6 ستمبر کے حوالے سے خراجِ تحسین
تحریر: ارم کاشف
وطن کی حفاظت صرف سرحدوں پر کھڑے فوجی جوانوں کا فرض نہیں، یہ ذمہ داری ہر اس شخص کی بھی ہے جو اپنے حصے کا کام دیانت داری سے نبھاتا ہے۔ ایسے ہی ایک فرض شناس انسان ہیں کاشف رحیم بھٹہ، ایس پی موٹروے، ملتان، جنہوں نے سیالکوٹ سے فیصل آباد، فیصل آباد سے ملتان، ملتان سے گوادر اور گوادر سے سکرنڈ، سندھ تک، ہر جگہ اپنی ڈیوٹی کو امانت سمجھ کر نبھایا۔ گرمی کی تپتی دوپہریں ہوں، جب دھوپ میں پسینے سے بھیگی وردی جسم سے چپک جاتی ہے، یا رات کی تاریکی میں سنسان شاہراہوں پر جگمگاتی ہیڈلائٹس، وردی میں کھڑا یہ افسر ہر موسم میں اپنی جگہ ڈٹا رہا۔
موٹروے پولیس کی وردی صرف ایک عہدہ نہیں۔ یہ ایک وعدہ ہے۔ مسافروں کی حفاظت کا وعدہ۔ قانون کی بالادستی کا وعدہ۔ اور اس ملک سے مخلصی کا، جس کے دفاع کا دن ہم 6 ستمبر کو مناتے ہیں۔ کاشف رحیم بھٹہ نے جس جگہ بھی ذمہ داری نبھائی، وہاں دیانت داری کو اپنا اصول بنایا۔ نہ اثر و رسوخ کی پروا کی، نہ آسانی کی راہ ڈھونڈی۔ یہی وہ خاموش خدمت ہے جو کسی میڈل کی محتاج نہیں ہوتی، مگر قوم کے دفاع میں اتنی ہی اہم ہے جتنی سرحد پر کھڑا سپاہی۔
آج جب ہم دفاعِ وطن کا دن مناتے ہیں تو ایسے افسروں کو یاد رکھنا ضروری ہے جو اندرونِ ملک امن و امان کی وہ دیوار ہیں، جس کے پیچھے عام شہری بے خوف زندگی گزارتا ہے۔ سیالکوٹ سے سکرنڈ تک کا یہ طویل سفر صرف تبادلوں کی فہرست نہیں، یہ ایک افسر کی دیانت کا مسلسل امتحان تھا، اور کاشف رحیم بھٹہ اس امتحان میں ہر بار پورا اترے۔ یہی حقیقت اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ افراد کے کردار ہی اقوام کی تقدیر سنوارتے ہیں، اور یہی سچائی کاشف رحیم بھٹہ جیسے افسروں کے کردار میں جھلکتی ہے، ایک نئی صبح کی امید بن کر، جو ہر اندھیرے کے بعد ضرور طلوع ہوتی ہے۔
سلام ہے ایسے فرزندانِ وطن کو جو خاموشی سے اپنا فرض نبھاتے ہیں اور وطن کے دفاع کو صرف نعرہ نہیں، بلکہ عمل بنا دیتے ہیں۔ یہی وہ خاموش پہرہ ہے جو وطن کو زندہ رکھتا ہے، اور یہی پہرہ ہماری نسلوں کا سرمایہ ہے۔

No comments:
Post a Comment