Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Monday, August 3, 2026

اطمینان و سکون – سوتن کے خوف نے ایک خوشحال گھر کو کیسے ہلا دیا؟ | اردو کہانی

اطمینان و سکون


اطمینان و سکون از صغیر جعفری – سوتن کے خوف، ازدواجی اعتماد اور محبت پر مبنی سبق آموز اردو کہانی

اطمینان و سکون | سوتن، اعتماد اور محبت کی دل کو چھو لینے والی اردو کہانی


"کبھی کبھی ایک معمولی مذاق بھی رشتوں میں ایسا زہر گھول دیتا ہے جس کا اثر برسوں باقی رہتا ہے..."

تحریر: صغیر جعفری

میں احسن ہوں۔ میری زندگی میں بظاہر یک طرفہ محبت نے اس وقت دستک دی جب میری بیٹی سولہ سال کی عمر میں ایف ایس سی کے دوسرے سال میں تھی۔

میں ایک نیوز ایجنسی (جو ایڈورٹائزنگ کا کام بھی کرتی ہے) میں مسلسل بیس سال سے کہانیاں، فیچرز، افسانے اور مختلف موضوعات پر مضامین لکھ رہا ہوں۔ میری بیوی ایک سرکاری اسکول میں ہائی کلاسز کو سائنس کے مضامین پڑھاتی ہے۔ وہ دمہ (Asthma) کی مریضہ ہے اور میں خود بھی کچھ کمزور سا ہوں، اسی لیے اڑتالیس سال کی عمر میں ستر سال کا بوڑھا نظر آتا ہوں۔

میں نو عمری سے پختہ عمری تک کسی سے بھی کسی نوعیت کی محبت نہ کرنے والا انسان ہوں، جبکہ میری تخلیقات عشق و محبت کے جذبات سے بھری پڑی ہیں اور دوستوں کے حلقے میں میری پہچان ایک جینوئن قلم کار کی ہے۔ گھر میں میری ہونہار بیٹی ہمارا بہت خیال رکھتی ہے، جبکہ میری بیوی اپنی بیماری اور مصروفیت کی وجہ سے مجھ سے ذرا فاصلے پر رہتی ہے۔

ایک دن میں ایک ڈائجسٹ کے ایڈیٹر کے پاس گیا جہاں میں فارغ وقت میں لکھی ہوئی کہانیاں دینے جاتا ہوں، جس سے مجھے اچھی خاصی آمدنی ہو جاتی ہے۔ اس دن ایڈیٹر کے کمرے میں صوفے پر ایک خاتون بیٹھی تھیں جنہوں نے خوبصورت ہلکے فیروزی رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا۔ وہ واقعی بڑی خوبصورت تھیں اور ان کی عمر کوئی پینتیس سال کے قریب ہوگی۔

ایڈیٹر صاحب نے مجھے سامنے والی کرسی پر بٹھایا، چپراسی کو چائے کا کہا اور ان خاتون سے مخاطب ہو کر میری طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے: "یہ ہیں احسن خان! ماشاء اللہ بہترین لکھتے ہیں۔ کہانیاں، افسانے اور فیچرز لکھنے میں کمال کی مہارت رکھتے ہیں۔"

پھر انہوں نے مجھے ان کا تعارف کرواتے ہوئے کہا: "یہ نائلہ ہیں، میری بھابھی۔ ان کے شوہر کئی سالوں سے کویت میں ایک آئل کمپنی میں ایڈمن مینیجر ہیں۔ میاں بیوی میں چپقلش کی وجہ سے وہ کئی سالوں سے پاکستان نہیں آئے، سنا ہے کہ انہوں نے وہاں کسی مصری عورت سے شادی کر رکھی ہے۔"

نائلہ نے بیزاری سے کہا: "چھوڑیں بھائی جی! آپ نے کس شخص کا ذکر چھیڑ دیا۔"

چائے کے بعد ایڈیٹر صاحب نے بتایا کہ نائلہ بھی لکھاری ہیں اور فیچرز لکھتی ہیں۔ جب میں جانے کے لیے اٹھا تو ایڈیٹر صاحب نے کہا: "احسن صاحب! آپ نائلہ کو بھی ساتھ لے لیں اور راستے میں ان کے گھر ڈراپ کر دیجیے گا۔ آپ چونکہ اسی طرف جا رہے ہیں، اس لیے زحمت دے رہا ہوں۔"

میں نے مسکرا کر کہا: "جی کوئی بات نہیں۔"

نائلہ خود ہی میری کار کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئیں۔ راستے میں کوئی خاص بات نہیں ہوئی کیونکہ میں تھوڑا محتاط رہ کر شرافت کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھا۔ نائلہ کا گھر آیا تو وہ کار سے اتر کر کہنے لگیں: "گو کہ چائے تو ہم ابھی پی کر آئے ہیں، لیکن اگر آپ میرے گھر بھی ایک کپ چائے پی لیں گے تو مجھے خوشی ہوگی۔"

مگر میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی شائستگی سے کہا: "آپ کی پرخلوص چائے پھر کبھی سہی۔" اور اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔

اگلے دن شام کو میں اپنے کام سے فارغ ہو کر گھر جانے ہی والا تھا کہ ریسیپشنسٹ نے انٹرکام پر بتایا کہ مسز نائلہ ملنا چاہتی ہیں۔ میں نے انہیں اپنے کمرے میں بلا لیا۔

نائلہ نے بیٹھتے ہی کہا: "میں سارے راستے دعا مانگتی رہی کہ آپ دفتر میں مل جائیں۔"

"اللہ تعالیٰ حسین خواتین کی دعائیں ضرور قبول کرتے ہیں..." میں نے 'حسین' پر زور دیتے ہوئے کہا۔

نائلہ نے مسکرا کر عجیب نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہا: "Thanks for your nice comment."

میں نے بھی خوش دلی سے جواب دیا: "You are always welcome!"

نائلہ کہنے لگیں: "میں ایک کام کے سلسلے میں آئی تھی۔ میرا ایک ٹی وی سیریل اگلے ماہ آن ایئر جائے گا، یہ اس کا اسکرپٹ ہے، ذرا اسے دیکھ کر اس کی اصلاح کر دیں۔"

"ایک منٹ خاتون!..." میں نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔ تو وہ بولیں: "خاتون نہیں، میرا نام نائلہ ہے۔"

اس بات پر ہم دونوں ہنس پڑے۔

"اوکے نائلہ صاحبہ! لیکن مجھے تو یہ بھی علم نہیں کہ ٹی وی اسکرپٹ ہوتا کیا ہے؟"

نائلہ بولیں: "آپ کے خیال میں ٹی وی اسکرپٹ کے سینگ نکلے ہوئے ہوتے ہیں؟ بھئی سیدھا سادہ ڈراما ہوتا ہے۔ اینڈ بائی دی وے (By the way)، کام دیکھے بغیر انکار کی عادت کہاں سے سیکھی ہے آپ نے؟"

میں ان کی اس بات پر واقعی لاجواب ہو گیا۔

میں نے نائلہ کا دیا ہوا اسکرپٹ پڑھ کر اس کی اصلاح کر دی۔ اس دوران نائلہ سے کئی بار ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ ایک دن میں باتوں ہی باتوں میں اپنے مدعے کی طرف آیا اور رشتے، بیوی بچے، مشکل فیصلے، کشمکش اور سماجی و نفسیاتی الجھنوں پر بات چھیڑ دی۔ میں نے براہ راست بات کرنے کے بجائے ذرا گھما پھرا کر بات کی، تو نائلہ نے مسکرا کر جواب دیا:

"پتا نہیں، میں تو ان چیزوں کو جذبات کی عینک سے نہیں دیکھتی۔ جذبات کی نظر سے دیکھو تو باقی دنیا اہم ہو جاتی ہے، انسان خود اہم نہیں رہتا۔ میرے لیے سب سے زیادہ اہم میری اپنی ذاتی خوشی ہے، زندگی صرف ایک بار ملتی ہے اور اپنی مرضی سے جینا میرا اصول ہے۔ یہ معاشرہ اور رشتے کیا ہوتے ہیں؟ انسان کے بغیر دوستی اور رشتے داریاں کچھ نہیں ہیں۔ جو لوگ ہزاروں میل دور جا بستے ہیں، کیا وہ اپنا معاشرہ ساتھ اٹھا کر لے جاتے ہیں؟ یا جس انسان کا پورا خاندان ختم ہو جائے، کیا وہ باقی زندگی بغیر رشتوں کے نہیں گزارتا؟ یہ سب باتیں ہم نے خود بنائی ہیں۔ میں پینتیس سال کی ہو چکی ہوں اور اب مجھے سمجھ آیا ہے کہ اپنی زندگی خود بنانی پڑتی ہے۔"

کچھ دنوں بعد مجھے ایک پروجیکٹ کی تکمیل کے لیے دو دن کے لیے رحیم یار خان (یا متعلقہ جگہ) جانا پڑا۔ وہاں موبائل فون کے سگنل بالکل نہیں آتے تھے۔ کام کچھ بڑھ گیا تو مجھے ایک دن مزید رکنا پڑ گیا۔

تین دن بعد جب میں صبح نو بجے کے قریب گھر پہنچا تو میری بیوی برآمدے میں کھڑی تھی۔ میں نے پوچھا: "خیریت؟ آج اسکول نہیں گئیں؟" اس نے نہایت تلخی سے کہا: "نہیں۔"

ایک تجربے کار شوہر کی طرح صورتحال کی نزاکت دیکھتے ہوئے میں خاموش ہو گیا۔ پھر وہ غصے سے بولی: "یہ نائلہ کون ہے؟"

"نا... نائلہ؟" میری آواز گلے میں ہی دب کر رہ گئی۔ "یہ بھی میں ہی بتاؤں کہ نائلہ کون ہے؟"

زندگی بھر مجھے عزت سے 'آپ' کہہ کر بلانے والی عورت آج شدید غصے میں تھی۔ میں نے سنبھلنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا: "اوہ نائلہ! وہ تو ایک رائٹر ہے، ہمارے آفس میں اسکرپٹ کی اصلاح کے لیے آتی ہے، مگر تمہارے بات کرنے کا یہ کیا طریقہ ہے؟"

وہ اور اونچی آواز میں بولی: "جہنم میں جائے طریقہ اور جہنم میں جائیں آپ خود! آپ کو شرم نہیں آتی؟ شادی تو آپ کو اپنی بیٹی کی کرنی چاہیے اور چلے ہیں خود اپنی شادی کرنے! وہ یہاں آئی تھی میرے گھر میں! آپ کے لیے بے تاب ہو رہی تھی، دو دن سے آپ کا موبائل بند تھا تو دفتر سے ہمارے گھر کا ایڈریس لے کر آ گئی تھی۔"

وہ ایک بپھری ہوئی شیرنی کی طرح دھاڑ رہی تھی۔ میں نے کہا: "تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے!"

وہ زور سے بولی: "اس عمر میں اس سے شادی آپ کر رہے ہیں اور دماغ میرا خراب ہو گیا ہے؟ واہ! خان صاحب! اب آپ پچیس سال کے جوان نہیں رہے، ستر سال کے بوڑھے لگتے ہیں۔ آپ نے یہ بھی نہیں سوچا کہ وہ عورت اپنے شوہر سے جان چھڑانے کے لیے آپ کو صرف ؀وقت طور پر استعمال کر رہی ہے؟"

میری برداشت بھی ختم ہو رہی تھی، میں نے کہا: "مجھے غصہ نہ دلاؤ وگرنہ میں کوئی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاؤں گا۔"

اس پر وہ تلخی سے ہنس کر کہنے لگی: "اور جب میں نے قدم اٹھایا تو پھر کیا کریں گے؟ میں اور میری بیٹی اس گھر میں رہیں گے اور آپ جہاں مرضی ہے چلے جائیں! کیونکہ یہ گھر میں نے اپنی ایک ایکڑ زمین اور زیور بیچ کر بنایا ہے اور اس کی رجسٹری بھی میرے نام ہے۔ میں آپ کے دفتر جا کر احتجاج کروں گی، کورٹ میں خلع کا کیس کروں گی اور ہر طرف سے آپ کا ناطقہ بند کر دوں گی!"

اتنا تیز بولنے پر اس کی سانس پھول گئی اور اسے دمہ کا شدید دورہ پڑ گیا، ساتھ ہی شدید کھانسی شروع ہو گئی۔

اس کی یہ حالت دیکھ کر میں گھبرا گیا اور اسے سنبھال کر لٹانے لگا، لیکن اس نے اپنا بازو جھٹک کر کہا: "خبردار! مجھے ہاتھ نہ لگانا۔"

سچی بات یہ ہے کہ اس کی حالت دیکھ کر میں بہت زیادہ پریشان ہو گیا اور بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں نے ہمت کی، کچن سے پانی کا گلاس لا کر اس کے ہونٹوں سے لگایا۔ میری پریشانی اور آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اس کا غصہ کچھ مدھم ہوا اور اس نے پانی پی لیا۔

میں نے بالکل دھیمے اور پیار بھرے لہجے میں کہا: "تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے، میں کبھی نائلہ سے شادی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ میں نے کتابوں میں پڑھا تھا کہ عورت سب کچھ برداشت کر لیتی ہے لیکن سوتن کبھی برداشت نہیں کر سکتی، آج میں نے اپنی آنکھوں سے اس کا عملی مظاہرہ دیکھ بھی لیا۔ مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ تمہارے دل میں میرے لیے اتنی محبت اور تڑپ ہے۔ مجھے معاف کر دو، ایک غلط فہمی کی بنا پر تمہیں شک ہوا جس پر میں معذرت خواہ ہوں۔"

میری بیوی نے خاموشی سے میرے ہاتھ تھام لیے، وہ ہاتھ جو اب مجھے سہارا دے رہے تھے۔

میں اپنے کمرے میں آ کر لیٹ گیا اور سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے میری آنکھ لگ گئی۔ دوپہر دو بجے کے قریب جب میری آنکھ کھلی تو میں نہا کر کمرے سے باہر آیا۔ بیٹی بھی کالج سے واپس آ چکی تھی۔ وہ بھاگ کر مجھ سے لپٹ گئی اور خوشی سے بولی: "بابا! مڈ ٹرم امتحانات میں میری پہلی پوزیشن آئی ہے!"

"ویری گڈ!" میں نے پیار سے اس کا ماتھا چوما۔

اتنے میں کچن سے بیوی کی آواز آئی: "بیٹا! اپنے بابا کے لیے کھانے کی میز لگاؤ۔"

بیٹی نے کھانا لگایا اور خوشی سے جھومتے ہوئے بولی: "واہ امی! آج تو آپ نے بابا کی پسند کے کھانے بنائے ہیں—بریانی، کریلے گوشت اور کھیر!" بیوی کچن سے نکلتے ہوئے بولی: "اپنے بابا کو آرام سے کھانے دو، تین دن سے پتا نہیں باہر کیا کھاتے رہے ہوں گے۔"

میں نے اپنی بیوی کے چہرے کی طرف دیکھا، وہ ہمیشہ کی طرح بالکل پرسکون اور مطمئن تھی۔

پھر میں نے بھی بڑی لذیذ بریانی کا نوالہ لیا اور اطمینان و سکون سے کھانا کھانے لگا۔

جہالت، بے حسی اور غلط فیصلوں کی نذر ہوتی ایک بے قصور زندگی..پڑھیے علینہ خان کا تحریر کردہ دل کو چھو لینے والا افسانہ "بے مول"

🔗 مکمل افسانہ  پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔👇



No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages