چراغِ رفتگاں
ادا جعفری؛ خراجِ عقیدت — صغیر جعفری
ادا جعفری: حرف کی تہذیب، احساس کی روشنی
کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہو کر بھی زمانے کی لوحِ دل سے محو نہیں ہوتے۔ ان کے وجود کی مہک وقت کی گرد میں دبنے کے بجائے اور زیادہ خوشبو افشاں ہوتی چلی جاتی ہے۔ ادا جعفری بھی اردو ادب کے اسی روشن قبیلے کی ایک معتبر اور تابندہ آواز تھیں۔ وہ محض شاعرہ نہیں تھیں، ایک عہد کی تہذیبی یادداشت، نسائی احساس کی ترجمان اور ریاضتِ فن کی روشن مثال تھیں۔
بائیس اگست 1924ء کو بدایوں کی سرزمین پر جنم لینے والی عزیز جہاں نے آگے چل کر ’’ادا جعفری‘‘ کے نام سے اردو شاعری میں اپنا منفرد تشخص قائم کیا۔ تین برس کی ننھی عمر میں والدِ گرامی کے سایۂ عاطفت سے محرومی نے شاید ان کی داخلی دنیا میں وہ خاموش خلا پیدا کیا جس میں بعد ازاں شعر کی روشنی نے جنم لیا۔ ننھیال کی فضا، تہذیبی تربیت، مشاہدۂ حیات اور کم عمری کی حساسیت نے ان کے باطن میں ایک ایسی کائنات آباد کی جہاں لفظ محض لفظ نہیں رہتا تھا بلکہ احساس کا آئینہ بن جاتا تھا۔
صرف تیرہ برس کی عمر میں ’’ادا بدایونی‘‘ کے نام سے شعر کہنا اس عہد میں معمولی واقعہ نہ تھا۔ وہ زمانہ جب عورت کے لیے سماجی حصار بلند تھے اور اظهار کی راہیں محدود، ایک کم سن لڑکی کا شعر کی دنیا میں قدم رکھنا اپنے اندر ایک خاموش انقلاب رکھتا تھا۔ بعد ازاں 1947ء میں نورالحسن جعفری سے ازدواجی رشتہ قائم ہوا اور ’’ادا بدایونی‘‘ کی شناخت ’’ادا جعفری‘‘ کے نام سے اردو ادب کی تاریخ میں ثبت ہوگئی۔
انہوں نے اختر شیرانی اور اثر لکھنوی جیسے اہلِ سخن سے اصلاح لی اور کلاسیکی شعری روایت کی خوشبو کو اپنے جدید احساس کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ادا جعفری کی شاعری محض نسائی جذبات کی ترجمانی سے بلند ہو کر ایک وسیع انسانی تجربے کا استعارہ بن جاتی ہے۔
ان کے ہاں عورت صرف منتظر آنکھ، اشک بار دل یا محروم وجود نہیں۔ وہ سوچتی ہے، محسوس کرتی ہے، سوال اٹھاتی ہے، اپنی ذات کے حصار کو پہچانتی ہے اور پھر خاموش وقار کے ساتھ اس حصار سے باہر آنے کی جستجو بھی کرتی ہے۔ ادا جعفری کا نسائی شعور شورِ احتجاج نہیں بلکہ تہذیب یافتہ صدائے احتجاج ہے۔ ان کا لہجہ بلند آہنگ خطابت کے بجائے اس چراغ کی مانند ہے جو اندھیرے میں چیختا نہیں، صرف جلتا ہے۔ اور کبھی کبھی ایک خاموش چراغ ہزار نعروں سے زیادہ معنی خیز ہوتا ہے۔
ان کی شاعری میں محبت ہے مگر محض رومان نہیں۔ اس محبت میں ہجر کی کسک بھی ہے، انتظار کی دھیمی آنچ بھی، یاد کی مہک بھی اور انسانی وابستگی کا وہ لطیف شعور بھی جو دل کو دل سے مربوط رکھتا ہے۔ وہ کہتی ہیں:
تم پاس نہیں ہو تو عجب حال ہے دل کا
یوں جیسے میں کچھ رکھ کے کہیں بھول گئی ہوں
یہ ’’کچھ‘‘ دراصل بہت کچھ ہے۔ یہ کھوئی ہوئی قربت کا استعارہ ہے۔ یہ یاد کے اس گوشۂ دل کی علامت ہے جہاں ایک نامعلوم شے ہمیشہ اپنی بازیافت کا انتظار کرتی رہتی ہے۔ ادا جعفری کے ہاں یہی کمال ہے کہ وہ معمولی سے معمولی تجربے کو بھی تہہ دار شعری کیفیت میں تبدیل کر دیتی ہیں۔ ان کے لفظ سطحِ معنی پر نہیں ٹھہرتے بلکہ قاری کو باطن کی گہرائیوں میں لے جاتے ہیں۔
ان کی شاعری میں ’’جنتِ انساں‘‘ کا سوال بھی اسی وسیع انسانی شعور کا مظہر ہے:
صدیوں سے مرے پاؤں تلے جنتِ انساں
میں جنتِ انساں کا پتہ پوچھ رہی ہوں
یہاں شاعرہ کا سوال صرف ایک عورت کا سوال نہیں رہتا۔ یہ پوری انسانیت کا سوال بن جاتا ہے۔ وہ اس دنیا کا سراغ چاہتی ہیں جہاں انسان کو انسان ہونے کی حرمت میسر ہو۔ جہاں محبت خوف سے آزاد ہو۔ جہاں زندگی جبر کی زنجیر نہیں بلکہ امکان کی وسعت ہو۔ جہاں عورت محض روایت کی امین نہیں بلکہ اپنے وجود کی خود آگاہ معمار بھی ہو۔
ادا جعفری کی شاعری میں تہذیب اور جدیدیت ایک دوسرے کی ضد نہیں بنتیں بلکہ ایک دوسرے سے مکالمہ کرتی ہیں۔ وہ روایت کو ترک نہیں کرتیں، اسے نئے شعور کی روشنی میں ازسرِنو دریافت کرتی ہیں۔ ان کے لہجے میں مشرقی شائستگی بھی ہے اور جدید ذہن کی بیداری بھی۔
ان کے یہاں چاند، رات، پھول، شبنم، چراغ، جگنو، سفر اور آئینہ محض حسنِ بیان کے پیکر نہیں بلکہ باطن کے رمز آشنا استعارے ہیں۔ رات کبھی تنہائی بن جاتی ہے۔ جگنو کبھی امید کی ننھی سی کرن بن جاتا ہے۔ شبنم کبھی آنکھ کا چھپا ہوا آنسو بن جاتی ہے۔ اور سفر کبھی عورت کے اس داخلی سفر کا استعارہ بن جاتا ہے جس میں وہ اپنی ذات کو دریافت کرتی ہے۔
ادا جعفری کی شاعری کا ایک اور وصف اس کی زبان ہے۔ وہ لفظ کو بے جا ثقالت سے بوجھل نہیں کرتیں، مگر ان کے ہاں تہذیبی رکھ رکھاؤ، شائستگی اور لفظی نفاست ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ ان کا لہجہ نرم ہے مگر کمزور نہیں۔ ان کا دکھ دھیمہ ہے مگر بے اثر نہیں۔ ان کی محبت خاموش ہے مگر بے معنی نہیں۔ اور ان کا احتجاج مہذب ہے مگر بے جان نہیں۔ یہی وہ فنی ریاضت ہے جو کسی شاعر کو محض صاحبِ کلام سے صاحبِ اسلوب بناتی ہے۔
’’شہرِ درد‘‘ ان کے شعری سفر کا ایک اہم سنگِ میل ہے جس نے ان کی ادبی شناخت کو مزید مستحکم کیا۔ درد ان کے ہاں صرف گریہ نہیں بلکہ معرفتِ ذات کا وسیلہ بھی ہے۔ وہ دکھ کو لفظ دیتی ہیں تو دکھ اپنی محدودیت سے نکل کر جمالیاتی تجربہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے ان کی شاعری پڑھتے ہوئے قاری صرف شاعرہ کا غم نہیں پڑھتا بلکہ اپنے اندر کے کسی نامعلوم دکھ سے بھی ملاقات کرتا ہے۔
ادا جعفری نے خودنوشت ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ کے ذریعے اپنی زندگی کے ساتھ اپنے عہد کی تہذیبی اور ادبی فضا کو بھی محفوظ کیا۔ یہ کتاب ان کے شخصی سفر کے ساتھ اس زمانے کی ایک داخلی دستاویز بھی ہے جس میں عورت کے لیے ادبی شناخت قائم کرنا آسان نہ تھا۔ انہوں نے ہائیکو جیسی مختصر صنفِ سخن میں بھی طبع آزمائی کی اور ’’سازِ سخن بہانہ ہے‘‘ سمیت اپنے شعری سفر کو نئے امکانات سے آشنا کیا۔ یہ ان کے تخلیقی مزاج کی وسعت کا ثبوت ہے کہ وہ روایت کی زمین پر کھڑے رہتے ہوئے نئے افق کی طرف دیکھتی رہیں۔
1991ء میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے تمغۂ امتیاز کا اعزاز ان کی ادبی خدمات کا اعتراف تھا۔ مگر کسی بڑے فن کار کے لیے اصل تمغہ سرکاری اعزاز نہیں، آنے والی نسلوں کے دل میں زندہ رہ جانے والا لفظ ہوتا ہے۔ ادا جعفری کو وہ تمغہ مدتوں پہلے مل چکا تھا۔
بارہ مارچ 2015ء کو کراچی میں ان کا جسمانی سفر اختتام پذیر ہوا۔ مگر بعض سفر موت پر ختم نہیں ہوتے۔ وہ کتابوں میں جاری رہتے ہیں۔ وہ اشعار میں سانس لیتے ہیں۔ وہ قاری کے دل میں اتر کر نئی معنویت پیدا کرتے ہیں۔ ادا جعفری بھی اسی زندہ روایت کا نام ہیں۔
ان کی شاعری ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ نسائی شعور کا مطلب صرف احتجاج نہیں، اپنی ذات کی آگہی بھی ہے۔ محبت کا مطلب صرف وصال نہیں، انتظار اور خود شناسی بھی ہے۔ درد کا مطلب صرف شکست نہیں، تخلیق کا امکان بھی ہے۔ اور شاعری کا مطلب صرف شعر کہنا نہیں، اپنے عہد کی روح کو لفظ عطا کرنا بھی ہے۔
ادا جعفری نے عورت کے احساس کو زبان دی، زبان کو تہذیب دی، تہذیب کو شعور دیا اور شعور کو شعر بنا دیا۔ اسی لیے ان کا نام اردو شاعری کی تاریخ میں محض ایک شاعرہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک روشن تہذیبی استعارے کے طور پر زندہ رہے گا۔
آج ان کے یومِ ولادت پر چراغِ رفتگاں کی یہ لو اسی معتبر شاعرہ کے نام ہے۔ وہ چراغ جو بجھ کر بھی روشنی کی روایت چھوڑ گیا۔ وہ خوشبو جو گزرے موسموں کے باوجود آج بھی سخن کے گلشن میں محسوس ہوتی ہے۔ وہ آواز جو خاموش ہو کر بھی اردو کے آسمان پر اپنی بازگشت چھوڑ گئی۔
ادا جعفری!
آپ کا سفر تمام نہیں ہوا۔
آپ کا سفر تو اب بھی لفظوں کی کہکشاں میں جاری ہے۔
آپ کی شاعری آج بھی کسی تنہا دل کے دریچے پر دستک دیتی ہے۔
اور جب تک اردو کا کوئی حساس قاری محبت، محرومی، عورت، زندگی اور انسان کے معنی تلاش کرتا رہے گا، ادا جعفری کا نام بھی اس تلاش کے ساتھ زندہ رہے گا۔
ادا جعفری کی روحِ پاک کے لیے یہ محبت بھرا خراجِ عقیدت پیشِ خدمت ہے۔ خداوندِ قدوس ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجاتِ عالیہ بلند فرمائے اور ان کے مزارِ نور پر رحمتوں کی بارش فرمائے۔ پروردگارِ عالم ان کی طویل ریاضتِ سخن، ادبی خدمات اور محبتِ اردو کو شرفِ قبول عطا فرمائے۔
ادا جعفری — منتخب اشعار
وہی نا صبوریِ آرزو، وہی نقشِ پا، وہی جادہ ہے
کوئی سنگِ راہ کو خبر کرو، اسی آستاں کا ارادہ ہے
ابھی روشنی کی لکیر سی سرِ رہگزار ہے جاں بہ لب
کسی دل کی آس مٹی نہیں، کہیں اک دریچہ کشادہ ہے
تنِ زخم زخم کو چھوڑ دے، مرے چارہ گر، مرے مہرباں
دلِ داغ داغ کا حوصلہ تری مرحمت سے زیادہ ہے
جو نظر بچا کے گزر گئے تو نہ آ سکو گے پلٹ کے تم
بڑی محترم ہے یہ بے بسی کہ خلوصِ جاں کا لبادہ ہے
مرا افتخارِ وفا تلک مجھے راس آ نہ سکا ادا
ترا نام جس پہ لکھا رہا، وہ کتاب آج بھی سادہ ہے
شہرت کی چکا چوند میں چھپی عروضی اغلاط اور سرقہ نویسی کا پردہ چاک! نامور شعرا کے کلام اور جدید اردو شاعری کے زوال پر صغیر جعفری کا تحریر کردہ تہلکہ خیز مضمون ہماری ڈائجسٹ پر پڑھیں۔👇👇👇

No comments:
Post a Comment