Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Thursday, July 30, 2026

زلزلہ - انسانیت، امانت اور انجام کی سبق آموز کہانی | ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

 زلزلہ

زلزلہ افسانہ از صغیر جعفری، امانت اور دیانت پر مبنی سبق آموز اردو کہانی، ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل
زلزلہ — لالچ، امانت اور قدرت کے انصاف پر مبنی دل کو جھنجھوڑ دینے والا اردو افسانہ۔ تحریر: صغیر جعفری

تحریر: صغیر جعفری

لوگ امڈے پڑے تھے۔ ہر شخص اپنی بساط سے بڑھ کر زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے اپنا حصہ ڈال رہا تھا۔ ایک طرف خشک اجناس کا ڈھیر لگتا جا رہا تھا تو دوسری طرف کمبل، لحاف، گدوں اور سرہانوں جیسی اشیاء کا انبار بھی پہاڑ بنتا جا رہا تھا۔ توقع سے زیادہ امدادی سامان اکٹھا ہو رہا تھا۔ آنے والے سامان کا باقاعدہ اندراج کیا جا رہا تھا، جس کی ذمہ داری محکمہٴ مال کی تھی۔

قانون گو اور پٹواری نئے تھے جنہیں یہاں تعینات کیا گیا تھا۔ اب محکمہٴ مال کے یہ لوگ پریشان تھے کہ عوام کے جوش و جذبے کو دیکھ کر اشیاء کا اندراج پورا کرنا پڑ رہا تھا۔ صبر و ضبط کے ساتھ یہ اندراج جاری تھا۔

ہجوم میں سے ایک نسوانی آواز ابھری جو ایک بوڑھی عورت "اماں جیونی" کی تھی۔ وہ پٹواری کے پاس پہنچی اور کہنے لگی:

"میں نے صبح مسجد سے یہ اعلان سنا ہے کہ ہمارے ملک میں زلزلہ آیا ہے، ہمارے بہن بھائی بری حالت میں ہیں اور بے گھر ہو گئے ہیں۔"

"ہاں اماں!" پٹواری نے جواب دیا، "قیامت ٹوٹ پڑی ہے، کچھ نہیں بچا۔ اوپر سے بارش ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لیتی۔"

"تو اب وہ کیا کھاتے پیتے ہیں؟" اماں جیونی نے پریشان ہو کر پوچھا۔

"اماں! اسی لیے تو ہم ان کے لیے امدادی سامان اکٹھا کر رہے ہیں،" پٹواری نے جواب دیتے ہوئے کہا، "کھانے پینے کی اشیاء، ٹینٹ اور سردی سے بچاؤ کے لیے کمبل، گدے اور لحاف۔"

"تو حکومت کیا کر رہی ہے؟" اماں نے بے چینی سے پوچھا۔

پٹواری بتانے لگا، "حکومت بہت کچھ کر رہی ہے مگر تباہی اتنی زیادہ ہے کہ اکیلی حکومت پورا نہیں اتر رہی۔"

"ہاں، یہ تو ٹھیک ہے،" اماں نے ایک تھیلا پٹواری کو دیتے ہوئے کہا، "اس میں چاول اور گڑ ہے۔ یہ تو بہت تھوڑے ہیں، ان سے کیا بنے گا! مگر میں بیوہ ہوں اور میرے پاس ان کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔"

"اماں! تمہاری طرف سے یہ بھی بہت ہے۔ ہمارے پاس بہت کچھ جمع ہو گیا ہے، یہ دیکھو!"

اماں جیونی کی نظر کمبلوں اور گدوں کی طرف گئی تو اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔

"پتر! میرے پاس دو رضائیاں اور دو گدے ہیں، وہ بھی لے لو۔ پاس ہی میرا گھر ہے۔"

پٹواری نے چپڑاسی کو اماں کے ساتھ بھیج کر رضائیاں اور گدے منگوا لیے تو بڑھیا بھی ساتھ واپس آ گئی۔ اس نے پٹواری سے کہا:

"پتر! اصل شنیل کی یہ رضائیاں اور گدے میں نے اپنی بیٹی کے جہیز کے لیے بنائے تھے۔ یہ پاکستانی شنیل کے نہیں، جاپان کی شنیل کے ہیں۔"

چپڑاسی نے دونوں رضائیاں اور گدے جمع شدہ سامان کے ساتھ رکھ دیے اور پٹواری نے ان کا اندراج کر لیا۔ بوڑھی اماں دعا دیتی ہوئی چلی گئی۔

پٹواری کو وہ رضائیاں اور گدے بہت پسند آ گئے تھے۔ اس نے ٹرک ڈرائیور سے کہا، "پہلے میرے گھر چلتے ہیں، چائے پی کر تم سامان لے کر چلے جانا۔"

پٹواری کی نیت تو پہلے ہی خراب ہو چکی تھی۔ اس نے اپنے گھر سے پرانی دو رضائیاں اور دو گدے لا کر ٹرک کے سامان میں رکھوا دیے اور وہاں سے اماں جیونی والے گدے اور رضائیاں اپنے گھر منتقل کر دیں۔ پھر ڈرائیور کو رازداری سے ۵۰۰ روپے دے کر مطمئن کر دیا تاکہ بات باہر نہ نکلے۔ ڈرائیور سامان سے بھرا ہوا ٹرک لے کر ضلعی ہیڈ کوارٹر روانہ ہو گیا۔

دوسرے روز پٹواری کی بیوی میکے سے لوٹی تو اس نے اپنے دونوں پرانے گدوں اور رضائیوں کے بارے میں پوچھا۔ خاوند نے بڑے فخر سے اماں جیونی والی رضائیاں اور نئے نکور شنیل والے گدے اسے دکھائے۔ بیوی نے دیکھ کر پوچھا:

"یہ تو ٹھیک ہے، مگر ہمارے اپنے گدے اور رضائیاں کہاں ہیں؟"

پٹواری نے بیزاری سے کہا، "اب چھوڑو بھی ان پرانے گدوں کو! میں نے گنتی پوری کرنے کے لیے ٹرک کے سامان کے ساتھ وہ رضائیاں اور گدے بھیج دیے ہیں۔"

یہ سنتے ہی پٹواری کی بیوی دھاڑیں مار کر رونے لگ گئی اور بولی:

"ان دو گدوں میں وہ سات لاکھ روپے نقد رکھے تھے جو تم نے اپنی زمین بیچ کر مجھے دیے تھے! وہ نوٹ میں نے ہماری بیٹی کے جہیز کے لیے چھپا کر ان گدوں کے اندر رکھے تھے!"

یہ سنتے ہی پٹواری کے اوسان خطا ہو گئے۔ وہ بدحواس ہو کر گھر سے بھاگا، اڈے پہنچا اور کرائے پر کار لے کر ضلعی ہیڈ کوارٹر پہنچا جہاں سارے ضلع سے آئے ہوئے سامان کی چھانٹی کی جا رہی تھی۔ وہاں نیا سامان ایک طرف رکھا جاتا تھا اور پرانے و ناکارہ سامان کو آگ کے الاؤ میں جلا دیا جاتا تھا۔

پٹواری جب وہاں پہنچا تو بے تابی سے اپنے پرانے گدے ڈھونڈنے لگا۔ اس نے کیا دیکھا کہ ایک مزدور وہی گدے آگ کے الاؤ میں پھینکنے کے لیے تیار کھڑا ہے! پٹواری نے زور زور سے مزدور کو آوازیں دیں، مگر خوف کے مارے وہ آوازیں اس کے گلے میں ہی پھنس کر رہ گئیں۔ جب تک پٹواری آگے بڑھتا، مزدور وہ گدے آگ کی نذر کر چکا تھا اور بعد میں اپنے ہاتھوں کو مل کر آگ کی تپش سے گرما رہا تھا۔

پٹواری چکر کھا کر وہیں گر پڑا اور چیختے چلاتے، دہائی دیتے ہوئے کہنے لگا:

"قیامت تو اب ٹوٹ ہے... زلزلہ تو اب آیا ہے!"


پڑھیے علینہ خان کا تحریر کردہ دل کو چھو لینے والا افسانہ "بے مول"۔

افسانہ بے مول کا تھمب نیل، ٹوٹا ہوا شیشے کا جگ، فرش پر پھیلا سرخ شربت اور خون، سنسنی خیز ادبی منظر، تحریر: علینہ خان
بے مول، افسانہ، اردو افسانہ، علینہ خان، سماجی کہانی، گھریلو ظلم، عورت، ماں، خاندان، ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

🔗 مکمل افسانہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔👉

No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages