Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Saturday, September 19, 2026

: محبت سے بلیک میلنگ تک: سبق آموز کہانی| ہماری ڈائجسٹ

محبت سے بلیک میلنگ تک

(ایک سبق آموز اور دل دہلا دینے والی کہانی)
از قلم: ملک محمد شاکر بہاولپوری


محبت سے بلیک میلنگ تک، نرم لہجے اور مذہبی الفاظ کے پیچھے چھپی حقیقت پر مبنی سبق آموز کہانی کا کور، ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل
محبت سے بلیک میلنگ تک | ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

زینب ایک پڑھی لکھی، ذہین اور باوقار لڑکی تھی۔ وہ اپنے گھر کی ذمہ داریوں کو سمجھتی تھی، پردے کا اہتمام کرتی تھی اور اپنی عزت و وقار کا خاص خیال رکھتی تھی۔ سوشل میڈیا پر اس کی زیادہ تر سہیلیاں ہی تھیں۔ وہ اجنبی لڑکوں سے بات چیت نہیں کرتی تھی اور کسی کا غیرضروری پیغام آتا تو اسے نظرانداز کرکے بلاک کر دیتی۔

زینب ہمیشہ دوسری لڑکیوں کو نصیحت کیا کرتی تھی کہ کسی اجنبی لڑکے پر جلدی اعتماد نہ کرنا۔ اس نے کئی لڑکیوں کو ایسے تعلقات سے بچایا تھا جو ان کی زندگی برباد کر سکتے تھے۔ جن لڑکیوں کو اس نے سمجھایا تھا، وہ آج بھی اسے محبت سے ’’باجی‘‘ کہہ کر پکارتی تھیں۔

مگر اسے کیا معلوم تھا کہ ایک دن وہ خود بھی ایسے ہی دھوکے کا شکار ہو جائے گی۔ اس دن شاید وہ اپنی ان بہنوں کے سامنے کھڑے ہونے کے قابل بھی نہ رہتی جنہیں وہ کبھی احتیاط کا راستہ دکھایا کرتی تھی۔

تین سال پہلے کی بات ہے۔ زینب کو فیس بک پر ایک پیغام موصول ہوا۔

’’السلام علیکم!‘‘

اس نے پیغام نظرانداز کیا اور بھیجنے والے کو بلاک کر دیا۔ کچھ دیر بعد دوسری آئی ڈی سے پیغام آیا:

’’بس ایک بار میری بات سن لو۔‘‘

زینب نے اسے بھی بلاک کر دیا۔ پھر تیسری آئی ڈی سے پیغام آیا:

’’میں تمہیں تین سال سے جانتا ہوں۔‘‘

زینب پریشان ہو گئی۔ آخر یہ شخص اس کا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ رہا تھا؟ اس نے اس سے جان چھڑانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اپنی بائیو میں لکھ دیا: "مجھے لڑکوں سے نفرت ہے، کوئی انباکس نہ آئے۔"

اپنی ایک سہیلی سے کہا کہ وہ اسے بتا دے کہ زینب کی شادی ہو چکی ہے۔ اس نے اپنا نام تبدیل کر لیا، تصاویر ہٹا دیں اور ایک مرتبہ اپنے بھائی کی آئی ڈی سے بھی اسے پولیس میں رپورٹ کرنے کی دھمکی دی۔ اس دھمکی کے بعد وہ شخص تقریباً دس دن تک غائب رہا۔ زینب نے سکون کا سانس لیا اور سمجھا کہ شاید اب اس سے جان چھوٹ گئی ہے۔

لیکن گیارہویں دن پھر ایک پیغام آیا:

’’میں نے دس دن تمہارا انتظار کیا ہے۔ اب تم خود سوچو، میں کتنا سچا ہوں۔ میں نے تہجد میں بھی تمہارا نام لے کر دعا کی ہے۔‘‘

زینب نے یہ پڑھا تو اس کے دل میں پہلی مرتبہ اس شخص کے لیے نرم گوشہ پیدا ہوا۔ اسے لگا کہ شاید یہ کوئی عام لڑکا نہیں، بلکہ واقعی اس سے مخلص ہے۔ آخر کون کسی لڑکی کے لیے اتنا انتظار کرتا ہے اور تہجد میں اس کا نام لے کر دعا مانگتا ہے؟ زینب کو معلوم نہیں تھا کہ بعض لوگ مذہب، محبت اور جذبات کے الفاظ کو بھی اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

دونوں کے درمیان بات چیت شروع ہو گئی۔ رات کے بارہ بجے سے فجر تک گفتگو ہوتی رہتی۔ وہ کبھی اسے ’’میری ملکہ‘‘ کہتا، کبھی ’’میری چاند‘‘ اور کبھی ’’میری آخری محبت‘‘۔ جب زینب کہتی کہ اب سو جانا چاہیے تو وہ جواب دیتا:

’’میری ملکہ، سو جاؤ۔ تمہاری آنکھیں لال ہو رہی ہیں۔‘‘

زینب مسکرا کر کہتی: ’’نہیں، تمہاری آواز میں سکون ہے۔‘‘ وہ شخص اسے محبت بھرے خواب دکھاتا۔ کہتا کہ شادی کے بعد دونوں مدینہ جائیں گے، وہ اسے آنکھوں میں بسا کر رکھے گا اور زندگی بھر اسے کسی تکلیف کا سامنا نہیں ہونے دے گا۔

زینب کو محسوس ہونے لگا کہ شاید یہی وہ شخص ہے جس کا اسے برسوں سے انتظار تھا۔ وہ اس کے الفاظ کو سچ سمجھ بیٹھی۔ اعتماد بڑھتا گیا اور احتیاط کی وہ دیوار، جسے اس نے برسوں سے قائم کر رکھا تھا، آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگی۔

پھر ایک دن اس نے کہا: ’’بس ایک تصویر بھیج دو۔‘‘ زینب نے صاف انکار کر دیا: ’’نہیں، یہ مناسب نہیں۔‘‘

وہ دوبارہ بولا: ’’اچھا، حجاب کے بغیر ایک تصویر بھیج دو۔ صرف میرے لیے۔‘‘

زینب نے جواب دیا: ’’نکاح سے پہلے ایسی چیزیں درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں احتیاط کا حکم دیا ہے۔‘‘ وہ کبھی ناراض ہوتا، کبھی محبت کا واسطہ دیتا اور کبھی اسے احساسِ جرم میں مبتلا کر دیتا۔ زینب ہر بار انکار کرتی رہی، لیکن وہ شخص اپنی بات منوانے کے لیے نئے طریقے تلاش کرتا رہا۔

ایک دن اس نے اپنی کلائی کی تصویر بھیجی، جس پر زخم کا نشان تھا۔ ساتھ لکھا: ’’اگر تم نے مجھ سے بات نہ کی تو میں کچھ کر لوں گا۔ پھر مت کہنا کہ تمہیں میری فکر نہیں تھی۔‘‘

زینب گھبرا گئی۔ اسے ڈر لگا کہ کہیں وہ شخص واقعی اپنے آپ کو نقصان نہ پہنچا لے۔ اسی خوف اور پریشانی میں اس نے ویڈیو کال پر بات کر لی۔

کچھ دن بعد اس نے ایک اور بات چھیڑ دی: ’’میرے دوست کہتے ہیں کہ تم مجھے بے وقوف بنا رہی ہو۔ تم کسی اور سے بھی بات کرتی ہو۔ اگر تم صرف میری ہو تو مجھے ثابت کرکے دکھاؤ۔‘‘

زینب کے دل میں اسے کھونے کا خوف پیدا ہو چکا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ اگر اس نے اس کی کوئی بات نہ مانی تو وہ اسے چھوڑ دے گا۔ وہ اپنے تعلق کو بچانے کے لیے ایسی حدود کے قریب پہنچنے لگی جنہیں وہ کبھی عبور نہیں کرنا چاہتی تھی۔

پھر ایک رات اس نے ویڈیو کال پر بات کی۔ اس کے ذہن میں یہی خیال تھا کہ وہ شخص اس سے نکاح کرنے والا ہے، اس لیے شاید اس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس شخص نے دھوکے سے ویڈیو ریکارڈ کر لی۔ زینب کو اس کا علم بھی نہ ہوا۔

اگلی صبح اس کا لہجہ بدل چکا تھا۔ جو شخص پہلے اسے ’’شہزادی‘‘ کہتا تھا، اب سخت لہجے میں بات کرتا تھا۔ جو نکاح کے وعدے کیا کرتا تھا، اب ہر بات سے بچنے لگا تھا۔

زینب نے ایک دن ہمت کرکے کہا: ’’اب بہت ہو گیا۔ اگر تم واقعی مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہو تو اپنے گھر والوں کو بھیجو۔ میں اس طرح مزید نہیں رہ سکتی۔‘‘

وہ شخص ہنسا۔ ایسی ہنسی جس کی گونج آج بھی زینب کے ذہن میں محفوظ تھی:

’’رشتہ؟ تمہیں کس نے کہا کہ میں تم سے شادی کروں گا؟ تمہاری ویڈیو میرے پاس ہے، وہ بھی ہائی ڈی کوالٹی میں۔ اب جیسا میں کہوں گا، ویسا ہی کرنا ہو گا۔ پیسے بھیجو، اور جب میں کہوں ویڈیو کال پر آؤ۔ ورنہ تمہارے باپ اور بھائی کو سب کچھ بھیج دوں گا۔‘‘

زینب کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ جس شخص کو وہ اپنا ہمسفر سمجھ رہی تھی، وہی اس وقت اسے دھمکیاں دے رہا تھا۔ وہ شخص جس نے تہجد، دعاؤں اور مدینہ جانے کے خواب دکھائے تھے، اب اس کی عزت کو ایک ہتھیار بنا کر اسے اپنے قابو میں رکھنا چاہتا تھا۔ اس دن زینب کو اندازہ ہوا کہ ہر نرم لہجے کے پیچھے نیک نیتی نہیں ہوتی اور ہر محبت بھرا دعویٰ سچ نہیں ہوتا۔

اس کے بعد اس کی زندگی عذاب بن گئی۔ وہ اکثر اپنے کمرے میں بند رہتی۔ نہ کھانے کو دل چاہتا، نہ کسی سے بات کرنے کو۔ اس کی والدہ بار بار پوچھتیں: ’’بیٹی، کیا ہوا ہے؟ تم اتنی پریشان کیوں رہتی ہو؟‘‘ والد اسے ڈاکٹروں کے پاس لے جاتے۔ ڈاکٹر کہتے کہ وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ مگر گھر والوں کو کیا معلوم تھا کہ ان کی بیٹی کس خوف اور اذیت سے گزر رہی ہے؟ وہ اپنے اندر ایک ایسا راز لیے پھرتی تھی جس نے اس کا سکون چھین لیا تھا۔

پھر ایک دن زینب کے چھوٹے بھائی کے نمبر پر ایک اجنبی نمبر سے اس کی ویڈیو کا دس سیکنڈ کا کلپ بھیج دیا گیا۔ گھر میں جیسے قیامت برپا ہو گئی۔ بات رشتہ داروں تک پہنچی تو کچھ لوگوں نے ہمدردی کے بجائے اسے ہی قصوروار ٹھہرانا شروع کر دیا۔ کچھ نے طعنے دیے اور کچھ نے اس سے تعلقات محدود کر لیے۔ زینب پہلے ہی خوف زدہ تھی، لیکن اب اسے اپنے گھر اور معاشرے دونوں سے گھٹن محسوس ہونے لگی۔ اس کے دل سے بس ایک دعا نکلتی: ’’یا اللہ! مجھے اس تکلیف سے نجات دے۔‘‘

اسی دوران وہ شخص اچانک غائب ہو گیا۔ اس کا نمبر بند تھا، واٹس ایپ بند تھا اور فیس بک اکاؤنٹ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ زینب نے سوچا کہ شاید اب یہ سلسلہ ختم ہو گیا ہے، لیکن اس کے دل میں خوف بدستور زندہ تھا۔

کچھ عرصے بعد اس نے ہمت کرکے اس کی ایک پرانی آئی ڈی کھولی، جس کا پاس ورڈ اسے معلوم تھا۔ اندر ایک خفیہ فولڈر موجود تھا، جس کا نام تھا: کولیکشن۔ فولڈر کھولا تو اس میں کئی ذیلی فولڈرز نظر آئے۔

پہلے فولڈر پر لکھا تھا: ’’شکار 1 — کراچی — مشن مکمل‘‘

دوسرے پر درج تھا: ’’شکار 2 — لاہور — بہت روئی تھی‘‘

زینب کی نظریں اسکرین پر جم گئیں۔ پھر اسے ایک ایسا فولڈر نظر آیا جس پر اس کی اپنی شناخت درج تھی: ’’شکار 32 — بہت ہوشیار بنتی تھی، آخر میں آ ہی گئی۔‘‘

زینب کا دل دہل گیا۔ وہ صرف ایک لڑکی نہیں تھی جسے اس شخص نے دھوکا دیا تھا۔ اس کے پاس کئی لڑکیوں کا مواد موجود تھا۔ زینب یہ سوچ کر کانپ اٹھی کہ نہ جانے کتنی لڑکیاں اسی طرح اس کے جھوٹے وعدوں اور جذباتی دباؤ کا شکار ہوئی ہوں گی۔ ہر لڑکی شاید یہی سمجھتی رہی ہو گی کہ وہ اس شخص کی پہلی اور آخری محبت ہے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس تھی۔ وہ شخص محبت کرنے والا نہیں، بلکہ دوسروں کے اعتماد کا فائدہ اٹھانے والا ایک بلیک میلر تھا۔

زینب کو اس دن اندازہ ہوا کہ کسی کی مستقل توجہ، مذہبی الفاظ یا محبت بھرے وعدے اس کے کردار کی ضمانت نہیں ہوتے۔ انسان کی اصل پہچان اس کے عمل، حدود کے احترام اور ذمہ داری سے ہوتی ہے۔

زینب کی کہانی کا سب سے بڑا سبق یہی تھا کہ محبت کے نام پر کسی کو اپنی مرضی، عزت اور حدود سے دست بردار نہیں ہونا چاہیے۔ جو شخص بار بار انکار کے باوجود رابطہ کرے، جذباتی دباؤ ڈالے یا محبت ثابت کرنے کے نام پر تصاویر اور ویڈیوز کا مطالبہ کرے، اس کے رویے کو محبت سمجھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ محبت دھمکی نہیں دیتی۔ محبت کسی کو خوف میں مبتلا نہیں کرتی۔ محبت اعتماد کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھاتی۔

اور اگر کوئی شخص بلیک میلنگ کا شکار ہو جائے تو اسے تنہا نہیں رہنا چاہیے۔ کسی قابلِ اعتماد گھر والے، قانونی ماہر یا متعلقہ ادارے سے مدد لینا ضروری ہے۔ کسی کے دھوکے کا شکار ہونا اس کی پوری شخصیت یا عزت کی تعریف نہیں کرتا۔ متاثرہ شخص مدد، تحفظ اور نئی زندگی شروع کرنے کا حق رکھتا ہے۔

زینب کی کہانی ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ معاشرے کو متاثرہ افراد کو طعنے دینے کے بجائے ان کی مدد کرنی چاہیے۔ غلطی، دھوکے یا استحصال کا سامنا کرنے والے انسان کو مزید تنہائی میں دھکیلنا مسئلے کو سنگین بنا دیتا ہے۔

No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages