اعجازِ کلامِ الہیٰ: احمد کیوں؟ محمد کیوں نہیں!؟
سید ضمیر حسین جعفری (ملتان)
یہ قرآنِ کریم کا ایک ایسا معجزہ ہے، جس پر شاید آپ کی کبھی نظر نہ گئی ہو!
کیا آپ نے کبھی قرآنِ کریم میں اس اعجاز کی لطافت کو محسوس کیا ہے؟ کبھی سوچا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں ایک لفظ کے بجائے دوسرا لفظ کیوں منتخب فرماتا ہے؟ اور یہ انتخاب کس طرح معنی کا ایسا فرق پیدا کر دیتا ہے جو عقل کو حیرت میں ڈال دیتا ہے؟
آئیے! کلامِ الہیٰ کی بلاغت اور حسن کے مظہر، قرآن کے حیرت انگیز اسلوب کا ادراک کریں اور اس نہایت لطیف نکتے پر غور کریں جس کی طرف عظیم داعی، شیخ محمد متولی الشعراوی رحمہ اللہ نے توجہ دلائی ہے۔ وہ ایک ایسے سوال کا جواب دیتے ہیں جس نے بہت سے لوگوں کو سوچنے پر مجبور کیا ہے:
آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آنے والے آخری نبی کی بشارت دیتے ہوئے "محمد" (معروف نام) کے بجائے "احمد" کیوں استعمال فرمایا؟
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ﴾
"اور میں اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں، جن کا نام احمد ہو گا۔"
لیکن سوال یہ ہے کہ اس انتخاب کے پیچھے آخر وہ کون سا لطیف راز ہے جو عربی نحو اور زبان کے حیرت انگیز حسن کو نمایاں کرتا ہے؟
"احمد"... اسمِ تفضیل کا اعلیٰ ترین درجہ
عربی زبان میں "احمد" بروزنِ 'افعل'، اسمِ تفضیل ہے؛ یعنی وہ جو دوسروں سے بڑھ کر کسی وصف کا حامل ہو۔ مثال کے طور پر عرب کہتے ہیں: "ابو زید حامدٌ لربه، ولكن عبدالقدوس أحمدُ منه۔" (یعنی: ابو زید اپنے رب کی حمد کرنے والا ہے، لیکن عبدالقدوس اس سے بھی زیادہ حمد کرنے والا ہے۔)
گویا "احمد" کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی شخص دوسروں کی نسبت زیادہ حمد کرنے والا ہو۔ اس اعتبار سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا مطلب یہ بنتا ہے کہ: "میرے بعد ایک ایسے رسول تشریف لائیں گے جو زمین و آسمان میں اپنے رب کی سب سے زیادہ حمد کرنے والے، سب سے زیادہ شکر گزار اور اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ ثنا بیان کرنے والے ہوں گے۔"
"محمد"... اسمِ مفعول
دوسری طرف "محمد" اسمِ مفعول ہے، جس کے لیے عربی لغت میں 'وجود' شرط ہے۔ یعنی اس کا دنیا میں موجود ہونا ضروری ہے۔ "محمد" کا مفہوم یہ ہے کہ ایک ایسی شخصیت جس نے اپنے رب کی اس قدر حمد کی، اور لوگوں نے اس کے ایسے عظیم اوصاف دیکھے کہ وہ بار بار تعریف کیے جانے کے باعث "محمد" (بہت زیادہ سراہا جانے والا) بن گیا۔
عربی زبان میں اسمِ مفعول اس شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جو موجود ہو، جو پیدا ہو چکا ہو، زندگی گزار چکا ہو، اور ایسے اعمال انجام دے چکا ہو جن کی بنا پر وہ تعریف اور مدح کا مستحق قرار پایا ہو۔
یہی وہ لطیف اعجاز ہے...
اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے اس وقت یہ الفاظ کہلوائے جاتے: "اسمه محمد"... تو عربی زبان کے اعتبار سے ایک نحوی و بلاغی خلا محسوس ہوتا؛ کیونکہ اس وقت رسولِ اکرم ﷺ ابھی دنیا میں تشریف نہیں لائے تھے، نہ آپ کی ولادت ہوئی تھی اور نہ وہ مبارک اعمال ظاہر ہوئے تھے جن کی وجہ سے آپ ہر زبان پر "محمد" (یعنی بار بار تعریف کیے جانے والے) بنتے۔ جبکہ اس کے برعکس، اسمِ تفضیل "احمد" کے لیے (پہلے سے) موجود ہونا شرط نہیں ہے۔
اسی لیے بشارت کے وقت آپ ﷺ کو اس وصف سے یاد کیا گیا جو آپ کی آنے والی شان کو ظاہر کرتا تھا: "احمد"... یعنی وہ عظیم ہستی جو سب سے بڑھ کر اپنے رب کی حمد کرنے والی ہوگی، اگرچہ ابھی دنیا نے اسے دیکھا نہیں تھا۔
پھر جب آپ ﷺ دنیا میں تشریف لائے، نبوت سے سرفراز ہوئے، اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی حمد، بندگی، اطاعت اور انسانیت کی ہدایت میں گزار دی، اور آپ کے بے مثال اخلاق، کردار اور عظمت کو پوری دنیا نے دیکھا؛ تو آپ واقعی "محمد" بھی بن گئے—وہ عظیم ہستی جن کی تعریف آسمان والے بھی کرتے ہیں اور زمین والے بھی، اور جن پر قیامت تک درود و سلام بھیجا جاتا رہے گا۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔
No comments:
Post a Comment