Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Wednesday, August 26, 2026

غلط العام الفاظ و محاورات کی درستگی | صغیر جعفری

غلط العام 

غلط العام الفاظ و محاورات کی تصحیح - صغیر جعفری | ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل
 اردو زبان و املا کی درستگی سے متعلق صغیر جعفری کا تحریر کردہ خاص مضمون — ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

تحریر صغیرجعفری 

 اللہ تعالٰی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں احسن تقویم کی صورت میں پیدا فرمایا اور قوت گویائی کے ساتھ ساتھ قلم کے ذریعے علم حاصل کرنے اور علم پھیلانے کی صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا۔ قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرمایا کہ عَلَّمَ الْقُرْآنَ، خَلَقَ الْإِنْسَانَ، عَلَّمَهُ الْبَيَانَ انسان کو قرآن پاک کا علم سکھایا، انسان کو تخلیق کیا اور علم بیان دیا۔ دوسری جگہ فرمایا وَعَلَّمَ بِالْقَلَمِ یعنی زبان سے بیان کرنے اور قلم سے لکھنے کی صلاحیتوں سے سرفراز کیا۔ ان دونوں صلاحیتوں کی مالک قابل قدر شخصیات نے ہمارے معاشرے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔


دنیا کی تمام زبانیں ایسی نابغۂ روزگار ہستیوں کی تخلیقات سے مزین و منور ہیں۔ اردو زبان و ادب میں فنونِ لطیفہ کے ضمن میں نثر نگاری اور شعری محاسن کے اظہار کے لیے سخنور، سخن فہم و سخن شناس شاعروں کی تخلیقات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ شاعری میں ولی دکنی، میر انیس و دبیر، میر تقی میر، خواجہ میر درد، الطاف حسین حالی، اسد اللہ خان غالب سمیت تمام دیگر قدیم شعراء سے لے کر جوش ملیح آبادی، جگر مراد آبادی، علامہ اقبال، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، مجید امجد سے لے کر موجودہ دور کے تمام جدید شعراء کا کلام ہمارے لیے علم و شعور اور آگہی کا بہترین نمونہ ہے۔ اسی طرح اردو نثر نگاری میں غالب، جوش، ابوالکلام آزاد، کرشن چندر، منٹو، احمد ندیم قاسمی، غلام عباس جیسے نابغۂ روزگار ایسے ادیب ہیں جن سے اکتسابِ علم و ادب کر کے ہم اردو نثر نگاری میں بہتری لا سکتے ہیں اور اپنی اصلاح کر سکتے ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ اردو نثر نگاری میں ایسے الفاظ و محاورات کا استعمال وسیع پیمانے پر رائج ہو گیا ہے جو کہ غلط ہیں، مگر کثرت سے لکھنے اور بولنے کی وجہ سے وہ غلط العام ہو گئے ہیں اور اکثر پڑھے لکھے اصحاب یہ غلط العام الفاظ اور محاورات دھڑلے سے بے دریغ استعمال کرتے ہیں، درحقیقت ان کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا۔

میں نے اپنے اس مضمون میں ایسے غلط العام الفاظ اور محاورات کی تصحیح کی کوشش کی ہے جو کہ نئے لکھنے والوں کی راہنمائی کے لیے ضروری ہیں۔

ایک بات ذہن نشین فرما لیجیے کہ جو غلط العام الفاظ کسی نے زبان سے ادا کر دیے تو اس کا اثر بولنے والے اور سننے والے فرد یا وہاں موجود چند افراد پر وقتی طور پر ہوگا، کچھ دیر کے بعد وہ الفاظ ریکارڈ میں نہیں رہیں گے؛ مگر آپ نے جو غلط العام الفاظ تحریر کر دیے وہ ریکارڈ میں ہمیشہ محفوظ رہیں گے اور کسی بھی وقت آپ کی غلطیاں پڑھنے والے کی نظر میں آتی رہیں گی اور آپ کی علمیت واضح ہوتی رہے گی۔

دوسری اہم بات یہ کہ لکھنے والے حضرات کے لیے ان کے قارئین نے ایک مثبت امیج (Image) تصور بنا کے رکھا ہوتا ہے، اس لیے نئے لکھنے والوں کو اپنا امیج/تصور برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ صحیح الفاظ و محاورات لکھنے کی ضرورت ہے۔ اب میں ان غلط العام الفاظ اور محاورات کو صحیح لکھ کر وضاحت پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔


ادائیگی: لفظ ادا میں ہائے مختفی نہ ہونے کی وجہ سے "گی" کا اضافہ صحیح نہیں، ادائی صحیح لفظ ہے۔ مثلاً: حق ہے امت پہ بڑا عترتِ پیغمبر (صلعم) کا وقت اس حق کی ادائی کا یہی ہے (خانِ آرزو) اسی طرح لفظ ناراضگی صحیح نہیں ہے بلکہ ناراضی درست ہے۔

باقاعدہ طور پر: باقاعدہ کے ساتھ "طور پر" زائد ہے۔ درست یوں ہے: مصوری باقاعدہ نہیں سیکی۔ اسی طرح "شبِ رات" صحیح نہیں، شب کے معنی رات کے ہیں پھر اس کے متصل رات غلط ہے، شبِ برأت (بخشِش کی رات) صحیح ہے۔

امی: ام عربی زبان میں ماں کو کہتے ہیں۔ امی کا مطلب ہے "میری ماں"۔ اگر کوئی یہ کہے کہ "آپ کی امی آپ کو بلا رہی ہیں" تو فقرے کا مطلب یہ ہوگا "آپ کی میری ماں آپ کو بلا رہی ہے"۔ "آپ کی ماں بلا رہی ہیں" صحیح جملہ ہے۔

اردو گرد: اس کے بجائے آس پاس لکھنا چاہیے۔

بمع: ہمراہ کے لیے "بہ" کے ساتھ "مع" لکھنا غلط ہے۔ صرف "مع" لکھنا کافی ہے۔

سمجھ نہیں آتی: یہ غلط ہے، "سمجھ میں نہیں آتا" صحیح فقرہ ہے۔ مثال: بس جان گیا میں، تری پہچان یہی ہے تو دل میں تو آتا ہے، سمجھ میں نہیں آتا (اکبر الہ آبادی)

بجائے: لفظ بجائے کو عموماً مؤنث لکھا جاتا ہے، یہ مذکر ہے لہٰذا "کی بجائے" سے گریز کرنا چاہیے اور "کے بجائے" لکھنا صحیح ہے۔

مشکور: ممنونیت کے معنی میں مشکور کا استعمال اب غلط العام ہو چکا ہے۔ جس پر احسان کیا گیا ہو وہ شکر گزار ہوتا ہے، مشکور نہیں ہوتا۔ جس نے احسان کیا وہ شکریے کے حصول کا مستحق ہے اور وہی مشکور ہوگا یعنی موردِ شکر اور لائقِ شکر۔

اہالیان اور اہلیان: اہل کی جگہ اہالیان اور اہلیان لکھنا صریحاً غلط ہے۔ اہالیانِ محلہ کے بجائے اہلِ محلہ لکھنا چاہیے۔ اہل کی جمع اہالی ہے، اگر اہالیان لکھا جائے گا تو یہ اہلیہ کی جمع ہو جائے گی۔

برائے مہربانی: مہربانی یا کرم سے پہلے "برائے" کا استعمال فاش غلطی ہے۔ اس کی جگہ "براہِ" (ہ کے نیچے زیر) ہونا چاہیے۔

استفادہ حاصل کرنا: اس کا لغوی مطلب ہے فائدہ حاصل کرنا، گویا استفادہ میں حاصل محذوف ہے۔ فارسی میں استفادہ کردم کہتے ہیں لہٰذا اردو میں "استفادہ کیا" موزوں ہے۔

ناقص رائے: از راہِ انکسار "میری ناقص رائے میں" کثرت سے کہا جاتا ہے، مناسب فقرہ یہ ہے: "میری عاجزانہ رائے میں"۔

صاحبہ: اہلِ اردو نے صاحبہ کو صاحب کی تانیث بنا لیا ہے۔ یہ لفظ عام طور پر خواتین کے نام یا عہدوں کے ساتھ لاحقے کے طور پر استعمال ہوتا ہے، مثلاً پرنسپل صاحبہ۔ شبلی نعمانی نے اپنے مکتوبات بنام عطیہ فیضی میں "عطیہ صاحب" لکھا ہے، ویسے بھی "بیگم صاحب" فصیح معلوم ہوتا ہے۔ ویسے محترم سے محترمہ تو جائز ہے لیکن صاحب سے صاحبہ خاصا گراں گزرتا ہے۔

جنابہ: کسی خاتون کے لیے جنابہ کا لفظ استعمال کرنا غلط ہے۔ مذکر اور مؤنث دونوں حالتوں میں جناب کے لفظ کو صرف کرنا صحیح ہے۔

مزاج: پرسشِ احوال کی نسبت یہ لفظ واحد کے بجائے جمع بولا جاتا ہے۔ جوش ملیح آبادی کا اعتراض ہے کہ کسی کا مزاج تو ایک ہی ہوتا ہے تو پھر "مزاج کیسے ہیں" بے معنی ہے۔ جوش صاحب یہ بھی کہتے تھے کہ "محاورے کو منطق پر فوقیت ہے"۔ ویسے تسلیم لکھنوی نے مزاج کو جمع لکھا ہے: کہیے صاحب، مزاج کیسے ہیں کل تو شعلہ تھے، آج کیسے ہیں علامہ اقبال نے اپنی نظم گائے اور بکری میں مزاج کو مروج صیغے میں نظم کیا ہے: کیوں بڑی بی، مزاج کیسے ہیں گائے بولی کہ خیر، اچھے ہیں

دل کرتا ہے: غلط ہے، "دل چاہتا ہے" صحیح ہے۔

نکتہ نظر: اندازِ فکر کے معنی میں "نکتۂ نظر" لکھنا غلط ہے، "نقطۂ نظر" صحیح ہے۔

نظریں چار: ہونا غلط ہے، "آنکھیں چار ہونا" صحیح ہے۔

نیند کھل گئی: غلط ہے، "آنکھ کھل گئی" صحیح ہے۔

درستگی: غلط ہے، "درستی" فصیح اور صحیح ہے۔

جناب اور صاحب: یہ دونوں الفاظ کلمۂ احترام ہیں لہٰذا مکتوب الیہ کے نام سے پہلے جناب اور آخر میں صاحب لکھنا فاش غلطی ہے۔ شروع میں صرف ایک لفظ جناب لکھنا کافی ہے یا پھر آخر میں صرف ایک لفظ صاحب لکھنا ہی کافی ہے۔

خواتین و حضرات: دونوں اصناف کے لیے فقط ایک لفظ "حضرات" کہنا اور لکھنا صحیح ہے۔ لفظ حضرات میں خواتین سے تخاطب بھی شامل ہے، مثال کے طور پر حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا۔

کتابیں دیں گئیں: غلط العام ہے، "کتابیں دی گئی ہیں" صحیح ہے۔

تقریب کا موقع: لفظ تقریب میں موقع کا مفہوم پنہاں ہے لہٰذا محض "تقریب میں" کہنا مناسب ہے۔

آج کی نشست میں یہ کافی ہے۔ یار زندہ صحبت باقی!

جشنِ آزادی کی خوشبو، 23 شاہکار افسانے اور باصلاحیت ملکی و غیر ملکی لکھاریوں کا حسین امتزاج!

کیا آپ نے کبھی ایک ہی شمارے میں ایک سے بڑھ کر ایک 23 سحر انگیز افسانے پڑھے ہیں؟ 'ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل اگست 2026' کا یہ خاص شمارہ وطن کی محبت، دل چھو لینے والی تحریروں اور باکمال تخلیقات سے سجا وہ ادبی تحفہ ہے جسے ایک بار پڑھنا شروع کریں گے تو دل میں اترتا چلا جائے گا!

مکمل اگست 2026ء شمارہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں👇👇👇






Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages