Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Friday, September 4, 2026

میٹرک رزلٹ! رزلٹ ایک پرچہ ہے، زندگی نہیں | طارق بلال لیل

 میٹرک رزلٹ! رزلٹ ایک پرچہ ہے، زندگی نہیں

میٹرک رزلٹ اور امتحان میں ناکامی کے بعد کامیابی کی طرف بڑھتے طالب علم کی حوصلہ افزا تصویر، طارق بلال لیل، ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل
میٹرک رزلٹ زندگی کا فیصلہ نہیں، کامیابی کی طرف ایک نیا قدم ہے — از قلم: طارق بلال لیل | ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

طارق بلال لیل

آج اخبار کی سرخیاں اور موبائل کی سکرینیں ایک ہی خبر سے بھری ہوئی ہیں: ”میٹرک کا رزلٹ آ گیا!“

کسی کے چہرے پر خوشی ہے تو کسی کی آنکھوں میں نمی؛ کسی نے مٹھائی بانٹی تو کہیں کوئی کمرے میں بند ہو کر رونے لگا۔

میرے عزیز بچو! سب سے پہلے تو یہ سن لو: تم فیل نہیں ہوئے۔ تمہارا صرف ایک پرچہ فیل ہوا ہے اور پرچے اور زندگی میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ہم نے اپنی پوری قوم کو نمبروں کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ 1100 میں سے 1090 آئیں تو ”واہ بیٹا واہ!“ اور 800 آئیں تو ”تم نے تو خاندان کا نام ڈبو دیا!“

یہ کیسا انصاف ہے؟ ایڈیسن 999 بار فیل ہوا تھا، تب جا کر بلب بنا تھا۔ علامہ اقبال میٹرک میں فرسٹ نہیں آئے تھے اور قائدِ اعظم بھی اسکول میں سب سے ہونہار نہیں تھے۔ تو کیا وہ ناکام تھے؟ نہیں! وہ اس لیے کامیاب ہوئے کیونکہ انہوں نے ایک رزلٹ کو اپنی زندگی کا آخری رزلٹ نہیں مانا۔

بیٹا! یاد رکھو، دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں:

  • پہلے: وہ جنہیں پہلی بار میں کامیابی مل جاتی ہے۔

  • دوسرے: وہ جنہیں اللہ پہلے آزماتا ہے تاکہ ان کی کامیابی کا ذائقہ اور میٹھا ہو جائے۔

ہو سکتا ہے تم دوسرے والے ہو۔

سب سے دردناک بات یہ ہے کہ جب رزلٹ آتا ہے تو کہیں نہ کہیں کوئی بچہ یا بچی پریشر میں آ کر غلط قدم اٹھا لیتی ہے۔ اللہ معاف کرے! میرے بھائی، میری بہن! ذرا رک کر سوچو۔ جن ماں باپ نے تمہیں 16 سال پالا، جنہوں نے اپنی خواہشیں ماریں تاکہ تمہاری فیسیں دیں، کیا وہ تم سے نمبر مانگتے ہیں؟ نہیں۔ وہ تمہاری ایک جھلک کے لیے ترستے ہیں، تمہارا ایک ”امی! میں آ گیا“ سننے کے لیے سارا دن انتظار کرتے ہیں۔ تمہاری جان اللہ کی امانت ہے۔ ایک پرچے کی وجہ سے امانت میں خیانت کرنا، یہ کہاں کی عقلمندی ہے؟ شیطان تمہیں بہکاتا ہے کہ ”بس! اب عزت نہیں رہی۔“ ارے! عزت تو اس میں ہے کہ گر کر پھر اٹھ جاؤ۔

محترم والدین! خدارا اپنے بچے کو نمبروں سے نہ تولیں۔ آج جس دن اسے آپ کے کندھے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، اس دن اس سے منہ مت موڑیں۔ اگر نمبر کم آئے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ نالائق ہے۔ ہو سکتا ہے وہ بیمار تھا، ہو سکتا ہے اس پر گھر کا پریشر تھا، یا ہو سکتا ہے اس کا سبجیکٹ ہی وہ نہ ہو۔ اسے گلے لگائیں اور کہیں: ”کوئی بات نہیں بیٹا! اگلی بار محنت کریں گے۔“ یقین کریں، آپ کے یہ چار لفظ اس کے لیے 1000 نمبروں سے زیادہ قیمتی ہیں۔ اپنے بچے کو دنیا کے سامنے شرمندہ مت کریں۔ ”پڑوسی کا بیٹا دیکھو!“ جیسے جملے زہر سے زیادہ زہریلے ہوتے ہیں۔

تو اب آگے کیا کرنا ہے؟

  1. سانس لیں: سب سے پہلے رک جائیں اور لمبی سانس لیں۔ پہلے 24 گھنٹے کسی کو کوئی فیصلہ نہیں کرنا، بس اللہ سے بات کریں۔

  2. غلطی تلاش کریں: دیکھیں کہاں کمی رہ گئی؟ ٹیوشن؟ وقت کی بربادی؟ یا موبائل؟ اسے ایک کاغذ پر لکھ لیں۔

  3. نیا پلان بنائیں: اس کے بعد نیا پلان بنائیں۔ سپلی ہے تو سپلی کی تیاری کریں، نمبر کم ہیں تو اگلے سال بہتر کریں، یا پھر کوئی ٹیکنیکل فیلڈ دیکھیں۔ دنیا صرف ڈاکٹر اور انجینئر سے نہیں چلتی۔

  4. مشورہ کریں: سب سے ضروری بات یہ کہ کسی بڑے سے بات کریں؛ استاد، والد، یا کسی سمجھدار شخص سے۔ دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا۔

بیٹا! زندگی ایک امتحان ہے اور امتحان میں کبھی پاس ہوتے ہیں، کبھی فیل۔ لیکن جو فیل ہو کر بھی ہمت نہ ہارے، وہ اصل میں پاس ہوتا ہے۔ تمہاری کہانی ابھی شروع ہوئی ہے، یہ صرف پہلا چیپٹر تھا، کتاب ابھی باقی ہے۔ ہو سکتا ہے اللہ نے تمہارے لیے اس سے بھی بڑی کامیابی لکھی ہو؛ بس شرط یہ ہے کہ تم میدان مت چھوڑنا۔

”ناکامی کامیابی کا پہلا زینہ ہے۔“ یہ جملہ صرف کتابوں میں لکھا ہوا نہیں، زندگیوں میں لکھا ہوا ہے۔

اللہ ہم سب کے بچوں کو دنیا اور آخرت کی کامیابی دے اور ہمیں ان کا سہارا بنائے، بوجھ نہیں۔ آمین!

No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages