قسطوں کی زندگی: اب سانس بھی قسطوں پر
طارق بلال لیل
ہم نے آزادی تو 1947 میں لے لی تھی، لیکن غلامی 2026 میں خود خرید لی ہے، اور وہ بھی قسطوں پر۔ پہلے انسان روٹی کے لیے محنت کرتا تھا، اب موبائل کی قسط کے لیے جان مارتا ہے۔ پہلے گھر چھوٹا ہوتا تھا لیکن سکون بڑا تھا، اب 5 مرلے کا گھر ہے لیکن بینک کا 20 سال کا قرضہ سر پر ہے۔ ہم نے ترقی کے نام پر اپنی زندگی ہی بینک اور مارکیٹ کے حوالے کر دی ہے۔
شروعات چھوٹی تھی۔ پہلے کہا گیا: "ایک موبائل لے لو، 12 مہینے کی آسان قسط۔" پھر کہا: "فریج لے لو، کوئی ایڈوانس نہیں۔" پھر: "موٹر سائیکل لے لو، صرف شناختی کارڈ دو۔" اور ہم لالچ میں آ گئے۔ آج ہر بندے کی جیب میں 2 موبائل ہیں؛ ایک چلانے کے لیے اور دوسرا قسط دینے کے لیے۔ ہر گھر میں LED ہے، AC ہے، صوفہ ہے، لیکن سب پر بینک کا اسٹیکر لگا ہوا ہے۔ ہم مالک نہیں ہیں، ہم صرف کرائے دار ہیں۔ کرائے دار—اپنی ہی چیزوں کے۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اب ہم نے قرض کو سٹیٹس سمجھ لیا ہے۔ جس کے پاس کریڈٹ کارڈ نہیں، وہ "غریب" ہے۔ جس نے گاڑی کیش لی، وہ "بیوقوف" ہے۔ جس نے شادی سادگی سے کی، وہ "کنگال" ہے۔ ہم نے دکھاوے کے لیے اپنی نسلیں گروی رکھ دیں۔ لڑکے کی شادی ہے تو 20 لاکھ کا قرضہ۔ بیٹی کی شادی ہے تو 30 لاکھ کا قرضہ۔ وجہ؟ "لوگ کیا کہیں گے۔" لوگ 2 دن بات کریں گے اور بھول جائیں گے، لیکن وہ قرضہ 10 سال تک آپ کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔
بینک اور کمپنیاں بھی خوب چالاک ہیں۔ وہ آپ کو "0 فیصد سود" کا لالی پاپ دیں گے، لیکن پروسیسنگ فیس، انشورنس، لیٹ فیس اور دیگر چارجز لگا کر وہی 25 فیصد وصول کر لیں گے۔ معاہدے کے 40 صفحے ہوں گے جنہیں کوئی نہیں پڑھتا۔ بس دستخط کرو اور جال میں پھنس جاؤ۔ ایک قسط لیٹ ہو جائے تو فون پر دھمکیاں شروع۔ "گھر آ کر سامان اٹھا لیں گے۔" عزت کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں۔
اس قسطوں کے نظام نے 3 بڑے نقصان کیے ہیں۔ پہلا نقصان معاشی ہے۔ آدمی کی تنخواہ آتے ہی آدھی قسطوں میں چلی جاتی ہے۔ بچوں کی فیس، گھر کا راشن، علاج کے لیے پیسے نہیں بچتے۔ بندہ ساری عمر صرف قسطیں دیتا رہتا ہے، اصل زندگی جی ہی نہیں پاتا۔ دوسرا نقصان نفسیاتی ہے۔ ہر وقت ٹینشن۔ فون کی گھنٹی سے ڈر لگتا ہے۔ رات کو نیند نہیں آتی۔ شوہر بیوی کی لڑائی کی سب سے بڑی وجہ "پیسے اور قسطیں" بن چکی ہیں۔ تیسرا نقصان سماجی ہے۔ ہم نے محنت اور صبر کا کلچر ختم کر دیا۔ اب کوئی 5 سال بچت کر کے گھر نہیں بناتا۔ سب کہتے ہیں: "ابھی لے لو، بعد میں دیکھیں گے۔" نتیجہ؟ کوئی بچت نہیں، کوئی سرمایہ نہیں، صرف بوجھ ہے۔
اور سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ ہم اپنی اولاد کو بھی یہی غلامی ورثے میں دے رہے ہیں۔ بچہ پیدا ہوتے ہی اس کے نام موبائل کی قسط۔ 10 سال کا ہوتے ہی ٹیبلٹ کی قسط۔ ہم اسے سکھا ہی نہیں رہے کہ "جو چیز افورڈ نہیں کر سکتے وہ مت لو۔" ہم اسے سکھا رہے ہیں کہ "کریڈٹ سکور اچھا رکھو۔"
اس کا حل کیا ہے؟ حل سخت ہے لیکن ضروری ہے۔ سب سے پہلے ذہنیت بدلیں۔ عزت چیزوں سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے۔ جو بندہ قرض لے کر برینڈڈ کپڑے پہنے، وہ امیر نہیں، وہ محتاج ہے۔ دوسرا، قانون بنے۔ بینکوں کو پابند کیا جائے کہ وہ سادہ الفاظ میں اصل سود اور اصل رقم لکھیں۔ چھوٹے حروف میں دھوکہ بند ہو۔ تیسرا، حکومت اور علماء مل کر "سادگی مہم" چلائیں۔ شادی، فنکشن اور رسم و رواج پر پابندی لگے۔ جو شخص اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ کرے، اسے ٹیکس لگے۔
یاد رکھیں، قومیں قرضوں پر نہیں بنتیں۔ قومیں محنت، بچت اور قناعت سے بنتی ہیں۔ جاپان، جرمنی اور چین دیکھ لیں۔ وہاں لوگ 10 سال پرانا موبائل چلاتے ہیں لیکن دنیا کی معیشت چلا رہے ہیں۔ اور ہم؟ ہر سال نیا آئی فون لیتے ہیں لیکن IMF کے دروازے پر کھڑے ہیں۔
اگر ہم نے اب بھی ہوش نہ کیا تو وہ دن دور نہیں جب "سانس لینے کی بھی قسط" آ جائے گی۔ آکسیجن کا بل، پانی کا بل، اور جینے کا ٹیکس۔ پھر ہم کہیں گے: "کاش وقت پر جاگ جاتے۔"
اپنی زندگی کو بینک کی غلامی سے آزاد کریں۔ تھوڑے میں گزارا سیکھیں۔ کیونکہ جو شخص اپنے پیروں پر کھڑا ہے، وہی اصل آزاد ہے۔ اور جو قسطوں پر جی رہا ہے، وہ صرف زندہ لاش ہے۔

No comments:
Post a Comment