تحریر: علینہ خان
اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات جہاں سیاسی اور سفارتی حلقوں میں مرکزِ نگاہ رہے، وہاں ایک ایسا منظر بھی سامنے آیا جس نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ بحث کسی سیاسی بیانیے پر نہیں، بلکہ ایک ایرانی خاتون صحافی کے باوقار انداز، مکمل حجاب اور پیشہ ورانہ مہارت پر مبنی ہے۔
دورِ حاضر میں یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ میڈیا یا کسی بھی عالمی پلیٹ فارم پر کامیابی کے لیے جدیدیت کے نام پر مغربی لباس یا نمائش ضروری ہے۔ لیکن ایران سے آئی اس خاتون صحافی نے اس دقیانوسی سوچ کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ پروفیشنلزم کا تعلق آپ کے لباس کی تراش خراش سے نہیں، بلکہ آپ کے علم، خود اعتمادی اور کام سے لگن پر ہوتا ہے۔
ایرانی خواتین نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اپنی اسلامی اقدار اور تہذیبی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے بھی کامیابی کا آسمان چھوا جا سکتا ہے۔ رپورٹنگ کے مشکل ترین مراحل ہوں یا بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی، حیا کا دائرہ کبھی بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔
خود مختاری: حجاب کسی کمزوری کی نہیں بلکہ ایک مضبوط انتخاب کی علامت ہے۔
بااختیار خواتین: علم اور پختہ کردار وہ ہتھیار ہیں جو آپ کو دنیا میں منفرد بناتے ہیں۔
جدید تقاضے: ہم اپنی روایات کو عصری تقاضوں کے ساتھ جوڑ کر ایک باوقار معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ہونے والا حالیہ موازنہ دراصل ایک بدلتی ہوئی سوچ کی عکاسی ہے۔ لوگ اب گلیمر سے زیادہ جوہر کو اہمیت دے رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی خوبصورتی اور مہارت وہی ہے جو اپنی تہذیب کے دائرے میں رہ کر دنیا کو متاثر کر سکے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ترقی کا راستہ اپنی جڑوں کو کاٹنے میں نہیں، بلکہ انہیں مضبوط بنانے میں ہے۔ ایرانی صحافی کا یہ انداز تمام مسلم خواتین کے لیے ایک مثال ہے کہ آپ اپنے عقیدے اور وقار پر سمجھوتہ کیے بغیر بھی دنیا کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہیں۔

No comments:
Post a Comment