Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Friday, July 17, 2026

سورۃ الکہف کی حکیمانہ حقانیت اور دجالی فتنوں سے بچاؤ- ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

 سورۃ الکہف کی حکیمانہ حقانیت

گہرے نیلے اور سیاہ پس منظر میں ایک خوبصورت لکڑی کے رحل پر کھلی ہوئی قرآنی مقدس کتاب، جس پر آسمانی نور کی کرنیں پڑ رہی ہیں۔ اوپر سنہری عربی خطاطی میں لکھا ہے: "سورۃ الکہف کی حکیمانہ حقانیت اور دجالی فتنوں سے بچاؤ"
 صغیرجعفری

الحمدللہ طفل مکتب ہوتے ہوئے مجھے عربی زبان سمجھنے کی صلاحیت اللہ تعالٰی کی عطا کردہ نعمت اور اکرام ہے۔ میں نے سورہ کہف کی حکمت کو سمجھنے کے لئے کافی وقت لگایا اور مختلف تفاسیر کا مطالعہ کیا، جن میں ہر مکتبہ فکر کے مفسرین کرام کی تفاسیر—جو عربی، فارسی اور اردو زبانوں میں ہیں—ان سے استفادہ و اکتساب فیض کیا۔ عام طور پر ہم اس سورۃ مبارکہ کو صرف غار والوں کا واقعہ سمجھتے ہیں، مگر اصل مدعا جو ہے اسے کما حقہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔

اس سورۃ کا مقصود و لب لباب یا سینٹرل آئیڈیا یہ ہے کہ اللہ اس دنیا میں لوگوں کو آٹھ طرح کے حالات سے آزماتے ہیں: عزت، ذلت، صحت، بیماری، نفع، نقصان، خوشی، غمی۔ ہر بندہ ہر وقت ان میں سے کسی ایک حال میں ہوتا ہے۔ ان آٹھ کو اگر تقسیم کریں تو دو دو حالات میں تقسیم ہوں گے، یا تو اچھے حالات ہوں گے یا برے۔ یعنی یا تو بندہ عزت میں ہوگا یا ذلت میں، یا صحت ہوگی یا بیماری۔ تو اللہ ان دو حالات میں آزماتے ہیں—یا تو اچھے یا برے—کہ یہ بندہ اچھے حالات میں شکر کرتا ہے یا نہیں اور برے حالات میں صبر کرتا ہے یا نہیں۔ تو دو پیپر بنے: ایک شکر کا پیپر اور دوسرا صبر کا پیپر۔ اب اگر بندے نے اچھے حالات میں شکر کیا تو اس نے پیپر کو پاس کیا اور اگر ناشکری کی تو اس پیپر میں فیل ہو گیا، اور اگر صبر کے پیپر میں صبر کیا تو پاس ہوا اور بے صبری کی تو فیل ہو گیا۔ یہ زندگی دارالامتحان ہے جہاں ہم نے دو پیپر دینے ہیں؛ ایک صبر کا، دوسرا شکر کا۔

اللہ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کو بھی ان دو پیپرز میں آزمایا۔ پہلا شکر کا تھا جو کہ جنت کی نعمتیں تھیں، دوسرا درخت کا پھل تھا جو کھانے سے منع کیا گیا تھا، یہ صبر کا پیپر تھا جس میں شیطان نے ان کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ سورہ کہف میں پانچ واقعات ہیں۔ حضرت آدم علیہ اسلام کا واقعہ؛ یہ قلب ہے اس سورہ کا۔ آیتیں تھوڑی ہیں اس لیے پڑھنے والوں کی توجہ اس طرف کم جاتی ہے۔ آدم علیہ السلام کے واقعہ سے پہلے دو واقعات عام الناس کے ہیں، جن میں سے ایک اصحاب کہف تھے؛ یہ عام نوجوان تھے اور انہوں نے صبر کا امتحان دیا اور اس پیپر میں پاس ہو کر مقبول بندوں میں شامل ہو گئے۔ دوسرا واقعہ دو باغوں (جنتین) والے شخص کا تھا؛ یہ بھی عام شخص تھا جس کو مال و دولت دی گئی تھی، اس کا پیپر شکر کا تھا کہ تم نے نعمتوں پر شکر کرنا ہے، تو یہ فیل ہو گیا۔ اس کے بعد آدم علیہ السلام کا واقعہ ہے اور پھر دو واقعات ہیں خواص کے؛ ایک موسیٰ علیہ السلام کا کہ ان سے بھی صبر کا پیپر (امتحان) لیا گیا، اور سکندر ذوالقرنین کا شکر کا پیپر تھا اور انہوں نے غرور و تکبر نہیں کیا اور شکر کا پیپر پاس کیا۔ اسی طرح اللہ اولادِ آدم سے بھی صبر اور شکر کے پیپر لیتے ہیں۔

کچھ نکات:

※ اللہ نے اس سورۃ کی شروعات میں اپنی الوہیت کا ذکر کیا اور ختم اپنی ربوبیت کے تذکرے پر کیا۔ 

※ شروع سورۃ میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عبدیت کا تذکرہ کیا اور اختتام ان کی نبوت، رسالت و بشریت پر کیا۔ 

※ انسان کے لئے دنیا میں سب سے بڑی بلندی و عروج عبدیت ہے۔ اسی لئے انسان ذکر کرتا ہے تاکہ اللہ کی محبت اس کے دل میں آ جائے۔ اب صرف محبت کا آ جانا مقصود نہیں ہے؛ جب محبت آ جائے تو پھر محب ہمیشہ محبوب کو راضی کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ اور رضا کیا ہے؟ اللہ کی تقدیر پر راضی رہنا؛ اگر اللہ اچھے حالات بھیجے تو شکر کرنا اور برے حالات میں صبر کرنا رضائے الہی ہے۔ جب بندے کو یہ مقامِ رضا حاصل ہو جائے تو پھر اس کو مقامِ عبدیت حاصل ہو جاتا ہے۔ 

※ عبد کا لفظ اللہ نے اپنے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لئے استعمال کیا ہے۔ مفسرین کی نظر میں عبد وہ ہوتا ہے جو صرف اپنے رب کی عبادت کرے، جس کو اپنے آقا کے سوا کچھ نظر نہ آئے۔ بعض کے نزدیک عبد وہ ہوتا ہے جو اپنے آقا سے کسی بات میں اختلاف نہیں کرتا، ہر حال میں راضی رہتا ہے، شکوہ نہیں کرتا۔

چونکہ اس سورہ کو دجال سے حفاظت کے لیے پڑھنے کا ذکر احادیث میں آتا ہے، اس لئے ان آیات کو سمجھ کر ان پر عمل کرتے ہوئے دجالی فتنے سے بچا جا سکتا ہے۔ پہلے دجال کے معنی کو سمجھ لیجئے کہ یہ دجل سے نکلا ہے۔ دجل فریب اور ملمع سازی کرنے کو کہتے ہیں، جس طرح تانبے پر سونے کا پانی چڑھا دیا جائے تو وہ اوپر سے کچھ ہوگا اور اندر سے کچھ اور۔ اسی طرح دجال بھی اندر سے کچھ اور ہوگا اور باہر سے کچھ اور۔ آج کے دور میں اسی طرح دجالی تہذیب ہے کہ اوپر سے تو خوش نما نظر آتی ہے مگر اندر سے انتہائی بد صورت ہے۔ آج کے دور میں ایمان اور مادیت کی ایک جنگ چل رہی ہے۔ اب اس دور میں اگر اپنا ایمان بچانا ہے تو ہمیں بھی کہف میں گھسنا ہوگا۔ جی ہاں، کہف میں۔۔۔ آج کے زمانے میں جو کہف ہیں، اگر انسان ان میں داخل ہو جائے تو وہ دجال کے فتنے سے بچ سکتا ہے۔

قرآن مجید: جو قرآنِ حکیم کے ساتھ جڑ جاتا ہے، اسے پڑھنا، سیکھنا، سمجھنا شروع کرنے کے بعد سنتِ مطہرہ پر عمل کرتا ہے، تو وہ بھی اپنا دین بچا لیتا ہے اور قرآن اس کے لئے کہف بن جاتا ہے۔

مکہ اور مدینہ: احادیث کے مطابق جو بھی ان دو مقدس شہروں میں داخل ہو جائے گا، وہ بھی دجال سے محفوظ رہے گا۔ ان شہروں میں داخل ہونے سے انسان اپنے ایمان کو بچا لیتا ہے اور دجال سے محفوظ ہو جاتا ہے۔

اس سورہ کا ہر واقعہ ہمیں ایک نیا سبق سکھاتا ہے کہ کس طرح ہم نے خود کو دجال سے بچانا ہے۔ اصحاب کہف کے ایمان افروز واقعہ سے یہ سبق ملا ہے کہ ہمیں اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے کسی نہ کسی کہف میں پناہ لینی ہے تاکہ ہم اپنا ایمان بچا لیں اور دجال سے محفوظ رہیں۔ صاحبِ جنتین کے قصے سے یہ سبق ملا کہ اللہ نے جو مال دیا اس کو اپنی طرف منسوب نہ کرے، جیسا کہ اس باغ والے نے کیا اور پکڑ میں آ گیا اور اس نعمت سے محروم کر دیا گیا۔ حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے سے یہ سبق ملا کہ یہ دنیا ہمارے لئے صرف وقتی دار القامت ہے، ہمارا اصلی وطن جنت ہے۔ دنیا میں رہ کر دنیا کو اپنا اصلی وطن سمجھ لینا اور ساری محنتیں، کوششیں، ساری امیدیں امیدیں دنیا پر لگا دینا عقل مندی کی بات نہیں ہے۔ شیطان نے ہمیں جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اصلی وطن سے نکالا تھا اب یہاں بھی یہ ہمارا دشمن ہے اور ہم سے گناہ کرواتا ہےتاکہ دوبارہ جنت میں جانے کے قابل ہی نہ رہیں۔ اللہ شر سے بچائے اور ہمارے اصلی گھر جنت میں پہنچا دے۔ آمین۔

موسٰی علیہ السلام کے واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہم دنیا میں جتنا بھی علم حاصل کر لیں، دنیا میں کوئی نہ کوئی ہم سے بھی بڑھ کر جاننے والا ہے اور رہے گا۔ انسانی ذہن کبھی بھی اشیاء کی حقیقت کا احاطہ نہیں کر سکتا۔

جب ہم یہ سمجھیں گے کہ ہم عقلِ کل ہیں اور سب کچھ جانتے ہیں، تو پھر ہم دجالی فتنے میں پھنس جائیں گے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ بیان کر دیا تاکہ ہم لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ہمیں سب پتا ہے، بلکہ یہ کہیں کہ اللہ ہی حقیقتِ حال کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی علیم و خبیر ہیں۔ اسی لیے سورہ کہف انسان کو دجالی فتنے سے محفوظ رکھتی ہے، اس کی ذہن سازی کرتی ہے اور ایسا ذہن بناتی ہے کہ بندے کا ایمان محفوظ ہو جاتا ہے۔

حضرت ذوالقرنین کے واقعے سے یہ سبق ملا کہ حضرت ذوالقرنین جہاں گئے، وہاں ان کا کوئی دوست، رشتے دار یا کوئی جاننے والا نہیں تھا، یہاں تک کہ وہ ان لوگوں کی زبان تک نہیں جانتے تھے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے ان کی مدد کی کیونکہ وہ اللہ کی رضا کے لیے اللہ کے بندوں کو نفع پہنچاتے تھے۔ وہ ان سے کوئی پیسہ وغیرہ نہیں مانگتے تھے، بلکہ جب انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو اس کام کے لیے پیسے دیں گے تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ دوسرا یہ کہ وہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام و قانون نافذ کرتے تھے۔ جب ان کو اختیار دیا گیا کہ آپ اس قوم کے ساتھ جو سلوک چاہیں کریں (یعنی چاہیں تو سزا دیں یا اچھا سلوک کریں) تو انہوں نے اس قوم کو اللہ کی طرف بلایا اور اپنے اختیار کو اللہ کے قانون کے نفاذ میں استعمال کیا۔

سورہ کہف میں پہلے واقعات بیان کرنے کے بعد بندے کی ذہن سازی کی گئی اور اب آخری آیات میں اس ساری سورہ کا نچوڑ بیان کیا جا رہا ہے جو کہ بنیادی طور پر تین باتیں ہیں:

  1. دنیا پرستی کا نقصان: جو لوگ صرف دنیا ہی کو بنانے میں لگے رہتے ہیں، درحقیقت وہی لوگ خسارے میں ہیں۔ ہر وقت دنیا اور اس کی لذتوں کو پانے کی فکر میں رہنا دجالی فتنہ ہے، لہذا فقط دنیا ہی کی فکر میں نہ رہیں بلکہ آخرت کی بھی سوچیں اور اس کے لیے عمل کریں۔

  2. اللہ کی عظمت اور بے پایاں علم: اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کو بیان فرمایا کہ اگر تم اپنے رب کی تعریفوں کو لکھنے لگو اور سمندر سیاہی بن جائیں اور اس کی مدد کے لیے دوسرے سمندر بھی اس میں ڈال دیے جائیں، تب بھی تم اپنے رب کی تعریف کماحقہ بیان نہیں کر سکو گے۔

  3. دیدارِ الٰہی کا نسخہ: آخر میں بتایا کہ جو اپنے رب کا دیدار کرنا چاہے (جو کہ سب سے بڑی اور سب سے بڑھ کر نعمتِ عظمیٰ ہے)، اس کا طریقہ یہ بتایا کہ وہ شخص جو بھی کام کرے، صرف اللہ کریم اور نبی کریم ﷺ کی خوشنودی کے لیے، آپ ﷺ کی سنت کے مطابق کرے؛ اور جو ایسا کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اپنا دیدار عطا فرمائیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنا دیدار عطا فرمائیں۔

آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین و خاتم النبیین ﷺ۔

No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages