Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Wednesday, June 24, 2026

نواسۂ رسولؐ کا پیغام اور عصرِ حاضر کا مسلمان - ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

 نواسۂ رسولؐ کا پیغام اور عصرِ حاضر کا مسلمان

nawasa-e-rasool-ka-paigham-blog-banner

تحریر: ارم کاشف

تاریخِ انسانی میں بعض واقعات محض گزرے ہوئے زمانوں کی یاد نہیں ہوتے بلکہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے چراغِ راہ بن جاتے ہیں۔ ایسے واقعات وقت کی گرد میں دبنے کے بجائے ہر دور میں نئے معانی کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔ سانحۂ کربلا بھی تاریخِ اسلام کا ایسا ہی ایک عظیم اور آفاقی واقعہ ہے جس نے حق و باطل کے درمیان ایک ایسی واضح لکیر کھینچ دی جو قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ محرم الحرام کی نو اور دس تاریخیں ہمیں صرف ایک دلخراش سانحے کی یاد نہیں دلاتیں بلکہ یہ اس ابدی حقیقت کا شعور بھی عطا کرتی ہیں کہ اصولوں، سچائی اور عدل پر قائم رہنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔

کربلا درحقیقت دو لشکروں کی جنگ نہیں تھی بلکہ دو نظریات کا تصادم تھا۔ ایک طرف اقتدار کی ہوس، ظلم، جبر اور آمریت تھی جبکہ دوسری جانب حق، انصاف، حریتِ فکر اور دینِ محمدیؐ کی اصل روح کا تحفظ تھا۔ نواسۂ رسولؐ حضرت امام حسینؑ نے اپنے اہلِ بیت اور رفقا کے ہمراہ ایسی عظیم قربانی پیش کی جس کی مثال تاریخِ عالم میں کم ہی ملتی ہے۔ آپؑ نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ جب حق اور باطل آمنے سامنے ہوں تو مصلحتوں کے بجائے اصولوں کا ساتھ دینا ہی اہلِ ایمان کا شیوہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہے جو ہر دور کے انسان کو اپنے ضمیر کے مطابق جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔

آج جب محرم الحرام کا چاند طلوع ہوتا ہے تو دنیا بھر کے مسلمان غمِ حسینؑ میں سوگوار ہو جاتے ہیں۔ محبتِ اہلِ بیتؑ بلاشبہ ایمان کا قیمتی سرمایہ ہے، لیکن کربلا کا پیغام صرف آنسو بہانے اور مجالس برپا کرنے تک محدود نہیں۔ کربلا دراصل ایک مکتبِ فکر ہے جو انسان کو حق و باطل میں تمیز کرنا، ظلم کے خلاف کھڑا ہونا اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانا سکھاتا ہے۔ اگر ہم محرم کے ایام میں صرف جذباتی وابستگی کا اظہار کریں لیکن اپنی عملی زندگی میں حسینی کردار کو جگہ نہ دیں تو ہم کربلا کے اصل مقصد سے دور رہ جاتے ہیں۔

اگر آج کے معاشرے کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ یزیدیت صرف تاریخ کا ایک کردار نہیں بلکہ ایک سوچ کا نام ہے جو مختلف صورتوں میں ہمارے اردگرد موجود ہے۔ جب رشوت انصاف کا راستہ روک دیتی ہے، جب طاقتور کمزور کے حقوق پامال کرتا ہے، جب ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری عوام کی مشکلات میں اضافہ کرتی ہے، جب جھوٹ، بہتان اور کردار کسے کو معمول بنا لیا جاتا ہے اور جب مظلوم کی فریاد سن کر بھی لوگ خاموش رہتے ہیں تو یہ سب اسی سوچ کی مختلف شکلیں ہیں جس کے خلاف امام حسینؑ نے آواز بلند کی تھی۔ ایسے حالات میں حسینی کردار کا تقاضا ہے کہ انسان حق کا ساتھ دے، خواہ اس کے لیے اسے ذاتی مفاد، آسائش یا وقتی فائدے کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔

امام حسینؑ کی سیرت ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ خاموشی ہمیشہ دانشمندی نہیں ہوتی۔ بعض مواقع پر ظلم کے سامنے خاموش رہنا خود ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف بن جاتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے حق بات کہنے کو بڑی فضیلت قرار دیا ہے۔ آج کے دور میں حسینی کردار کا مطلب یہ ہے کہ ایک تاجر دیانت داری اختیار کرے، ایک استاد امانت کے ساتھ علم منتقل کرے، ایک صحافی سچائی کو اپنا شعار بنائے، ایک حکمران عوام کے حقوق کا محافظ ہو اور ایک عام مسلمان انصاف، دیانت اور اخلاقی جرات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔

اسی حقیقت کو جوش ملیح آبادی نے نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے:

 انسانیت کو ہائے مٹاتی تھی ظالمت

 شبیرؑ آگئے تو بقا پا گئی زمین

عاشورہ کا ایک عظیم پیغام اتحاد، اخوت اور انسان دوستی بھی ہے۔ امام حسینؑ کسی ایک مسلک، گروہ یا طبقے کے نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور پوری انسانیت کے رہنما ہیں۔ ان کی قربانی آزادی، عزتِ نفس، عدل اور انسانی وقار کی ایسی عالمگیر علامت ہے جسے دنیا بھر میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا کا پیغام مذہبی اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو کر ہر اس انسان کے دل کو متاثر کرتا ہے جو ظلم کے مقابلے میں حق اور انصاف کا علم بلند دیکھنا چاہتا ہے۔

کربلا کی تپتی ریت پر ادا کیا جانے والا آخری سجدہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بندۂ مومن کی اصل کامیابی اللہ تعالیٰ کی رضا کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے میں ہے۔ اگر ہم دنیا اور آخرت میں سرخرو ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں حسینی فکر کو محض رسم و رواج اور یادگاروں تک محدود رکھنے کے بجائے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ محرم الحرام ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم ظلم کے خلاف آواز بلند کریں، مظلوم کا ساتھ دیں، سچائی کو اپنائیں اور اپنے کردار سے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو زندہ کریں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کربلا کو صرف ایک تاریخی واقعہ سمجھ کر نہ پڑھیں بلکہ اسے اپنے لیے ایک عملی منشور بنائیں۔ جب تک حسینی فکر ہمارے انفرادی اور اجتماعی کردار کا حصہ نہیں بنتی، تب تک کربلا کا پیغام محض ایک یادگار رہے گا، رہنمائی کا سرچشمہ نہیں بن سکے گا۔ یہی وہ پیغام ہے جو چودہ سو برس گزرنے کے باوجود آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے اور آئندہ بھی زندہ رہے گا، کیونکہ حق کی آواز کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے مگر ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔

بلاشبہ، قتلِ حسینؑ تاریخ کا ایک عظیم اور دلخراش سانحہ تھا، لیکن اسی بے مثال قربانی نے اسلام کے آفاقی پیغام کو نئی زندگی عطا کی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں کربلا حق، استقامت اور آزادی کی علامت بن کر انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ رئیس امروہوی کے یہ اشعار اسی حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں:

 قتلِ حسینؑ اصل میں مرگِ یزید ہے

 اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages