نابغئہ روزگار
تحریر: صغیر جعفری
"بنچوں پر کھڑے ہو جاؤ اور منہ دیوار کی طرف کر لو!"زیادہ سے زیادہ یہ سزا سر نفیس احمد کی طرف سے ان طلباء کے لیے ہوتی تھی جو اپنا ہوم ورک مکمل کیے بغیر کلاس روم میں بیٹھے ہوتے تھے۔ یہ تھے ہمارے ہائی اسکول کے استاد نفیس احمد، جنہیں ہم سر نفیس احمد کہتے تھے۔ وہ اسمِ بامسمّٰی تھے۔
زندگی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے علم و دانش، عمل اور کردار کا اثر اذہان و قلوب پر ہمیشہ مسلط رہتا ہے۔ سر نفیس احمد ایسی ہی نابغئہ روزگار شخصیت تھے۔
اپنے مافی الضمیر کو اس طرح بیان فرماتے تھے کہ ہمیں ان کا لیکچر آسانی سے ازبر ہو جاتا تھا۔ چھٹی کلاس سے دسویں کلاس کی پانچ کلاسیں اس طرح لیتے تھے کہ پہلا پیریڈ ٹھیک صبح آٹھ بجے دسویں کلاس کا، دوسرا پیریڈ پونے نو بجے نویں جماعت کا اور پھر سوا گیارہ بجے تیسرا پیریڈ آٹھویں جماعت کے لیے مختص تھا—تفریح کے وقت کے بعد پونے ایک بجے اپنا چوتھا لیکچر چھٹی جماعت کے لیے اور دن کا آخری اور اپنا پانچواں پیریڈ ساتویں جماعت کا لیتے تھے۔
چھٹی جماعت سے ہی طالب علموں کو انگریزی لکھنے میں مہارت کے لیے چار لکیری کاپی پر چھوٹی اے بی سی (abc) اور بڑی اے بی سی (ABC) نمونے اور اصلاح کے لیے ہر طالب علم کی کاپی پر سرخ سیاہی سے لکھ کر دیتے تھے اور ہمیں "G" کی نب—جو چیکوسلوواکیہ کی بنی ہوتی تھی—اس سے لکھنے کی مشق کرواتے تھے اور ہمیں یہ باور کراتے تھے کہ امتحان میں اچھے نمبر تعلیمی استعداد کے ساتھ خوش خطی کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
سر نفیس احمد کلاس روم میں ہمیں بنچوں پر بیٹھنے کے لیے سیٹیں خود منتخب کر کے دیتے تھے۔ اس میں قابلیت یا نالائقی کا معیار نہیں تھا بلکہ جن طلباء کا قد چھوٹا ہوتا تھا وہ اگلے بنچوں پر اور جن طلباء کا قد لمبا ہوتا تھا انہیں پیچھے والے بنچوں پر بٹھاتے تھے؛ مقصد یہ تھا کہ ہر طالب علم ان کو واضح طور پر نظر آئے۔
انتہائی زور دار آواز میں بولتے تھے تاکہ ہر طالب علم ان کو صاف سن سکے۔ اس زور دار آواز میں بھی ان کی آواز اور لہجہ شستہ ہوتا تھا۔
چونکہ خود ان کی تعلیم اعلیٰ اداروں میں ہوئی تھی، اس لیے ہم طالب علموں کے لیے بھی وہی معیار رکھا ہوا تھا۔ سب سے پہلے تین گھنٹے کے پیپر کے لیے لکھنے کی رفتار اور خوش خطی کے ساتھ تین گھنٹوں میں سارے سوالات کے جوابات لکھنے کی مشق کرواتے تھے۔ نویں اور دسویں جماعت کے طالب علموں کو اصرار کے ساتھ سمجھاتے کہ سروس کے لیے انٹرویو میں اعتماد (Confidence) بہت ضروری ہے، پھر اعتماد کے ساتھ اپنا مدعا بیان کرنے کے لیے اچھے انداز اور اچھے لہجے میں بولنا ضروری ہے۔ کمیونیکیشن اسکلز (Communication skills) کے لیے تلفظ (Pronunciation) کا بہتر ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ جب کوئی حرف "WH" سے شروع ہو، جیسے What, When, Why, Where بولنا ہو تو دونوں ہونٹ گول کر کے بولنا چاہیے۔
سر نفیس احمد بتاتے ہیں کہ "میں 1940ء میں دہرادون کینٹ میں پیدا ہوا۔ اس وقت میرے والد صاحب وہاں آرمی ایجوکیشن میں میجر تھے۔ وہاں کے ملٹری اسکول انگلش میڈیم میں میری ابتدائی تعلیم مکمل ہوئی۔ پاکستان بننے کے بعد والد صاحب کی پوسٹنگ لاہور میں ہوئی تو مجھے انہوں نے ایچی سن کالج میں داخل کروا دیا۔ یہاں گریجویشن کے بعد میں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے انگلش ڈاکٹر سراج صاحب کی شاگردی میں کیا۔ چونکہ والد صاحب مجھے آرمی ایجوکیشن میں کمیشنڈ آفیسر بنانا چاہتے تھے تو میں نے ایم اے ایجوکیشن بھی کر لیا۔ والد صاحب کی خواہش کے برعکس میں نے دیہات میں، جہاں ہماری آبائی زمین ہے، وہاں اسکول میں پڑھانا شروع کر دیا اور اب تک یہیں پڑھا رہا ہوں۔ محکمہ تعلیم کی طرف سے مجھے ترقی (Promotion) کے ساتھ شہر میں لیکچرشپ کی آفر بھی کی گئی مگر میں کہیں نہیں گیا۔"
سر نفیس احمد صاحب زندگی کے ہر شعبے میں نفیس و نستعلیق ذوق کے حامل رہے تھے۔ عمدہ اور نفیس لباس سلیقے سے پہننا ہم نے ان سے سیکھا۔ اعلیٰ قسم کے اٹلی کے Gucci اور Prada برانڈ کے جوتے پہنتے تھے۔ خوبصورت ٹائیوں کی ان کے پاس عمدہ ورائٹی تھی؛ برانڈڈ ٹائیوں کا ذخیرہ آپ کے پاس موجود تھا جن میں Uniworth اور Drake's کی ٹائیاں ان کی پسندیدہ تھیں۔ شرٹ، پینٹ اور سوٹ انہوں نے کبھی ریڈی میڈ نہیں لیا تھا؛ اپنی پسند کا کپڑا لے کر، اپنا ڈیزائن خود بنا کر ٹیلر سے اپنے جسم کے اعضاء کے مطابق سلواتے تھے۔ جمعہ والے دن وہ شلوار قمیض ویسٹ کوٹ کے ساتھ پہنتے تھے۔
فخر سے اپنے پیشے کے متعلق بتاتے کہ غالب نے کہا تھا:
سو پشت سے ہے پیشۂ آباء سپہ گری
کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے
"مگر میں نے اس میں تحریف کی ہے:
دو پشت سے ہے پیشۂ علم و آگہی
یہی ہے میرے لیے ذریعۂ خوشی
یہ شاعری نہیں تک بندی ہے، مگر علم و شعور دوسروں کو منتقل کرنے سے مجھے تسلی (Satisfaction) کے ساتھ خوشی ہوتی ہے۔"
بات خوشی کی ہو رہی ہے تو عمر کے جس حصے میں بھی چھٹی آئے، چھٹی خوشی ہوتی ہے اور جب گرمیوں کی لمبی چھٹیاں ہوں تو بے پناہ خوشی ہوتی ہے۔ ہمیں گرمیوں کی چھٹیاں ہوئیں تو سر نفیس صاحب نے کہا:
"چھٹی کا تصور بھی عجیب ہے۔ کام کی زیادتی کے بعد آرام میں سکون اور مسرت ہوتی ہے۔ آپ کی طرح یورپ میں جب ونٹر سیزن کی لمبی چھٹیاں ہوتی ہیں تو طلباء زور زور سے گاتے ہوئے کہتے ہیں:
سر نفیس احمد صاحب کے شاگرد پاکستان بھر میں اور بیرونی ممالک میں اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہیں اور فخر سے بتاتے ہیں کہ ہمیں یہاں تک پہنچانے میں سر نفیس احمد کا کردار (Contribution) ہے۔
سی ایس ایس کے امتحانات میں کامیاب ہونے والوں میں اکثریت سر نفیس احمد کے شاگردوں کی ہے۔ کئی سال پہلے سی ایس ایس کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے مشفق رحمانی سے اخبار نویسوں نے سوال کیا کہ اس کامیابی کے بارے میں کیا کہیں گے؟ تو مشفق نے جواب دیا: "بلا شبہ و بلا مبالغہ میری اس کامیابی کا کریڈٹ میرے شفیق و عظیم استاد سر نفیس احمد کو جاتا ہے۔"
سر نفیس صاحب تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ علاقے میں رفاہی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ محتاجوں اور ضرورت مندوں کی خاموشی سے مدد کیا کرتے تھے۔
ایک بار محلے میں لڑائی ہو جانے پر آپ کے دو شاگردوں کو سزا ہو گئی۔ نفیس صاحب کو پتہ چلا کہ ان کے شاگرد نورالدین اور رحمت اللہ قید ہیں، تو آپ ضمانت کے لیے کورٹ چلے گئے۔ مجسٹریٹ انہیں دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا اور کہا: "سر! آپ کیوں آئے ہیں؟ مجھے پیغام بھجوا دیتے، میں ان کی ضمانت منظور کر لیتا۔" وہ مجسٹریٹ ریحان فاروقی بھی آپ کا شاگرد تھا۔ اس نے نہ صرف ضمانت منظور کی بلکہ فریقین میں صلح کروا کے کیس ہی ختم کر دیا۔
آپ کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا تھا۔ بیٹی بڑی تھی، اس کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ زیور سنار سے لینے کے لیے ان کا بیٹا گیا۔ واپسی پر اسے دیر ہو گئی؛ مغرب کے بعد کافی اندھیرا چھا گیا۔ گھر سے تین کلومیٹر دور ڈاکوؤں نے ان کے بیٹے سے سونا، موبائل فون اور کیش، جو اس کے پاس تھا، چھین لیا۔ تینوں ڈاکوؤں نے نقاب پہنے ہوئے تھے۔
ایک ڈاکو نے غور سے دیکھا تو نفیس صاحب کے بیٹے سے پوچھا: "تو نفیس سر جی کا بیٹا ہے؟" تو اس نے کہا: "ہاں! یہ زیور میری بہن کے لیے ہیں جس کی کل شادی ہے۔" اچانک اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: "سب کچھ واپس دے دو! سر نفیس کی بیٹی ہے تو ہماری بہن ہے۔"
نفیس صاحب کے بیٹے سے کہا: "اپنے والد صاحب کے سامنے اس واقعے کا ذکر نہ کرنا۔ چلو، ہم تمہارے گھر تک بحفاظت چھوڑ کر آتے ہیں تاکہ کوئی اور وارداتیا نہ آ جائے۔"
💔 کہیں محبت ہے... کہیں جدائی...
😢 کہیں غربت کی تلخ حقیقت...
😲 کہیں سسپنس ایسا کہ آخری سطر تک تجسس برقرار رہے...
🌸 اور کہیں ایسے جذبات، جو دیر تک دل میں اتر جائیں۔
جولائی شمارہ ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل کا پہلا خصوصی شمارہ ہے، جس میں 20 منتخب اور منفرد اردو افسانے شامل کیے گئے ہیں۔ محبت، سماجی مسائل، سسپنس، جذبات اور زندگی کی تلخ و شیریں حقیقتوں پر مبنی یہ افسانے آپ کو شروع سے آخر تک اپنے سحر میں باندھے رکھیں گے۔
اگر آپ معیاری اردو افسانے پڑھنے کے شوقین ہیں تو جولائی شمارہ ابھی پڑھیں۔👇👇
![]() |
#ہماری_ڈائجسٹ_ڈیجیٹل #جولائی_شمارہ #اردو_افسانے #اردو_ادب #ماہانہ_ڈائجسٹ #ShortStories #UrduStories #UrduLiterature


1 comment:
عمدہ شیئرنگ
Post a Comment