ماہِ صفر میں اللہ پر توکل
ارم کاشف
اسلامی سال کا دوسرا مہینہ، ماہِ صفر، ہر سال آتا ہے، مگر افسوس کہ اس کے ساتھ آج بھی بے شمار توہمات وابستہ کر دیے جاتے ہیں۔ بعض لوگ اسے نحوست، مصیبت یا بدقسمتی کا مہینہ سمجھتے ہیں۔ اس مہینے میں شادی، کاروبار، سفر یا دیگر اہم کاموں سے گریز کیا جاتا ہے، گویا خود یہ مہینہ نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام تصورات زمانۂ جاہلیت کی یادگار ہیں، جنہیں اسلام نے واضح طور پر رد کر دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کوئی بیماری خودبخود متعدی نہیں، نہ بدشگونی کی کوئی حقیقت ہے، اور نہ صفر کی کوئی نحوست ہے۔"(صحیح بخاری: 5707) یہ حدیث اس بات کا واضح اعلان ہے کہ اسلام انسان کو وہم، بدشگونی اور بے بنیاد عقائد سے آزاد کر کے اللہ تعالیٰ پر کامل اعتماد کی تعلیم دیتا ہے۔ کسی دن، مہینے یا تاریخ میں اپنی ذات کے اعتبار سے نہ خیر ہوتی ہے اور نہ شر۔ نفع و نقصان، عزت و ذلت، آسانی اور آزمائش سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتی ہیں۔ قرآنِ کریم بھی مومن کو اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ﴾ "اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔"
(سورۃ الطلاق: 3) ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ﴾ "بے شک اللہ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔"
(سورۃ آلِ عمران: 159) توکل کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان اسباب اختیار کرنا چھوڑ دے۔ اسلام ہمیں محنت، تدبیر اور منصوبہ بندی کا درس دیتا ہے، مگر نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑنے کی تعلیم بھی دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرو جیسا توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں اسی طرح رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے۔ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو سیر ہو کر واپس آتے ہیں۔"
(جامع ترمذی: 2344) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پرندے اپنے گھونسلوں میں بیٹھے نہیں رہتے بلکہ رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ ان کے لیے رزق کے اسباب پیدا فرماتا ہے۔ یہی حقیقی توکل ہے کہ انسان کوشش بھی کرے اور دل کو اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر مطمئن بھی رکھے۔ بدقسمتی سے آج بھی بعض لوگ ماہِ صفر میں نکاح، نئے کاروبار، گھر کی تعمیر، سفر یا دیگر اہم فیصلوں کو مؤخر کر دیتے ہیں۔ بعض علاقوں میں مخصوص رسومات یا وظائف کو لازم سمجھا جاتا ہے، حالانکہ قرآن و سنت میں ان کی کوئی دلیل موجود نہیں۔ ایک مسلمان کو ہر ایسے عقیدے سے بچنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ پر کامل یقین کو کمزور کرے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے تھے کہ بدشگونی کا تعلق اشیاء سے نہیں بلکہ انسان کے دل سے ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ پر بھروسا اس کیفیت کو ختم کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ہر قسم کی بدفالی اور توہم پرستی کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ حقیقی مومن جانتا ہے کہ آزمائش بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت کا حصہ ہے اور آسانی بھی اسی کا انعام۔ اگر زندگی میں کوئی مشکل آ جائے تو اس کا تعلق کسی مہینے یا دن سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتا ہے، جس میں بندے کے لیے کوئی نہ کوئی خیر ضرور پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس یقین کے ساتھ انسان کے دل میں صبر، امید اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ ماہِ صفر بھی دیگر اسلامی مہینوں کی طرح اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہے۔ اس میں نہ کوئی نحوست ہے اور نہ کوئی ایسی خصوصیت جو انسان کے لیے بذاتِ خود نقصان کا باعث بنے۔ ہمیں چاہیے کہ اس مہینے کو بھی عبادت، دعا، ذکرِ الٰہی، صدقہ، حسنِ اخلاق اور نیک اعمال کے ذریعے بابرکت بنائیں۔ جب دل اللہ تعالیٰ پر کامل یقین سے بھر جائے تو ہر وہم ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ سچا مومن حالات پر نہیں بلکہ اپنے رب پر بھروسا کرتا ہے۔ یہی توکل ایمان کی طاقت، قلب کے سکون اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
No comments:
Post a Comment