بے قدری
ڈاکٹر شاہد ایم شاہد
دنیا ایک ایسا گلشن ہے جس میں رنگ برنگے پھول، طرح طرح کی ثقافتیں، مختلف اقدار و روایات، تہذیب و تمدن کی الگ الگ سمتیں، بدلتے موسموں کا حسین امتزاج اور مختلف شعبہ جات اس حقیقت کے غماز ہیں کہ دنیا واقعی بڑی دلچسپ اور حیران کن ہے۔ ہر انسان ایک الگ مزاج، رویہ اور مقصد لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اس کی شخصیت سازی میں اندرونی اور بیرونی ماحول کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ انسان جس قسم کے ماحول میں آنکھ کھولتا ہے، وہی آب و ہوا اس کی فطرت کا حصہ بن جاتی ہے۔ پھر پورے معاشرے کی عمارت اور رسم و رواج اسی ماحول کے مطابق فروغ پاتے ہیں۔
انسان حقیقی اور غیر حقیقی دنیا میں رہتا ہے، البتہ اس حقیقت سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ جیسے جیسے دنیا میں آبادی بڑھتی گئی، اس کے مسائل میں اضافہ ہوتا گیا۔ آج دنیا میں غذائی قلت جیسے مسائل، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، ظلم و ستم کے واقعات، قتل و غارت کے قصے اور اغوا برائے تاوان جیسے واقعات ایک ایسی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں وسائل اور تقسیم کے درمیان ایک گہری دراڑ ہے۔ اس عجیب سی کشمکش میں ہر کوئی پشیمان ہے۔
بڑھتی ہوئی بے روزگاری، موسمی و سیاسی بڑھتا ہوا درجہ حرارت، زمین سے اٹھتی ہوئی محبت، وسائل کی کمی، عدم برداشت اور حقیقت پسندی سے دوری اس بات کی علامت بن چکی ہے کہ بے قدری کس قدر مہلک مرض ہے۔ جب اس کی شروعات ہوتی ہے تو جسم کے انگ انگ میں چیونٹیاں رینگنے کا احساس بڑھ جاتا ہے اور کسی حد تک اعصاب میں کپکپاہٹ بھی شروع ہو جاتی ہے۔ انسان کے جہاں جسمانی امراض میں اضافہ ہوا ہے، وہاں نفسیاتی عوارض بھی تیزی سے بڑھے ہیں۔ آج کا انسان جس تیزی سے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو رہا ہے، وہ اس کی جسمانی قوت سے کہیں زیادہ ناقابلِ برداشت ہیں۔
یہ ایک گمبھیر صورت حال ہے۔ عموماً ایسی کیفیات بے قدری کے بعد شروع ہوتی ہیں۔ عصرِ حاضر کی تازہ ترین صورت بے قدری کی لہر سے پیدا ہوئی ہے، جہاں انسان کے اندر احساسِ کمتری، بے دلی، بدامنی، بدلحاظی اور بد مزاجی جیسی کیفیات جنم لیتی ہیں۔ دنیا کی نفسیات کا مطالعہ ایک ایسے ماحول کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسان کے جسم و روح کے درمیان خوشی اور بوریت کا کتنا تناسب ہے؟
دنیا میں رہتے ہوئے ہر انسان کے اندر ایک موسم، ایک تہذیب، ایک روایت، ایک عزم اور ایک عہد برقرار ہے۔ جب اندرونی احساسات پر کوئی چیز اثر انداز ہوتی ہے تو وہ سر سے لے کر پاؤں تک ہلا دیتی ہے، سوچنے سمجھنے اور پرکھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اسی طرح سماج کے دوش پر بے قدری لہر بہ لہر بڑھ رہی ہے جو آہستہ آہستہ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ یہ ایک مہلک وبا کی طرح پھیل رہی ہے اور اس کے ہاتھوں ہر کوئی پریشان اور غم سے نڈھال ہے۔
کسی بھی شعبے کا نام اٹھا کر دیکھ لیں، ہر کوئی یہی ورد کر رہا ہے کہ اس شعبے میں نہ آؤ، کوئی اور راستہ اپناؤ۔ البتہ ہر راستے کے اپنے اتار چڑھاؤ ہیں جو سمت اور بے سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب لوگ ڈاکٹری اور انجینئرنگ کا چناؤ کرتے تھے اور اس مقصد کے لیے تعلیم و تربیت حاصل کرتے تھے، لیکن آج سب اس سے متنفر ہو گئے۔ کیونکہ جب لوگوں کے خواب چکنا چور ہوتے ہیں تو ان کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہِ تسمیہ بے قدری اور بے روزگاری ہے۔
لیکن انسان کی فطرت کے ساتھ یہ بھی عجیب سا معاملہ ہے کہ جب کوئی چیز اس کے پاس ہوتی ہے، وہ اسے مسلسل نظر انداز کرتا جاتا ہے؛ لیکن جب وہ چیز چھن جاتی ہے تو اس کے قلب و ذہن میں قدر کا موسم آ کر آباد ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر کسی نے باپ کی قدر پوچھنی ہو تو یتیم سے پوچھے، گھر کی بے گھر سے، نوکری کی بے روزگار سے، صحت کی بیمار سے اور پڑھے لکھے کی ان پڑھ سے۔
عموماً ہماری زندگی میں بے قدری اس وقت شروع ہوتی ہے جب ہمارے پاس کسی بھی چیز کی بہتات ہو جائے۔ پھر انسان احسان فراموش ہو کر ابلیس بن جاتا ہے۔ وہ خود کو ہوا میں اڑتا ہوا محسوس کرتا ہے، اسے ساری دنیا کیڑے مکوڑے لگنے لگتی ہے اور وہ خود کو سب سے زیادہ عاقل سمجھنے لگتا ہے۔
کسی بھی چیز کی بے قدری کرنے سے پہلے انسان کو سوچ لینا چاہیے کہ کل میں بھی بے قدر ہو سکتا ہوں، میرے جذبات اور احساسات بھی مجروح ہو سکتے ہیں، اور یہ وقت مجھ پر بھی آ سکتا ہے۔ میرے لیے یہی بہتر ہے کہ میں اس ساری صورت حال کو دیکھ کر اپنے اندر قدر کا ایک چراغ جلا لوں تاکہ وہ روشنی دور دور تک پھیل جائے۔
بے قدری, ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل, Hamari Digest Digital, اردو کالم, معاشرتی مضامین,
Urdu Literature, Psychological Urdu Articles
ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل اگست 2026ء شمارہ | 23 افسانے اور سحر انگیز سفرنامے
کیا آپ گھر بیٹھے دنیا بھر کی سیر کرنا چاہتے ہیں؟ ✈️🌍
ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل کے اگست 2026ء کے خاص شمارے میں لائے ہیں ہم نامور اور باصلاحیت ملکی و غیر ملکی مصنفین کے قلم سے نکلے ہوئے دلکش سفرنامے—جو آپ کو ملک و بیرونِ ملک کی حسین و جمیل وادیوں اور ان کے سحر انگیز قصوں کی سَیر کروائیں گے! 📖✨

.jpg)
No comments:
Post a Comment