افسانہ: بے مول
آپریشن تھیٹر کے بھاری اور لال روشنی والے دروازے بند ہوتے ہی اندر کا ماحول ایک ہنگامی میدانِ جنگ میں بدل گیا۔ آپریٹنگ ٹیبل پر رضیہ بے سدھ پڑی تھی، اس کا رنگ کاغذ کی طرح سفید تھا اور مانیٹر پر دل کی دھڑکنوں کی لکیریں تیزی سے سیدھی ہونے کی طرف بڑھ رہی تھیں۔
سینئر گائناکولوجسٹ ڈاکٹر شاہدہ نے اپنے دستانے تیزی سے چڑھائے اور اینستھیزیا کی ٹیم کو ہدایت دی کہ مریضہ کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک گر چکا ہے، فوراً سینٹرل لائن ڈال کر خون کی منتقلی شروع کی جائے۔ اینستھیزیا اسپیشلسٹ نے فوراً بڑے کینولا کے ذریعے خون اور آئی وی سیال (IV Fluids) دینا شروع کیے تاکہ شاک (Shock) کی حالت کو سنبھالا جا سکے۔
ڈاکٹر شاہدہ نے بلا تاخیر سرجیکل بلیڈ سے پیٹ پر چیرا لگایا۔ جیسے ہی پیٹ کی اندرونی تہیں کھولی گئیں، پیٹ کے خانے میں جمع شدہ شدید خون اور جمے ہوئے بڑے بڑے لوتھڑے سامنے آگئے جو بچے دانی پھٹنے کی وجہ سے پہلے ہی وہاں اکٹھے ہو چکے تھے۔
ڈاکٹر شاہدہ فوراً گویا ہوئیں:
"سکشن پمپ کو فل اسپیڈ پر چلاؤ! اسپنج ہولڈر دو! پہلے پیٹ میں جمع یہ تمام خون اور کلاٹس (Clots) صاف کرو تاکہ بچے دانی تک راستہ واضح ہو سکے۔"
اسسٹنٹ سرجن اور نرس نے تیزی سے سکشن کینولا اور اسپنجز کی مدد سے آزادانہ بہتے خون اور کلاٹس کا بڑا حصہ صاف کیا۔ راستہ واضح ہوتے ہی سامنے ابھری ہوئی بچے دانی نظر آئی۔ ڈاکٹر شاہدہ نے مہارت سے بچے دانی کی دیوار پر شق لگایا اور اندر سے نڈھال بچے کو احتیاط سے گرفت میں لے کر باہر نکال لیا۔
آپریشن تھیٹر کی سنسناتی خاموشی میں سرجیکل آلات کے ٹکرانے اور مانیٹر کی بیپ بیپ کے درمیان، ڈاکٹر کے ماہر ہاتھوں نے بچے دانی سے بچے کو انتہائی احتیاط کے ساتھ نکال لیا۔ نویں مہینے کے شدید دباؤ، آکسیجن کی کمی اور ماں کے گرتے ہوئے بلڈ پریشر کی وجہ سے بچہ نڈھال تھا اور اس کا وجود نیلا پڑ چکا تھا۔
ڈاکٹر شاہدہ تیزی سے بچے کو باہر نکالتے ہوئے نرس کو پکار کر کہنے لگیں:
"فوراً نیونیٹل سکشن کیتھٹر لاؤ! ایئر وے کلیئر کرو!"
بچے کی ناف کی نال کو تیزی سے کلیمپ کر کے کاٹا گیا۔ این آئی سی یو (NICU) کی ٹیم نے فوراً بچے کو گرم کپڑے میں لپیٹ کر این آئی سی یو ٹرے پر رکھا۔ پورے تھیٹر میں موجود عملے کی سانسیں تھمی ہوئی تھیں اور سب کی نظریں اس ننھے سے بے سدھ وجود پر ٹکی تھیں۔
ڈاکٹر نے بچے کے نتھنوں اور منہ سے اندرونی سیال صفائی سے سکشن کے ذریعے نکالا اور اس کی پیٹھ کو ہلکے سے تھپتھپایا۔
ایک سیکنڈ... دو سیکنڈ...
اور پھر اچانک آپریشن تھیٹر کی گھٹن زدہ فضا میں ایک ننھی، پتلی لیکن پرامید چیخ گونج اٹھی:
"وئاااں... وئاااں..."
وہ پہلی روٹھی ہوئی، روہانسی چیخ اس بات کا اعلان تھی کہ ایک ننھی سی روح نے تمام تر خطرات، ماں کے شدید خون کے ضیاع اور پیچیدگیوں کو شکست دے کر اس دنیا میں قدم رکھ دیا ہے۔
ڈاکٹر شاہدہ نے اپنے تھکے ہوئے چہرے پر آئی مسکراہٹ کو ماسک کے پیچھے چھپاتے ہوئے ایک لمحے کے لیے بچے کی طرف دیکھا اور فوراً این آئی سی یو ٹیم کو ہدایت دی:
"بچے کی آکسیجن سیچوریشن چیک کرو اور اسے فوراً انکیوبیٹر میں منتقل کرو۔ ہمارے پاس وقت کم ہے، ہمیں ماں کی سرجری مکمل کرنی ہے۔"
ادھر ٹیبل پر اصل معرکہ ابھی باقی تھا کیونکہ بچہ باہر آتے ہی بچے دانی کے پھٹے ہوئے حصوں اور کٹی شریانوں سے دوبارہ شدید خون بہنا شروع ہو گیا تھا۔
ڈاکٹر شاہدہ: "فوراً ہسٹوسٹیٹ فورسپس دو! یوٹرائن آرٹریز کو کلیمپ کرو!"
ان کے ہاتھ انتہائی تیزی اور صفائی سے چلنے لگے۔ اسی دوران انہوں نے بچے دانی کی پھٹی ہوئی دیوار کا جائزہ لیتے ہوئے اسسٹنٹ سرجن کو متوجہ کیا۔
اسسٹنٹ سرجن بولا:
"ڈاکٹر صاحبہ! خون کا بہاؤ بہت تیز ہے اور بچے دانی کی دیوار کافی حد تک متاثر ہوئی ہے۔ ہسٹیکٹومی (Hysterectomy) کر دیتے ہیں، بچے دانی نکال دیتے ہیں ورنہ بلیڈنگ قابو میں نہیں آئے گی۔"
ڈاکٹر شاہدہ نے مضبوطی سے نفی میں سر ہلا دیا:
"نہیں۔ یہ اس کا پہلا بچہ ہے اور عمر بہت کم ہے۔ ہم ڈبل لیئر یوٹرائن ریپئر (Double-layer Uterine Repair) کی ٹیکنیک استعمال کریں گے۔ وکریل اور کرومک سوٹچرز (Sutures) تیار رکھیں۔"
اگلے دو گھنٹے ڈاکٹر شاہدہ کی بے مثال مہارت اور جانفشانی کا ثبوت تھے۔ انہوں نے زخموں کی ایک ایک تہہ کو ہاتھ سے سیا، اندرونی شریانوں کو دوبارہ باندھا اور خصوصی سرجیکل ٹانکے لگا کر بچے دانی کی ساخت کو دوبارہ بحال کیا۔ ان کے کندھے تھکن سے چور ہو چکے تھے لیکن ان کی توجہ کا مرکز صرف مریضہ کی جان بچانا تھا۔
آخری ٹانکہ لگانے کے بعد جب مانیٹر پر نبض اور بلڈ پریشر مستحکم ہوا تو انہوں نے اطمینان کا سانس لیا۔
ڈاکٹر شاہدہ بولیں:
"بلیڈنگ مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔ سرجیکل ڈرین لگا دیا گیا ہے۔ مریضہ کو آئی سی یو منتقل کریں۔"
انہوں نے دستانے اتارے اور ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کر کے شکر ادا کیا۔ چند گھنٹوں کی اس اعصاب شکن سرجری نے موت کے منہ میں جاتی ہوئی ماں کو نئی زندگی بخش دی تھی۔
ڈاکٹر شاہدہ نے آپریشن تھیٹر کے کپڑے تبدیل کیے، ہاتھوں کو سینیٹائز کیا اور سیدھی باہر ویٹنگ ایریا کی طرف آئیں۔ وہاں کاشف اور زبیدہ بیگم بے چینی سے چکر کاٹ رہے تھے۔ ڈاکٹر شاہدہ کو دیکھتے ہی دونوں لپک کر آگے بڑھے۔
زبیدہ بیگم بے صبری سے آگے بڑھتے ہوئے بولیں:
"ڈاکٹر صاحبہ! کیا ہوا؟ بیٹا ہوا ہے یا بیٹی؟ سب ٹھیک تو ہے نا؟"
ڈاکٹر شاہدہ نے زبیدہ بیگم کے اس سوال پر ایک گہری اور سرد نظر ان پر ڈالی۔ ان کے چہرے کے سخت تاثرات دیکھ کر کاشف کے قدم وہیں ٹھٹھک گئے۔
ڈاکٹر شاہدہ سنجیدہ اور سپاٹ آواز میں گویا ہوئیں:
"بچہ ماشاءاللہ لڑکا ہے اور وہ اس وقت این آئی سی یو میں انکیوبیٹر میں ہے۔ اس کی سانس بحال کر دی گئی ہے۔ آپ دونوں میرے ساتھ روم میں آئیں۔ فوراً!"
ڈاکٹر شاہدہ کے لہجے کا تحکم ایسا تھا کہ دونوں کے پاس کوئی دوسرا سوال کرنے کی ہمت نہ رہی۔ وہ خاموشی سے ان کے پیچھے ڈاکٹرز روم میں داخل ہو گئے۔
ڈاکٹر شاہدہ نے دروازہ بند کیا، اپنی کرسی پر بیٹھیں اور میز پر رکھی ہوئی رضیہ کی میڈیکل فائل ان کے سامنے پٹخ دی۔ ان کی آنکھوں میں غصے اور دکھ کی ایک شدید لہر تھی۔
ڈاکٹر شاہدہ کاشف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولیں:
"آپ کو اندازہ بھی ہے کہ آپ کی بیوی کی حالت کیا تھی؟ اگر وہ صرف دس منٹ مزید اس حالت میں گھر پر رہتی تو آپ کے ہاتھ میں نہ بچہ ہوتا اور نہ ہی بیوی!"
کاشف گھبرا کر کہنے لگا:
"ڈاکٹر صاحبہ! ہم تو... ہم تو دردوں کا انتظار کر رہے تھے۔ پہلے بچہ تو نارمل ہوتا ہے نہ..."
ڈاکٹر شاہدہ غصے سے بات کاٹتے ہوئے بولیں:
"پہلی ڈیلیوری کی منطق دینا بند کریں! رضیہ کا نواں مہینہ پورا ہو چکا تھا، اسے پچھلے تین دن سے شدید درد اور داغ لگ رہا تھا لیکن آپ لوگوں نے ایک بار بھی اسے کسی لیڈی ڈاکٹر کو دکھانا گوارا نہیں کیا۔ کیوں؟"
زبیدہ بیگم پہلو بدلتے ہوئے صفائی دینے کے انداز میں بولیں:
"ڈاکٹر صاحبہ! ہم نے بھی بچے پیدا کیے، مگر یہ آج کل کی لڑکیاں کام کم اور نخرے زیادہ کرتی ہیں اور ہسپتالوں کے تو خرچے ہی اتنے ہوتے ہیں... ذرا ذرا سی بات پر بڑا آپریشن کر دیتے ہیں۔ ہم نے سوچا دائی پرانی ہے، ہاتھ کی صفائی جانتی ہے..."
ڈاکٹر شاہدہ میز پر ہاتھ مارتے ہوئے بولیں:
"پیسے؟ آپ کو ایک انسان کی جان سے زیادہ پیسے عزیز تھے؟ دائی کے چکر میں آپ نے اس لڑکی کی بچے دانی پھٹوا دی۔ اس کا اندرونی خون بہہ رہا تھا، جب ہم نے کٹ لگایا تو پیٹ خون سے بھرا ہوا تھا! اور آپ لوگ اسے گھر کے کام کاج میں لگائے ہوئے تھے کہ کام کرنے سے ڈیلیوری آسان ہوگی؟ یہ جہالت نہیں تو اور کیا ہے؟"
کاشف نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ ڈاکٹر شاہدہ اس کی طرف مڑیں۔
"اور آپ... آپ شوہر ہیں اس کے! جب اسے شدید درد تھا اور وہ تڑپ رہی تھی تو آپ کا احساس اور ذمہ داری کہاں تھی؟ ایک حاملہ عورت کو جس حالت میں آرام اور فوری طبی امداد کی ضرورت تھی، آپ نے اسے اپنی ماں اور دائی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ نال بچے دانی اور مثانے کے ساتھ چپک چکی تھی، اگر ذرا سی دیر اور ہوتی تو اس کے مثانے کو بھی شدید نقصان پہنچتا۔ تین ساڑھے تین گھنٹے ہم نے آپریشن تھیٹر میں موت اور زندگی کی جنگ لڑی ہے۔ ایک ایک ٹانکا لگاتے ہوئے میری روح کانپ رہی تھی کہ اس بے قصور لڑکی کے ساتھ اس کے اپنے گھر والوں نے کیا حشر کیا ہے!"
زبیدہ بیگم آواز دھیمی کرتے ہوئے بولیں:
"اب... اب بہو کیسی ہے؟ بچے دانی تو ٹھیک ہے نا؟"
ڈاکٹر شاہدہ سخت نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولیں:
"خدا کا شکر ادا کریں کہ میں نے اپنی پوری طاقت اور مہارت لگا کر اس کی بچے دانی بچا لی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی غلطی معاف کرنے کے قابل ہے۔ وہ اس وقت آئی سی یو میں ہے، اگلے چوبیس گھنٹے انتہائی نازک ہیں۔ خون کی چند بوتلیں اور منگوانی ہیں، فوراً ان کا انتظام کریں۔"
ڈاکٹر شاہدہ اپنی کرسی سے کھڑی ہو گئیں اور کاشف کے بالکل سامنے آ کر بولیں:
"اگر آئندہ مجھے آپ کے گھر سے مریضہ کے ساتھ علاج میں ذرا سی بھی غفلت یا لاپروائی نظر آئی تو میں خود پولیس کو رپورٹ کروں گی کہ یہ میڈیکل نیگلیجینس (Medical Negligence) کا کیس ہے۔ اب باہر جائیں اور بلڈ بینک سے بلڈ کا انتظام کریں!"
کاشف اور زبیدہ بیگم بغیر ایک لفظ کہے شرمندگی اور خوف کے مارے کمرے سے باہر نکل گئے، جبکہ ڈاکٹر شاہدہ نے گہرا سانس لے کر آئی سی یو کی رپورٹس کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔
آئی سی یو کی خاموشی میں صرف مانیٹر کی بیپ بیپ گونج رہی تھی۔ رضیہ کے چہرے پر آکسیجن ماسک لگا تھا اور ہاتھ کی باریک رگوں میں شیشے کی بوتلوں سے قطرہ قطرہ زندگی اتر رہی تھی۔
کاشف آئی سی یو کے کانچ کی کھڑکی سے باہر کھڑا ٹکٹکی باندھے اندر دیکھ رہا تھا۔ ڈاکٹر شاہدہ کی باتیں اس کے کانوں میں ہتھوڑوں کی طرح بج رہی تھیں۔ اس کا ضمیر اسے بری طرح ملامت کر رہا تھا کہ پیسے بچانے کی دھن اور ماں کی باتوں میں آ کر اس نے اپنی شریکِ حیات کو موت کے منہ میں دھکیل دیا تھا۔
اگلی صبح کی سنہری کرنیں جب کھڑکی کے شیشے سے اندر چھن کر آئیں تو رضیہ کی پلکوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی۔ ساڑھے سولہ گھنٹے کے طویل بے ہوشی کے دورانیے کے بعد اس نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔
ڈاکٹر شاہدہ نے فوراً آگے بڑھ کر اس کا معائنہ کیا۔ آکسیجن ماسک ہٹا کر ہلکی آواز میں پوچھا:
"رضیہ! مجھے سن سکتی ہو؟"
رضیہ نے گردن کو معمولی سی جنبش دی اور خشک ہونٹوں سے دھیمی سی آواز نکلی:
"میرا... میرا بچہ؟"
ڈاکٹر شاہدہ کے چہرے پر ایک نرم مسکراہٹ آئی:
"تمہارا بیٹا بالکل ٹھیک ہے ماشاءاللہ۔ انکیوبیٹر میں ہے اور بہت جلد تمہاری گود میں ہوگا۔"
یہ سنتے ہی رضیہ کی آنکھوں سے آنسو چھلک گئے۔
ڈاکٹر کی اجازت ملتے ہی کاشف اندر داخل ہوا۔ اس کے قدم بوجھل تھے اور آنکھوں سے پچھتاوے کے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔ وہ رضیہ کے بیڈ کے قریب آیا اور گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا۔ اس نے رضیہ کا کانپتا ہوا برف جیسا ٹھنڈا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
کاشف سسکتے ہوئے بولا:
"رضیہ... مجھے معاف کر دو! میں گناہ گار ہوں تمہارا۔ میں نے ماں کی باتوں میں آ کر اور پیسوں کے لالچ میں تمہیں اتنی بڑی تکلیف میں ڈال دیا۔ اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں خود کو کبھی معاف نہ کر پاتا!"
رضیہ نے کمزوری سے اس کے ہاتھ پر اپنا دباؤ بڑھانے کی کوشش کی۔ اس کی آنکھوں کی نمی بتا رہی تھی کہ وہ اپنے شوہر کے بدلتے ہوئے روپ کو دیکھ رہی ہے۔
کاشف رضیہ کی پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا:
"میں تم سے وعدہ کرتا ہوں رضیہ! آج کے بعد تمہاری زندگی اور عزت سے بڑھ کر میرے لیے کچھ نہیں ہوگا۔ میں زندگی کے ہر موڑ پر تمہاری حفاظت کروں گا اور کبھی کسی کی بات میں آ کر تمہاری صحت پر سمجھوتہ نہیں کروں گا۔ تم نے مجھے اور ہمارے بچے کو نئی زندگی دی ہے!"
اسی اثنا میں ڈاکٹر شاہدہ احتیاطی تدابیر کی فائل لے کر بیڈ کے پاس آئیں۔ انہوں نے کاشف کو مخاطب کرتے ہوئے انتہائی اہم ہدایات دیں:
"کاشف صاحب! رضیہ کی جان بچ گئی ہے، لیکن یاد رکھیں کہ ان کا آپریشن معمولی نہیں تھا۔ بچے دانی پر ڈبل لیئر یوٹرائن ریپئر ہوا ہے اور اندر شدید زخم ہیں۔ اب اگر آپ واقعی ان کا خیال رکھنا چاہتے ہیں تو کچھ باتیں پتھر پر لکیر کی طرح یاد رکھیں:
مکمل آرام: اگلے چھ سے آٹھ ہفتوں تک رضیہ کو مکمل بیڈ ریسٹ کی ضرورت ہے۔ گھر کا کوئی بھی کام، جھاڑو، پوچا، برتن یا وزنی چیز اٹھانا سخت منع ہے۔
ٹانکوں کی دیکھ بھال: پیٹ کے ٹانکوں کو خشک اور صاف رکھنا ہے۔ اگر ذرا سا بھی پانی، لالی یا پیپ نظر آئے تو فوراً ہسپتال لانا ہے۔
مقوی غذا: رضیہ کا خون بہت زیادہ بہہ چکا ہے۔ ان کو پروٹین، آئرن اور فائبر سے بھرپور غذا دینی ہے تاکہ ٹانکے جلد بھریں اور قبض نہ ہو۔
وقفہ اور آئندہ ڈلیوری: یہ بات سب سے زیادہ اہم ہے۔ بچے دانی کی حالت کے پیشِ نظر اگلے کم از کم تین سے چار سال تک حمل سے سخت پرہیز کرنا ہوگا تاکہ زخم مکمل طور پر بھر سکیں۔ اور آئندہ جب بھی حمل ہو، تو وہ پہلے دن سے کسی ماہر ڈاکٹر کی زیرِ نگرانی ہوگا اور ڈیلیوری صرف بڑے ہسپتال میں سی سیکشن کے ذریعے ہوگی۔"
کاشف نے ڈاکٹر شاہدہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سر جھکایا:
"ڈاکٹر صاحبہ! آپ کی بتائی ہوئی ایک ایک ہدایت پر میں خود عمل کرواؤں گا۔ اب کوئی غفلت نہیں ہوگی۔"
رضیہ نے سکھ کا ایک گہرا سانس لیا۔ درد کی اس کٹھن گھڑی نے جہاں اسے موت کے منہ سے واپس لایا تھا، وہیں اس کے شوہر کو ایک ذمہ دار اور سچا ہمسفر بنا دیا تھا۔
(ختم شد)
مکمل دردناک اور سبق آموز کہانی پڑھیں صرف ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل پر۔
.jpg)
No comments:
Post a Comment