عقیدہ ختمِ نبوت اور آئینِ پاکستان: ۷ ستمبر کا تاریخی سفر
مصنفہ: اُلفت خان
۷ ستمبر — یہ دن کیوں یاد رکھا جاتا ہے؟
کچھ تاریخیں صرف کیلنڈر کا ایک ورق نہیں ہوتیں؛ وہ اپنے اندر ایک پورا عہد، ایک فیصلہ اور ایک تاریخی موڑ سمیٹے ہوتی ہیں۔ ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء بھی پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسی ہی تاریخ ہے، جسے ملک میں یومِ ختمِ نبوت کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس دن پاکستان کی پارلیمان میں ایک اہم آئینی مرحلہ طے ہوا، جس کا تعلق عقیدۂ ختمِ نبوت اور احمدی جماعت کی آئینی حیثیت سے تھا۔ اس معاملے پر طویل پارلیمانی کارروائی اور بحث کے بعد آئین میں دوسری ترمیم کا بل منظور کیا گیا۔ بعد ازاں صدرِ پاکستان نے ۱۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو اس کی منظوری دی اور یہ قانون ۲۱ ستمبر کو سرکاری گزٹ میں شائع ہوا۔
پس منظر کیا تھا؟
اسلامی عقیدے میں خاتم النبیین کا تصور بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلمان قرآنِ کریم کی سورۃ الاحزاب کی آیت ۴۰ اور رسولِ اکرم ﷺ کی احادیث کی بنیاد پر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔
چنانچہ پاکستان کے قیام کے بعد بھی احمدی جماعت کی مذہبی و آئینی حیثیت ایک اہم اور متنازع مسئلہ رہی۔ بالخصوص ۱۹۷۴ء میں اس مسئلے پر ملک میں شدید سیاسی اور مذہبی بحث ہوئی اور معاملہ پارلیمان کے سامنے پہنچا۔
پارلیمانی عمل کے نتیجے میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل ۲۶۰ میں ایک نئی شق شامل کی گئی، جس میں مسلمان کی آئینی تعریف کے ضمن میں ختمِ نبوت پر مطلق اور غیر مشروط ایمان کو بنیادی معیار قرار دیا گیا۔ اسی ترمیم میں آئین کے متعلقہ حصے میں قادیانی اور لاہوری گروہوں کا ذکر بھی شامل کیا گیا۔
پھر ۷ ستمبر ہی کیوں؟
یہاں ایک تاریخی نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔
عام طور پر ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو وہ تاریخ کہا جاتا ہے جس دن پارلیمان نے اس آئینی ترمیم کو منظور کیا، اسی نسبت سے پاکستان میں یہ دن یومِ ختمِ نبوت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
تاہم قانونی اعتبار سے مکمل کارروائی کے مراحل الگ الگ تاریخوں میں ہوئے:
۷ ستمبر کو پارلیمانی منظوری،
۱۷ ستمبر کو صدارتی منظوری،
اور ۲۱ ستمبر کو سرکاری گزٹ میں اشاعت۔
یعنی ۷ ستمبر کی اہمیت اس تاریخی پارلیمانی فیصلے سے وابستہ ہے۔
مگر ختمِ نبوت کا عقیدہ ۱۹۷۴ء کا بنایا ہوا نہیں
یہ بات بہت واضح رہنی چاہیے کہ ختمِ نبوت کا عقیدہ ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء سے وجود میں نہیں آیا۔
یہ عقیدہ قرآن و سنت میں پہلے ہی موجود تھا۔ ۱۹۷۴ء میں جو کچھ ہوا، وہ اس عقیدے کے بارے میں پاکستان کے آئینی و قانونی دائرے میں ایک فیصلہ تھا؛ عقیدے کی بنیاد اس سے کہیں پہلے قرآنِ کریم اور سنتِ رسول ﷺ میں موجود تھی۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ﴾
یعنی محمد ﷺ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔
اسی طرح احادیثِ نبوی ﷺ میں بھی آپ ﷺ کے بعد کسی نبی کے نہ آنے کی صراحت ملتی ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کے لیے ختمِ نبوت کا اصل ماخذ کوئی پارلیمانی قرارداد یا آئینی ترمیم نہیں، بلکہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ ہیں۔
۷ ستمبر ہمیں کیا یاد دلاتا ہے؟
۷ ستمبر محض ایک تاریخی تاریخ نہیں؛ یہ ہمیں یہ سمجھنے کا موقع بھی دیتا ہے کہ اسلامی عقائد کی بنیاد کہاں ہے اور ریاستی قانون کا دائرہ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔
عقیدہ دین سے آتا ہے، قانون ریاست بناتی ہے۔
۱۹۷۴ء کا فیصلہ پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک باب ہے، جبکہ ختمِ نبوت ایمان و عقیدۂ اسلام کا حصہ ہے۔
اس لیے اس دن کو یاد کرتے ہوئے تاریخ کو تاریخ کے طور پر، قانون کو قانون کے طور پر، اور عقیدے کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔
۷ ستمبر ہمیں ایک ایسے بنیادی اسلامی تصور کی طرف متوجہ کرتا ہے جس کی بنیاد صدیوں پہلے رکھی جا چکی تھی:
محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں،
آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے،
اور آپ ﷺ کی رسالت قیامت تک کے لیے ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ۷ ستمبر پاکستان میں یومِ ختمِ نبوت کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔

No comments:
Post a Comment