افسانہ: بے مول
![]() |
(پہلی قسط)
تحریر:علینہ خانشام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ باورچی خانے میں مصالحوں کی تیز مہک اور ہنڈیا میں قیمہ بھونتے ہوئے چمچے کی کھڑ کھڑ کے درمیان رضیہ شیلف کا سہارا لیے کھڑی تھی۔ نویں مہینے کے بھاری وجود کا پیٹ پر شدید دباؤ تھا اور کمر میں میٹھی میٹھی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ اس نے تپتے ہوئے ماتھے پر آیا پسینہ ہاتھ کی پشت سے پونچھا اور کانپتے ہاتھوں سے مصالحے کا ڈبہ اٹھا کر اوپری کیبنٹ میں رکھنے کی کوشش کی۔
ساس زبیدہ بیگم کچن کے دروازے پر دونوں ہاتھ کمر پر رکھے، سخت اور گھورتی ہوئی نگاہوں سے رضیہ کو دیکھتے ہوئے تنک کر بولیں:
"او ہو رضیہ! یہ تم چیونٹی کی چال کیوں چل رہی ہو؟ میں کب سے دیکھ رہی ہوں، ایک ڈبہ اٹھا کر اوپر رکھنے میں تمہیں آدھا گھنٹہ لگ گیا ہے! ذرا ہاتھ تیز چلاؤ، ابھی رات کے کھانے کی تیاری بھی پڑی ہے۔"
رضیہ پیٹ کے نچلے حصے کو ایک ہاتھ سے تھامے، ڈبہ کیبنٹ میں رکھتے ہوئے تکلیف سے آنکھیں بند کر کے بولی:
"اماں جی... مجھ سے بالکل کھڑا نہیں ہوا جا رہا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے صبح ہی کاشف کے سامنے صاف کہا تھا کہ بچے کی پوزیشن ٹھیک نہیں ہے، سی سیکشن کا انتظام کریں..."
زبیدہ بیگم نے فوراً بات کاٹتے ہوئے چہرے پر شدید ناگواری کا تاثر دیا:
"لو سن لو! ان ڈاکٹروں کے تو دھندے ہیں یہ! ذرا سا درد ہوا نہیں اور سیدھا آپریشن تھیٹر کا راستہ دکھا دیا۔ ہسپتال والوں کو تو بس لاکھ دو لاکھ کا بل بنانا ہوتا ہے۔"
اسی اثنا میں کام سے تھکا ہار آکر کاشف گھر میں داخل ہوا۔ اماں کو کچن کے قریب کھڑا دیکھ کر سنجیدگی سے پوچھنے لگا:
"کیا ہوا؟ سب خیر تو ہے؟ کیا باتیں ہو رہی ہیں ساس بہو میں؟"
زبیدہ بیگم جھٹ سے بولیں:
"باتیں نہیں، تمہاری بیگم کی نئی نئی کہانیاں سن رہی ہوں۔ کہتی ہے مجھ سے کچن کا کام نہیں ہوتا، اوپر والے خانے میں برتن نہیں رکھے جاتے۔ بس ابھی سے آپریشن کے خواب دیکھ رہی ہے! میں تو سمجھاتی رہی کہ کام کاج کرو گی تو جسم کھلے گا ورنہ ہسپتال والے لاکھوں کا بل بنا کر تمہیں بستر سے لگا دیں گے، مگر محترمہ کے ناز نخرے ہی ختم ہونے میں نہیں آ رہے۔"
کاشف نے سنجیدگی سے رضیہ کو دیکھتے ہوئے کہا:
"رضیہ! اماں بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ میں نے اپنے دوست اسلم سے بات کی ہے، اس کی بیوی کا کیس بھی ایسا ہی تھا لیکن دائی نے گھر پر ہی آرام سے نارمل ڈیلیوری کروا دی۔ تم خواہ مخواہ ڈر رہی ہو۔ آپریشن کا مطلب سمجھتی ہو؟ ایک تو ہسپتال کا بے جا خرچہ، اوپر سے تم مہینوں کے لیے بستر سے لگ جاؤ گی۔ میں کہاں سے لاؤں اتنے پیسے؟"
رضیہ آنسوؤں سے لبریز آنکھوں سے کاشف کی طرف دیکھتے ہوئے بولی:
"کاشف! آپ پیسوں کی بات کر رہے ہیں؟ مجھے اپنی نہیں، اپنے بچے کی فکر ہے۔ ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اگر زبردستی نارمل کی کوشش کی تو اندرونی خون بہنے کا خطرہ ہے، میری بچے دانی بھی پھٹ سکتی ہے! میری جان کو خطرہ ہو سکتا ہے کاشف..."
زبیدہ بیگم آگے بڑھ کر رضیہ کا بازو ہلکے سے جھٹکتے ہوئے بولیں:
"ارے کچھ نہیں ہوتا! ہمارے زمانے میں بھی تو بچے ہوتے تھے نا؟ کیا ہم مر گئے تھے؟ یہ آج کل کی لڑکیوں کے ناز نخرے ہی ختم نہیں ہوتے۔ یہ اوپر والے کیبنٹ سے برتن نکال کر نیچے رکھو اور پھر بائیں طرف والی الماری میں دکان سے لایا گیا سودا رکھو۔ جتنا چلتی پھرتی رہو گی، اتنی ہی جلدی اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاؤ گی اور آپریشن کی مصیبت سے بچو گی۔"
زبیدہ بیگم کی سخت اور اونچی آواز کے بعد کچن میں ایک لمحے کے لیے گہرا سناٹا چھا گیا۔ وہ ناگواری سے رضیہ کو سر سے پاؤں تک گھورتی ہوئی باہر نکل گئیں اور صحن سے ان کی بلند آواز آئی:
"کاشف! میرے کمرے میں آؤ ذرا، مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے!"
زبیدہ بیگم کے جاتے ہی کاشف چند قدم آگے بڑھ کر نرمی سے رضیہ کا کندھا تھامتے ہوئے کہنے لگا:
"رضیہ... سنو نا! تم اماں کی باتوں کو دل پر کیوں لے لیتی ہو؟ وہ پرانے زمانے کی ہیں، ان کا مزاج ذرا ایسا ہی ہے۔"
رضیہ نے سسکتے ہوئے رخ موڑ لیا:
"کاشف! یہ صرف مزاج کی بات نہیں ہے۔ مجھے واقعی بہت شدید درد ہو رہا ہے۔ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو..."
کاشف نے رضیہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے اور اس کی پیشانی پر جھکتے ہوئے کہا:
"کچھ نہیں ہوگا میری جان! تم بہت بہادر ہو۔ ذرا سا حوصلہ اور ہمت کرو نا۔ تم تو جانتی ہو میں تمہارے بغیر ایک پل نہیں رہ سکتا، پھر تمہیں کچھ کیسے ہونے دوں گا؟ بس یہ تھوڑا سا وقت ہے، ذرا ہمت دکھاؤ تاکہ امی کا دل بھی خوش رہے اور ہسپتال کے بے جا لفڑے بھی نہ ہوں۔"
رضیہ بے بسی سے کاشف کی آنکھوں میں دیکھنے لگی، جہاں محبت کے ساتھ ساتھ اپنی بات منوانے کی چالاکی نمایاں تھی۔
کاشف ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ رضیہ کے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہنے لگا:
"جب یہ سب ختم ہو جائے گا اور ہمارا ننھا مہمان آ جائے گا نا، تو میں تمہیں گھمانے لے جاؤں گا۔ جو مانگو گی وہ لا کر دوں گا، لیکن ابھی کے لیے تھوڑے سے حوصلے سے کام لو، ٹھیک ہے؟"
باہر سے زبیدہ بیگم کی دوبارہ غصے بھری آواز گونجی:
"کاشف! مر گئے ہو کیا؟ اندر آؤ گے یا میں خود آؤں؟"
کاشف جلدی سے پیچھے ہٹا اور رضیہ کے ہاتھ کو ذرا سا دبا کر بولا:
"لو اماں بلا رہی ہیں، میں دیکھ کر آتا ہوں۔ تم بس اپنا خیال رکھو اور کام جلدی سمیٹ لو۔"
کاشف کچن سے نکل کر اماں کے کمرے کی طرف بڑھ گیا اور رضیہ ایک بار پھر اس ویران کچن میں اکیلی، اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے سسکیوں کو دبانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔
کاشف تیز قدم اٹھاتا ہوا اماں کے کمرے میں داخل ہوا، جہاں زبیدہ بیگم پلنگ کی پائینتی پر بیٹھی غصے سے پاؤں ہلا رہی تھیں۔ کمرے میں لگے پرانے پنکھے کی گھرگھرائی کے علاوہ عجیب سی گھٹن کا احساس تھا۔ کاشف کو انہوں نے گھور کر دیکھا اور تکیے کو پیچھے کھسکاتے ہوئے بولیں:
"آ گئے تم؟ میں وہاں صحن میں کب سے گلا پھاڑ رہی ہوں اور تم وہاں کچن میں اپنی بیگم کے ناز نخرے اٹھا رہے ہو؟"
کاشف اماں کے قریب پلنگ کے کنارے بیٹھتے ہوئے کہنے لگا:
"اماں! ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں تو بس اسے سمجھا رہا تھا کہ آپ کی بات مانے اور ہمت دکھائے۔"
زبیدہ بیگم تیوری چڑھا کر ہاتھ نچاتے ہوئے کہنے لگیں:
"سمجھا رہے تھے یا اس کی جلی کٹی باتیں سن کر اس کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے؟ دیکھو کاشف! میں تمہیں صاف بتائے دیتی ہوں، اس لڑکی نے اپنے ذہن میں آپریشن کا بھوت سوار کر رکھا ہے۔ آج کل کی ہسپتال والی ڈاکٹریں تو بس پیسے بٹورنے کی طاق میں بیٹھی ہوتی ہیں۔ ذرا سا درد ہوا نہیں اور بول دیا کہ آپریشن ہوگا۔ تم ذرا اپنی جیب کی طرف دیکھو، اتنے پیسے کہاں سے لاؤ گے؟"
کاشف سنجیدگی سے پیشانی ملتے ہوئے کہنے لگا:
"اماں! پیسے تو واقعی نہیں ہیں، لیکن وہ کہہ رہی تھی کہ ڈاکٹر نے خطرناک صورتحال کا بتایا ہے۔ اگر خدانخواستہ کوئی مسئلہ ہو گیا تو؟"
زبیدہ بیگم نے پہلو بدلا:
"کچھ نہیں ہوتا! مجھ سے زیادہ جانتی ہے وہ یا وہ ڈاکٹریں؟ میں نے چار بچے پیدا کیے ہیں وہ بھی بنا کسی ہسپتال کے چکروں کے۔ ذرا سا کام کاج کرے گی، کچن میں ہاتھ پیر ہلائے گی تو خود ہی سب آسان ہو جائے گا۔ تم ذرا سخت ہو جاؤ اس کے معاملے میں۔ اگر ابھی سے ڈھیل دی تو زندگی بھر تمہیں یوں ہی ہسپتالوں کے چکروں میں پسواتی رہے گی۔"
کاشف تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد لمبی سانس بھرتے ہوئے بولا:
"آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں اماں۔ میں اسے مزید کوئی لاڈ پیار نہیں دکھاؤں گا۔ اسلم نے بھی یہی کہا تھا کہ دائی سے بات کر لو، وہ سب سنبھال لیتی ہے۔ میں کل ہی دائی کو گھر لے آتا ہوں تاکہ وہ معائنہ کر لے۔"
زبیدہ بیگم چہرے پر اطمینان اور فتح کا تاثر لاتے ہوئے بولیں:
"ہاں! یہ ہوئی نا عقل مندی والی بات۔ دائی کو بلا لو، وہ گھر پر ہی سب دیکھ لے گی۔ اور ذرا اپنی بیگم کو بھی کہہ دو کہ اب بستر پر پڑنے کے بہانے چھوڑے اور گھر کے کاموں میں میرا ہاتھ بٹائے۔"
کاشف سرد آہ بھر کر اٹھتے ہوئے کہنے لگا:
"جی اماں! میں اسے بول دیتا ہوں۔ آپ فکر نہ کریں، پیسے ضائع نہیں ہونے دوں گا۔"
کاشف کمرے سے نکل کر گلی کی جانب ٹہلنے چلا گیا، جبکہ زبیدہ بیگم تسلی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں۔ مگر انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ان کا یہ فیصلہ کتنی بڑی تباہی کا پہلا قدم تھا۔
جون جولائی کی حبس بھری شدید گرمی میں سورج آگ برسا رہا تھا اور بجلی کی بار بار کی لوڈ شیڈنگ نے گھر کی حالت جہنم بنا رکھی تھی۔ شام کے وقت جب کاشف کی دونوں بہنیں فرزانہ اور نازش اپنے پانچ شرارتی بچوں کے ہمراہ گرمیوں کی چھٹیاں منانے پہنچیں تو پورے گھر میں اودھم مچ گیا۔ ننھے بچوں کی چیخ و پکار اور سامان کے انبار کے درمیان رضیہ کا گھٹن سے دم گھٹنے لگا۔ نویں مہینے کا آخری ہفتہ تھا، پیٹ پتھر کی طرح سخت ہو چکا تھا اور کمر میں شدید ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔
زبیدہ بیگم صحن میں خوشی سے اپنی بیٹیوں کا استقبال کرتے ہوئے بلند آواز میں بولیں:
"آؤ آؤ میری بچیو! ارے رضیہ... کہاں مر گئی؟ دیکھو کون آیا ہے! ذرا جلدی سے ٹھنڈے شربت کے جگ بناؤ اور بچیوں کے لیے کھیر کا پتیلا چڑھاؤ!"
رضیہ لرزتے ہوئے وجود کے ساتھ کچن کے گرم ماحول میں کھڑی دیوار کا سہارا لیتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی:
"جی اماں جی... بناتی ہوں۔"
رضیہ نے کانپتے ہاتھوں سے برف کا بھاری بلاک توڑنے کے لیے سل سرکاتے ہوئے بٹا اٹھایا ہی تھا کہ پیٹ کے نچلے حصے میں ایسا شدید مروڑ اٹھا جیسے اندر کچھ ٹوٹ گیا ہو۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور ماتھے پر ٹھنڈے پسینے کے قطرے نمودار ہو گئے۔ کچن میں پھیلی شدید حبس اور چولہے کی تپش نے اس کا دم گھوٹ دیا۔
فرزانہ کچن کے دروازے پر کھڑی ہو کر کہنے لگی:
"ارے بھابھی! ذرا ہاتھ تیز چلاؤ نا! بچے پیاس سے بے حال ہو رہے ہیں اور ہمارے کمرے کے کولر میں پانی بھی بھر دو!"
رضیہ شربت کے بھاری جگ کو اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے درد سے کراہتے ہوئے بولی:
"باجی... مجھ سے... مجھ سے وزن نہیں اٹھایا جا رہا... ڈاکٹر نے..."
اسی دوران نازش کچن میں داخل ہوتے ہی طنز سے ہنس کر بولی:
"او ہو! بھابھی کے نخرے تو دیکھو ذرا! امی بالکل سچ کہتی تھیں، ذرا سا پیٹ کیا باہر نکلا آپ تو ملکہ وکٹوریہ بن گئیں۔ ہم نے بھی بچے پیدا کیے ہیں، آٹھویں مہینے تک پورا گھر سر پر اٹھائے رکھتے تھے۔"
اسی اثنا میں پیٹ میں دوبارہ ایک بھیانک درد کی لہر اٹھی۔ اس بار درد اتنا شدید تھا کہ رضیہ کے ہاتھ سے شربت کا شیشے کا جگ چھوٹ کر فرش پر گرا اور پاش پاش ہو گیا۔ شربت کا سرخ رنگ اور شیشے کے ٹکڑے پورے کچن میں پھیل گئے۔
زبیدہ بیگم کچن میں دوڑی ہوئی آئیں اور نقصان دیکھ کر چیخ اٹھیں:
"یہ کیا ستیاناس کر دیا تم نے؟ اتنا مہنگا جگ توڑ دیا! تم سے ایک کام سیدھا نہیں ہوتا؟"
رضیہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی، اپنے پیٹ کو دونوں ہاتھوں سے جکڑے، تڑپتے ہوئے کہنے لگی:
"اماں... کاشف... مجھے بچا لو... اندر کچھ... بہت شدید درد ہو رہا ہے..."
نازش منہ بناتے ہوئے بولی:
"امی دیکھنا! برتن توڑ کر اب ڈرامہ شروع کر دیا تاکہ کام نہ کرنا پڑے۔"
رضیہ نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اس کی ٹانگوں نے جواب دے دیا۔ اس کی سفید شلوار پر خون کے سرخ دھبے تیزی سے پھیلنے لگے۔ پانی کی تھیلی پھٹ چکی تھی اور شدید اندرونی خون کا بہاؤ شروع ہو چکا تھا۔
رضیہ زمین پر گرتے ہی ہانپتے ہوئے چلانے لگی:
"کاشف..."
اس کی آنکھیں اوپر کو الٹنے لگیں اور وہ کچن کے سرخ ہوتے ہوئے فرش پر بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ تب جا کر زبیدہ بیگم اور دونوں نندوں کے چہروں کی ہوائیاں اڑیں اور گھر میں چیخ و پکار مچ گئی۔
کچن کے سرخ ہوتے فرش پر رضیہ کا بے سدھ وجود پڑا تھا اور اس کے گرد شربت کے ساتھ ملتا سرخ خون تیزی سے پھیل رہا تھا۔ زبیدہ بیگم کا رنگ پیلا پڑ چکا تھا اور فرزانہ و نازش کے چہروں کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔ بچوں کا شور اچانک سہمے ہوئے سناٹے میں بدل گیا۔
زبیدہ بیگم حواس باختہ ہو کر چیختے ہوئے گلی میں کاشف کو آواز لگانے بھاگیں:
"کاشف! او کاشف! جلدی اندر آؤ! دیکھو رضیہ کو کیا ہو گیا!"
کاشف جو نکڑ پہ کھڑا دوستوں سے گپیں لڑا رہا تھا، بھاگتا ہوا گھر کے اندر آیا۔ کچن کا بھیانک منظر دیکھ کر اس کے قدم وہیں جم گئے۔ رضیہ کا بے ہوش وجود، کھلی اور بے نور ہوتی آنکھیں اور فرش پر بہتا خون دیکھ کر اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔
کاشف لرزتی آواز میں رضیہ کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے چیخنے لگا:
"رضیہ! رضیہ! آنکھیں کھولو! تمہیں کیا ہوا؟ اماں یہ... یہ اتنا خون کیوں نکل رہا ہے؟ کیا ہوا تھا؟"
نازش کپکپاتے ہوئے بولی:
"بھائی... یہ اچانک گر پڑی۔ ہم نے تو کچھ بھی نہیں کہا تھا، بس شربت کا گلاس مانگا تھا۔"
کاشف نے رضیہ کو بازوؤں میں اٹھانے کی کوشش کی تو اس کا وجود بالکل بے جان محسوس ہوا اور اس کی شلوار خون سے پوری طرح تر ہو چکی تھی۔ پانی کی تھیلی پھٹنے اور بچے دانی پر دباؤ کی وجہ سے اندرونی شریانیں پھٹ چکی تھیں اور خون کا زبردست بہاؤ جاری تھا۔
کاشف سر پکڑ کر روہانسی آواز میں بولا:
"اماں! اس کا جسم ٹھنڈا پڑ رہا ہے! میں نے کہا تھا نا ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں! مگر تم نے دائی دائی کی رٹ لگا رکھی تھی!"
زبیدہ بیگم کانپتے ہاتھوں سے چادر سنبھالتے ہوئے بولیں:
"اب مجھے کیا پتہ تھا کہ ایسا ہو جائے گا! تم باتیں کیوں بنا رہے ہو، گاڑی نکالو جلدی! اسے ہسپتال لے کر چلو!"
کاشف نے چابیاں اٹھائیں اور رضیہ کو گود میں لیے باہر کی طرف بھاگا۔ رضیہ کا سر کاشف کے شانے پر ڈھلک گیا تھا اور اس کی سسکیاں بھی اب ختم ہو چکی تھیں۔
گاڑی میں زبیدہ بیگم پچھلی نشست پر رضیہ کا سر گود میں رکھے بیٹھی تھیں، لیکن اب ان کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکل رہا تھا۔ کاشف مسلسل شیشے میں پیچھے دیکھتا اور اسٹیئرنگ پر ہاتھ مارتا جا رہا تھا۔
کاشف آنکھوں میں آنسو لیے خود سے بڑبڑاتے ہوئے کہنے لگا:
"خدا کے لیے رضیہ... آنکھیں کھولو... مجھے معاف کر دو... میں پیسوں کے چکر میں اندھا ہو گیا تھا..."
ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے باہر جب گاڑی رکی تو کاشف نے چیخ کر اسٹریچر مانگا۔ ڈیوٹی پر موجود لیڈی ڈاکٹر نے جیسے ہی رضیہ کا معائنہ کیا اور اس کا گرتا ہوا بلڈ پریشر دیکھا، ان کے چہرے پر شدید تشویش پھیل گئی۔
ڈاکٹر سخت اور تیز آواز میں بولیں:
"یہ کس حال میں لائے ہو مریضہ کو؟ اس کی نبض ڈوب رہی ہے اور شدید اندرونی خون بہہ رہا ہے! فوراً خون کا انتظام کرو اور آپریشن تھیٹر تیار کرو!"
کاشف ڈاکٹر کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہنے لگا:
"ڈاکٹر صاحبہ! میری بیوی کو بچا لیں... جو خرچہ ہوگا میں دوں گا، بس اسے بچا لیں!"
ڈاکٹر ناگواری سے کاشف کو دیکھتے ہوئے کہنے لگیں:
"اب پیسے دینے کے لیے تیار ہو؟ پہلے کیوں نہیں لائے؟ اب ہم صرف کوشش کر سکتے ہیں، آگے اللہ مالک ہے۔"
رضیہ کو اسٹریچر پر تیزی سے آپریشن تھیٹر کی طرف لے جایا گیا۔ بھاگتے ہوئے اسٹریچر کے ساتھ کاشف بھی ساتھ لپکا، لیکن آپریشن تھیٹر کے سرخ بوجھل دروازے اس کے منہ پر بند ہو گئے اور باہر کوریڈور میں صرف ہسپتال کی لائٹوں کی زرد روشنی اور کاشف کی پچھتاوے سے بھری سسکیاں رہ گئیں۔
(جاری ہے...)
.jpg)
No comments:
Post a Comment