Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Tuesday, June 16, 2026

یکم محرم الحرام: شہادتِ فاروقِ اعظمؓ از قلم: علینہ خان

یکم محرم الحرام: شہادتِ فاروقِ اعظمؓ اور اسلام کا وہ زخم جو کبھی نہ بھر سکا

شہادت فاروق اعظم از قلم علینہ خان ہماری ڈائجسٹ

علینہ خان

محرم الحرام کا چاند صرف ایک نئے اسلامی سال کا آغاز ہی نہیں، بلکہ تاریخِ اسلام کے اس عظیم اور دلسوز باب کی یادگار بھی ہے جس نے امتِ مسلمہ کو خون کے آنسو رلایا۔ یکم محرم الحرام وہ المناک دن ہے جب عدل و انصاف کا آفتاب، مرادِ مصطفیٰ ﷺ، فاتحِ بیت المقدس، خلیفۂ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جامِ شہادت نوش فرما کر اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔ آپؓ کی شہادت کوئی عام حادثہ نہیں تھا، بلکہ یہ وہ دیوارِ چین تھی جس کے گرنے سے فتنوں کے وہ دروازے کھلے جو آج تک بند نہ ہو سکے۔

وہ دعا جو بارگاہِ الٰہی میں مستجاب ہوئی

سیدنا عمر فاروقؓ، جن کے رعب اور ہیبت سے شیطان بھی اپنا راستہ بدل لیتا تھا، راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں رعایا کی خاطر پہرہ دیتے ہوئے رو رو کر اپنے رب سے ایک عجیب اور بے مثال دعا مانگا کرتے تھے۔ آپؓ فرمایا کرتے تھے:

"اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت کی موت عطا فرما اور میری موت کو اپنے رسول ﷺ کے شہر (مدینہ منورہ) میں مقدر کر۔"

صحابہ کرامؓ یہ دعا سن کر حیران ہوتے اور پوچھتے کہ اے امیر المؤمنین! آپ مدینہ منورہ میں موجود ہیں جہاں چاروں طرف جان نثار صحابہ کا پہرہ ہے، یہاں جہاد کی تلوار چلے بغیر شہادت کیسے ممکن ہے؟ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب نیت سچی ہو تو ربِ کائنات اسباب کے بغیر بھی دعائیں قبول فرما لیتا ہے۔

مسجدِ نبویؐ کا وہ خونی مصلّٰی

یہ ذوالحجہ ۲۳ ہجری کی چھبیسویں تاریخ تھی۔ مدینہ منورہ میں فجر کی اذان گونجی۔ صحابہ کرامؓ نماز کے لیے صفیں سیدھی کر چکے تھے اور امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروقؓ مصلائے رسول ﷺ پر امامت کے لیے کھڑے ہوئے۔ ابھی آپؓ نے نماز کی تکبیرِ تحریمہ (اللہ اکبر) کہی ہی تھی کہ صفوں میں چھپا ہوا ایک ملعون مجوسی (آتش پرست) "ابو لؤلؤ فیروز" زہر آلود خنجر لے کر آگے بڑھا۔

اس بدبخت نے مصلے پر موجود عمر فاروقؓ پر ایک کے بعد ایک، پے در پے چھ وار کیے۔ ایک کاری ضرب آپؓ کے ناف کے نیچے لگی جس نے آپؓ کے وجود کو شدید زخمی کر دیا۔ جیسے ہی آپؓ گرے، اس نے دیگر صحابہ پر بھی اندھا دھند وار کیے جس سے کئی صحابہ زخمی ہوئے اور کچھ نے جامِ شہادت نوش کیا۔ جب اس ملعون کو لگا کہ وہ بچ کر نہیں نکل سکتا، تو اس نے اسی خنجر سے خودکشی کر لی۔

سیدنا عمر فاروقؓ نے شدید زخمی حالت میں بھی نماز کو ضائع نہیں ہونے دیا اور حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کا ہاتھ پکڑ کر آگے کیا، جنہوں نے نہایت اختصار کے ساتھ نمازِ فجر مکمل کروائی۔

"الحمد للہ! میرا قاتل کوئی مسلمان نہیں"

نماز کے بعد جب آپؓ کو بے ہوشی کی حالت میں اٹھا کر گھر لایا گیا، تو جیسے ہی آپؓ کو ہوش آیا، آپؓ کے لبوں سے جو پہلا جملہ نکلا وہ یہ تھا: "کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟" (سبحان اللہ! زخموں سے چور، موت و حیات کی کشمکش میں بھی خلیفہ وقت کو اپنی جان سے زیادہ نماز کی فکر تھی)۔

جب آپؓ کو بتایا گیا کہ جی ہاں، نماز ہو گئی ہے، تو آپؓ نے پوچھا: "میرا قاتل کون ہے؟" صحابہ نے عرض کیا کہ مغیرہ بن شعبہؓ کے مجوسی غلام ابو لؤلؤ فیروز نے آپ پر وار کیا ہے۔ یہ سن کر فاروقِ اعظمؓ کا چہرہ کھل اٹھا، انہوں نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا:

"تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھوں مقدر نہیں کی جو سجدہ کرتا ہو، یا جس نے زندگی میں ایک بار بھی اللہ کے سامنے سجدہ کیا ہو اور وہ کل قیامت کے دن میرے خلاف اس سجدے کو بطورِ حجت پیش کر سکے۔"

روضۂ رسولؐ میں آخری آرام گاہ کی اجازت

زندگی کے آخری لمحات میں جب طبیبوں نے کہہ دیا کہ زخم گہرے ہیں اور زہر جسم میں پھیل چکا ہے، تو آپؓ نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو بلایا اور فرمایا: "بیٹے! ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے پاس جاؤ۔ میرا نام 'امیر المؤمنین' مت لینا، کیونکہ اب میں امیر المؤمنین نہیں رہا، بلکہ کہنا کہ عمر بن خطاب اجازت مانگتا ہے کہ کیا اسے اپنے دونوں رفیقوں (رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر صدیقؓ) کے پہلو میں دفن ہونے کی جگہ مل سکتی ہے؟"

سیدہ عائشہ صدیقہؓ اس وقت رو رہی تھیں۔ انہوں نے فرمایا: "یہ جگہ میں نے اپنے لیے رکھی تھی، لیکن آج میں عمرؓ کو اپنے نفس پر ترجیح دیتی ہوں۔" جب حضرت عبداللہؓ نے آ کر یہ خوشخبری سنائی، تو فاروقِ اعظمؓ نے اطمینان کا سانس لیا اور فرمایا کہ میرے لیے اس سے بڑی کوئی نعمت نہیں تھی۔

یکم محرم الحرام: وصال اور مدینہ کا کہرام

تین دن تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد، بالآخر یکم محرم الحرام کو اسلام کا یہ چمکتا ہوا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ جب آپؓ کا جنازہ اٹھا تو پورا مدینہ منورہ یتیم ہو چکا تھا۔ صحابہ کرامؓ زار و قطار رو رہے تھے۔ حضرت علی المرتضیٰؓ نے آپؓ کے جسدِ مبارک کو دیکھ کر فرمایا تھا: "عمر! زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں تھا جس کے اعمال نامے جیسا اعمال نامہ لے کر میں اپنے رب کے حضور پیش ہونا پسند کروں۔"

آپؓ کو رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے پہلو میں دفن کیا گیا، اور یوں وہ تینوں یار جو دنیا میں ایک ساتھ تھے، قبر اور آخرت میں بھی ایک ساتھ ہو گئے۔

فتنوں کی دیوار گر گئی

سیدنا حذیفہ بن یمانؓ (جنہیں رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کے نام بتائے تھے) سے ایک بار پوچھا گیا تھا کہ اسلام اور فتنوں کے درمیان جو دروازہ ہے، کیا وہ کھلے گا یا توڑا جائے گا؟ انہوں نے فرمایا تھا: "وہ دروازہ توڑا جائے گا، اور وہ دروازہ عمرؓ کی ذات ہے۔"

سیدنا عمر فاروقؓ کی شہادت محض ایک حکمران کی موت نہیں تھی، بلکہ وہ انصاف، عدل، جرات اور فتوحات کا وہ سنہرا دور تھا جس کی مثال تاریخِ انسانی پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آپؓ کی شہادت پر ہر آنکھ اشکبار ہے اور محرم کا یہ چاند ہمیشہ ہمیں اس عظیم فاروق کی یاد دلاتا رہے گا جس نے قیصر و کسریٰ کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا مگر خود پیوند لگے کپڑے پہن کر زمین پر سویا کرتا تھا۔

No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages