عید ادبی مقابلہ: خصوصی تحریر
از قلم: عامر عباس ناصر اعوان
عیدِ قربان سے تین دن پہلے ہی ہمارے گھر کا ماحول ایسا ہو جاتا ہے، جیسے اقوامِ متحدہ کا ہنگامی اجلاس چل رہا ہو۔ ابو کیلکولیٹر لے کر بیٹھ جاتے ہیں، امی ہر پانچ منٹ بعد کہتی ہیں، "دیکھ لینا! اس بار قصائی پچھلے سال سے بھی زیادہ لوٹے گا۔"
اور ہمارا چھوٹا بھائی حماد ہر گلی میں جا جا کر اعلان کرتا پھرتا، "اس بار ہم دیوہیکل بکرا لیں گے… ایسا کہ محلے والے تصویریں بنائیں گے!"
ابو نے ایک دن غصے سے کہا، "بیٹا! ہم قربانی کر رہے ہیں، چڑیا گھر نہیں کھول رہے۔"
بالآخر وہ تاریخی دن آ پہنچا، جب ہم مویشی منڈی روانہ ہوئے۔ جیسے ہی منڈی میں داخل ہوئے، تو یوں لگا جیسے پورا پاکستان اپنے اپنے بکرے کے ساتھ وہیں منتقل ہو گیا ہو۔ کہیں بکرا مالک کو گھسیٹ رہا تھا، کہیں مالک بکرے کو۔ ایک بچہ روتے ہوئے چلا رہا تھا، "امی! یہ اونٹ مجھے آنکھیں دکھا رہا ہے!"
ادھر ایک موٹا سا بکرا ایک چاچا کے پیچھے اس انداز میں دوڑ رہا تھا، جیسے پچھلے جنم کا قرض لینا ہو۔ منڈی میں داخل ہوتے ہی ایک بیوپاری ہم پر جھپٹا، "آ جاؤ جی! ایسا بکرا ہے کہ دودھ بھی دیتا ہے!"
ابو حیران ہوئے، "بھائی، بکرا دودھ دیتا ہے؟"
وہ فوراً بولا، "نہیں جی… لیکن محبت بہت دیتا ہے!"
ہم آگے بڑھے، تو ایک اور بیوپاری نے بکرے کی تعریفوں کے پل باندھنے شروع کر دیے، "یہ بکرا صبح نہا کر نکلتا ہے، صرف منرل واٹر پیتا ہے، اور رات کو پنکھے کے بغیر نہیں سوتا!"
ابو نے فوراً کہا، "پھر اسے کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں رکھ دو، ہمارے گھر کیوں بھیج رہے ہو؟"
حماد کو ایک سیاہ رنگ کا بکرا پسند آ گیا۔ وہ بڑے پیار سے اس کے قریب گیا اور بولا، "آ جا میرے شیر!"
بکرے نے جواب میں ایسا زوردار ٹکر ماری کہ حماد سیدھا ایک بھینس کے آگے جا گرا۔ بھینس نے اسے ایسے دیکھا، جیسے کہہ رہی ہو، "پتر! اپنی اوقات میں رہ!"
پورا خاندان ہنستے ہنستے دوہرا ہو گیا، مگر حماد بڑی سنجیدگی سے اٹھا اور بولا، "یہ بکرا نہیں، دہشت گرد ہے۔"
کافی دیر بعد ایک موٹا تازہ سفید بکرا پسند آ گیا۔ اُس کی چال دیکھ کر لگتا تھا، جیسے منڈی اُس کے دادا کی ہو۔ قیمت پوچھی گئی۔ بیوپاری نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا، "صرف ایک لاکھ تئیس ہزار!"
یہ سن کر ابو کو ہلکا سا چکر آیا۔ انہوں نے پانی مانگا، پھر بولے، "بھائی! اتنے میں تو ہم چھوٹا موٹا کاروبار شروع کر لیں۔"
بیوپاری فوراً بولا، "لیکن یہ عام بکرا نہیں!"
ابو نے پوچھا، "کیا یہ رات کو چوکیداری بھی کرتا ہے؟"
آخر دو گھنٹے کی بحث، تین بار جانے کی ایکٹنگ، چار مرتبہ "آخری ریٹ" اور پانچ دفعہ "ہم تو غریب لوگ ہیں" کہنے کے بعد سودا طے پایا۔
گھر پہنچتے ہی بکرے کا استقبال ایسے ہوا، جیسے کوئی سیاستدان الیکشن جیت کر آیا ہو۔ محلے کے بچے سیلفیاں لینے لگے۔ ایک بچہ بولا، "انکل! اس کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہے؟"
حماد نے فوراً بکرے کا نام رکھا، "سر ٹکرا خان!"
اصل قیامت عید والے دن ٹوٹی۔ قصائی صاحب کو صبح سات بجے آنا تھا۔ سات بجے فون کیا، "بس جی، پہنچ رہا ہوں!"
نو بجے، "بس جی، گلی میں ہوں!"
گیارہ بجے، "بس جی، محلے میں داخل ہو گیا ہوں!"
بارہ بجے پتا چلا کہ وہ ابھی دوسرے علاقے میں ہیں۔ ابو غصے سے بولے، "بھائی! تم پیدل آ رہے ہو یا ترکی سے ہجرت کر کے؟"
آخرکار دوپہر کو قصائی صاحب تشریف لائے۔ ہاتھ میں چھری، کندھے پر تولیہ اور چہرے پر ایسا غرور، جیسے دل کا آپریشن کرنے آئے ہوں۔ آتے ہی بولے، "جانور کہاں ہے؟ جلدی کرو، آج بہت رش ہے!"
ابھی ہم نے سکھ کا سانس لیا ہی تھا کہ انہوں نے اگلا وار کیا، "لیکن ریٹ ڈبل ہوگا!"
ابو کی آنکھیں کھل گئیں، "کیوں؟"
قصائی سکون سے بولا، "عید سپیشل چارجز!"
حماد آہستہ سے بولا، "لگتا ہے قصائی نہیں، آن لائن ٹیکسی سروس ہے۔"
جیسے ہی قصائی نے "سر ٹکرا خان" کو پکڑنے کی کوشش کی، اُس نے آزادی مارچ شروع کر دیا۔ وہ رسی تڑا کر بھاگا… پیچھے قصائی… پھر ابو… پھر میں… پھر پورا محلہ! ایک چاچا جوش میں دیوار پھلانگنے لگے، مگر دوسری طرف جا کر مرغیوں کے ڈربے میں گر گئے۔ ایک آنٹی چھت سے چلا رہی تھیں، "پہلے اسے دائیں سے گھیرو!"
ایسا لگ رہا تھا، جیسے پولیس مقابلہ چل رہا ہو۔ آخر چار نوجوانوں نے بڑی مشکل سے بکرے کو قابو کیا۔ قصائی صاحب ہانپتے ہوئے بولے، "قسم سے! اگر یہ اولمپکس میں ہوتا، تو گولڈ میڈل لے آتا!"
قربانی کے بعد گوشت تقسیم ہونے لگا، تو ایک نیا فساد کھڑا ہو گیا۔ ایک خالہ ناراض، "ہمیں چربی زیادہ ملی ہے!"
دوسری بولیں، "ہمارے حصے میں تو صرف ہڈیاں ہیں!"
تیسری نے گوشت ہاتھ میں پکڑ کر فرمایا، "یہ ران ہے یا پزل؟"
امی بیچاری دونوں ہاتھ اٹھا کر بولیں، "یا اللہ! یہ قربانی ہے یا کورٹ کیس؟"
شام تک گھر والے ایسے تھک چکے تھے، جیسے پورا سال کھیتی باڑی کر کے آئے ہوں، مگر ہنسی ختم نہیں ہو رہی تھی۔ حماد اب بھی سب کو اپنی "بہادری" سنا رہا تھا، حالانکہ حقیقت میں پورا محلہ اُسے "بھوسہ کمانڈر" کا خطاب دے چکا تھا۔
اور قصائی صاحب جاتے جاتے کہہ گئے، "اگلے سال کی بکنگ ابھی کرا لو!"
ابو نے فوراً جواب دیا، "بھائی، پہلے اس سال کا صدمہ تو بھول لینے دو!"


No comments:
Post a Comment