ارضِ فلسطین، جسے انبیاء کی سرزمین کہا جاتا ہے، آج ایک ایسی مقتل گاہ بن چکی ہے جہاں ہر قدم پر ایک نئی داستانِ غم جنم لیتی ہے۔ شمالی غزہ سے سامنے آنے والا حالیہ واقعہ محض ایک خبر نہیں بلکہ انسانی عزم، بے بسی اور خالقِ کائنات پر غیر متزلزل ایمان کی وہ انتہا ہے جس کی مثال عصرِ حاضر میں ملنا ناممکن ہے۔
ڈاکٹر مصطفیٰ نعیم کی زبانی ملنے والی یہ رپورٹ دل کو لہو کر دینے والی ہے۔ ایک زخمی غزاوی، جس کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے اپنی مٹی کو چھوڑنے سے انکار کر دیا، تین دن تک مسلسل زندگی اور موت کی کشمکش میں رہا۔ انخلا کے پرآشوب لمحات میں جب ہر طرف بارود کی بو اور اپنوں کی چیخیں تھیں، وہ شخص شدید زخمی حالت میں ایک درخت کے سائے تلے تنہا پڑا رہا۔
ذرا تصور کیجیے، تین دن تک جسم سے بہتا ہوا گرم لہو، پیاس سے خشک ہوتا حلق اور چاروں طرف موت کا سناٹا۔ نہ کوئی ایمبولینس پہنچی، نہ کوئی مسیحا آیا۔ دنیا کی تمام انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش رہیں اور وہ شخص اللہ کی وسیع زمین پر بالکل اکیلا رہ گیا۔
جب اس پیکرِ ہمت کو یقین ہو گیا کہ اب مدد کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں اور روح کا قفسِ عنصری سے رشتہ ٹوٹنے والا ہے، تو اس نے وہ کام کیا جو انسانی تاریخ میں شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔ اس نے اپنی باقی ماندہ ہمت کو مجتمع کیا، زمین کی مٹی کو ہٹایا اور اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر تیار کی۔
یہ منظر کتنا ہیبت ناک اور کتنا عظیم ہوگا کہ ایک مرتا ہوا انسان خود اپنی آخری آرام گاہ تیار کر رہا ہے۔ اس نے کسی اور کے کندھے کا انتظار نہیں کیا، کسی کفن دفن کا منتظر نہیں رہا، بلکہ خود کو اللہ کے سپرد کرنے کی تیاری خود ہی مکمل کر لی۔
اپنی قبر تیار کرنے کے بعد، اس مردِ مومن نے اپنی زندگی کا آخری اور سب سے خوبصورت عمل انجام دیا۔ وہ سجدے کی حالت میں اپنی بنائی ہوئی لحد میں اتر گیا۔ وہ سجدہ جو بندگی کی معراج ہے، وہی اس کی موت کا گواہ بن گیا۔ مہینوں بعد جب اس کا ڈھانچہ برآمد ہوا، تو وہ اسی سجدے کی حالت میں تھا، جیسے وہ اب بھی اپنے رب سے محوِ گفتگو ہو۔
اس داستان کا سب سے رقت آمیز پہلو وہ "انگوٹھی" ہے جو اس نے ایک ننھی شاخ سے دھاگے کے ذریعے لٹکا دی تھی۔ یہ انگوٹھی محض ایک زیور نہیں تھی، بلکہ اپنے اہل خانہ کے لیے ایک پیغام تھا:
"اگر تم کبھی لوٹ کر آؤ، تو یہاں رک جانا، تمہارا اپنا اسی مٹی کی آغوش میں تمہارا انتظار کر رہا ہے۔"
یہ انگوٹھی اس بات کی علامت ہے کہ ظلم جتنا بھی بڑھ جائے، فلسطینیوں کا اپنی زمین اور اپنے پیاروں سے تعلق کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔
غزہ کا یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ مادی طاقتیں کسی کا جسم تو ختم کر سکتی ہیں، لیکن اس کے ایمان اور حوصلے کو شکست نہیں دے سکتیں سجدے کی حالت میں ملنے والا وہ ڈھانچہ دنیا کے تمام جابروں کے لیے ایک پیغام ہے کہ حق کبھی مٹتا نہیں ہے۔ وہ شخص مٹی میں مل کر بھی امر ہو گیا، جبکہ خاموش تماشائی بنی دنیا تاریخ کے سیاہ صفحات میں گم ہو جائے گی۔
اللہ تعالیٰ تمام شہدائے فلسطین کے درجات بلند فرمائے اور ان کی قربانیوں کے طفیل ارضِ مقدس کو آزادی کی نعمت سے سرفراز کرے۔ آمین۔
علینہ خان

No comments:
Post a Comment