Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Thursday, July 2, 2026

کیا ہمارا ضمیر سو چکا ہے؟ ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

 کیا ہمارا ضمیر سو چکا ہے؟

کیا ہمارا ضمیر سو چکا ہے اردو مضمون از سید ساجد علی شاہ بخاری - ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

سید ساجد علی شاہ بخاری - رحیم یار خان

کل صبح جب اخبار میرے ہاتھ میں آیا تو اس کی تین سرخیاں پڑھ کر دل کانپ اٹھا، آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور زبان بے اختیار پکار اٹھی: "إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔"

یہ صرف تین خبریں نہیں تھیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کا آئینہ تھیں جو بظاہر ترقی کی منازل طے کر رہا ہے، مگر اندر سے اخلاقی، روحانی اور انسانی اقدار کے اعتبار سے کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

پہلی خبر: ایک ایسے المناک واقعے سے متعلق تھی جس میں ایک باپ پر اپنی ہی بیٹی کے ساتھ مسلسل ظلم کا الزام تھا۔
دوسری خبر: ایک ایسے خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کی تھی جس میں چھ بچوں کی ماں اپنے گھر سے چلی گئی۔
تیسری خبر: لاہور میں ایک ٹیوشن سینٹر کی عمارت گرنے سے معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے کی تھی۔

تینوں واقعات اپنی نوعیت میں مختلف ہیں، مگر ان میں ایک قدر مشترک ہے؛ اور وہ ہے انسانی جان، خاندان اور ذمہ داری کی اہمیت کا مجروح ہونا۔ ایسے واقعات انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ آخر ہمارے معاشرے میں خوفِ خدا، حیا، رحم، دیانت اور احساسِ ذمہ داری کہاں کھو گئے ہیں؟

اسلام نے انسان کو صرف عبادت گزار بننے کا حکم نہیں دیا بلکہ بہترین کردار، بہترین اخلاق اور بہترین معاشرت کا بھی درس دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں بارہا عدل، احسان، عفت، صبر، امانت اور حقوق العباد کی تاکید کی گئی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہترین ہو۔

اگر ایک باپ، جو اپنی اولاد کا محافظ، مربی اور سایہ ہوتا ہے، اپنے فرض سے منحرف ہو جائے تو اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے؟ اگر خاندانی نظام میں اعتماد، وفاداری اور ذمہ داری کمزور پڑ جائے تو گھر صرف ایک عمارت رہ جاتا ہے، خاندان نہیں۔ اگر بچوں کے لیے قائم کی گئی عمارتیں غیر محفوظ ہوں تو یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی غفلت بھی ہے، جس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر خبر کے تمام قانونی اور حقائق پر مبنی پہلو متعلقہ اداروں کی تحقیقات سے واضح ہوتے ہیں، اس لیے جذبات کے ساتھ انصاف اور احتیاط بھی ضروری ہے۔

آج ہمارا معاشرہ جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور مادہ پرستی کے سیلاب میں بہتا جا رہا ہے۔ گھروں میں ایک چھت کے نیچے رہنے والے لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ والدین بچوں کو وقت دینے کے بجائے موبائل دے کر اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیتے ہیں، جبکہ بچے حقیقی تربیت کے بجائے ورچوئل دنیا سے سبق سیکھ رہے ہیں۔ ہم نے اپنے گھروں میں قرآن کی تلاوت کی آوازیں کم اور موبائل فون کی گھنٹیاں زیادہ سننا شروع کر دی ہیں۔ ہم نے اپنی اولاد کو مہنگے لباس، اعلیٰ تعلیم اور جدید سہولیات تو دے دیں، مگر سچ بولنے، حلال و حرام کی تمیز، بڑوں کے احترام، چھوٹوں پر شفقت، حیا، عفت اور خوفِ خدا کی تعلیم دینے میں کوتاہی برتی۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں برداشت کم، غصہ زیادہ، محبت کم اور نفرت زیادہ دکھائی دیتی ہے۔

ہر روز اخبارات اور سوشل میڈیا پر ایسی خبریں سامنے آتی ہیں جو دل دہلا دیتی ہیں۔ کبھی معمولی تنازع پر قتل، کبھی گھریلو تشدد، کبھی بچوں پر ظلم، کبھی خواتین کے حقوق کی پامالی، کبھی بدعنوانی، کبھی بے حسی اور کبھی انسانی جانوں سے کھیلنے والی غفلت۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟

اس کا جواب صرف قانون کی کمزوری میں نہیں بلکہ کردار کی کمزوری میں بھی پوشیدہ ہے۔ قانون مجرم کو سزا دے سکتا ہے، مگر انسان کے دل میں خوفِ خدا پیدا نہیں کر سکتا۔ یہ کام گھر، مسجد، مدرسہ، تعلیمی ادارہ اور معاشرہ مل کر کرتے ہیں۔ جب تربیت کمزور ہو جائے تو جرائم بڑھتے ہیں، جب ضمیر سو جائے تو ظلم عام ہوتا ہے، اور جب ایمان کمزور ہو جائے تو انسان اپنے نفس کا غلام بن جاتا ہے۔

ہمیں بحیثیت مسلمان یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کی عدالت میں بھی حاضر ہونا ہے، جہاں نہ دولت کام آئے گی، نہ عہدہ، نہ سفارش اور نہ دنیاوی طاقت؛ وہاں صرف اعمال کا حساب ہوگا۔ اگر یہ احساس ہمارے دلوں میں زندہ ہو جائے تو شاید بہت سے جرائم وقوع پذیر ہی نہ ہوں۔ اسی طرح عوامی مقامات، تعلیمی اداروں اور عمارتوں کی تعمیر میں دیانت داری، معیار اور احتیاط بھی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے، کیونکہ انسانی جان کا تحفظ اسلام کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔

ہمیں ہر حادثے کے بعد صرف افسوس کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں کا جائزہ لینا ہوگا۔

  1. والدین کو اپنی اولاد کی اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔
  2. اساتذہ کو صرف نصاب نہیں بلکہ کردار بھی پڑھانا ہوگا۔
  3. علماء کو محبت، اعتدال اور اصلاح کا پیغام عام کرنا ہوگا۔
  4. میڈیا کو سنسنی سے زیادہ شعور بیدار کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔
  5. حکومت کو انصاف، شفافیت اور عوامی تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

مگر سب سے پہلے ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہوگا، کیونکہ معاشرے کی اصلاح فرد کی اصلاح سے شروع ہوتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نمازوں کو صرف رسم نہ بنائیں بلکہ ان کے پیغام کو اپنی زندگی میں نافذ کریں، قرآن کو صرف تلاوت تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کی تعلیمات پر عمل کریں، اپنے بچوں کو صرف ڈاکٹر، انجینئر یا افسر بنانے کی فکر نہ کریں بلکہ انہیں اچھا انسان اور سچا مسلمان بنانے کی کوشش کریں۔

آئیں! آج ہم عہد کریں کہ ہم نفرت کے بجائے محبت، غصے کے بجائے برداشت، بے حسی کے بجائے احساس، غفلت کے بجائے ذمہ داری اور مایوسی کے بجائے اصلاح کا راستہ اختیار کریں گے۔

اللہ تعالیٰ ان تمام متاثرہ خاندانوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کی مغفرت فرمائے، زخمیوں کو صحت عطا فرمائے، ہر مظلوم کی حفاظت فرمائے، ہر بے گناہ کو امن عطا فرمائے، اور ہمارے معاشرے کو اخلاقی زوال، ظلم، بے حیائی، ناانصافی اور بے حسی سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

یاد رکھیے، قوموں کی اصل طاقت ان کی بلند عمارتیں، شاہراہیں اور جدید ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ان کا زندہ ضمیر، مضبوط خاندان، اعلیٰ کردار، انصاف، رحم اور خوفِ خدا ہوتا ہے۔ جب یہ بنیادیں مضبوط ہوں تو معاشرے ترقی کرتے ہیں، اور جب یہی بنیادیں کمزور پڑ جائیں تو صرف عمارتیں ہی نہیں، پوری تہذیبیں لرزنے لگتی ہیں۔

No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages