Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Monday, July 27, 2026

نازمی - ایک باہمت لڑکی کی داستانِ | اردو کہانی

 نازمی

Promotional poster for Urdu story Nazmi by Juwairia Arshad Azimi on Hamari Digest Digital, depicting a woman's journey to success.

ازقلم: جویریہ ارشد عظیمی

گلی کے کونے پر وہی پرانا درخت آج بھی خاموش کھڑا تھا، جیسے برسوں سے کسی کا انتظار کر رہا ہو۔ نازمی نے آہستہ سے اس کے تنے کو چھوا، اور ایک گہری سانس لی۔ کچھ یادیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں، وہ بس وقت کے ساتھ دل میں اور گہری ہو جاتی ہیں۔

“آپ پھر یہاں آ گئیں؟” پیچھے سے آواز آئی۔

نازمی نے مڑ کر دیکھا۔ اس کی چھوٹی بہن، عروبہ، اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔

“ہاں… کبھی کبھی دل خود لے آتا ہے یہاں،” نازمی نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، مگر اس کی آنکھوں میں نمی صاف نظر آ رہی تھی۔

“وہ سب بھول کیوں نہیں جاتیں آپ؟” عروبہ نے نرمی سے پوچھا۔

نازمی کچھ دیر خاموش رہی، پھر آہستہ سے بولی، “کچھ چیزیں بھلانے کے لیے نہیں ہوتیں، سمجھنے کے لیے ہوتی ہیں…”

يہی وہ جگہ تھی جہاں کبھی نازمی اپنے خوابوں کے ساتھ کھڑی ہوا کرتی تھی۔ وہ خواب جو اس نے بہت سنبھال کر رکھے تھے؛ اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے، اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے، اور اپنی ماں کا سہارا بننے کے۔ مگر زندگی نے اس کے لیے کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا۔

“لڑکیوں کو دی گئی اتنی آزادی اچھی نہیں لگتی لوگوں کو…” ایک دن اس کے چچا نے کہا تھا۔

“مگر چچا، پڑھنا تو میرا حق ہے نا؟” نازمی نے ہمت کر کے جواب دیا تھا۔

“حق؟” وہ طنزیہ ہنسا، “تمہارا حق تمہارے گھر تک ہے، اس کے باہر نہیں۔”

اس دن نازمی نے پہلی بار محسوس کیا تھا کہ خواب دیکھنا بھی کبھی کبھی جرم بن جاتا ہے۔

گھر کے حالات ویسے ہی خراب تھے۔ والد کی وفات کے بعد ماں نے جیسے زندگی سے سمجھوتہ کر لیا تھا۔ ہر بات میں بس ایک ہی جملہ ہوتا، “بیٹی، ہمیں لوگوں کے مطابق ہی جینا پڑتا ہے…”

“مگر امی، لوگ ہمارے ساتھ نہیں جیتے، ہم خود جیتے ہیں…” نازمی نے ایک رات کہا تھا، جب وہ اپنی کتابیں سمیٹ رہی تھی۔

ماں نے اس کی طرف دیکھا، آنکھوں میں بے بسی تھی، “تم ابھی نہیں سمجھو گی…”

اور واقعی، اس وقت نازمی نہیں سمجھتی تھی۔

وقت گزرتا گیا۔ نازمی نے پڑھائی چھوڑ دی۔ وہی لڑکی جو ہر امتحان میں اول آتی تھی، اب گھر کے کاموں میں الجھ گئی تھی۔ اس کی آنکھوں کی چمک مدھم ہونے لگی تھی۔

ایک دن عروبہ نے اسے خاموش بیٹھے دیکھا تو پوچھا، “آپ خوش نہیں ہیں نا؟”

نازمی نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، “ایسا کیوں لگتا ہے تمہیں؟”

“کیونکہ جو لوگ خوش ہوتے ہیں، وہ یوں خاموش نہیں ہوتے…”

یہ جملہ نازمی کے دل میں کہیں گہرائی تک اتر گیا۔

اسی رات وہ دیر تک جاگتی رہی۔ اس نے پہلی بار خود سے سوال کیا: کیا وہ واقعی زندہ ہے، یا صرف سانس لے رہی ہے؟

اگلے دن اس نے اپنی پرانی کتابیں نکالیں۔ گرد جمی ہوئی تھی، مگر ان کے اندر اس کے خواب ابھی بھی زندہ تھے۔

“امی، میں دوبارہ پڑھنا چاہتی ہوں…” اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔

ماں نے حیرت سے اسے دیکھا، “اب؟ اس عمر میں؟ لوگ کیا کہیں گے؟”

نازمی نے پہلی بار مضبوط لہجے میں جواب دیا، “لوگوں نے تب بھی کہا تھا جب میں نے چھوڑا تھا… مگر تب میں نے خود کو کھو دیا تھا۔ اب میں خود کو دوبارہ پانا چاہتی ہوں…”

ماں خاموش ہو گئی۔

یہ خاموشی اجازت تھی یا انکار، نازمی نہیں جانتی تھی، مگر اس بار اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ رکے گی نہیں۔

راستہ آسان نہیں تھا۔ دن بھر گھر کے کام، اور رات کو پڑھائی۔ تھکن اس کے وجود میں اتر جاتی، مگر اب اس کے اندر ایک عجیب سی طاقت آ گئی تھی۔

کئی بار وہ ٹوٹتی بھی تھی۔

“کیا میں واقعی یہ کر پاؤں گی؟” وہ خود سے پوچھتی۔

مگر پھر خود ہی جواب دیتی، “اگر اب ہار گئی، تو ہمیشہ کے لیے ہار جاؤں گی…”

مہینے سالوں میں بدل گئے۔

ایک دن یونیورسٹی کے ہال میں اس کا نام پکارا گیا: “نازمی احمد، گولڈ میڈلسٹ…”

تالیاں گونج اٹھیں۔

وہ اسٹیج پر کھڑی تھی، ہاتھ میں میڈل تھا، اور آنکھوں میں آنسو۔

مجمع میں اس کی ماں بھی بیٹھی تھی، جن کی آنکھوں میں آج فخر تھا؛ وہی ماں جو کبھی لوگوں کے ڈر سے اسے روک لیتی تھی۔

تقریب کے بعد ماں اس کے پاس آئیں۔

“مجھے معاف کر دو، بیٹی…” انہوں نے آہستہ سے کہا۔

نازمی نے فوراً ان کے ہاتھ تھام لیے، “نہیں امی… اگر آپ نہ ہوتیں تو شاید میں اتنی مضبوط بھی نہ بنتی…”

گھر واپسی پر نازمی پھر اسی درخت کے پاس رکی۔ آج وہ پہلے جیسی نہیں تھی۔

عروبہ نے مسکرا کر پوچھا، “اب کیا محسوس ہو رہا ہے؟”

نازمی نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا، “یہی کہ خواب کبھی مرتے نہیں… بس ہم انہیں چھوڑ دیتے ہیں…”

پیغام:

زندگی میں سب سے بڑی رکاوٹ حالات نہیں ہوتے، بلکہ وہ خوف ہوتا ہے جو ہمیں دوسروں کی سوچ سے لگتا ہے۔ جب انسان اپنے فیصلے خود کرنے کی ہمت پیدا کر لیتا ہے، تو راستے خود بننے لگتے ہیں۔ یاد رکھیں، خوابوں کو مارنے والا وقت نہیں ہوتا، بلکہ ہمارا ہار مان لینا ہوتا ہے… اور جو خود سے ہار نہ مانے، دنیا اسے کبھی نہیں ہرا سکتی۔

 ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل کا جولائی 2026 کا تازہ شمارہ، جو آپ کی روح کو ترو تازہ کر دے گا۔
ادب کا یہ نیا سفر، بس ایک کلک کی دوری پر! ابھی پڑھیں!








No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages