اور منفی استعمال بھی انسان ہی کے ہاتھ میں ہے۔ افسوس کہ آج یہی موبائل، جو سہولت کا ذریعہ تھا، بہت سے گھروں میں محبت، گفتگو، تربیت اور خاندانی رشتوں کے درمیان دیوار بنتا جا رہا ہے۔
کچھ برس پہلے تک شام کا وقت گھر کے صحن میں گزرتا تھا۔ والد اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتے، والدہ کہانیاں سناتیں، دادا دادی اپنے تجربات سے نئی نسل کی تربیت کرتے اور خاندان ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتا تھا۔ آج وہی منظر بدل چکا ہے۔ ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوئے پانچ افراد پانچ مختلف دنیاؤں میں گم ہیں۔ کسی کے ہاتھ میں موبائل ہے، کوئی ویڈیو دیکھ رہا ہے، کوئی کھیل کھیل رہا ہے اور کوئی سوشل میڈیا میں کھویا ہوا ہے۔ جسم ایک جگہ موجود ہیں، لیکن دل اور ذہن ایک دوسرے سے بہت دور ہو چکے ہیں۔
سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس تبدیلی کا شکار ہمارے بچے ہیں۔ جب بچہ روتا ہے تو اسے چپ کرانے کے لیے موبائل دے دیا جاتا ہے۔ جب کھانا نہیں کھاتا تو موبائل سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ جب والدین مصروف ہوتے ہیں تو بچے کو خاموش رکھنے کا آسان ترین طریقہ بھی موبائل سمجھا جاتا ہے۔ ابتدا میں یہ عمل آسان محسوس ہوتا ہے، مگر یہی آسانی آہستہ آہستہ ایک ایسی عادت بن جاتی ہے جس سے بچہ نہ صرف ذہنی بلکہ اخلاقی اور سماجی طور پر بھی متاثر ہونے لگتا ہے۔
والدین اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بچے کو بہترین لباس، مہنگا موبائل، قیمتی کھلونے اور ہر سہولت مہیا کر دی ہے، لہٰذا انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بچے کو سب سے زیادہ ضرورت والدین کی توجہ، شفقت، رہنمائی اور وقت کی ہوتی ہے۔ وہ چند لمحے جو ماں باپ اپنے بچے کے ساتھ ہنستے، کھیلتے، بات کرتے اور اس کی بات سنتے ہوئے گزارتے ہیں، وہ کسی بھی قیمتی تحفے سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔
اسلام نے اولاد کو اللہ تعالیٰ کی امانت قرار دیا ہے۔ اس امانت کی حفاظت صرف ان کی جسمانی ضروریات پوری کرنے سے نہیں ہوتی بلکہ ان کی دینی، اخلاقی، تعلیمی اور معاشرتی تربیت بھی والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر والدین صرف روزی کمانے میں مصروف رہیں اور بچوں کی شخصیت کی تعمیر سے غافل ہو جائیں، تو آنے والے وقت میں یہی غفلت پورے خاندان اور معاشرے کے لیے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
آج بہت سے والدین ایک ہی شکایت کرتے ہیں کہ بچے ہماری بات نہیں سنتے، جواب دیتے ہیں، ضد کرتے ہیں، نماز میں دلچسپی نہیں لیتے، تعلیم سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور ہر وقت موبائل استعمال کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا ہم نے روزانہ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مسائل سنے؟ کیا ہم نے ان کے دوستوں، دلچسپیوں اور ذہنی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کی؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر صرف بچوں کو قصوروار ٹھہرانا انصاف نہیں ہوگا۔
بچوں سے دوستی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، لیکن اس دوستی کا مطلب بے لگام آزادی دینا ہرگز نہیں۔ ایک اچھا والد یا والدہ وہ ہے جو محبت بھی کرے، اعتماد بھی دے، رہنمائی بھی کرے اور ضرورت پڑنے پر مناسب نظم و ضبط بھی قائم رکھے۔ جہاں صرف سختی ہو وہاں بچے باغی بن جاتے ہیں، اور جہاں صرف آزادی ہو وہاں وہ حدود سے تجاوز کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ اعتدال ہی بہترین تربیت کی بنیاد ہے۔
ایک اور افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ والدین خود بھی موبائل کے اسیر بنتے جا رہے ہیں۔ بچہ جب دیکھتا ہے کہ اس کے والد یا والدہ ہر وقت موبائل میں مصروف ہیں تو وہ بھی یہی طرزِ زندگی اختیار کرتا ہے۔ یاد رکھیں! بچے نصیحت سے زیادہ اپنے والدین کے عمل سے سیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں گفتگو، کتاب، نماز، مطالعہ اور خاندانی وقت کی روایت زندہ ہوگی تو بچے بھی انہی اقدار کو اپنائیں گے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آج کا بچہ کل کا شہری، رہنما، استاد، ڈاکٹر، انجینئر، صحافی اور حکمران ہے۔ اگر آج ہم نے اس کی شخصیت کی تعمیر پر توجہ نہ دی تو کل پورا معاشرہ اس کی قیمت ادا کرے گا۔ ایک مضبوط قوم کی بنیاد مضبوط معیشت سے پہلے مضبوط خاندان پر قائم ہوتی ہے، اور مضبوط خاندان کی بنیاد اچھی تربیت ہے۔
بچوں کی زندگی میں صرف نصیحتیں کافی نہیں ہوتیں، بلکہ انہیں والدین کی عملی مثال بھی درکار ہوتی ہے۔ اگر والد خود نماز کا پابند ہوگا، سچ بولے گا، بڑوں کا احترام کرے گا اور چھوٹوں سے محبت کرے گا، تو بچہ بھی یہی صفات اختیار کرے گا۔ اگر ماں صبر، شکر، حیا اور حسنِ اخلاق کا نمونہ ہوگی، تو یہی اوصاف اولاد کی شخصیت کا حصہ بن جائیں گے۔ بچے وہ نہیں بنتے جو ہم انہیں کہتے ہیں، بلکہ وہ بنتے ہیں جو ہمیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
والدین کو چاہیے کہ روزانہ کچھ وقت ایسا ضرور مقرر کریں جس میں موبائل فون ایک طرف رکھ دیا جائے۔ اس دوران پورا خاندان ایک دسترخوان پر بیٹھے، دن بھر کی باتیں کرے، بچوں کے اسکول، دوستوں، خوابوں اور پریشانیوں پر گفتگو کرے۔ یہی چند لمحے بچوں کو احساس دلاتے ہیں کہ وہ اپنے والدین کے لیے اہم ہیں۔ جن گھروں میں مکالمہ ختم ہو جاتا ہے، وہاں فاصلے پیدا ہونے لگتے ہیں۔
آج بہت سے بچے ذہنی دباؤ، تنہائی، بے چینی اور احساسِ محرومی کا شکار ہیں۔ اکثر وہ اپنے مسائل کسی دوست یا سوشل میڈیا سے شیئر کرتے ہیں، کیونکہ انہیں یقین نہیں ہوتا کہ والدین انہیں سمجھیں گے۔ اگر والدین محبت سے ان کی بات سنیں، انہیں ڈانٹنے کے بجائے سمجھائیں اور ان پر اعتماد کریں تو بہت سے مسائل ابتدا ہی میں ختم ہو سکتے ہیں۔
موبائل فون بذاتِ خود دشمن نہیں، بلکہ اس کا غیر ضروری اور بے جا استعمال نقصان دہ ہے۔ اگر اسی موبائل کو قرآنِ کریم کی تلاوت، تعلیمی تحقیق، مفید کتابوں کے مطالعے، مثبت لیکچرز اور علم حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہی آلہ ایک بہترین معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اصل ضرورت توازن پیدا کرنے کی ہے، نہ کہ ہر نئی چیز کو مکمل طور پر رد کرنے کی۔
والدین کو چاہیے کہ بچوں کے لیے واضح اصول بنائیں۔ موبائل استعمال کرنے کا وقت مقرر کریں، سونے سے پہلے اسکرین سے دور رہنے کی عادت ڈالیں، کھیل کود، مطالعہ، عبادت اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ سب سے بڑھ کر خود بھی انہی اصولوں پر عمل کریں، کیونکہ عمل کی تاثیر الفاظ سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
اسلام نے اولاد کی بہترین تربیت کو صدقۂ جاریہ قرار دیا ہے۔ ایک نیک، باکردار اور باعمل اولاد نہ صرف والدین کے لیے دنیا میں عزت کا باعث بنتی ہے، بلکہ ان کے انتقال کے بعد بھی ان کے لیے دعا اور نیکیوں کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس لیے بچوں پر خرچ ہونے والا سب سے قیمتی سرمایہ پیسہ نہیں بلکہ وقت، محبت، توجہ اور اچھی تربیت ہے۔
آج ہم یہ عہد کریں کہ اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت اپنی اولاد کے لیے ضرور نکالیں گے۔ ان کے ساتھ ہنسیں گے، کھیلیں گے، انہیں سنیں گے، ان کی رہنمائی کریں گے اور ان کے دلوں میں دین، اخلاق، محبت اور انسانیت کے چراغ روشن کریں گے؛ کیونکہ کل جب یہ بچے بڑے ہوں گے تو انہیں یہ یاد نہیں رہے گا کہ آپ نے انہیں کون سا موبائل خرید کر دیا تھا، لیکن وہ یہ کبھی نہیں بھولیں گے کہ آپ نے ان کے ساتھ کتنا وقت گزارا، انہیں کتنی محبت دی اور زندگی کے راستے پر ان کا ہاتھ تھام کر کتنی خلوص سے چلنا سکھایا۔
یاد رکھیے! اولاد کو موبائل نہیں، والدین کا وقت چاہیے؛ مہنگے تحفے نہیں، محبت بھرا لمس چاہیے؛ بے لگام آزادی نہیں، مخلص رہنمائی چاہیے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو ایک بچے کو اچھا انسان، ایک خاندان کو خوشحال اور ایک قوم کو باوقار بناتا ہے۔
No comments:
Post a Comment