Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Wednesday, August 5, 2026

کھجور اور اونٹ: عربوں کی قدیم تہذیبی اقدار، ثقافت اور روایات

 کھجور اور اونٹ

کھجور اور اونٹ پر عربوں کی قدیم تہذیبی اقدار سے متعلق معلوماتی کالم از صغیر جعفری | ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

صغیر جعفری

آج کے جدید دور میں دنیا میں مواصلاتی نظام قدامت سے نکل کر جدیدیت کی بلندیوں کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ ذرائعِ رسل و رسائل میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔ سپر سونک طیارے، تیز ترین بلٹ ٹرینیں، تیز رفتار اور انتہائی آرام دہ لگژری (Luxury) کاریں اور بسیں، جبکہ کھانے پینے میں فاسٹ فوڈز، پیزا، شوارما، برگر، البیک، میکڈونلڈ، کے ایف سی اور ہارڈیز کی فوڈ چینز لذتِ طعام و دہن میں جدت اور کشش لے کر آئی ہیں۔

مگر قدیم عربی تہذیب و تمدن اپنے روایتی انداز میں ابھی بھی عربوں کے لیے اولین ترجیح ہے۔ اونٹ کی سواری اب بھی فقط قدیم روایت کے طور پر کی جاتی ہے، البتہ کھجور اپنی روایتی لذت و غذائیت کے اعتبار سے اب بھی اسی طرح مقبول ہے جس طرح زمانۂ قدیم میں پسند کی جاتی تھی۔ آئیں، اب ذرا دیکھتے ہیں کہ کھجور کی بھرپور فصل لینے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

جب فروری کا مہینہ آتا ہے تو سعودی عرب کے دیہی علاقوں، خاص طور پر الاحساء، قصیم اور مدینہ کے آس پاس کے گاؤں میں ایک عجیب و غریب مگر خوبصورت منظر سامنے آتا ہے۔ سڑکوں کے کنارے، چھوٹے چھوٹے بازاروں میں یا پھر کاروں کے پیچھے کھلے ڈبوں میں لمبی لمبی خشک شاخیں لٹکی ہوئی نظر آتی ہیں۔ یہ کوئی عام لکڑی یا پھول نہیں، بلکہ نر کھجور کے تلع ہیں، وہ پولن جو مادہ درختوں کو پھل دینے کے لیے درکار ہوتا ہے۔

ایک بوڑھا سعودی کسان، سفید لباس اور سرخ و سفید غترہ میں ملبوس، اپنی وین کے پیچھے بیٹھا ہے۔ اس کے سامنے لکڑی کا ایک تختہ رکھا ہے، جس پر کچھ لکڑی کی طرح لگنے والی شاخیں سجائی گئی ہیں۔ تختے پر سرخ رنگ سے لکھا ہے: "صاحب التلع" یا "حب التلع بقى يونا"۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ شخص نہ صرف تلع بیچ رہا ہے بلکہ اس کی قیمت بھی مقرر ہے۔ یہ منظر سعودی عرب کی زرعی روایات کا زندہ ثبوت ہے جو ہزاروں سال سے چلا آ رہا ہے۔

کھجور کا درخت (Phoenix dactylifera) فطرت کا ایک انوکھا شاہکار ہے۔ یہ Dioecious نوع ہے، یعنی نر اور مادہ الگ الگ درخت ہوتے ہیں۔ نر درخت پولن دیتے ہیں، مادہ پھل۔ اگر پولن نہ پہنچے تو مادہ درخت خوبصورت تو لگتے ہیں مگر خالی رہتے ہیں۔ قدیم زمانے سے عرب کسان اس مسئلے کا حل جانتے تھے۔ وہ نر درختوں سے تلع (Spadix) کاٹ کر لاتے، ان کی شاخوں کو مادہ کے پھولوں میں ڈالتے اور ہوا یا ہاتھ سے پولن منتقل کرتے۔ آج بھی یہی روایت زندہ ہے۔

گاؤں میں یہ تلع بیچنا ایک موسم کی نشانی ہے۔ فروری اور مارچ میں جب مادہ درختوں کے پھول کھلتے ہیں تو نر تلع کی مانگ عروج پر ہوتی ہے۔ ایک اچھا نر درخت سینکڑوں مادہ درختوں کو پولن مہیا کر سکتا ہے۔ کسان صبح سویرے باغات سے تلع کاٹتے، انہیں احتیاط سے باندھتے اور پھر بازاروں یا سڑکوں پر بیچنے نکلتے ہیں۔ قیمت بھی مناسب ہوتی ہے، چند ریال میں ایک شاخ، مگر اس کی اہمیت لاکھوں میں ہے کیونکہ اسی سے وہ سنہری کھجوریں پیدا ہوتی ہیں جو سعودی عرب کو دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بناتی ہیں۔

سعودی عرب میں تقریباً تین کروڑ سے زائد کھجور کے درخت ہیں، جن سے سالانہ ڈیڑھ سے دو ملین ٹن کھجوریں حاصل ہوتی ہیں۔ الاحساء کا "کھجوروں کا جنگل"، قصیم کے وسیع باغات اور بریدہ کے عظیم فارم اس کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ نہ صرف معیشت کا ستون ہیں بلکہ ثقافتی ورثہ بھی ہیں۔ رمضان میں کھجور افطار کی پہلی چیز، حجاج کے لیے تحفہ، اور دنیا بھر میں سعودی مہمان نوازی کی علامت ہے۔

مگر یہ منظر، وہ بوڑھا کسان، وین کے پیچھے لٹکتی شاخیں، اور صحرا کی دھوپ میں چمکتی کھجوریں، یاد دلاتا ہے کہ ترقی کے باوجود روایات زندہ ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی آ گئی، مگر ہاتھ سے پولن لگانے کی خوشبو اب بھی فضا میں ہے۔ یہ سعودی صحرا کی سنہری دولت ہے جو نہ صرف پیٹ بھرتی ہے بلکہ تاریخ اور ثقافت کو بھی زندہ رکھتی ہے۔

جب اگلی بار آپ سعودی کھجور کھائیں تو ذرا سوچیے گا، اس میٹھی لذت کے پیچھے ایک نر تلع کا سفر ہے جو گاؤں کی سڑکوں سے آپ کی تھالی تک پہنچا۔

جیسے میں نے پہلے گزارش کی کہ گو اب سفر کے لیے تیز ترین ذرائع میسر ہیں، مگر قدیم روایات کے امین عرب اب بھی اپنے شوق کی تسکین کے لیے اونٹ پالتے ہیں۔ ان میں دوڑوں کے مقابلے منعقد کروائے جاتے ہیں اور اس دور میں زمانۂ قدیم کی یادیں تازہ کرتے ہیں۔

بیکار اونٹنی کو بدو کس نام سے پکارتے ہیں؟

بدو (صحرائی عرب) بیکار یا آوارہ گھومنے والی اونٹنی کو "الہامل" (الهامل) یا "ہاملہ" (الهاملة) کہتے ہیں، جو ایسی اونٹنی کے لیے بولا جاتا ہے جو کسی کی دیکھ بھال میں نہ ہو، بے کار ہو یا ریوڑ سے الگ ہو کر آوارہ پھر رہی ہو۔

اہم تفصیلات:

الہامل (الهامل / الهاملة): آوارہ، بیکار یا چرواہے کے بغیر گھومنے والا اونٹ یا اونٹنی۔

عربی زبان میں اونٹ کی حالت اور عمر کے لحاظ سے الگ الگ نام ہوتے ہیں، جیسے حاملہ اونٹنی کو عشراء اور طاقتور اونٹ کو صائل کہا جاتا ہے۔

عربی میں اونٹ کے چند نام پیش ہیں: نر اونٹ: الجمل، اونٹنی: الناقہ، طاقتور اونٹ: صائل، بوجھ اٹھانے والا اونٹ۔

قصواء رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک اونٹنی کا نام تھا۔ قصواء اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو مالک کے نزدیک انتہائی محبوب ہو اور اس محبت کی وجہ سے اس کا مالک اسے پالنے میں فخر محسوس کرتا ہو۔

قرآنِ کریم میں اونٹ کے تیرہ مختلف نام آئے ہیں۔ اہلِ عرب سائبہ ایسی اونٹنی کو کہتے تھے جو کسی منت کے پورا ہونے، بیماری سے شفا پانے یا کسی خطرے سے بچ جانے پر شکرانے کے طور پر معبودوں کے نام پر قربان کی جاتی تھی۔

اونٹوں کی دوڑ کے مقابلے میں اونٹ سوار اونٹ کو تیز بھگانے کے لیے مخصوص حرکات کرتا ہے، اسے اعراب کہا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے لکھتے وقت فقروں اور جملوں میں جو حرکات الفاظ کو چلانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، انہیں بھی اعراب کہا جاتا ہے، مثلاً زیر، زبر اور پیش۔

اونٹنی کے دودھ کو غذا کے ساتھ ساتھ دوا کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اونٹنی کے دودھ میں چکنائی (Fat) بہت کم مقدار میں ہوتی ہے، اس لیے اس دودھ کو بلڈ پریشر اور شوگر (Diabetes) کے امراض کو کنٹرول کرنے کے لیے انتہائی مفید قرار دیا جاتا ہے۔

ہم عقل کو ذہنی طور پر علم و شعور کی آگاہی سمجھتے ہیں، یعنی عقل کو انسانی رویے کی علامت کے طور پر جانتے ہیں، مگر قدیم عربی زبان میں عقل کسے کہتے ہیں؟ ذرا ملاحظہ فرمائیں۔

عرب بدو اپنے اونٹوں کو زمین پر بٹھا کر ان کی ایک ٹانگ گھٹنے کے ساتھ باندھ دیتے تھے۔ جب ٹانگ اس طرح بندھتی تو وہ انگریزی حرف "V" کی شکل اختیار کر لیتی۔ اونٹ جب اس حالت میں کھڑے ہوتے تو ان کی تین ٹانگیں زمین پر ہوتی تھیں، جبکہ چوتھی ٹانگ ہوا میں معلق رہتی تھی۔ اس حالت میں اونٹ کھا پی تو سکتے تھے، لیٹ بھی سکتے تھے، لیکن وہ بھاگ نہیں سکتے تھے۔

بدو اس رسی کو، جس سے وہ اونٹ کی ٹانگ باندھتے تھے، اپنی قدیم عربی زبان میں "عقل" کہتے تھے۔ یعنی عقل دراصل ایک ایسی رسی تھی جو اونٹ کے بھاگنے کی حرکت کو روکنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ یہی لفظ بعد میں انسانی رویے کے ایک اہم پہلو کی علامت بن گیا۔

جب ہم کسی سے کہتے ہیں کہ "عقل کرو" تو اس کا اصل مفہوم ہوتا ہے: رک جائیں، ٹھنڈے ہو جائیں (Cool Down)، جذبات پر قابو رکھیں، اپنی حالت کا جائزہ لیں اور حالات کے مطابق سمجھداری سے فیصلہ کریں۔

مگر ہم انسان بھی عجیب و غریب فطرت رکھتے ہیں۔ ہم سب کچھ کریں گے، مگر "عقل" نہیں کریں گے۔ ہم اپنی بھاگ دوڑ میں، اپنی خواہشات میں، اپنے غصے یا خوف میں الجھ کر اکثر عقل کی رسی کھول دیتے ہیں جو ہمیں سنبھال کر رکھ سکتی تھی۔

جس طرح بدو اونٹ کو کچھ دیر کے لیے باندھ کر اسے آرام، احتیاط اور غور و فکر کا موقع دیتے تھے، اسی طرح اگر ہم بھی اپنی زندگی میں کبھی کبھار "عقل" کی رسی باندھ لیں تو نہ صرف ہم خود سنبھل سکتے ہیں بلکہ اپنے سفر کو بہتر، مؤثر اور پائیدار بھی بنا سکتے ہیں۔

کامیابی کے لیے صرف تیز چلنا یا دوڑنا ہی کافی نہیں، صبر، حکمتِ عملی، حالات کی سمجھ بوجھ اور جذبات پر قابو رکھنا بھی ضروری ہے۔

اپنی "عقل" کو استعمال کریں، خود کو بے مقصد دوڑ سے روکیں، اور اپنی صلاحیتوں کو درست سمت میں استعمال کریں تاکہ نہ صرف آپ کی زندگی بہتر ہو بلکہ وہ دوسروں کے لیے بھی باعثِ رحمت اور مفید بن سکے۔

No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages