شاعری یا تک بندی؟صغیر جعفری
اردو زبان و ادب کے ماہرین و شائقین—بالخصوص صنفِ شاعری میں یدِ طولیٰ رکھنے والے اور اس سے گہرا لگاؤ رکھنے والے—اس وقت حیران و پریشان ہو جاتے ہیں، جب وہ بظاہر نامور شعرا کے کلام میں شدید فنی غلطیاں دیکھتے ہیں۔
موجودہ دور میں جہاں زندگی کے ہر شعبے میں ملاوٹ اور "دو نمبری" عروج پر ہے، وہیں اردو شاعری بھی اس ناسور کا شکار ہو چکی ہے۔ شاعری کے بظاہر بڑے نام بھی اسی روش پر چل رہے ہیں۔ اگر کسی شاعر کی فنی غلطیوں کا ذکر کیا جائے تو وہ خود اور ان کے مداح باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تنقید کرنے والوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔
جہاں تک شعر کہنے میں فنی اغلاط کی نشاندہی کا تعلق ہے، ظفر اقبال نے مرزا اسد اللہ خان غالب جیسے عظیم، مہان اور قادر الکلام شاعر کے کئی اشعار میں بھی علمِ عروض کی روشنی میں غلطیوں کی نشاندہی کی ہے اور انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اگر ہم موجودہ دور کے بظاہر بڑے شعرا—افتخار عارف، وصی شاہ، عباس تابش—اور پروین شاکر کی شاعری پر فرحت عباس شاہ اور دیگر حضرات کی تنقید کا جائزہ لیں، تو تلخ حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔
عباس تابش کا مشہورِ زمانہ شعر ملاحظہ کیجیے:
ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
(جس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک مدت سے میری ماں سوئی نہیں جب میں نے کہا تھا کہ مجھے ڈر لگتا ہے)۔ یہ شعر دراصل فارسی کی ایک غزل کا حصہ ہے، جس کا اصل ماخذ عباس تابش نے چھپا کر رکھا ہوا ہے۔ یہاں محض خیال کی چوری نہیں، بلکہ اس سے بھی اگلی واردات ہے یعنی سیدھا سیدھا ترجمہ ہی کر ڈالا گیا ہے۔ نہ تجربہ ذاتی ہے اور نہ اسلوب! یہ سرقے کی وہ شکل ہے جو علمی و ادبی دنیا میں سب سے سنگین سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح افتخار عارف بھی سرقہ نویسی کا شکار ہیں۔
وصی شاہ کا شعر:
سمندر میں اُترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
(اس شعر میں "اُتر" میں 'ر' حرفِ روی ہے اور "پڑھ" میں 'ڑھ'۔ حرفِ روی مکرر نہیں ہے، "تا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں" ردیف ہے، جبکہ قافيه سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس لیے یہ شعر فنی لحاظ سے سخت معیوب اور شاعر کی علمِ عروض سے ناواقفیت کا روشن ثبوت ہے۔)
نوشی گیلانی کا شعر:
کچھ بھی کر گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
برف کے پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
(یہاں "گزر" اور "پگھل" میں روی کا اختلاف ہے، اس لیے اس شعر میں بھی قافیے کا کوئی وجود نہیں ہے۔)
علمِ عروض میں اوزان اور قواعد کی اہمیت سب پر واضح ہے، مگر اس معیار پر پورا اترنے والے شعرا وہی ہیں جو علمِ فن میں پختہ ہیں۔ خوش آمدی اور میڈیا پر قابض وہ افراد جو شاعری کی روح اور آداب سے ناواقف ہیں، آج صفِ اول کے شاعر بنے بیٹھے ہیں—جن میں ان ناموں کے علاوہ بھی کئی "پردہ نشینوں" کے نام آتے ہیں۔
اس دور کے مقابلے میں علمِ عروض کی روشنی میں پختہ اور صحیح شاعری فرمانے والوں میں ابوالکلام آزاد، راحت اندوری، احمد ندیم قاسمی، فانی بدایونی، فیض احمد فیض، ابنِ انشا، جون ایلیا، رئیس امروہی، ضمیر جعفری، جوش ملیح آبادی، محبوب خزاں، دلاور فگار، مجید امجد، منیر نیازی، علی سردار جعفری، احمد فراز اور پیر نصیر الدین نصیر شامل ہیں۔ جبکہ حیات شعرا میں ظفر اقبال، خورشید رضوی، انور مسعود، انور جمال، انور شعور، نصیر ترابی، صابر ظفر اور کئی دیگر قابلِ احترام نام موجود ہیں، جن کی شاعری قابلِ فخر اور قابلِ تقلید ہے۔ (طوالت کے خوف سے تمام اسماء گرامی درج نہیں کیے جا رہے)۔
ہمارے ملتان میں پروفیسر ڈاکٹر شوذب کاظمی شاعری کے میدان میں یکتا و کمال کے درجے پر فائز ہیں، اور ملتان ہی کے انور جمال صاحب کا شعری جمال بھی اپنے عروج پر ہے۔
ایک مسافر کی سچی کہانی!
مدینہ ایئرپورٹ پر نیلے شاپر میں چھپے کس راز نے مسافر کو رلا دیا؟

.jpg)
No comments:
Post a Comment