Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Saturday, August 29, 2026

قرآن مجید اور سائنس | جدید سائنسی حقائق اور قرآنی تعلیمات | ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

 قرآن مجید اور سائنس

قرآن مجید اور سائنس کے موضوع پر تحریر، قرآن کریم اور سائنسی حقائق، از قلم صغیر جعفری، ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

از قلم: صغیر جعفری

قرآن مجید کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ: "اس کتاب میں کوئی شک نہیں، یہ متقی لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔" (سورۃ البقرہ)

بنیادی طور پر قرآن مجید انسانوں کے لیے زندگی کے ہر شعبے میں ہدایت و رہنمائی کا ایک مکمل راستہ (Guide Line) ہے۔ زندگی گزارنے کے آداب و قرینے، تہذیب و اخلاقیات، تاریخ، جغرافیائی معلومات، ادب و شاعری اور فقہی احکامات، غرضیکہ زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرما دی ہے۔ جدید سائنس اپنے مشاہدات و تجربات کے نتائج میں جو معلومات ہمیں آج دے رہی ہے، قرآن مجید نے یہی معلومات آج سے پندرہ سو سال پہلے ہمیں عنایت فرما دیں۔ چودہ سو سال پہلے، جب جدید سائنس کا کوئی وجود نہیں تھا اور عرب کے صحرائی ماحول میں کوئی اسکول یا کالج نہیں تھا—اس دورِ جہالت میں نبی کریم ﷺ نے قرآنِ پاک کی آیات کے ذریعے کائنات کی ایسی حقیقتیں بیان فرمائیں جنہیں آج کا جدید علم تسلیم کر رہا ہے۔

اجرامِ فلکی کا ایک مقررہ حساب:

«اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ» (سورۃ الرحمن: 05)

ترجمہ: ”سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں۔“ پھر اسی سورۃ مبارکہ میں تسخیرِ کائنات کا ذکر ہے کہ تم کششِ ثقل سے سلطان کے ذریعے نکل سکتے ہو۔ کششِ ثقل (Gravity) سے زور لگا کر باہر نکلنا راکٹ کے ذریعے ممکن ہوا، جسے قرآن مجید نے "سلطان" کہا ہے۔

سمندروں کے درمیان نادیدہ رکاوٹ:

«بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيٰنِ» (سورۃ الرحمن: 20)

ترجمہ: ”ان کے درمیان ایک برزخ (حدِ فاصل) ہے جس سے وہ آگے نہیں بڑھتے۔“

ستاروں اور سیاروں کی گردش:

جب دنیا ستاروں کو محض لٹکے ہوئے چراغ سمجھتی تھی، تب قرآن نے اعلان فرمایا:

«وَ كُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ» (سورۃ یٰسین: 40)

ترجمہ: ”اور سب کے سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے (گردش کر رہے) ہیں۔“

سورج کی مسلسل حرکت:

جب سورج کو ساکن تصور کیا جاتا تھا، تب قرآن نے یہ حقیقت واضح کی:

«وَ الشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا» (سورۃ یٰسین: 38)

ترجمہ: ”اور سورج اپنے مقرر کردہ راستے پر اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔“

کائنات کا مسلسل پھیلاؤ (Expanding Universe):

جب کائنات کو جامد اور آسمان کو محض ایک نیلی چھت کہا جاتا تھا، تب ربِ ذوالجلال نے فرمایا:

«وَ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ» (سورۃ الذاریات: 47)

ترجمہ: ”اور ہم اس (کائنات) کو وسعت دیتے جا رہے ہیں۔“

زندگی کا بنیادی عنصر: پانی:

نباتات اور حیوانی زندگی کی اصل کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

«وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَاۤءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ» (سورۃ الانبیاء: 30)

ترجمہ: ”اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا۔“

سبحان اللہ! یہ حقائق اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ قرآنِ کریم کسی انسان کی تخلیق نہیں بلکہ اس ذاتِ باری تعالیٰ کا کلام ہے جو تمام جہانوں کا خالق و مالک ہے۔

قرآن کریم فرقانِ حمید کو سوچ سمجھ کر پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی عبارت کے معانی اور مفاہیم پر غور و فکر کرنا، اور پھر ان معانی پر غور و فکر کے بعد عملی طور پر اپنی زندگی کے معمولات قرآن مجید کے احکامات کے مطابق سر انجام دینا ہی صراطِ مستقیم پر چلنا ہے۔ ناظرہ قرآن مجید پڑھنے کا ثواب تو ہم حاصل کر لیتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہے کہ: "تم قرآن مجید کی آیات پر تدبر اور غور و فکر کیوں نہیں کرتے؟" قرآنی تعلیمات پر صحیح معنوں میں عمل کرنے کے بعد ہی ہم زندگی کے ہر شعبے میں کامیاب و کامران ہو سکتے ہیں۔

مسجدِ نبوی مدینہ منورہ میں کراچی کی ایک یونیورسٹی کے پروفیسر صاحب آدھے گھنٹے سے قرآن پاک کی تلاوت فرما رہے تھے۔ پاکستانی حج ڈائریکٹر ان کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے پروفیسر صاحب کو انگریزی زبان میں لکھا ہوا ایک خط دیا اور کہا کہ مجھے اس کا مطلب سمجھا دیں۔ پروفیسر صاحب نے فوری ترجمہ کرنے کے بعد خط کا متن ڈائریکٹر حج کو سمجھا دیا۔ اس پر ڈائریکٹر حج نے ان سے درخواست کی کہ وہ آدھے گھنٹے سے جو آیاتِ قرآنی پڑھ رہے تھے، ان کا مطلب بھی مجھے سمجھا دیں۔ پروفیسر صاحب کو عربی زبان فقط پڑھنے کی حد تک آتی تھی؛ وہ ڈائریکٹر حج کے اس استفسار پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے کہ انہوں نے قرآن مجید کی جن آیاتِ مقدسہ کی تلاوت کی ہے، ان کے احکامات کا انہیں کچھ علم نہیں۔ وہ افسوس کے ساتھ گریہ زاری کرتے ہوئے کہنے لگے کہ میں نے زندگی بھر اس کی طرف توجہ ہی نہیں دی اور قرآنی تعلیمات کو سمجھنے سے قاصر رہا، جس کا مجھے سخت افسوس ہے۔

آئیں ہم سب قرآن مجید فرقانِ حمید کی تعلیمات کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا شروع کر دیں، وگرنہ ہمیں بھی پروفیسر صاحب کی طرح قرآنی احکامات کو نہ سمجھنے کا افسوس رہے گا۔



ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل اگست 2026ء شمارہ | 23 افسانے اور سحر انگیز سفرنامے

کیا آپ گھر بیٹھے دنیا بھر کی سیر کرنا چاہتے ہیں؟ ✈️🌍

ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل کے اگست 2026ء کے خاص شمارے میں لائے ہیں ہم نامور اور باصلاحیت ملکی و غیر ملکی مصنفین کے قلم سے نکلے ہوئے دلکش سفرنامے—جو آپ کو ملک و بیرونِ ملک کی حسین و جمیل وادیوں اور ان کے سحر انگیز قصوں کی سَیر کروائیں گے! 📖✨

مکمل اگست 2026ء شمارہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں👇👇👇

No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages