کاش...
![]() |
"غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں... بعض اوقات یہ ایک معصوم بچے کے خواب، خودداری اور بچپن بھی چھین لیتی ہے۔" |
تحریر: صغیر جعفری
کہتے ہیں کہ والدین کو اپنے بچے ہی اچھے لگتے ہیں، چاہے وہ کتنے ہی بدصورت کیوں نہ ہوں۔ مگر افضل کو کچھ بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ حتیٰ کہ جب اوپر تلے پانچ بیٹیوں کے بعد اس کا اکلوتا بیٹا 'نعمت اللہ' پیدا ہوا، وہ تب بھی اتنا خوش نہیں ہوا؛ کیونکہ یہ پیدا ہونے والا بیٹا اس کا چھٹا بچہ تھا۔ ایک تو غریبی اور دوسرے اتنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی افضل کے لیے مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں سات آٹھ افراد بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھنس کر رہتے تھے۔
اپنے بچوں کو اچھی تربیت اور تعلیم دینے کا خواب اس نے اپنی شادی سے پہلے دیکھ رکھا تھا، مگر صرف سوچنے سے تو خواب حقیقت نہیں بن سکتے۔
افضل نے میٹرک سے بی اے تک کی تعلیم ٹیوشنز پڑھا کر مکمل کی، مگر بی اے پاس کرنے کے باوجود اسے کوئی سرکاری نوکری نہ مل سکی۔ بغیر رشوت اور سفارش کے سرکاری ملازمت ملنا ہر دور میں مشکل رہا ہے، اور افضل کے پاس تو نہ پیسہ تھا نہ سفارش۔ سرکاری ملازمت کے لیے اس نے بہت کوشش کی مگر ہر جگہ دھکے کھا کر بالآخر گھر بیٹھ گیا۔ چند ماہ بعد اسے اپنے ایک دوست کی سفارش اور ضمانت پر "زر ولی خان" کی حویلی میں پرائیویٹ ملازمت مل گئی، جس میں اسے حویلی کے اخراجات اور نوکروں کی تنخواہوں کا حساب کتاب رکھنے کے ساتھ ساتھ مختلف یوٹیلیٹی بلز جمع کروانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تنخواہ تیس ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی۔ بے روزگاری کے اس دور میں یہ ملازمت افضل کے لیے سہارا بھی تھی اور ضرورت بھی۔
زر ولی خان کی محل نما حویلی ایک عجوبہ تھی۔ جس میں آٹھ کمرے تو صرف مہمانوں کے لیے مخصوص تھے۔ زنان خانہ الگ تھا، جبکہ کئی راہداریاں، برآمدے اور کمرے نفیس اور قیمتی فرنیچر سے بھرے پڑے تھے۔
افضل کو زر ولی خان کی ملازمت کرتے ہوئے ساتواں سال تھا اور اس دوران خان نے افضل کی ہر ضرورت کو خوش دلی سے پورا کیا۔ گھر آ کر افضل اکثر حویلی کی تفصیلات اپنے بچوں کو بتاتا، تو اس کا بیٹا نعمت اللہ بڑی حیرانی سے سنتا اور اپنے بابا سے حویلی دیکھنے کی ضد کرتا۔ چھ سال کا نعمت اللہ ایسی بڑی بڑی باتیں کرتا کہ افضل پریشان ہو جاتا۔
نعمت اللہ بڑا ذہین اور حساس بچہ تھا۔ وہ ہر اس چیز کو بغور دیکھتا جو اس کے پاس نہیں ہوتی تھی۔ دوسری جماعت کے استاد ملک نذیر احمد اکثر افضل سے کہتے: "تمہارا بیٹا نعمت اللہ جینیئس اور محنتی ہے۔ پہلی جماعت میں بھی وہ فرسٹ آیا تھا۔ اس کی آبزرویشن (Observation) غضب کی ہے اور اس عمر میں بھی بلا کی نفاست پسندی ہے۔ وہ مجھ سے ایسے سوالات پوچھتا ہے جیسے کوئی بڑی عمر کا دانا و بینا اور زیرک انسان ہو۔ بعض اوقات تو مجھے بھی لاجواب کر دیتا ہے۔"
افضل کو بھی اپنے بیٹے کی قابلیت کا اندازہ تھا، لیکن وہ بچہ ایسے عجیب سوالات کر کے اسے پریشان کر دیتا جن کا جواب موجود ہوتے ہوئے بھی وہ اپنی غربت کی وجہ سے نہیں دے پاتا تھا۔ نعمت اللہ کو سونے کی چین بہت پسند تھی، جسے خرید کر دینے کی افضل میں سکت نہیں تھی۔
نعمت اللہ ہر روز زر ولی خان کی حویلی دیکھنے کی ضد کرتا، مگر افضل دل پر جبر کر کے اسے منع کر دیتا۔ اسے ڈر تھا کہ نعمت اللہ وہاں قیمتی اور نایاب اشیا دیکھ کر پریشان ہوگا کہ ایسی چیزیں ان کے اپنے گھر میں کیوں نہیں ہیں۔
ایک دن زر ولی خان کے قریبی رشتیداروں میں چترال میں شادی طے پائی، جس میں شرکت کے لیے خان کا پورا خاندان دو دن کے لیے جا رہا تھا۔ افضل نے سوچا کہ یہ موقع اچھا ہے، ان کی عدم موجودگی میں نعمت اللہ کو حویلی دکھا دوں گا، اس طرح وہاں کوئی روک ٹوک کرنے والا بھی نہیں ہوگا۔
اتوار والے دن افضل اپنے بیٹے کو حویلی لے گیا۔ جب نعمت اللہ نے حویلی میں قدم رکھا تو اسے لگا جیسے وہ کسی اور ہی دنیا میں آ گیا ہو۔ بڑے گیٹ کے سامنے چار کنال سے زائد کا سرسبز لان دیکھ کر ہی انسان دنگ رہ جائے۔
نعمت اللہ بالکل گم سم، آنکھیں پھاڑے ہر چیز کو دیکھے جا رہا تھا۔ افضل اسے ہاتھ سے پکڑ کر لان سے آگے لے گیا۔ وہاں ایک وسیع و عریض سوئمنگ پول تھا جس میں نیلگوں اور شفاف پانی لہرا رہا تھا، جبکہ حویلی کا ایک ایک کمرہ انتہائی قیمتی فرنیچر سے سجا ہوا تھا۔ نعمت اللہ کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس دنیا میں آ گیا ہے جہاں کی ہر شے اتنی نایاب ہے۔
آگے بڑھے تو ایک کمرہ خان کے کتے کے لیے مخصوص تھا۔ سخت گرمی کے باوجود وہ کمرہ ائیر کنڈیشنر کی وجہ سے اتنا ٹھنڈا تھا کہ نعمت اللہ کو سردی سے کپکپی چھٹنے لگی۔ پورے کمرے میں قیمتی قالین بچھا ہوا تھا۔
کتے کے کھانے پر نظر پڑی تو نعمت اللہ کو جیسے سکتہ ہو گیا۔ ایک بڑے سے برتن میں ابلا ہوا دودھ رکھا تھا، ایک بڑی ٹرے میں ہڈی والا بکرے کا گوشت اور دوسری ٹرے میں تقریباً تین کلو کے قریب ابلا ہوا خالص گوشت تھا!
اسی وقت نعمت اللہ کے ذہن میں اپنی بہن کا غمزدہ چہرہ گھوم گیا۔ پچھلے اتوار کو جب افضل ایک پاؤ گوشت لے کر آیا تھا، تو قصاب سے اس کی چھوٹی چھوٹی بوٹیاں بنوائی گئی تھیں تاکہ گوشت سب کو پورا ہو جائے۔ ایک کلو آلو ڈالنے کے باوجود اس کی بہن کے حصے میں ایک بوٹی بھی نہیں آئی تھی، اور وہ روتے ہوئے دسترخوان سے اٹھ گئی تھی اور بغیر روٹی کھائے ہی سو گئی تھی...
نعمت اللہ کتے کے قریب ہوا تو کتے کے جسم سے ایک پیاری سی خوشبو آ رہی تھی۔ خان کے نوکر نے بتایا کہ کتے کو نہلانے کے لیے صابن اور شیمپو خاص انگلینڈ سے منگوائے جاتے ہیں، اور یہ کتا دو ماہ پہلے جرمنی سے خان صاحب نے دس لاکھ روپے میں منگوایا ہے۔
نعمت اللہ نے غور سے دیکھا تو جیسے اسے بجلی کا جھٹکا لگا— کتے کے گلے میں پٹے کی جگہ خالص سونے کی چین چمک رہی تھی!
افضل نے نعمت اللہ کو گھر جانے کے لیے پکارا تو وہ نہ چاہتے ہوئے بھی چپ چاپ اٹھ کر اپنے بابا کے ساتھ گھر آ گیا۔ وہ مبہوت سا ہو کر اپنے اس ایک کمرے کے مکان کو دیکھتا رہا۔
جب اس کی ماں نے اسے بلایا تو اس کی آواز ہچکیوں میں دب گئی۔ ماں نے پریشان ہو کر پوچھا: "کیا بات ہے بیٹا؟"
تو اس کے منہ سے صرف اتنا نکلا: "کاش... میں وہ حویلی دیکھنے نہ جاتا! کاش میں اس ایک کمرے کے گھر میں پیدا نہ ہوتا! کاش میں خان کے گھر پیدا ہوتا... اور اگر وہاں پیدا نہیں ہو سکتا تھا تو کاش... کاش میں زر ولی خان کا کتا ہوتا! کاش... اے کاش!"

No comments:
Post a Comment