Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Friday, July 24, 2026

پختہ شاعری اور علمِ عروض کے بنیادی قواعد | ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

پختہ شاعری: علمِ عروض اور فنی قواعد و ضوابط

پختہ شاعری: علمِ عروض اور فنی قواعد | ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل
علمِ عروض، بحر، وزن، قافیہ اور ردیف کے بنیادی اصولوں پر صغیر جعفری کا معلوماتی مضمون -  ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

تحریر: صغیر جعفری

علمِ عروض کے قواعد و ضوابط کی روشنی میں مطلع، مقطع، وزن، بحر، قافیہ اور ردیف کی مکمل اور صحت کے ساتھ پاسداری کرنا ہی پختہ شاعری ہے۔

ناصر کاظمی نے کہا تھا:

کہتے ہیں غزل قافیہ پیمائی ہے ناصر

یہ قافیہ پیمائی ذرا کر کے تو دیکھو

فنونِ لطیفہ میں شاعری کے وجود کو ایک منفرد و اعلیٰ درجہ و مقام حاصل ہے۔ زیرِ نظر یہ مضمون شاعری کے محبان و شائقین کے لیے تو یقیناً پسندیدہ اور قابلِ غور و فکر ہوگا، مگر جنہیں شاعری سے شغف نہیں ہے، ان سے میں معذرت خواہ ہوں۔

شاعر کا پہلا کام صحیح شاعری ہے، مگر شاعری میں فنی نقائص ہوں تو وہ شاعری کبھی بھی مقبولیت حاصل نہیں کر سکتی۔ یاس یگانہ نے فراق کو یوں مخاطب کیا تھا:

"مائی ڈئیر فراق! میں وہ شخص ہوں کہ شعر و سخن کے معاملے میں اگر کوئی نقص ہو تو نہ دوست کا لحاظ کرتا ہوں اور نہ دشمن کی پروا۔"

مگر میں طفلِ مکتب ہوتے ہوئے، حفظِ مراتب کا خیال رکھتے ہوئے اغلاط کی نشاندہی کرتا ہوں۔

عجیب وقت تھا جب میں استادِ محترم و مکرم بیدل حیدری صاحب کی خدمت میں اصلاح کے لیے ملتان سے کبیر والا ہر اتوار کو جایا کرتا تھا۔ ان سے جو بھی اکتساب اس وقت کیا، وہ ایک نوٹ بک میں درج کرتا رہتا تھا۔ آج انہی کے عطا کردہ فیض سے، اس نوٹ بک سے استفادہ کرتے ہوئے یہ عرض کرنے کا شرف حاصل کر رہا ہوں۔

علمِ عروض کی روشنی میں قافیے کا انتخاب

غزل کا مطلع صرف غزل کی بنیاد ہی نہیں ہوتا، بلکہ یہ پوری غزل کے قوافی کا ایک تحریری آئین بھی ہوتا ہے۔ زیرِ بحث غزل کا مطلع ہے:

مطلع:

راس آئی نہ چاندنی مجھ کو

مار ڈالے گی تیرگی مجھ کو

اس مطلع میں "چاندنی" (نون اور ی) اور "تیرگی" (گاف اور ی) کا استعمال کر کے یہ اصول وضع کر دیا ہے کہ ہمارا حرفِ روی 'ی' یعنی یائے معروف ماقبل مکسور ہے (یعنی وہ 'ی' جس سے پہلے زیر کی آواز ہو)۔ چونکہ 'ی' سے پہلے والے حروف (یعنی نون اور گاف) مختلف ہیں، اس لیے اس غزل کو ایطائے جلی جیسے بڑے عیب سے بچا لیا گیا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس زمین میں کلام کہتے ہوئے کن قوافی سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے اور کون سے قوافی ہمارے کلام میں عیبِ معمول یا ایطائے جلی پیدا کر سکتے ہیں؟ آئیے اسے تفصیل سے دیکھتے ہیں:

۱. ممنوعہ قوافی (قطعی ناقابلِ استعمال)

پہلے ان قوافی کی بات کرتے ہیں جو اس زمین میں قطعی استعمال نہیں ہو سکتے۔ جب مطلع نے طے کر دیا کہ قافیہ یائے معروف ماقبل مکسور (ای کی آواز) پر ختم ہوگا، تو درج ذیل الفاظ کا استعمال بحر اور وزن درست ہونے کے باوجود عروضاً صحیح نہیں ہے۔

  • یائے معروف ماقبل مفتوح (زبر کے ساتھ): ایسے الفاظ جن کے آخر میں 'ی' تو ہے لیکن اس سے پہلے زیر کی بجائے زبر ہے اور ان کی آواز (اے ای) نکلتی ہے، ایسے قوافی قطعی طور پر استعمال میں نہیں آ سکتے؛ کیونکہ ان کی صوتیات مطلع کے قوافی سے متصادم ہیں۔

۲. عیبِ معمول یا قافیۂ معمول

اب آتے ہیں ان قوافی کی طرف جو عیبِ معمول یا قافیۂ معمول پیدا کرتے ہیں۔

قافیۂ معمول سے مراد یہ ہے کہ شاعر کے پاس جب اصل قافیہ ختم ہو جائے تو وہ دو الگ الگ لفظوں کو زبردستی ملا کر ایک قافیہ بنا لے۔ چونکہ مطلع کے قوافی مفرد اور ایک مکمل لفظ پر مشتمل ہیں (جیسے چاندنی، تیرگی)، اس لیے ذیل کی ترکیبیں عیبِ معمول کہلائیں گی:

  • پہلی مثال: "کہہ لی" — اس میں کہہ اور لی الگ الفاظ ہیں۔

  • دوسری مثال: "چل دی" — اس میں چل اور دی الگ الفاظ ہیں۔

  • تیسری مثال: "رکھ دی" — اس میں رکھ اور دی کو ملایا گیا ہے۔

  • "چل پڑی" کو بھی استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

ان اشعار میں لی، دی، پڑی کو زبردستی قافیہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے جو کہ ایک واضح اور سنگین عیب ہے۔ ایک بامعنی اور مفرد لفظ کا مقابلہ کسی فعل اور حرفِ امدادی کے جوڑ سے نہیں کیا جا سکتا۔

۳. ایطائے جلی اور لاحقوں کی تکرار کا خدشہ

تیسرا اہم نکتہ ایطائے جلی کے خدشے اور لاحقوں کی تکرار کے حوالے سے ہے۔

مطلع میں تو ایطائے جلی سے خود کو بچا لیا، لیکن غزل کے باقی اشعار میں اگر ہم صرف ایک ہی قسم کے لاحقے کے پیچھے پڑ جائیں، تو یہ بھی کلام کو کمزور کر دیتا ہے۔ اسے ایطائے خفی اور بعض صورتوں میں ایطائے جلی کا قریب ترین نقص مانا جاتا ہے۔

  • صرف "گی" کا مسلسل استعمال: اگر ہم آنے والے اشعار میں صرف اور صرف زندگی، بندگی، شرمندگی، تازگی، دیوانگی باندھتے چلے جائیں، تو قاری کے ذہن میں یہ غلط تاثر پیدا ہوگا کہ شاید اس غزل کا قافیہ گی ہے، نہ کہ 'ی'۔

  • صرف "تی" یا "نی" کا استعمال: بدصورتی، کم بختی جیسے الفاظ استعمال کرنا کلام کے فنی حسن کو گرا دیتا ہے۔

درست اور مستند قوافی کا انتخاب

ان تمام عیوب سے بچنے اور غزل کے صوتی حسن کو قائم رکھنے کا بہترین اور مستند طریقہ یہی ہے کہ ہم متفرق حروف کے ساتھ مفرد اور بامعنی قوافی کا انتخاب کریں، جیسا کہ:

بے بسی، دلبری، مفلسی، برتری، بے حسی، کمتری، چارہ گری، اجنبی، منافقی، خامشی، آگہی، زندگی۔

No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages