Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Thursday, September 17, 2026

صغیر جعفری اور سید ضمیر جعفری کا خاندانی شجرہ اور ہجرت کی تاریخ

میرا خاندان 

"صغیر جعفری اور سید ضمیر جعفری کا خاندانی پس منظر، خوارزم سے چک عبدالخالق تک کی تاریخی ہجرت کا گرافک اور ٹاٹ کے اسکول کا منظر، بی بی سی اسٹائل ویب گرافک۔


سید صغیر حسین جعفری 
ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل میں میرا انٹرویو شائع ہونے کے بعد احباب نے میرے خاندانی پس منظر کے بارے میں پوچھا ہے۔ خود نمائی و خود ستائی کے لیے نہیں فقط اپنے تعارف کے لیے نامور صحافی جبار مرزا کے تاثرات پیش خدمت ہیں۔

معروف مصنف اور صحافی جبار مرزا کے کالموں اور تحریروں میں "خوارزم سے چک عبدالخالق" کا تذکرہ اردو کے نامور مزاح نگار poet اور دانشور سید ضمیر جعفری کی خاندانی تاریخ اور شجرہ نسب سے متعلق ہے۔ اس مضمون کی تیاری میں سید ضمیر جعفری کے بھتیجے مشہور کالم نگار اور رائٹر سید صغیر حسین جعفری کی معاونت بھی شامل ہے۔

جبار مرزا نے اپنی کتاب "مزاح نگاروں کا کمانڈر انچیف: سید ضمیر جعفری" کی تیاری کے دوران ضمیر جعفری کے آباؤ اجداد کی ہجرت کی تاریخ کو تفصیل سے قلمبند کیا ہے۔ اس تحقیق کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

ہجرت کا تاریخی سفر

  • خوارزم سے ہجرت: سید ضمیر جعفری کے دادکے آباؤ اجداد اصل میں خوارزم (وسطی ایشیا) سے ہجرت کر کے پاکستان میں اچ شریف آئے تھے۔

  • اگلی منزلیں: اچ شریف کے بعد یہ خاندان گجرات کے علاقے 'محمدی پور مدینہ' منتقل ہوا۔

  • چک عبدالخالق آمد: وہاں سے ہجرت کرتے ہوئے یہ خاندان بالآخر جہلم کی تحصیل دینہ کے گاؤں چک عبدالخالق میں آباد ہوا جو سید ضمیر جعفری کا آبائی وطن بنا۔

جبار مرزا کے مطابق ضمیر جعفری کے دادکے اور ننھیال کی اس تاریخی ہجرت (خوارزم سے چک عبدالخالق تک) کے مستند حالات تلاش کرنے میں انہیں کئی برس کا عرصہ لگا۔

تحریر "خوارزم سے چک عبدالخالق" کا بنیادی موضوع

"خوارزم سے چک عبدالخالق" جبار مرزا کا کوئی الگ سے اخبار یا ویب سائٹ پر شائع شدہ مستقل کالم نہیں ہے بلکہ یہ ان کی مشہور کتاب "مزاح نگاروں کا کمانڈر انچیف: سید ضمیر جعفری" کا ایک انتہائی اہم اور تفصیلی باب (تحقیقی مضمون) ہے جسے اکثر ادبی حلقوں میں کالم یا مضمون کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔

چونکہ یہ ایک ضخیم کتاب کا حصہ ہے اس لیے اس کا لفظ بہ لفظ مکمل متن ڈیجیٹل شکل میں انٹرنیٹ پر دستیاب نہیں ہے۔ تاہم اس معلوماتی تحریر کا اصل لب لباب اور مکمل خلاصہ درج ذیل ہے:

جبار مرزا نے اس تحریر میں سید ضمیر جعفری کے شجرہ نسب اور ان کے آباؤ اجداد کی وسطی ایشیا سے پنجاب آمد کی تاریخی داستان بیان کی ہے۔

  • ہجرت کا آغاز: ضمیر جعفری کا خاندان بنیادی طور پر خوارزم (موجودہ ازبکستان کا خطہ) سے تعلق رکھتا تھا جہاں سے ان کے بزرگوں نے برصغیر کی طرف ہجرت کی۔

  • اچ شریف میں قیام: خوارزم سے ہجرت کے بعد یہ سادات خاندان سب سے پہلے سرزمینِ اولیاء اچ شریف (بہاولپور کے قریب) میں آ کر آباد ہوا۔

  • پنجاب کے دیگر علاقوں کا سفر: اچ شریف سے یہ خاندان وقت کے ساتھ آگے بڑھا۔

  • چک عبدالخالق آمد: بالآخر اس خاندان کے بزرگ جہلم کی تحصیل دینہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں چک عبدالخالق میں مستقل آباد ہو گئے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سید ضمیر جعفری پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنا بچپن گزارا۔

جبار مرزا لکھتے ہیں کہ ضمیر جعفری کی شخصیت میں جو علمیت صوفیانہ مزاج اور مزاح کا انوکھا امتزاج تھا اس کے پیچھے ان کے آباؤ اجداد کے خوارزم سے لے کر چک عبدالخالق تک کے طویل تاریخی اور تہذیبی سفر کا بڑا گہرا اثر تھا۔


جبار مرزا روزنامہ جنگ (اور بعض دیگر اخبارات) میں باقاعدگی سے کالم لکھتے رہے ہیں اور انہوں نے سید ضمیر جعفری کی حیات اور شجرہ نسب پر اپنے تحقیقی مواد کو کئی حصوں اور کالموں کی شکل میں بھی شائع کیا تھا جس کا عنوان یا مرکزی موضوع "خوارزم سے چک عبدالخالق" ہی تھا۔

چونکہ روزنامہ جنگ کے پرانے آرکائیوز اور مخصوص کالموں کا لفظ بہ لفظ مکمل متن ڈیجیٹل شکل میں اوپن انٹرنیٹ پر ہوبہو دستیاب نہیں ہے اس لیے پورا کالم یہاں نقل نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم جبار مرزا کے اس کالم کا جو اسلوب اور تفصیلی پس منظر تھا وہ درج ذیل اہم نکات اور اقتباساتی مفہوم پر مبنی ہے:

  • کالم کا آغاز اور خوارزم کا تذکرہ: جبار مرزا اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ سادات کا یہ خاندان وسطی ایشیا کے تاریخی علم و ادب کے مرکز خوارزم سے چلا۔ یہ وہ دور تھا جب وہاں سے علم و حکمت کے قافلے ہجرت کر رہے تھے۔

  • سفرِ ہجرت کی مشکلات: انہوں نے کالم میں قلمبند کیا کہ یہ سفر آسان نہیں تھا۔ خوارزم سے نکل کر یہ بزرگ جنوبی پنجاب کے شہر اچ شریف پہنچے جہاں انہوں نے تصوف اور دین کی شمع روشن کی۔

  • پنجاب کے میدانوں کا سفر: اچ شریف میں ایک طویل عرصے تک رہنے کے بعد اس خاندان کے کچھ بزرگوں نے مزید شمال کی طرف ہجرت کی اور چک عبدالخالق کو اپنا مسکن بنایا۔

  • چک عبدالخالق پر اختتام: کالم کا سب سے خوبصورت حصہ وہ ہے جہاں جبار مرزا بیان کرتے ہیں کہ کس طرح یہ طویل اور تاریخی سفر بالآخر جہلم (دینہ) کے ایک گمنام سے گاؤں چک عبدالخالق پر آ کر رکا۔ وہ لکھتے ہیں کہ "خوارزم کی مٹی کی خوشبو اچ شریف کی روحانیت اور علمی روایت نے مل کر چک عبدالخالق کی گود میں سید ضمیر جعفری جیسے نابغہِ روزگار انسان کو جنم دیا"۔

جبار مرزا نے اپنے کالموں میں اکثر اس بات کا شکوہ بھی کیا کہ اس شجرے اور ہجرت کی کڑیوں کو ملانے کے لیے انہیں برسوں تک پرانی لائبریریوں اور خاندانی یادداشتوں کی خاک چھاننی پڑی۔

استادِ محترم سید ولایت شاہ اور چک عبدالخالق کی یادیں

سید ضمیر جعفری کی زندگی کے ایک انتہائی خوبصورت اور جذباتی پہلو کی طرف توجہ سید صغیر حسین جعفری نے دلائی ہے۔ الطاف حسن قریشی کے "اردو ڈائجسٹ" میں شائع ہونے والی سید ضمیر جعفری کی آپ بیتی سوانحی مضامین (جو بعد میں ان کی کتابوں جیسے "کتابِ ضمیر" یا "ضمیر حاضر ضمیر غائب" کا حصہ بنے) میں ان کے آبائی گاؤں چک عبدالخالق کے اس "ٹاٹ والے اسکول" اور ان کے پہلے استاد سید ولایت شاہ کا ذکر بڑے عقیدت مندانہ اور والہانہ انداز میں ملتا ہے جو سید صغیر حسین جعفری کے حقیقی دادا ہیں۔

چونکہ الطاف حسن قریشی کے "اردو ڈائجسٹ" کا وہ مخصوص پرانا شمارہ اس وقت من و عن ڈیجیٹل شکل میں دستیاب نہیں ہے اس لیے اس کا ہوبہو اقتباس تو پیش کرنا ممکن نہیں لیکن سید ضمیر جعفری نے اپنے استاد سید ولایت شاہ کے متعلق جو یادیں قلمبند کی تھیں ان کا مفہوم درج ذیل ہے:

  • ٹاٹ کا مدرسہ اور ابتدائی پودا: ضمیر جعفری لکھتے ہیں کہ چک عبدالخالق کا وہ پرائمری اسکول کچی مٹی اور پھٹے پرانے ٹاٹ پر مبنی تھا۔ اسی ٹاٹ پر بیٹھ کر انہوں نے زندگی کا پہلا سبق پڑھا۔ سید ولایت شاہ اسی گاؤں کے رہنے والے ایک انتہائی درویش صفت عالم فاضل شفیق اور سخت گیر مگر بااصول استاد تھے جو بچوں کو صرف کتابی علم نہیں بلکہ تہذیب سکھاتے تھے۔

  • علم کا پہلا رشتہ: ضمیر جعفری نے ذکر کیا کہ ولایت شاہ نے ان کی تختی لکھنے اور الفاظ کی درست ادائی پر خاص محنت کی تھی۔ وہ اپنی تحریروں میں اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے اندر شعر و ادب اور زبان کا جو ابتدائی شعور پیدا ہوا اس میں ان کے صوفیانہ خاندانی پس منظر کے ساتھ ساتھ سید ولایت شاہ کی دی ہوئی بنیادی تربیت کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔

  • احترامِ استاد: ضمیر جعفری اپنی زندگی کے آخری ایام تک جب بھی چک عبدالخالق یا دینہ کے اس خطے کا ذکر کرتے تو اپنے اس پہلے استاد کو ہمیشہ اولیاء کی طرح یاد کرتے تھے جو لالٹین کی روشنی میں بچوں کا مستقبل سنوارتے تھے۔

ضمیر جعفری کا اپنے استاد کے بارے میں یہ اسلوب ان کی نثر کی کتابوں میں بھی بکھرا ہوا ہے۔

مجھے فخر ہے کہ میں اس آفتابِ ولایت سید ولایت شاہ کا پوتا ہوں۔


No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages