کانگڑی والا بابا
جمیل احمد عبدالرحمان
یادش بخیر سال 1968ء کا ذکر ہے، میٹرک کا امتحان دے کر گاؤں جانا ہوا۔ کچھ دن ایبٹ آباد میں بھی رہنا ہوا، کچھ رشتہ داروں کا اصرار اور کچھ ایبٹ آباد کی کشش، فیصلہ کیا کہ یہیں سے انٹر سائنس کرنا ہے۔
گورنمنٹ کالج اس زمانے میں بھی پوسٹ گریجویٹ کالج تھا، فزکس اور اکنامکس کی ایم ایس سی اور ایم اے کی کلاسز بھی تھیں۔ ایم اے کے اسٹوڈنٹس کو ہاسٹل میں سنگل روم ملتا تھا اور سینئر طلباء کا بڑا احترام تھا۔ کالج بھی یونیورسٹی سے کم درجے کا نہیں تھا۔
ایبٹ آباد اس دور میں بلا مبالغہ کوئی یورپی شہر لگتا تھا۔ پاکستان کی ایلیٹ کلاس کے لوگوں کے گھر تھے جن میں ملک فیروز خان نون، سردار بہادر اور کئی نامور شخصیات کی مستقل رہائش تھی۔ عام لوگ بھی مہذب اور اکثریت تعلیم یافتہ تھی۔ ایک ہل اسٹیشن تھا، گرمیوں میں لوگ آتے تھے اور کچھ روز یہاں قیام کر کے آگے ناران کاغان جایا کرتے تھے۔
صاف ستھرے ہوٹل تھے۔ ملٹری اکیڈمی ہونے کی وجہ سے چند ہوٹل ایسے تھے جو in bound تھے یعنی جہاں فوج کے افسر جا سکتے تھے مثلاً کاغان کیفے وغیرہ۔ بقیہ out of bound تھے، لیکن اچھا کھانا اور کباب وہیں ملتے تھے۔ کچھ ہوٹلوں میں گانے سننے کی بھی سہولت موجود تھی جہاں فرمائش پر لوگ گراموفون پر پرانے ریکارڈ سنتے تھے۔ سہگل، شمشاد بیگم، ثریا، رفیع اور مکیش لوگوں کے پسندیدہ گلوکار تھے۔
کالا خان ایبٹ آباد کا مشہور کباب والا تھا۔ اس کے ہوٹل میں ڈاکٹر قدیر خان کی دستخط شدہ تصویر تھی۔ شنید ہے کہ ڈاکٹر صاحب کالا خان کے ہوٹل میں تشریف لائے، سی آئی ڈی نے پہلے سے بتلایا ہوگا، کالا خان نے ڈاکٹر صاحب کی ایک بڑی تصویر بنوا کر رکھ لی۔ ڈاکٹر صاحب تشریف لائے، کباب کھائے اور پسندیدگی کا اظہار کیا۔ ان کے اسٹاف نے بل کی رقم کا پوچھا تو کالا خان نے تصویر بڑھا دی۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی مسکرا کر دستخط فرما دیے۔ "زندہ باد محسنِ پاکستان، زندہ باد کالا خان!"
ایبٹ آباد میں تین سینما تاج محل، رائل اور ایمپائر تھے۔ تاج محل جنرل یحییٰ خان کے برادرِ نسبتی کا تھا۔ پاکستان کا بدنام ترین صدر جس کو اسلام آباد بنانے کی ذمہ داری ملی، اس نے اسلام آباد بنایا، بسایا لیکن اپنے لیے کوئی پلاٹ یا مکان نہیں لیا، جبکہ لوگوں نے فارم ہاؤس بھی ہتھیائے۔
محسن بھوپالی نے خوب کہا تھا:
منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے
یحییٰ خان کے رشتہ داروں کو بھی کوئی فوائد نہیں ملے۔ اس کے بھائی پہلے سے پولیس آفیسر تھے، ان کی بھی کوئی کرپشن نہیں سنی۔ ہاں، رنگین محفلوں کا ذکر ملتا ہے مگر ہماری اشرافیہ میں یہ کوئی عیب نہیں تھا، نہ آج ہے۔ کرپشن "فخرِ ایشیا" کے دور میں عروج پر پہنچی اور اب اوجِ ثریا پر ہے۔
ایبٹ آباد کی مشہور شخصیات میں مولانا اسحاق خطیب مرکزی جامع مسجد، فاضلِ دیوبند تھے۔ جمعہ کو ان کی تقریر سننے دور دور سے لوگ آیا کرتے تھے۔ تقریر کیا تھی علم، ادب، طنز، مزاح، حق گوئی، تنقید، سب کچھ ہوتا تھا مگر تہذیب کے دائرے میں۔ ایک صاحب نے سوال پوچھا کہ مرغا وقتِ سحر لوگوں کو جگاتا ہے، اذان دیتا ہے، اس کو کھانا حلال کیوں ہے؟ آپ نے فرمایا کہ سوئی ہوئی قوم کو جگانے والے کو کون زندہ رہنے دیتا ہے!
جلال بابا سیاسی لیڈر تھے، وزیر بھی رہے، ٹرانسپورٹ کا کاروبار تھا۔ کشمیر کی آزادی کے لیے دامے، درہمے، سخنے سب کچھ کرتے رہے۔
ایبٹ آباد کی سبزی منڈی شہر کے وسط میں واقع تھی جہاں کریانہ مرچنٹ، گوشت، پھل اور مرغی کی تھوک کی دکانیں تھیں۔ وہاں ایبٹ آباد کے شرفا خود آیا کرتے تھے۔ لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے کہ مشہور شخصیات وہاں کی دکانوں پر بیٹھی گپ شپ کرتی نظر آتی تھیں۔ اس زمانے میں محافظوں کے جلو میں ہم نے کسی کو نہیں دیکھا، کسی کے محافظ ہوتے بھی تھے تو فاصلے پر ہوتے تھے۔
وہیں میرے کالج کے دوست یوسف کے والد کی کریانے کی دکان تھی۔ کالج کے بعد اس کی ڈیوٹی دکان پر ہوتی تھی لیکن ہفتے میں ایک دو فلموں کی اجازت مل جاتی تھی اور ہم انگریزی فلم باقاعدگی سے دیکھا کرتے تھے۔ کبھی کبھی اس کے والد ہم کو دکان پر بٹھا کر خود گھر چلے جاتے تھے۔ دکان پر مستقل آنے والوں کی خاطر داری بھی ہمارے ذمے تھی۔ کسی کے لیے چینک والی چائے اور کسی کے لیے دودھ پتی۔ کیا زمانہ تھا! لوگ ایک دوسرے کو کھلا پلا کر خوش ہوا کرتے تھے۔
ان خاص مہمانوں میں ایک کشمیری بابا بھی تھے جو سردی میں گلے میں کانگڑی ڈالے آتے تھے۔ یہ ایک چھوٹی سی انگیٹھی ہوتی ہے جو آج بھی پرانے لوگ استعمال کرتے ہیں۔ بابا جی کو کبھی بھی بغیر چوغے، مخصوص ٹوپی اور چپل کے نہیں دیکھا۔ دیسی اون کی جرابیں پہنتے تھے۔ کشمیری لہجے میں اردو اور ہندکو کیا بولتے کہ سحر طاری کر دیتے!
ایک بار بابا جی بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک مشہور شخصیت جو سابق وزیر تھے، تشریف لائے۔ علیک سلیک کی، ایک انگوٹھی نکالی جس میں خالص عقیق لگا ہوا تھا اور بابا جی کو دکھائی۔ بابا جی نے کرتے کی کسی جیب میں سے عینک نکالی جو مہاتما گاندھی والی گول شیشوں کی عینک تھی، فریم کی سفید چمک بتلا رہی تھی کہ چاندی یا کسی اور قیمتی دھات کا بنا ہوا ہے۔ شیشے بھی نایاب بلور نما تھے۔ عینک لگا کر انگوٹھی کو غور سے دیکھا اور فرمایا: "تراش اچھی ہے لیکن عیب پوری طرح مٹ نہیں سکا۔ کاریگر ماہر ہے، اس سے زیادہ کیا کرتا!" انگوٹھی والے صاحب کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ بابا جی نے فرمایا: "چترال سے کچھ پتھر منگوائے ہیں، آپ کے لیے گنجائش نکالوں گا۔"
ہم نے یوسف کے والد سے بابا جی کا ذریعۂ معاش پوچھا تو پتہ چلا بابا جی سری نگر کے ایک تاجر خاندان سے ہیں جن کی تجارت پورے ہندوستان میں تھی۔ بابا جی سیلانی آدمی تھے، تجارت کم اور سیاحت زیادہ کی۔ یوسف کے والد نے میرا اشتیاق دیکھتے ہوئے بابا جی سے تعارف کروایا اور ہم نے بابا جی سے تفتیش شروع کی۔
بابا جی جنرل نالج اور انسائیکلوپیڈیا کے سمندر تھے۔ مجھ سے میرے گاؤں کا نام پوچھا، حاجی معظم شاہ صاحب کا پوچھا جو رئیسِ ہزارہ اور بہترین شہسوار تھے، اور مرحوم امام جامع مسجد کی تعریف کی کہ بڑے عالم تھے۔
ریل پر بات ہوئی، فرنٹئیر ایکسپریس، کلکتہ میل (جو پشاور سے بمبئی اور کلکتہ چلتی تھیں) اور طوفان میل، سب پر بابا جی نے سفر کیا تھا۔ بسوں کا ذکر ہوا تو نندہ بس سروس جو لاہور سے امرتسر اور مظفر آباد چلتی تھی۔ 1970ء کی دہائی میں اور اس سے پہلے گامی لالا کی بسیں ایبٹ آباد سے مظفر آباد اور مری چلا کرتی تھیں۔ راولپنڈی سے ایبٹ آباد جی ٹی ایس (GTS) جو صوبہ سرحد کی بہترین سروس تھی، جس کا کنڈکٹر آٹھویں پاس ہوا کرتا تھا۔ جی ٹی ایس فیملیز کے لیے انتہائی محفوظ سروس تھی اور صوبہ سرحد کے لوگوں کے لیے ملازمت کا ذریعہ بھی تھی۔ یہ آفتاب بھی "فخرِ ایشیا" کے دور میں غروب ہوا جب آفتاب شیرپاؤ وزیرِ اعلیٰ تھے اور پیپلز پارٹی کو سیاسی گھوڑے خریدنے تھے۔
تقسیم سے پہلے اور بعد میں بھی ہنزہ، گلگت، چترال، پشاور اور ایبٹ آباد سے خچروں کے ذریعے تجارتی قافلے چلا کرتے تھے۔ شمالی علاقوں میں نمک ناپید تھا، یہاں سے نمک اور دوسرا سامان جاتا اور واپسی میں خشک میوہ، چلغوزے، قیمتی پتھر اور جڑی بوٹیاں لائی جاتیں۔ بابا جی نے یہ تجارت بھی کی، مگر دلچسپی قیمتی پتھروں سے رہی۔ سائیڈ بزنس کے طور پر ریشم، زعفران اور قیمتی شالوں کی بھی تجارت کرتے تھے۔
یہ تجارت خواص کے لیے تھی۔ حالات بدل رہے تھے، بابا جی کی دوربین نگاہوں کو نظر آ گیا تھا کہ مستقبل میں یہ تجارت زوال پذیر ہوگی، اس لیے اولاد کو کپڑے کی تجارت پر راغب کیا اور "کشمیر کلاتھ" پورے ہزارہ میں اعلیٰ درجے کے کپڑوں کا مرکز بن گیا۔ خود جبریہ اور فخریہ ریٹائرمنٹ لے لی۔ لوگوں کے پوچھنے پر کہا کہ مستقبل میں اس کام کے ماہر، سنگ تراش سنیاروں کے پاس نوکر ہوں گے جو اس کام کی توہین ہے۔ مستقبل میں بہت کم ظرف اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں گے اور عزت دار منہ چھپاتے پھریں گے۔
وقت تیزی سے گزر گیا۔ انٹر کا امتحان دیا اور کراچی اور گھر کی یاد ستائی۔ روانگی سے ایک دن پہلے یوسف سے ملنے گیا، بابا جی نظر نہیں آئے، ان کو تلاش کرتا ہوا گردوارہ گلی میں گیا۔ وہاں بابا جی ایک کلچہ فروش کی دکان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ سمجھ نہیں آئی کہ کیا کہوں، بس بابا جی کو سلام کیا اور خلافِ معمول مصافحہ کیا۔ بابا جی کچھ حیرت زدہ نظر آئے اور میں کوشش کے باوجود خدا حافظ نہ کہہ سکا۔
تقریباً ڈھائی ماہ بعد یوسف کا ٹیلیگرام موصول ہوا:
"Cong you pass i fail baba gi passed"
آج تک یہ تار سمجھ نہیں آیا کہ یہ خوشی کا تھا یا غم کا۔ پروردگار ایسے ہیروں اور جواہرات سے زیادہ قیمتی انسانوں کو وہ بلند درجات عطا فرمائے جس کے وہ اس مملکتِ خداداد میں قابل تھے، مگر اس قوم کو یہ جواہر اور لعل کبھی نظر نہیں آتے، نہ ان کی پذیرائی ہوتی ہے۔
رہے نام اللہ کا!
#ایبٹ_آباد #یادداشت #تاریخی_مضمون #اردو_ادب #کانگڑی_والا_بابا #جمیل_احمد #ماضی_کی_یادیں #ہزارہ_تاریخ #اردو_ڈائجسٹ #ہمارا_ڈائجسٹ

No comments:
Post a Comment