غنی خان: ہمہ جہت شخصیت
صغیر جعفری
بعض شخصیات اپنی زندگی اور اپنے ہی دور میں لیجنڈ (Legend) کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ عبدالغنی خان بھی ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت تھے۔ بیسویں صدی کا یہ مجموعۂ صفات، عظیم دانش ور، شاعر، ادیب اور مصور، تحریکِ آزادی کے بطلِ جلیل قائد خان عبدالغفار خان کے ہاں 1914ء میں پیدا ہوا۔۔ اپنے نامور والد عبدالغفار کے قائم کردہ "آزاد ہائی سکول اتمان زئی" میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور مزید اعلیٰ تعلیم و تربیت کے لیے ہندوستان، یورپ اور امریکہ گئے۔ بعد ازاں خاردار سیاست میں قدم رکھا تو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
سندھ کے ممتاز روحانی پیشوا، عالم، محقق و مفکر پیر حسام الدین راشدی کے پورے پاکستان میں نامور ادباء و شعراء سے قریبی مراسم تھے۔ کراچی کی محافل میں غنی خان کا ذکر ادب و احترام سے یوں فرماتے تھے: "میں کسی سے کم ہی متاثر ہوتا ہوں، مگر غنی خان نے مجھے اتنا متاثر کیا ہے کہ میں خود پیر ہوتے ہوئے ایک پختون کا مرید ہو گیا ہوں!"
پیر صاحب کی بات میرے دل میں اتر گئی اور میں غنی خان سے ملنے کے لیے بے تاب ہو گیا۔ اس وقت میری پوسٹنگ کراچی میں تھی۔ پھر میرا تبادلہ لاہور ہو گیا۔ دن کے اوقات میں اپنے آفس میں کام کرتا اور شام کے وقت روزنامہ "نوائے وقت" میں فکاہیہ کالم "سرِ راہے" لکھنے میں وقار انبالوی صاحب کی معاونت کرتا تھا۔
غنی خان صاحب سے انٹرویو کے بہانے ملاقات کے لیے وقار انبالوی صاحب کو آمادہ کرتا رہا، تو انہوں نے کمالِ شفقت سے مجید نظامی صاحب سے خان صاحب کا انٹرویو لینے کی اجازت دلا دی۔ غنی خان صاحب سے ملاقات کے لیے اپنے چچا سید ضمیر جعفری (مشہور شاعر و مزاح نگار) کی وساطت سے میں نے وقت لے لیا تھا، جن کی غنی خان صاحب سے اچھی دوستی تھی۔
میں لاہور سے عوام ایکسپریس سے پشاور پہنچ گیا۔ مجھے لینے کے لیے پار ہوتی مردان سے کھاد ڈیلر "فضل شاہ فقیر شاہ اینڈ سنز" کے فضل شاہ کا بیٹا کار لے کر آیا ہوا تھا، چنانچہ ہم دونوں چارسدہ میں غنی خان صاحب کے گھر "ناڑی" پہنچ گئے۔ غنی خان صاحب کا گھر پختون روایت کے مطابق ایک قلعے کی طرح تھا۔ پھاٹک پر اسلحہ سے لیس پہرے دار نے ہمیں سلام کیا اور ہماری کار کا دروازہ کھول کر اندر لے گیا۔
غنی خان کا گھر دنیا سے نرالا تھا۔ برآمدے میں بھی پلنگ اور صوفے اس طرح لگے ہوئے تھے جیسے ڈرائنگ روم میں لگے ہوتے ہیں۔ برآمدے کا دھلا ہوا فرش آئینے کی طرح چمک رہا تھا۔ برآمدے سے ہوتے ہوئے ہم ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے۔ ایسا ڈرائنگ روم میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وسط ایشیا کے بڑے محلوں کی طرح سجا ہوا تھا؛ درمیان میں بڑا آتش دان اور دیواروں میں چھوٹے آتش دان تھے، چاروں طرف گاؤ تکیے سجے ہوئے تھے۔ ڈرائنگ روم کی دیواروں پر گوتم بدھ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصاویر آویزاں تھیں اور میزوں پر غنی خان کے ہاتھوں بنی ہوئی پینٹنگز، اور درمیان میں ایک بے انتہا خوبصورت خاتون کی تصویر سجی ہوئی تھی۔ بلا مبالغہ میں نے آج تک کسی بھی خاتون کی ایسی خوبصورت تصویر نہیں دیکھی تھی۔
غنی خان وہیل چیئر پر ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تو میں انہیں دیکھتا رہ گیا۔ سرخ و سفید رنگ، نیلی بلوری روشن آنکھیں، کشادہ پیشانی، چہرے پر تبسم! ہم صوفوں سے اٹھ کر خان صاحب سے ملنے کے لیے آگے بڑھے تو انہوں نے مصافحہ کرتے ہوئے گرم جوشی سے میرے دونوں ہاتھ دبا لیے، اور پوچھا کہ "ضمیر جعفری صاحب کیسے ہیں؟" تو میں نے انہیں بتایا کہ "جی الحمد للہ، بالکل ٹھیک ہیں۔"
دعا سلام کے بعد فرمانے لگے: "کھانا پہلے کھا لیتے ہیں، باتیں تو بعد میں ہوتی رہیں گی۔"
ساتھ والے ڈائننگ روم کی میزوں پر افغانی پلاؤ، نمکین روش، کباب، روغنی نان اور تندور کی لمبی خستہ روٹیاں سجی ہوئی تھیں، اور میٹھے میں کھوئے والی کھیر تھی۔ ان کھانوں کی مسحور کن خوشبوؤں سے کمرہ مہک اٹھا تھا۔ خوب سیر ہو کر کھانا کھایا جس سے سارے سفر کی تھکن دور ہو گئی۔ کھانے کے بعد پھر ڈرائنگ روم میں آ کر بیٹھ گئے، تھوڑی دیر میں پشاوری قہوہ آ گیا۔
انٹرویو کے لیے سوالات میں نے وقار انبالوی کی مشاورت سے پہلے ہی ترتیب دے لیے تھے۔ خان صاحب کی اجازت سے سوالات و جوابات کا سلسلہ شروع ہوا۔
میں نے پہلا سوال پوچھا کہ "کچھ اپنے بچپن کے بارے میں بتائیں؟" تو رک کر بولے: "میری پیدائش 1914ء میں ہشت نگر کے گاؤں اتمان زئی میں ہوئی تھی۔ میں اپنے والدین کی پہلی اولاد ہوں، اس لیے لاڈ پیار کا مرکز تھا۔ کہتے ہیں کہ میں بچپن میں بہت خوبصورت تھا..." تو میں نے گرہ لگائی: "ماشاء اللہ! خوبصورت تو آپ اب بھی ہیں۔" اس کے جواب میں کہنے لگے: "اب وہ بات کہاں...؟"
پھر سلسلہ وہیں سے شروع کیا کہ: "میرے ایک کان میں سونے کی بالی پہنا دی گئی، گلے میں سونے کا ہار پہنایا گیا جسے پشتو میں 'اوگے' کہتے ہیں، سر پر طلائی ٹوپی جس میں طلائی پونڈ ٹانکے ہوئے تھے، اور نظرِ بد سے بچنے کے لیے گلے میں کئی تعویذ ڈالے گئے تھے۔" یہ بتاتے ہوئے خان صاحب کھل کھلا کر ہنس دیے! "مجھے اپنی ماں سے بے حد محبت تھی، میرے بعد ولی خان اور میری ایک بہن پیدا ہوئی۔ مگر میری ماں کو مجھ سے زیادہ محبت تھی اور پھر ایک روز میری ماں اپنی بے پایاں محبت مجھ پر نچھاور کر گئی۔ جب میں پانچ سال کا ہوا تو اس وقت ہندوستان میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی۔ ہر روز سینکڑوں لوگ مرنے لگے۔ یہ وبا ہمارے گاؤں میں بھی پہنچ گئی، مجھ پر بھی اس کا حملہ ہوا اور میں بیمار پڑ گیا۔ علاج کے باوجود میری صحت گرتی چلی گئی، یہ میری شفیق ماں سے دیکھا نہ گیا۔ مغرب کی نماز کا وقت تھا، میری ماں نے میری چارپائی کے ارد گرد پھیرے (یعنی چکر) لگانے شروع کر دیے، پھر جائے نماز پر گڑگڑا کے دعا مانگی: 'یا اللہ! میرے غنی کو شفا دے دے اور اس کے بدلے میں مجھے بیمار کر دے۔' اللہ کی قدرت کہ دوسرے دن میں ٹھیک ہو گیا اور میری پیاری ماں بستر پر پڑ گئی! تین دن کے بعد میری ماں نے اپنی جان، جانِ آفرین کو پیش کر دی۔" یہ کہنے کے بعد غنی خان کی آواز شدتِ غم سے بھرا گئی اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ آنسوؤں میں ڈوبی ہوئی آواز میں بتانے لگے کہ: "یہ صدمہ میرے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔"
"میں نے اپنی تعلیم کا آغاز اپنے بابا یعنی باچا خان کے قائم کردہ آزاد ہائی سکول سے کیا۔ اس سکول میں کوئی خاص تعلیمی نصاب نہیں تھا، البتہ عسکری تربیت دی جاتی تھی۔ اس وقت ہمارے علاقے میں حصولِ تعلیم کا اتنا رواج نہیں تھا، دینی مدارس میں دینی تعلیم کا زور تھا۔ میرے بابا باچا خان کے آزاد سکول میں زیادہ غریب بچے داخل تھے، مجھے میرے والد نے انہی بچوں کے ساتھ بٹھا کر تعلیم کے ساتھ میری تربیت بھی کی۔ یہاں میٹرک کے بعد بابا نے تعلیم کے لیے لندن بھیجا۔ میں سمندری جہاز سے لندن پہنچا اور وہاں ایک پادری کے گھر رہائش رکھی جو بابا کے واقف کار تھے۔ میں لندن میں اڑھائی سال رہا..."
بابا مجھے مذہبی سکالر بنانا چاہتے تھے، مجھے لندن میں ایک پادری کے پاس بھیجا، وہ اڑھائی سال تک مجھے اپنا مذہبی لیکچر پلا کر اپنے راستے پر لانے کی کوششیں کرتے رہے۔ مگر مجھ پر ان کی تبلیغ کا کوئی اثر نہ ہوا!
میں نے مروجہ دینی تعلیمی اداروں سے تفسیرِ قرآن، احادیث، احسن المآثر اور بلوغ المرام، عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ مجھے عربی زبان سمجھنے اور بولنے پر عبور حاصل تھا۔ ایک مرتبہ میرے سکول میں دیوبند سے ایک عالمِ دین آئے... "یہ تو میرا بیٹا غنی ہے۔"
بابا نے جب پشتو رسالہ "پشتون" نکالا تو مجھے اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع ملا۔ رسالہ "پشتون" میں فکاہیہ کالم "گڈے وڈے" لکھنے کی سعادت مجھے نصیب ہوئی۔ میں نے خود کو پوشیدہ رکھنے کے لیے "لیوئے فلسفی" کا نام اختیار کیا۔ اس فکاہیہ کالم کے ذریعے نہ صرف میں نے حکومتِ وقت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ معاشرے پر بھی زور دار وار کیے۔
خدائی خدمتگار تحریک پر حکومتِ وقت نے بے تحاشا ظلم و تشدد شروع کر دیا، چنانچہ میں نے خدائی خدمتگاروں کی مدد کے لیے ایک تنظیم بنائی جس کا نام "زلمے پشتون" رکھا۔ زلمے پشتون تحریک حکومت کے خلاف اینٹ کا جواب پتھر سے دیتی، مگر بابا مجھے ہمیشہ عدم تشدد کی تلقین کرتے تھے۔
کچھ عرصے کے بعد میں بابا کے حکم پر شوگر ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے کے لیے امریکہ بحری جہاز کے ذریعے چلا گیا۔ ان دنوں امریکہ میں صرف اسی طالب علم کو آنے کی اجازت تھی جسے یونیورسٹی کی طرف سے نامزد کیا گیا ہو۔ میرے پاس تو میٹرک کا سرٹیفکیٹ تھا، میرے نامکمل کاغذات کی وجہ سے مجھے جہاز پر ہی روک دیا گیا اور مجھے نظر بند کر دیا۔ خوش قسمتی سے شاہ ولی خان امریکہ میں افغانستان کا سفیر تھا، میں اسے کسی طرح اپنا پیغام پہنچانے میں کامیاب ہو گیا تو اس کی سفارش پر مجھے پانچ دن بعد امریکہ میں آنے کی اجازت مل گئی۔ قید کے دوران میرے سگریٹ ختم ہو گئے اور مجھے نظر بندی کی وجہ سے جہاز سے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ میں پریشان ہو کر ڈیک پر کھڑا تھا کہ نیچے سے ایک لمبے سے جوان نے آواز دی کہ "پشتون ہو؟" تو میں نے کہا کہ "ہاں، میں باچا خان کا بیٹا غنی خان ہوں۔" تو اس نے کہا: "نیچے آؤ۔" میں نے اسے ساری صورتحال بتائی کہ میں نیچے نہیں آ سکتا۔ اس نے کہا کہ کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتاؤ، میں نے اسے سگریٹ لانے کا کہا تو اس نے سگریٹ کی اعلیٰ کوالٹی کا ایک ڈنڈا اور لائٹر لا کر دیا۔ وہ شاہزیب خان تھا، امریکہ میں پشتونوں کا آرگنائزر تھا!
میں ابھی امریکہ میں فنی تربیت حاصل کر رہا تھا کہ انگریزوں نے بابا کو گرفتار کر لیا، تو گھر سے خرچہ آنا بند ہو گیا اور زندگی بڑی مشکل ہو گئی۔ کسی طرح واپسی کے پیسے کا انتظام کر کے واپس اپنے وطن آ گیا۔ پھر الہ آباد میں جواہر لال نہرو کے ہاں مقیم رہا۔
1933ء میں الہ آباد سے واپس آ کر تخت بائی شوگر ملز میں ملازمت اختیار کر لی۔ جب بابا کو انگریزوں نے دوبارہ گرفتار کیا تو انہوں نے مجھے ہدایت کی کہ ملازمت چھوڑ کر گاؤں میں زمینوں کی دیکھ بھال اور گھر کی حفاظت کروں، چنانچہ میں گھر واپس آ گیا اور وقتی طور پر سیاست میں حصہ لینا چھوڑ دیا۔ مگر حکومتِ وقت مجھے بخشنے کو تیار نہیں تھی، چنانچہ 1948ء میں مجھے گرفتار کر کے 1954ء تک قید میں رکھا۔
سردار عبدالرشید خان سرحد کے وزیرِ اعلیٰ بنے تو انہوں نے مجھے قید سے رہائی دلائی۔ اب میں نے سیاسی سرگرمیوں کی بجائے شعر و شاعری اور فنونِ لطیفہ کی طرف توجہ مبذول کر لی۔
میں ان کی یادداشت پر حیران رہ گیا کہ کس طرح زندگی کا ایک ایک لمحہ انہیں یاد تھا۔ میں نے ان سے عمر پوچھی تو مسکرا کے کہنے لگے: "کچھ عرصہ پہلے مجھ سے میرے دوست نے عمر پوچھی تو میں نے کہا کہ 'ساٹھ سال'۔ پاس ہی میرے چھوٹے بھائی ولی خان بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: 'برادرِ اکبر! ستر سال کا تو میں ہو گیا ہوں!' تو میں نے کہا کہ 'پھر میں بہتر سال کا ہوں!'۔" ہنس کے کہنے لگے: "ویسے اب میری عمر بیاسی سال ہے۔"
ایک سوال میرے ذہن میں گردش کر رہا ہے: آپ نے ساری عمر انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی مگر شادی ایک انگریز عورت سے کی؟ ছت کی طرف دیکھتے ہوئے بولے: "میری بیوی انگریز نہیں، پارسی تھی۔ پارسی واقعی بہت خوبصورت ہوتے ہیں۔ بمبئی میں ہماری ملاقات ہوئی اور ہم نے شادی کر لی۔ ڈرائنگ روم میں رکھی ہوئی یہ تصویر میری بیوی کی ہے۔ میری بیوی کی قریبی رشتے داری قائدِ اعظم کی بیوی سے تھی، وہ بھی پارسی تھیں۔ پارسی زرتشت ہوتے ہیں اور آگ کو متبرک سمجھتے ہوئے اپنے گھروں اور عبادت گاہوں میں آگ روشن رکھتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہے کہ ہمارے گھر ڈرائنگ روم، ڈائننگ روم اور سونے کے کمروں میں آتش دان ہیں جو میری بیوی نے ڈیزائن کر کے بنوائے تھے۔ میری بیوی میرے ساتھ نکاح کے بعد مسلمان ہو گئی تھی۔ میری ایک ہی شادی ہے جس سے میری دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا؛ بڑی بیٹی کی شادی میں نے اپنے خاندان میں کی مگر اس کی شادی ناکام ہو گئی، وہ سب کچھ چھوڑ کر اپنی نانی کے پاس بمبئی چلی گئی۔ دوسری بیٹی کینیڈا چلی گئی اور وہیں اس نے شادی کر لی، کچھ عرصے کے بعد ہمیں ملنے آئی تو اس کا انگریز خاوند ساتھ آیا۔ میں نے اپنی بیٹی سے بظاہر غصے میں کہا کہ 'تم نے میرے دشمن سے شادی کی ہے، میں اسے گولی مار دوں گا!' میری بیٹی نے پریشان ہو کر کہا: 'نا بابا نا! اسے گولی نہ مارنا، یہ میرا بہت زیادہ خیال رکھتا ہے۔' میں نے تو اپنے انگریز داماد کو گولی نہیں ماری، مگر میرے اکلوتے بیٹے کو گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ میری والدہ کی وفات کے بعد یہ سانحہ میرے لیے انتہائی اذیت و افسوس والا تھا۔"
میں نے افسردہ ماحول دیکھ کر موضوع بدل کر غنی خان صاحب سے پوچھا کہ: "کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پشتو کا بڑا شاعر خوشحال خان ہے اور کچھ کہتے ہیں کہ رحمان بابا بڑا شاعر ہے، آپ کیا کہتے ہیں؟" تو بڑی سنجیدگی سے جواب دیا: "کوئی خاص فرق نہیں، دونوں ایک جیسے ہیں... میں تو خود اپنے آپ کو ہی پشتو کا بڑا شاعر مانتا ہوں!"
مجھے غنی خان کا یہ استدلال ایک راجپوت کے بارے میں دوسرے راجپوت کے اس تجزیے جیسا لگا جس سے پوچھا گیا کہ: "سب سے اچھا اور اصلی خاندانی راجپوت کون ہے؟" تو اس راجپوت نے کہا کہ: "اصلی راجپوت وہ ہے جو اپنے آپ کے سوا کسی دوسرے کو اصل راجپوت نہ مانے!"
شاعری کی بات چلی تو میں نے ان سے پوچھا کہ "آپ نے پہلا شعر کب کہا؟ اور کس سے اصلاح لی؟"
تو بتانے لگے کہ: "میں نے پشتو میں پہلا شعر زمانۂ طالب علمی میں کہا تھا جب میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ عموماً طرحی مشاعرے ہوا کرتے تھے، میرے پہلے مشاعرے کا مصرعہ کچھ یوں تھا: 'عمر کہ ذلی چرے پہ خیل وطن قربان شی' میں نے اس پر چند شعر گھڑے اور مشاعرے میں سنائے تو خوب داد ملی۔ میں نے کسی شاعر سے اصلاح نہیں لی۔"
میں نے غنی خان صاحب سے پوچھا کہ: "ان کے پہلے مجموعۂ کلام 'د پنجرے چخار' کا لب و لہجہ بعد کے مجموعوں سے مختلف ہے، ایسا کیوں ہے؟"
"میرا پہلا کلام 'پنجرے کی فریاد' دورانِ اسیری کا کلام ہے، یہ قومی تحریکوں کے وقت کی شاعری ہے۔ ادب پر ہمیشہ قومی تحریک کی گرفت رہی ہے، جب مجھ پر ابتلا کا دور ختم ہوا تب میری شاعری کا لب و لہجہ بھی بدل گیا۔"
ایک سوال میرے ذہن میں اچانک آیا تو میں نے غنی خان صاحب سے پوچھا: "آپ زندگی میں کسی ادبی شخصیت سے متاثر ہوئے ہیں؟"
فرمانے لگے: "جب میں امریکہ سے واپس آیا تو بزرگوں کے کہنے پر میں اس وقت متحدہ ہندوستان میں شانتی نیکیتن چلا گیا، وہاں میں ٹیگور سے ملا۔ وہ دن میں کبھی بھی نہیں بھول سکتا۔ ٹیگور کو دیکھا تو دیکھتا رہ گیا؛ سفید داڑھی، انتہائی نفیس لباس زیبِ تن کیا ہوا، جب وہ بولتے تو جیسے وقت تھم گیا ہو۔ ان کی شخصیت نہایت شاندار اور پروقار تھی۔ نفیس و نستعلیق ذوق کے حامل، میں ان کی شخصیت سے انتہائی متاثر تھا۔ شانتی نیکیتن میں اعلیٰ ڈگریوں والے استاد معمولی تنخواہ پر پڑھاتے تھے، کلاس روم نہیں تھے، استاد اور شاگرد دونوں درختوں کے نیچے بیٹھتے تھے۔ ٹیگور کی شاعری مزاحمتی شاعری تھی۔"
ادبی ذوق کی بات چلی تو میں نے ان سے پوچھا کہ: "آپ نے کئی کتب لکھیں مثلاً د پنجرے چخار (پنجرے کی فریاد)، غنی پلوشے (غنی کی کرنیں)، پانوس (فانوس)، کلیاتِ غنی، مگر پٹھان (Pathan) کی حیثیت جدا ہے، اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟"
غنی خان زیرِ لب مسکراتے ہوئے بولے: "گو کہ یہ کتاب انگریزی زبان میں ہے مگر اس میں میں نے اپنا ما فی الضمیر اچھی طرح بیان کیا ہے۔ میری اس کتاب میں پٹھانوں کی تاریخ، تہذیب و تمدن، ثقافت اور ادب کے موضوعات پر بھرپور طریقے سے لکھا ہے، اس میں میری انگریزی نظمیں اور افسانے بھی شامل ہیں۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ 1958ء میں یونیورسٹی ایجنسی کے زیرِ اہتمام چھپی تھی، دوسری مرتبہ 1991ء میں پشتو ادبی سوسائٹی اسلام آباد نے شائع کی تھی۔"
میں نے عرض کیا: "خان صاحب! آپ کی یہ کتاب بلا مبالغہ کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے۔" تو خان صاحب مسکرا دیے!
میں نے انٹرویو سمیٹتے ہوئے عرض کیا کہ: "ماشاء اللہ! آپ برِصغیر کے ایک اونچے سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، یہ ادب، خاص کر پشتو ادب کی طرف کیسے آنا ہوا؟"
آپ نے ایک وقفے کے بعد کہنا شروع کیا: "بیشک، میرا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے ضرور ہے مگر قدرت نے مجھے شاعرانہ وصف ودیعت کیا تھا، اس لیے ادب میں قومی شاعری کو اپنا مقصد بنایا۔"
اختتامی سوالات میں میرا سوال یہ ہے کہ: "آپ نے مصوری اور مجسمہ سازی میں بڑا مقام حاصل کیا۔ سیاست اور شاعری کے بعد اس میدان میں اترنے کا کیا سبب ہے؟"
آپ نے فرمایا: "جی ہاں! میں نے مصوری اور مجسمہ سازی سے بھی شغل کیا ہے۔ دراصل دونوں کا شاعری سے گہرا تعلق ہے، میں اپنے ایکسپریشن کا اظہار اس صنف میں کرنا چاہتا تھا تو اس میں میں نے طبع آزمائی کی ہے۔"
"آپ کو اپنی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت نے کوئی اعزاز دیا ہے؟" یہ میرا ان سے استفسار تھا...؟
جواب میں فرمایا: "آپ کو تو علم ہے کہ زیادہ تر ان لوگوں کو حکومتی ایوارڈ ملتے ہیں جو خوشامدی ہوں۔ میں تو سیدھا اسٹریٹ فارورڈ (Straightforward) پختون ہوں، اس لیے بس اپنے تخلیقی کام میں بغیر کسی توقع کے مگن رہتا ہوں۔ مرحوم ضیاء الحق نے مجھے 'ستارۂ امتیاز' سے نوازا تھا۔"
مختصر سے آخری تین سوال:
زندگی کی سب سے بڑی خواہش...؟ "اب تو چل چلاؤ کا دور ہے، زندگی کے آخری ایام اپنے خاندان کے ساتھ رہتا ہوں تو خوش رہتا ہوں۔"
زندگی میں آپ کو کس بات سے نفرت تھی...؟ "جھوٹ، منافقت اور حق تلفی معاشرے کے بدترین ناسور ہیں۔"
ادیبوں اور شاعروں کے لیے کوئی پیغام...؟ "صلہ کی توقع نہ رکھتے ہوئے دیانت داری اور محنت سے اپنے کام اور وطن سے محبت کے ساتھ قوم کی بے لوث خدمت— یہی میرا پیغامِ محبت ہے! 💘"
No comments:
Post a Comment