قدرت اللہ شہاب: صوفی منش بیوروکریٹ
قدرت اللہ شہاب کی سادگی، دیانت داری اور خدمتِ انسانیت پر صغیر جعفری کا خصوصی مضمون - ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل |
تحریر: صغیر جعفری
دنیا میں بہت کم شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو کہ مجموعہ صفات ہوں اور جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی فضل و کرم سے اس طرح نوازا ہو کہ وہ دوسروں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوں۔ قدرت اللہ شہاب کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی ہی خصوصیات سے نوازا تھا جو کہ بہت کم لوگوں کو ودیعت و عطا ہوتی ہیں۔
ایوب خان کے پرنسپل سیکرٹری ہونے کے لحاظ سے قدرت اللہ شہاب سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ ایوب خان ان پر بے پناہ اعتماد و بھروسہ کرتے تھے اور ہر اہم معاملے میں اپنے ملٹری سیکرٹری کے بجائے ان سے مشاورت کرتے تھے۔
ڈپٹی کمشنر جھنگ میں تعینات تھے تو مستحق و نادار لوگوں کی خدمت، مدد اور ان کے جائز کام بھرپور طریقے سے سرانجام دیتے تھے۔ سرکاری زرعی زمین سفید پوشوں کو الاٹ کرتے رہے، مگر اپنے لیے ساری ملازمت کے دوران حکومت سے کچھ بھی نہیں لیا۔ ساری زندگی کسی سے رشوت نہیں لی؛ صرف ایک مرتبہ رشوت لی، وہ بھی کس طرح؟ ملاحظہ فرمائیے۔
قدرت اللہ شہاب کے دفتر کے دروازے عوام کے لیے ہمہ وقت کھلے رہتے تھے، جہاں حق داروں کے حقوق بغیر کسی اعتراض، بغیر کسی نذرانے اور رشوت کے ادا کیے جاتے تھے۔ ایک دن ایک بوڑھی عورت اپنے علاقے کے پٹواری کے خلاف ثبوت کے ساتھ درخواست لے کر آئی کہ پٹواری رشوت لینے کے باوجود اس کے شوہر کی وفات کے بعد شوہر کی چھوڑی ہوئی زمین کا انتقال اس بیوہ بوڑھی کے نام نہیں کر رہا۔ بوڑھی عورت کو ڈر تھا کہ اس کے مرحوم شوہر کی زمین پر اس کے شوہر کے بھائی بھتیجے قبضہ نہ کر لیں؛ اس بوڑھی عورت کا خدشہ صحیح تھا کہ وہ لوگ پٹواری کے ساتھ مل کر اس کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔قدرت اللہ شہاب نے بوڑھی عورت کو یقین دلایا کہ وہ معاملے کی چھان بین کرنے کے بعد فیصلہ کریں گے۔ جب معاملے کی تحقیق کروائی گئی تو پتا چلا کہ بڑھیا بالکل سچی ہے۔ قدرت اللہ شہاب فوری طور پر بڑھیا کے گاؤں پہنچے اور پٹواری کو بلوایا تو وہ تھر تھر کانپنے لگا، کیونکہ وہ اپنے کالے کرتوتوں سے آگاہ تھا۔ تو اس نے ڈی سی صاحب کے حکم پر بڑھیا کی وراثتی زمین کا انتقال فوری طور پر بڑھیا کے نام کر دیا۔ اب بڑھیا کو یقین نہ آئے کہ اتنے عرصے سے رکا ہوا کام یکدم کیسے ہو گیا ہے، تو وہ خوشی سے رونے لگ گئی اور جلدی سے اپنے دوپٹے سے باندھے ہوئے پندرہ روپے چپکے سے نکال کر قدرت اللہ شہاب کے ہاتھ میں دے دیے اور روتے ہوئے کان میں رازداری سے کہا کہ "یہ رکھ لو، مجھے واپس نہ دینا؛ یہ رشوت نہیں 'موکھ' ہے۔" دیہات میں موکھ اس رقم کو کہتے ہیں جو پیروں فقیروں کو دم کرنے یا دعا کروانے کے بعد نذرانے کے طور پر دی جاتی ہے۔ قدرت اللہ شہاب نے بڑھیا کا دل رکھنے کے لیے وہ پیسے لے لیے اور ساری زندگی خرچ نہیں کیے، بلکہ سنبھال کر رکھ دیے۔ یہ قدرت اللہ شہاب کی پہلی اور آخری رشوت تھی!
شہاب نامہ سے عہدے کی اوقات اور انسانی رویہ کے بارے میں یہ روئداد ملاحظہ فرمائیے:
قدرت اللہ شہاب صاحب جب ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر مقرر ہوئے، تو انہوں نے وہاں ایک بڑا ہی سبق آموز واقعہ دیکھا، جو انہوں نے اپنی کتاب میں یوں قلمبند کیا ہے:
"ہالینڈ کے شہر ہیگ میں قیام کے دوران مجھے ایک عجیب تجربہ ہوا۔ ایک روز میں اپنی موٹر کار میں سوار کہیں جا رہا تھا کہ ایک چوراہے پر سگنل سرخ ہو گیا۔ میری کار رک گئی۔ برابر میں ایک اور چھوٹی سی کار آ کر رکی جس کی حالت کوئی بہت زیادہ اچھی نہیں تھی۔ میں نے اتفاقاً برابر والی کار کے ڈرائیور کی طرف دیکھا۔ وہ ایک اوسط درجے کا بوڑھا آدمی تھا، جس نے عام سے کپڑے پہن رکھے تھے۔ مجھے دیکھ کر اس نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا تو میں نے بھی جواباً اپنا ہاتھ ہلا دیا۔ تھوڑی دیر بعد سگنل سبز ہوا اور ہم دونوں اپنی اپنی راہ پر چل دیے۔ اگلے روز جب میں ہالینڈ کے صدر سے ملاقات کے لیے ان کے محل گیا، تو وہاں رسمی ملاقات اور سفارتی آداب کے بعد جب گفتگو شروع ہوئی، تو مجھے یہ دیکھ کر شدید حیرت کا جھٹکا لگا کہ یہ وہی بزرگ تھے جو کل ایک معمولی سی کار میں میرے برابر کھڑے مجھے دیکھ کر مسکرا رہے تھے! یعنی وہ ملک کے سربراہ تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ میں پاکستان کا سفیر ہوں، تو انہوں نے مسکرا کر مجھ سے کہا: 'کل چوراہے پر ہم دونوں برابر کھڑے تھے، لیکن آج آپ میرے مہمان ہیں۔ چوراہے پر ہم دونوں صرف دو انسان تھے، اور یہاں ہم اپنے اپنے عہدوں کے نمائندے ہیں۔ عہدے آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن انسانیت اور سادگی ہمیشہ قائم رہتی ہے۔'"
تحریر کا مدعا و مقصد اور حاصلِ کلام یہ ہے کہ ہمیں مصنوعی نمود و نمائش کو چھوڑ کر حفظِ مراتب کے پیمانے میں رہتے ہوئے احترامِ انسانیت کے شعار کو خلوصِ نیت و دل سے اپنانا چاہیے۔
قدرت اللہ شہاب اس واقعے کے بعد لکھتے ہیں کہ ترقی یافتہ اور عظیم قومیں اپنے عہدوں اور پروٹوکول کے پیچھے نہیں چھپتیں؛ وہ اپنی سادگی اور خدمتِ انسانیت سے پہچانی جاتی ہیں۔ اصل شرافت اور بڑا پن یہ نہیں ہے کہ آپ کے پاس کتنا بڑا عہدہ یا گاڑی ہے جس پر آپ فخر محسوس کرتے ہیں، بلکہ اصل بڑا پن یہ ہے کہ آپ اپنے سے کم تر یا برابر والے انسان کے ساتھ کتنے عاجز اور مخلص ہیں۔ دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت اور فلاح و بہبود کے لیے ہمیں اپنے وقت سے کچھ وقت نکال کر حقوق العباد کے لیے کام کرنا چاہیے؛ یہ عمل اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتوں کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔
اس مادی، مصروفیت اور مہنگائی کے دور میں ہم عبدالستار ایدھی یا مدر ٹریسا کی طرح اپنی ساری زندگی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف تو نہیں کر سکتے، مگر حتی المقدور اس نیکی اور فلاح کے کام کا آغاز کر کے اپنے رب کی نعمتوں کے امیدوار و طلبگار تو بن سکتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment