Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Thursday, July 23, 2026

شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان میں طبی سہولیات کا بحران | ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

 ہسپتال یا موت کا دروازہ؟

شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان کی عمارت، ایمبولینس، ہسپتال کا داخلی منظر اور طبی عملہ دکھاتا ہوا فیچر امیج، جس پر عنوان "شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان میں طبی سہولیات کا بحران"، تحریر: سید ساجد علی شاہ، اور "ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل" درج ہے۔

تحریر: سید ساجد علی شاہ

صحت ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ ایک بیمار شخص جب ہسپتال کا رخ کرتا ہے تو اس کے دل میں صرف ایک ہی امید ہوتی ہے کہ اسے بروقت علاج، بہتر سہولیات اور انسانیت پر مبنی رویہ ملے گا۔ مگر جب یہی ہسپتال غفلت، بدانتظامی، سستی اور بے حسی کی تصویر بن جائیں تو مریض اور اس کے اہلِ خانہ کے دلوں سے اعتماد اٹھنے لگتا ہے۔ ایسے حالات میں زبان بے اختیار پکار اٹھتی ہے کہ "یہ ہسپتال ہے یا موت کا دروازہ؟"

رحیم یار خان میں واقع شیخ زید ہسپتال، جنوبی پنجاب کا ایک اہم طبی مرکز ہے۔ تین صوبوں (پنجاب، سندھ اور بلوچستان) کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں روزانہ ہزاروں مریض علاج کی غرض سے دور دراز علاقوں سے آتے ہیں۔ یہ ہسپتال صرف ایک ضلع کی ضرورت پوری نہیں کرتا، بلکہ وسیع خطے کے لاکھوں لوگوں کی امیدوں کا مرکز ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور مریضوں کے غیر معمولی دباؤ کے مقابلے میں انتظامی خامیاں اور سہولیات کی کمی، مریضوں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔

چند روز قبل مجھے ایک ذاتی تجربے سے گزرنے کا موقع ملا۔ ایک دوست کی اہلیہ لیبر روم میں داخل تھیں اور فوری طور پر خون کی ضرورت پیش آئی۔ میں خون عطیہ کرنے کے لیے بلڈ بینک پہنچا۔ وہاں کا منظر دیکھ کر حیرت اور افسوس، دونوں ہوئے۔ سینکڑوں افراد قطار میں کھڑے تھے، جبکہ نمونے لینے کے لیے صرف ایک سیکیورٹی گارڈ موجود تھا! لوگ بے بسی سے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد جب میری باری آئی تو خون کا نمونہ لینے کے بعد کہا گیا کہ: "ایک گھنٹے بعد دوبارہ آئیں، اس کے بعد خون لیا جائے گا۔"

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر کسی مریض کی جان ہر لمحہ خطرے میں ہو، لیبر روم میں ایک ماں زندگی اور موت کی کشمکش سے گزر رہی ہو، یا ایمرجنسی میں کسی زخمی کو فوری خون درکار ہو، تو کیا وہ بھی دو دو گھنٹے انتظار کرے؟ کیا انسانی جان کی قیمت اتنی کم رہ گئی ہے کہ اسے فائلوں اور رسمی کارروائیوں کے درمیان چھوڑ دیا جائے؟

ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد ضرور زیادہ ہے، وسائل بھی محدود ہو سکتے ہیں، لیکن مناسب انتظام، اضافی عملہ اور مؤثر نگرانی کے ذریعے بہت سے مسائل کم کیے جا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے کئی مقامات پر عوام یہ شکایت کرتے ہیں کہ بعض دفاتر میں ملازمین اپنے فرائض کی ادائیگی کے بجائے غیر ضروری گفتگو میں مصروف رہتے ہیں، جبکہ مریض اور ان کے لواحقین پریشانی کے عالم میں انتظار کرتے رہتے ہیں۔ ایسے رویے سرکاری اداروں پر عوام کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔

ایک اور سنگین مسئلہ ادویات کی عدم دستیابی ہے۔ سرکاری ہسپتال میں آنے والے زیادہ تر مریض مالی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔ جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ "دوا ہسپتال میں موجود نہیں، باہر سے خرید کر لائیں"، تو ان کے لیے یہ ایک نئی آزمائش بن جاتی ہے۔ کئی افراد قرض لیتے ہیں، کچھ اپنی ضرورت کی چیزیں فروخت کرتے ہیں اور کچھ تو علاج ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

مریضوں کے ساتھ غیر مناسب رویہ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ بیماری خود ایک آزمائش ہوتی ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ بے عزتی، سخت لہجہ اور غیر انسانی سلوک بھی مل جائے تو تکلیف کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ایک مسکراہٹ، نرم گفتگو اور مناسب رہنمائی بھی علاج کا حصہ ہوتی ہے، مگر بعض جگہوں پر مریضوں کو اس بنیادی انسانی حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر ڈاکٹر، نرس یا ملازم کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ بہت سے ڈاکٹر، نرسیں اور طبی عملہ دن رات محنت اور اخلاص سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور ہزاروں جانیں بچا رہے ہیں۔ ان کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ تاہم، اگر کہیں انتظامی کمزوریاں، عملے کی کمی یا غیر ذمہ دارانہ رویے موجود ہیں، تو ان کی نشاندہی کرنا بھی معاشرے اور صحافت کی ذمہ داری ہے تاکہ اصلاح کی راہ ہموار ہو سکے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ شیخ زید ہسپتال جیسے بڑے ادارے میں بلڈ بینک، لیبارٹری، ایمرجنسی اور لیبر روم سمیت تمام اہم شعبوں میں مطلوبہ تعداد میں تربیت یافتہ عملہ تعینات کیا جائے۔ مریضوں کے انتظار کا وقت کم کیا جائے، ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے، شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام قائم کیا جائے اور ہر شعبے کی باقاعدہ نگرانی کی جائے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹوکن سسٹم، ڈیجیٹل ریکارڈ اور شفاف انتظامی طریقہ کار بھی عوام کی مشکلات میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔

میں وزیراعلیٰ پنجاب سے گزارش کرتا ہوں کہ شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان کی مجموعی کارکردگی، سہولیات، عملے کی دستیابی، بلڈ بینک کے انتظامات اور ادویات کی فراہمی کا جامع جائزہ لینے کے لیے ایک غیر جانبدارانہ انکوائری کروائی جائے۔ اگر کہیں عملے کی کمی ہے تو اسے فوری پورا کیا جائے، اگر انتظامی غفلت ہے تو اس کا مؤثر تدارک کیا جائے، اور اگر وسائل ناکافی ہیں تو انہیں بڑھایا جائے تاکہ عوام کو وہ سہولیات میسر آ سکیں جن کے وہ حق دار ہیں۔

ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کے ہسپتال ہوتے ہیں۔ اگر ہسپتالوں میں مریض کو عزت، بروقت علاج اور معیاری سہولیات میسر نہ ہوں تو یہ صرف ایک ادارے کی ناکامی نہیں، بلکہ پورے نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ہمیں ایسے ہسپتال چاہیے جہاں مریض خوف کے ساتھ نہیں بلکہ امید کے ساتھ داخل ہو، جہاں انسانیت کو ترجیح دی جائے اور جہاں ہر آنے والے کو یہ یقین ہو کہ اس کی جان قیمتی ہے۔

شیخ زید ہسپتال، رحیم یار خان، جنوبی پنجاب صحت، سرکاری ہسپتال، طبی سہولیات، بلڈ بینک، ہسپتال کے مسائل،ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

اس اہم کالم کو ضرور پڑھیں، اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں، اور عوامی مسائل اجاگر کرنے کے لیے اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔ مزید مستند کالم، خبریں اور تجزیے پڑھنے کے لیے ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل کو فالو کریں۔

No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages