ٹوکیو سے کاماکورا تک : جاپان کا یادگار سفرنامہ
علینہ خان
یونیورسٹی کی سرد تعطیلات نے جب ہمیں بے فکری کا زرّیں پروانہ عطا کیا، تو ہماری پانچ سہیلیاں جو سیر و سیاحت کی شوقین ہیں، فوراً متحرک ہو گئیں۔ ہم، حسبِ روایت، اس جوش و خروش سے ذرا فاصلے پر کھڑے تھے نہ سوٹ کیس کھولنے کا شوق، نہ ٹرینوں کے نقشے سمجھنے کی خواہش۔ مگر جب فیصلہ کن جملہ سنایا گیا کہ"اگر ہم نہیں گئے تو پھر کوئی نہیں جائے گا" تو ہم بھی وہ تاریخی ہاں کہہ بیٹھے، جس پر بعد میں نہ صرف پچھتانا محال تھا بلکہ شکر ادا کرنا بھی لازم ٹھہرا۔یوں ہمارا قافلہ ٹوکیو کی گہما گہمی سے نکل کر جاپان کے دو مختلف مزاج کے شہروں Yokohama اور Kamakura کی جانب روانہ ہوا۔
ریل گاڑی میں قدم رکھتے ہی جاپان کے نظم و ضبط کا پہلا عملی مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ ٹرین اس قدر خاموش اور صاف ستھری تھی کہ ہمیں ایک دوسرے سے آہستہ بات کرتے ہوئے بھی ضمیر ملامت کرنے لگا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم کسی چلتی پھرتی لائبریری میں داخل ہو گئے ہوں، جہاں کھانسی بھی پیشگی اجازت کے بغیر کرنا بدتمیزی کے زمرے میں آتا ہے۔
یوکوہاما پہنچ کر ہم Cup Noodle Museum جا پہنچے۔ جاپانی ذہن کی داد دینی پڑتی ہے کہ انہوں نے فوری خوراک کو بھی تاریخ، جدت اور فن کا درجہ دے رکھا ہے۔ وہاں اپنا نوڈل کپ ڈیزائن کرتے ہوئے ہماری ایک سہیلی جو عام دنوں میں فیصلے سکہ اچھال کر کرتی ہے، اتنی سنجیدگی سے رنگوں کا انتخاب کر رہی تھی جیسے اپنا قومی پرچم تیار کر رہی ہو۔
اس کے بعد Yokohama Chinatown کا رخ کیا، جو ٹوکیو کی نفاست کے بیچ ایک خوش ذائقہ شورش معلوم ہوا۔ سستے اور لذیذ اسٹریٹ فوڈ نے ہمیں وقتی خوشی دی، اور پیٹ کو وہ سکون ملا جو اکثر مہنگے ریستوران بھی فراہم نہیں کر پاتے۔
شام کو Red Brick Warehouse کی جگمگاتی روشنیوں میں شاپنگ کی نوبت آئی، جہاں ہر چیز نہایت خوبصورت تھی اور قیمتیں نہایت شائستگی سے ہماری پہنچ سے باہر۔
اگلا دن Kamakura کے نام رہا۔ Kotoku-in میں موجود عظیم بدھا کو دیکھ کر واقعی احساس ہوا کہ سکون بھی کوئی شے ہوتی ہے۔ صدیوں پرانا یہ کانسی کا مجسمہ خاموشی سے ہمیں برداشت، ٹھہراؤ اور خاموش عظمت کا سبق دے رہا تھا۔
لیکن جیسے ہی روحانی کیفیت کچھ زیادہ گہری ہونے لگی، ہم فوراً Komachi-dori Street کی طرف لپکے، جہاں سوغاتیں اور رعایتیں ہمیں اپنی طرف بلا رہی تھیں۔
یہیں ایک تاریخی (اور ذرا شرمندہ کر دینے والا) واقعہ پیش آیا۔ ہماری ایک دوست نے Mochi خریدی، (موچی جاپان کی ایک روایتی مٹھائی ہے جو چاول کے خاص آٹے سے تیار کی جاتی ہے)۔ فوراً کھائی اور پھر کچرا پھینکنے کے لیے ڈسٹ بن کی تلاش شروع کر دی۔ تلاش ناکام ہوئی۔ ایک مقامی راہگیر نے مسکراتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے سمجھایا کہ
“یہاں ڈسٹ بن کم ہوتے ہیں، کچرا لوگ اپنے ساتھ گھر لے جاتے ہیں۔”
یوں وہ ننھا سا ریپر ہماری جیب میں چلا گیا، اور ہمیں جاپانی نظم و ضبط کا عملی سبق مل گیا جو شاید کسی کتاب سے نہ ملتا۔
بعد ازاں ہم Yuigahama Beach پہنچے، جہاں سرد ہوا اور بے چین لہریں دیکھ کر شہری ہنگامہ خیزی سے مکمل نجات کا احساس ہوا۔ نہ ہارن، نہ شور بس سمندر اور ہم۔
تیسرا دن ٹوکیو کے زیرِ زمین جال، یعنی سب وے، کے ذریعے ہوا۔ ہمارا پہلا حملہ Asakusa (Senso-ji Temple) پر ہوا، جہاں صبح کی 'کم بھیڑ' بھی ہمارے لیے ایک انسانی سیلاب ثابت ہوئی۔ وہاں ایک سہیلی نے مندر کے نذرانے کے ڈبے میں سکہ اچھالا جو ٹکرا کر باہر گرا، اور قریب کھڑی ایک جاپانی خاتون نے ہمیں ایسی نظروں سے گھورا جیسے ہم نے کوئی قومی توہین کر دی ہو۔
دوپہر کا کھانا ہم نے Ueno Park میں Konbini سے خریدی گئی سستی اشیاء سے نمٹایا۔ قریب ہی بیٹھے ایک جاپانی جوڑے کی کھانے میں نفاست اور سلیقے نے ہمیں شرمندہ کر دیا، جہاں ہم چھ افراد لُٹیرے معلوم ہو رہے تھے جو میدانِ جنگ میں کھانا ٹھونس رہے ہوں۔
شام کو Akihabara کی رنگین دنیا میں داخل ہوئے، جو اینیمی اور الیکٹرانکس کا ایک ایسا شوریدہ سر بازار تھا جہاں ہماری بصارت پر روشنیوں کی بمباری ہو رہی تھی۔
مزید پڑھیے: جاپان کے دیگر تاریخی شہروں کی سیر کے لیے علینہ خان کا یہ سفرنامہ ملاحظہ فرمائیں!👇👇
وہاں تصویر کھینچنے کی کوشش میں ہم چھ دوست بھیڑ کے دھارے میں لکڑی کے ٹکڑوں کی طرح بہہ گئے۔
اس دورے کا حتمی منظر Tokyo Metropolitan Govt Building (Shinjuku) سے دیکھا گیا، جہاں مفت میں پورے شہر کا Night View میسر تھا۔ بلندی سے جب ہم نے نیچے دیکھا تو یہ سارا ہنگامہ، سارا شور اور افراتفری ایک خوبصورت، دمکتے ہوئے ڈیزائن میں بدل چکا تھا۔ اس لمحے احساس ہوا کہ یہ ملک سچ مچ نظم و نسق، اور غیر معمولی خاموشی سے چلتا ہے۔
جاپان وہ جگہ ہے جہاں ہم نے سیکھا کہ زندگی کو 'تھوک کر' نہیں، بلکہ سلیقے اور فنکاری سے سنبھال کر گزارا جاتا ہے، خواہ وہ ایک نوڈل کا کپ ہی کیوں نہ ہو۔
جاپان کو ہم نے تنظیم و ترتیب کا عمدہ نمونہ، نفاست کا اوج کمال، اور باہمی احترام کا گہرا مظہر پایا۔ یہ وہ سرزمیں ہے جہاں کے باسی نہایت خاموشی اور سکون کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہوئے بھی دنیا کی ایک عظیم مشین کو کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ یہاں کا ہر شہری گویا ایک سلیقہ شعار نگہبان ہے، اور ٹیکنالوجی کے اس دیار میں بھی تہذیب و اخلاق کو سب سے ارفع مقام حاصل ہے۔
اور شاید سب سے اہم بات یہ کہ: کبھی کبھی سفر کا شوق نہ ہونا بھی مسئلہ نہیں بس صحیح دوست ہوں، تو یادگار کہانیاں خود چل کر زندگی میں آ جاتی ہیں۔


No comments:
Post a Comment