Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Thursday, July 16, 2026

معصوم بچوں کی چیخیں - ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

معصوم بچوں کی چیخیں

معصوم بچوں کی چیخیں - ایک جذباتی تصویر جس میں ایک اداس بچہ روشنی کی طرف دیکھ رہا ہے، ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل کا خصوصی آرٹیکل برائے تحفظِ اطفال۔

تحریر: سید ساجد علی شاہ

دنیا میں سب سے خوبصورت آواز کسی معصوم بچے کی ہنسی ہوتی ہے، مگر جب یہی ہنسی سسکیوں میں بدل جائے تو انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ بچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل، والدین کی امیدوں کا مرکز اور قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ، آنکھوں میں خواب اور دلوں میں بے شمار تمنائیں ہوتی ہیں۔ وہ نفرت، تعصب، لالچ اور دھوکے سے بے خبر صرف محبت، شفقت اور تحفظ کے طلبگار ہوتے ہیں۔ مگر افسوس! آج کا معاشرہ ترقی، تعلیم، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوے تو کرتا ہے، لیکن جب بات معصوم بچوں کے تحفظ کی آتی ہے تو ہماری اجتماعی بے حسی، غفلت اور خاموشی ایک تلخ حقیقت بن کر سامنے آتی ہے۔

آئے روز اخبارات کی سرخیاں، ٹیلی ویژن کی خبریں اور سوشل میڈیا کی پوسٹیں ایسے دل دہلا دینے والے واقعات سے بھری ہوتی ہیں جن میں کہیں کوئی معصوم بچہ تشدد کا شکار بنتا ہے، کہیں کسی ننھی کلی کی عزت پامال کی جاتی ہے، کہیں غربت کے ہاتھوں مجبور بچہ مزدوری کرتے ہوئے اپنی معصوم خواہشات کا گلا گھونٹ دیتا ہے اور کہیں والدین کی معمولی سی غفلت کسی معصوم جان کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیتی ہے۔ یہ خبریں صرف الفاظ نہیں ہوتیں بلکہ ہر خبر کے پیچھے ایک اجڑا ہوا گھر، ایک بلکتی ماں، ایک ٹوٹا ہوا باپ اور ایک ایسا خاندان ہوتا ہے جس کی زندگی کبھی پہلے جیسی نہیں رہتی۔

سوال یہ ہے کہ آخر ان معصوم بچوں کا قصور کیا ہے؟ کیا ان کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ اپنی حفاظت خود نہیں کر سکتے؟ کیا ان کی کمزوری ہی ان کا سب سے بڑا جرم بن چکی ہے؟ وہ تو صرف محبت, شفقت، تحفظ اور توجہ کے طلبگار ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں روشن مستقبل کے خواب ہوتے ہیں، مگر معاشرے کی بے حسی، والدین کی غفلت، غربت، جہالت، منشیات، اخلاقی زوال اور قانون سے بے خوف مجرم ان خوابوں کو بے رحمی سے روند دیتے ہیں۔ جب ایک بچہ ظلم کا شکار ہوتا ہے تو درحقیقت صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پوری قوم کا ضمیر زخمی ہوتا ہے۔

اسلام نے بچوں کے حقوق کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ رسول اکرم ﷺ بچوں سے بے حد محبت فرماتے، انہیں شفقت سے گود میں اٹھاتے، ان کے ساتھ کھیلتے اور ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے تھے۔ آپؐ نے یہ عملی درس دیا کہ بچے رحمت ہیں، بوجھ نہیں۔ افسوس کہ ہم نے اپنے نبی کریم ﷺ کی ان روشن تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ آج ہم اپنی مصروفیات، خواہشات اور مادہ پرستی میں اس قدر گم ہو چکے ہیں کہ بچوں کی نفسیاتی، جسمانی اور جذباتی ضروریات کو سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔

ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہر ظلم گلیوں اور بازاروں میں نہیں ہوتا، بعض اوقات ظلم گھر کی چار دیواری کے اندر جنم لیتا ہے۔ جہاں بچے خود کو سب سے زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں، وہیں کبھی کبھی ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ گھریلو تشدد، سخت رویہ، مسلسل ڈانٹ ڈپٹ، نفسیاتی دباؤ اور والدین کے باہمی جھگڑے بھی بچوں کی شخصیت پر ایسے زخم چھوڑ جاتے ہیں جو عمر بھر مندمل نہیں ہوتے۔ ایسے بچے بظاہر زندہ رہتے ہیں، مگر ان کا بچپن خاموشی سے مر جاتا ہے۔

موجودہ دور میں موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے جہاں بہت سی آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں بچوں کے لیے نئے خطرات بھی جنم دیے ہیں۔ والدین اکثر بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے موبائل ان کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں، مگر یہ نہیں جانتے کہ اس کے ذریعے وہ کس دنیا سے آشنا ہو رہے ہیں۔ نامناسب مواد، نامعلوم افراد سے رابطے اور سائبر جرائم بچوں کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کے لیے سنگین خطرات بن چکے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین صرف رزق کمانے کی فکر نہ کریں بلکہ اپنی اولاد کی تربیت، نگرانی اور رہنمائی کو بھی اولین ترجیح دیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ جب کوئی افسوس ناک واقعہ پیش آتا ہے تو چند دن تک شور مچتا ہے، مذمت کی جاتی ہے، احتجاج ہوتے ہیں، سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ چلتے ہیں، پھر سب کچھ خاموش ہو جاتا ہے۔ لیکن جس گھر کا چراغ بجھ جائے، جس ماں کی گود اجڑ جائے اور جس باپ کی امیدیں دفن ہو جائیں، ان کے لیے یہ درد کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ ہر دن اسی کرب کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صرف افسوس اور مذمت تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے گھروں سے اصلاح کا آغاز کریں۔ بچوں کو اعتماد دیں، ان کی بات توجہ سے سنیں، انہیں اچھے اور برے لمس کا شعور دیں، ان کے دوست بنیں اور ایسا ماحول فراہم کریں جہاں وہ ہر بات بلا خوف اپنے والدین سے کہہ سکیں۔ اساتذہ، علماء، میڈیا، سماجی تنظیمیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری سے ادا کریں تاکہ کوئی معصوم بچہ ظلم کا شکار نہ ہو۔

ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کی بلند عمارتیں، جدید سڑکیں یا ترقی یافتہ معیشت نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہاں بچے کتنے محفوظ ہیں۔ اگر ہمارے بچے خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں تو ہمیں اپنی ترقی کے دعووں پر ازسرِنو غور کرنا ہوگا۔ بچوں کی حفاظت صرف حکومت یا قانون کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد، ہر خاندان اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی بے حسی کو احساس میں، خاموشی کو آواز میں اور افسوس کو عملی اقدام میں بدلیں۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے اردگرد کسی بھی بچے پر ہونے والے ظلم، زیادتی یا استحصال پر خاموش تماشائی نہیں بنیں گے بلکہ اس کے خلاف آواز بلند کریں گے، کیونکہ خاموشی بھی بعض اوقات ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہوتی ہے۔

معصوم بچوں کی چیخیں صرف چند گھروں کا نوحہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہیں۔ اگر آج بھی ہم نے ان چیخوں کو نظر انداز کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ایک محفوظ بچپن ہی ایک مضبوط، مہذب اور باوقار قوم کی بنیاد رکھ سکتا ہے، اور یہی وہ ذمہ داری ہے جسے ہم سب کو مل کر نبھانا ہوگا۔

No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages