بے خواب راتیں اور تمہارا تخیل
آج پھر جب منطقۂ سکوت طاری ہوا، تو نیند کی بے رنگ دہلیز پر کسی بن بلائے مہمان کی چاپ سنائی دی۔
عجب طلسم ہے کہ جب دنیا بیدار ہوتی ہے تو میری جاں مضمحل ہو کر سکون کی متلاشی ہوتی ہے، مگر جب کائنات خوابِ خرگوش کے مزے لیتی ہے، تب میری پلکوں کی منڈیروں پر تمہارے خیال کے ان گنت ستارے ضوفشاں ہو جاتے ہیں۔
تمہارے التفات کا وہ خاص سکوت میری سماعتوں میں ایک ابدی نغمہ بن کر گونجتا ہے۔ میں نے اپنی بے خوابی کے ریشمی تاروں کو تمہاری یاد کے گہرے رنگوں میں پیوست کر دیا ہے۔
اب تو چشمِ تصور میں بھی کوئی منظر تب تک مکمل نہیں ہوتا، جب تک تمہاری خاموش آہٹ اس کی تزئین و آرائش نہ کر دے۔
تمہاری ادراک کے لیے عرض ہے کہ میرا 'آغوشِ نیند' میں جلد پناہ لینا، دراصل اس سفاک مادی دنیا سے فرار حاصل کر کے، تمہارے تخیل کے وسیع و عریض جزیرے میں قیام کرنا ہے۔
وہ جو ایک موہوم سی مسکراہٹ میرے لبوں پر نمودار ہوتی ہے، وہی میری پوری شب کا حاصلِ زیست ہے۔
خیر۔۔۔ خورشیدِ جہاں تاب نے افق پر دستک دے دی ہے، مگر میری صبحِ صادق تبھی طلوع ہوگی جب تم میرے ان تشنہ حروف کی حدت کو اپنے قلب میں محسوس کرو گے۔۔❤️
صبح بخیر، اے موسمِ جاں!
علینہ خان

No comments:
Post a Comment