توہمات اور ہماری زندگی
از قلم: جمیل احمد عبدالرحمان
انسان زمانۂ قدیم سے توہمات کا شکار رہا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ کسی واقعے کی تکرار بھی وہم میں بدل جاتی ہے۔ جہازراں بھی توہمات پر یقین رکھتے ہیں اور سمندری زندگی کے توہمات پر ہر مذہب کے پیروکار مشترکہ یقین رکھتے ہیں۔ راقم کا تعلق بھی بحری جہاز سے رہا ہے اور بحیثیت چیف انجینئر سروس کی ہے۔
توہمات کی بھی ایک تاریخ ہوتی ہے۔ اکثر لوگوں کے ساتھ کچھ واقعات پیش آتے ہیں اور پھر لوگ احتیاط کرنے لگتے ہیں۔ مثلاً:
- 13 کا عدد: 13 کا عدد نحس سمجھا جاتا ہے، اسی لیے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کی عمارت میں تیرہویں منزل نہیں ہے—آخر کو وہ جہازوں کی کمپنی ہے! 13 کا عدد لفٹ میں بھی نہیں ہوتا۔ اکثر یورپ اور امریکہ میں اگر 13 تاریخ جمعہ کے روز آ جائے تو لوگ پریشان ہو جاتے ہیں۔
- جہاز پر سیٹی بجانا: جہاز پر سیٹی بجانا انتہائی منحوس حرکت سمجھی جاتی ہے۔ ہم نے ایک جہازی کی مرمت ہوتے دیکھی ہے جب وہ بڑی سریلی سیٹی میں فلم 'برسات' کا گانا گا رہا تھا۔ سیٹی بجانے کا مطلب تیز و تند ہواؤں کو دعوت دینا ہوتا ہے۔
- آسمان کا لال ہونا: رات کو آسمان کا سرخ ہونا بھی نحوست کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔
- سمندری مخلوقات اور شگون: اگر شارک مچھلی جہاز کا پیچھا کر رہی ہو تو یہ جہاز پر کسی کی موت کی نشانی ہے۔ اس کے برعکس، ڈولفن مچھلی کو خوش قسمتی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ البطروس (Albatross) نامی مرغابی بھی خوش قسمتی کی نشانی ہے، اس کو مارنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
- عملے کا نیا رکن: جہاز پر کوئی نیا عملے کا شخص آ جائے اور جہاز میں خرابی یا دیگر مشکلات شروع ہو جائیں، تو اس کو "پنوتی" یعنی منحوس تصور کیا جاتا ہے۔
عام زندگی میں ہمارے مرکزی اور صوبائی حکمران "پنوتی" کی بہترین مثال ہیں، جن کے اقتدار میں آنے سے عوام کی زندگی عذاب بن گئی ہے اور لوگ دعا مانگتے ہیں کہ اس پنوتی سے نجات ملے۔
کیلا بھی (جہاز رانی میں) نحوست میں شمار ہوتا ہے۔ بلی اگر جہاز پر ہو یا آ جائے تو اسے اچھا شگون مانا جاتا ہے۔
جب سمندر بالکل پرسکون ہو اور ہوا بھی نہ چل رہی ہو، تو یہ آنے والے طوفان کا پیش خیمہ قرار دیا جاتا ہے۔ اگر سمندر تند و تیز ہو اور جہاز کو بری طرح اچھال رہا ہو، تو ایسے میں سمندر میں گوشت اور سکے ڈالے جاتے ہیں تاکہ طوفان سے محفوظ رہ سکیں۔
عام زندگی میں بھی بہت سے توہمات ہیں جن پر لوگوں کو کامل یقین ہے:
- کالی بلی راستہ کاٹ جائے تو لوگ سفر ملتوی کر دیتے ہیں۔
- کوے کا بولنا مہمان کی آمد کی اطلاع ہے۔
- دائیں ہتھیلی میں خارش پیسے کی آمد اور بائیں ہتھیلی میں خارش پیسے جانے کی نشانی ہے۔
- آنکھ کا پھڑکنا کسی انجانی مصیبت کی آمد سمجھی جاتی ہے۔
- چپل پر چپل کا ہونا یا گھر سے جاتے ہوئے شخص کو پیچھے سے آواز دینا بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا۔
- گنڈے تعویز تو مانا ہوا ذریعۂ آمدنی ہیں، خیر یہ ایک الگ موضوع ہے۔
جہاز کے نام کی تبدیلی اور بندرگاہ میں جہاز پر سے مردہ گزارنا تو بہت زیادہ نحوست سمجھی جاتی ہے—ان توہمات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کے دو جہاز، جن کا نام 'شالامار' تھا، ایک جیسے حادثے کا شکار ہوئے:
- پہلے کنٹینر شپ 'شالامار' میں کپتان کے کیبن میں آگ لگی۔
- حال ہی میں ٹینکر 'شالامار' میں بھی کپتان کے کیبن میں آگ لگی اور بری طرح پھیل گئی۔ پاکستان نیوی کے جہاز نے مدد کی اور آگ بجھائی۔ امید ہے پی این ایس سی اب کسی جہاز کا نام شالامار نہیں رکھے گی۔
پان اسلامک کمپنی کا جہاز 'سفینۂ سیاحت' بھی ہمیشہ حادثات کا شکار رہا اور آخر میں کراچی شپ یارڈ میں آگ لگنے سے مکمل ناکارہ ہو گیا۔
ہندوؤں میں صبح صبح پنڈت کو دیکھنا انتہائی اشبھ (منحوس) سمجھا جاتا ہے۔ کمہار علی الصبح برتن لاد کر لے جاتے تھے تاکہ کوئی سامنے سے راستہ نہ کاٹ جائے۔
ویسے جان کی امان ملے تو ہمارے کچھ مہربان بھی ایسے ہیں جن کو صبح دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
غرض توہمات بھی ہماری زندگی کا حصہ ہیں اور رہیں گے۔

No comments:
Post a Comment