![]() |
| عید ادبی مقابلہ: خصوصی تحریر |
عنوان: قصائی کے نخرے اور منڈی کے رولے
از قلم: ارم کاشف
کہتے ہیں عیدِ قربان سے چند دن پہلے "منڈی کے رولے" اور عید کے دن "قصائی کے نخرے" دیکھ کر لگتا ہے کہ انسان کے صبر کا امتحان اسی دنیا میں شروع ہو چکا ہے۔
قصہ شروع ہوتا ہے عید سے ایک ہفتہ پہلے جب میرے شوہر کاشف اور ان کے تینوں چھوٹے بھائی، عامر، قیصر اور فرخ۔
کسی بین الاقوامی مشن پر نکلنے والے کمانڈوز کی طرح چہروں پر سنجیدگی سجائے "مویشی منڈی" کا رخ کرتے ہیں۔ وہاں تین دن کی ذلت، جوتیاں چٹخانے اور بیوپاریوں کے نخرے جھیلنے کے بعد جب ایک عدد فربہ اور تگڑا بکرا گھر لایا گیا تو لگا چاروں نے کوئی جنگ فتح کر لی ہے۔ مگر اصل فلم تو ابھی عید کے دن چلنی تھی۔
عید کی صبح نماز پڑھ کر جیسے ہی سب گھر پہنچے، "آپریشن قصائی" کا انتظار شروع ہو گیا۔ کاشف نے مہینہ پہلے جس قصائی کو بک کیا تھا، وہ عید کی صبح موبائل بند کر کے روپوش ہو چکا تھا۔ دوپہر کا ایک بج گیا، گلی کا چکر لگایا تو معلوم ہوا کہ عید کے دن قصائی کا ملنا اور امریکہ کا ویزا ملنا برابر ہے۔ جو اناڑی ہاتھ میں چھری پکڑے گھوم رہا تھا، وہ بھی ایسے دام مانگ رہا تھا جیسے بکرے کے ساتھ اپنی جائیداد بھی ہمارے نام کر دے گا۔
جب مایوسی حد سے بڑھ گئی تو سب سے بڑے ہونے کے ناطے کاشف نے آستینیں چڑھائیں، بھائیوں پر رعب جمایا اور تاریخی جملہ بولا: "جب تک تمھارا بڑا بھائی زندہ ہے، کسی قصائی کی ضرورت نہیں! آج ہم خود ہسٹری بنائیں گے!" بس پھر کیا تھا، کاشف کے حکم پر عامر اور قیصر نے فوراً کچن کا رخ کیا، گھر میں موجود پرانی چھریاں نکالیں اور صحن کے فرش پر رگڑ رگڑ کر انہیں تیز کرنے لگے۔ چھریاں تیز کیا ہو رہی تھیں، یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کسی تلوار بازی کے مقابلے کی تیاری کر رہے ہوں۔ دوسری طرف سب سے چھوٹے بھائی فرخ نے موبائل پر گھر کا وائی فائی کنیکٹ کیا اور یوٹیوب پر "How to Qurbani a Bakra in 5 Minutes" سرچ کر لیا۔
یوٹیوب کی اس لائیو کلاس میں کاشف بطور "پروفیسر" اور باقی تینوں بھائی "میڈیکل اسٹوڈنٹس" کی طرح سنجیدہ بیٹھے تھے۔ بکرے کو جب صحن میں لایا گیا تو وہ بھی ان چاروں اناڑیوں کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ آج اس کی جان کے ساتھ عزت بھی خطرے میں ہے۔
یوٹیوب ویڈیو پلے ہوئی جہاں ایک دیسی یوٹیوبر بڑی محبت سے سکھا رہا تھا: "ناظرین! سب سے پہلے جانور کو پیار سے لٹائیں..." کاشف نے کمانڈ سنبھالی: "عامر، قیصر! چلو بھئی، پکڑو اسے!" چاروں بھائیوں نے بکرے پر ایسا ہلہ بولا جیسے ریسلر کو رنگ میں چت کر رہے ہوں۔ بکرا بھی بلا کا چست تھا، اس نے ایک ایسی زنانی لات ماری کہ سب سے چھوٹا فرخ سیدھا جا کر پودوں کے گملوں میں گرا۔ خیر، کاشف کی قیادت میں چاروں نے مل کر بکرے پر قابو پایا اور بڑی مشکل سے قربانی کا پہلا مرحلہ پار کر لیا۔
اصل رولا تو اب شروع ہونا تھا، یعنی کھال اتارنا! یوٹیوب پر وہ دیسی استاد بڑی صفائی سے دو منٹ میں کھال الگ کر کے دکھا رہا تھا، یہاں مین کٹ کاشف لگا رہے تھے، عامر اور قیصر گوشت سنبھال رہے تھے اور کھال فرخ زور لگا کر کھینچ رہا تھا۔ کھال کیا اتر رہی تھی، لگ رہا تھا جیسے بکرے کے جسم پر نقشہِ پاکستان بنایا جا رہا ہو۔ ہر دو منٹ بعد ویڈیو کو پاز (Pause) کیا جاتا، کاشف سب کو سکرین دکھاتے، بحث ہوتی اور پھر چھری چلنے لگتی۔ ایک لمحہ تو ایسا آیا جب کاشف نے پوچھا: "یار فرخ! اس یوٹیوبر نے اگلا کٹ ران پر لگایا تھا یا گردن پر؟" فرخ نے معصومیت سے جواب دیا: "بھائی جان! صحن میں وائی فائی کے سگنل کم آ رہے ہیں، ویڈیو اچھل اچھل کر چل رہی ہے، آپ بڑے ہیں، اپنے اندازے سے کٹ لگا دیں!"
بڑے بھائی کے اندازے سے جو کٹ لگے اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قیمے کی بوٹی کو ران کا گوشت بنا دیا گیا اور ران کو چھیل کر ہڈی باہر نکال دی گئی۔ گوشت کٹتے کٹتے شام کے پانچ بج گئے۔ چاروں بھائی نڈھال، کپڑے خون اور پسینے سے شرابور اور صحن کا یہ حال تھا جیسے وہاں کوئی جنگِ عظیم لڑی گئی ہو۔ دیواروں کے اوپر سے محلے دار جھانک جھانک کر مفت کے مشورے ایسے دے رہے تھے جیسے کرکٹ میچ کا لائیو تبصرہ چل رہا ہو۔
شام کو جب گوشت کے پیکٹ بن رہے تھے تو کاشف نے تھکے ہارے لیکن فاتحانہ لہجے میں کہا: "دیکھا! قصائی کے نخرے جھیلنے اور ہزاروں روپے دینے سے تو بچ گئے نا!" اس پر سب سے چھوٹے بھائی فرخ نے اپنے دکھتے ہوئے کندھے پر ہاتھ رکھا، باہر گلی میں لگی محلے داروں کی بھیڑ کی طرف دیکھا اور دھیرے سے بولا: "بھائی جان! قصائی کے پیسے تو بچ گئے، لیکن کاش آج ہم نے اس پورے آپریشن کا یوٹیوب وی لاگ (Vlog) بنا لیا ہوتا... محلے والوں نے جس طرح ہم چاروں بھائیوں کی لائیو کامیڈی دیکھی ہے نا، اگر یہ انٹرنیٹ پر چلی جاتی تو پکا ملین میں ویوز ہٹ کرتی اور ہم راتوں رات وائرل ہو جاتے!"
منڈی کے رولوں سے لے کر یوٹیوب کی اس دیسی سرجری تک، عیدِ قربان کا یہ وہ سحر انگیز سفر تھا جس نے ہمیں سکھا دیا کہ قربانی صرف جانور کی نہیں، بلکہ اپنے صبر، محلے داروں کے سامنے اپنی عزت اور چاروں بھائیوں کی کمر کی بھی کرنی پڑتی ہے!
از قلم: ارم کاشف
کہتے ہیں عیدِ قربان سے چند دن پہلے "منڈی کے رولے" اور عید کے دن "قصائی کے نخرے" دیکھ کر لگتا ہے کہ انسان کے صبر کا امتحان اسی دنیا میں شروع ہو چکا ہے۔
قصہ شروع ہوتا ہے عید سے ایک ہفتہ پہلے جب میرے شوہر کاشف اور ان کے تینوں چھوٹے بھائی، عامر، قیصر اور فرخ۔
کسی بین الاقوامی مشن پر نکلنے والے کمانڈوز کی طرح چہروں پر سنجیدگی سجائے "مویشی منڈی" کا رخ کرتے ہیں۔ وہاں تین دن کی ذلت، جوتیاں چٹخانے اور بیوپاریوں کے نخرے جھیلنے کے بعد جب ایک عدد فربہ اور تگڑا بکرا گھر لایا گیا تو لگا چاروں نے کوئی جنگ فتح کر لی ہے۔ مگر اصل فلم تو ابھی عید کے دن چلنی تھی۔
عید کی صبح نماز پڑھ کر جیسے ہی سب گھر پہنچے، "آپریشن قصائی" کا انتظار شروع ہو گیا۔ کاشف نے مہینہ پہلے جس قصائی کو بک کیا تھا، وہ عید کی صبح موبائل بند کر کے روپوش ہو چکا تھا۔ دوپہر کا ایک بج گیا، گلی کا چکر لگایا تو معلوم ہوا کہ عید کے دن قصائی کا ملنا اور امریکہ کا ویزا ملنا برابر ہے۔ جو اناڑی ہاتھ میں چھری پکڑے گھوم رہا تھا، وہ بھی ایسے دام مانگ رہا تھا جیسے بکرے کے ساتھ اپنی جائیداد بھی ہمارے نام کر دے گا۔
جب مایوسی حد سے بڑھ گئی تو سب سے بڑے ہونے کے ناطے کاشف نے آستینیں چڑھائیں، بھائیوں پر رعب جمایا اور تاریخی جملہ بولا: "جب تک تمھارا بڑا بھائی زندہ ہے، کسی قصائی کی ضرورت نہیں! آج ہم خود ہسٹری بنائیں گے!" بس پھر کیا تھا، کاشف کے حکم پر عامر اور قیصر نے فوراً کچن کا رخ کیا، گھر میں موجود پرانی چھریاں نکالیں اور صحن کے فرش پر رگڑ رگڑ کر انہیں تیز کرنے لگے۔ چھریاں تیز کیا ہو رہی تھیں، یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کسی تلوار بازی کے مقابلے کی تیاری کر رہے ہوں۔ دوسری طرف سب سے چھوٹے بھائی فرخ نے موبائل پر گھر کا وائی فائی کنیکٹ کیا اور یوٹیوب پر "How to Qurbani a Bakra in 5 Minutes" سرچ کر لیا۔
یوٹیوب کی اس لائیو کلاس میں کاشف بطور "پروفیسر" اور باقی تینوں بھائی "میڈیکل اسٹوڈنٹس" کی طرح سنجیدہ بیٹھے تھے۔ بکرے کو جب صحن میں لایا گیا تو وہ بھی ان چاروں اناڑیوں کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ آج اس کی جان کے ساتھ عزت بھی خطرے میں ہے۔
یوٹیوب ویڈیو پلے ہوئی جہاں ایک دیسی یوٹیوبر بڑی محبت سے سکھا رہا تھا: "ناظرین! سب سے پہلے جانور کو پیار سے لٹائیں..." کاشف نے کمانڈ سنبھالی: "عامر، قیصر! چلو بھئی، پکڑو اسے!" چاروں بھائیوں نے بکرے پر ایسا ہلہ بولا جیسے ریسلر کو رنگ میں چت کر رہے ہوں۔ بکرا بھی بلا کا چست تھا، اس نے ایک ایسی زنانی لات ماری کہ سب سے چھوٹا فرخ سیدھا جا کر پودوں کے گملوں میں گرا۔ خیر، کاشف کی قیادت میں چاروں نے مل کر بکرے پر قابو پایا اور بڑی مشکل سے قربانی کا پہلا مرحلہ پار کر لیا۔
اصل رولا تو اب شروع ہونا تھا، یعنی کھال اتارنا! یوٹیوب پر وہ دیسی استاد بڑی صفائی سے دو منٹ میں کھال الگ کر کے دکھا رہا تھا، یہاں مین کٹ کاشف لگا رہے تھے، عامر اور قیصر گوشت سنبھال رہے تھے اور کھال فرخ زور لگا کر کھینچ رہا تھا۔ کھال کیا اتر رہی تھی، لگ رہا تھا جیسے بکرے کے جسم پر نقشہِ پاکستان بنایا جا رہا ہو۔ ہر دو منٹ بعد ویڈیو کو پاز (Pause) کیا جاتا، کاشف سب کو سکرین دکھاتے، بحث ہوتی اور پھر چھری چلنے لگتی۔ ایک لمحہ تو ایسا آیا جب کاشف نے پوچھا: "یار فرخ! اس یوٹیوبر نے اگلا کٹ ران پر لگایا تھا یا گردن پر؟" فرخ نے معصومیت سے جواب دیا: "بھائی جان! صحن میں وائی فائی کے سگنل کم آ رہے ہیں، ویڈیو اچھل اچھل کر چل رہی ہے، آپ بڑے ہیں، اپنے اندازے سے کٹ لگا دیں!"
بڑے بھائی کے اندازے سے جو کٹ لگے اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قیمے کی بوٹی کو ران کا گوشت بنا دیا گیا اور ران کو چھیل کر ہڈی باہر نکال دی گئی۔ گوشت کٹتے کٹتے شام کے پانچ بج گئے۔ چاروں بھائی نڈھال، کپڑے خون اور پسینے سے شرابور اور صحن کا یہ حال تھا جیسے وہاں کوئی جنگِ عظیم لڑی گئی ہو۔ دیواروں کے اوپر سے محلے دار جھانک جھانک کر مفت کے مشورے ایسے دے رہے تھے جیسے کرکٹ میچ کا لائیو تبصرہ چل رہا ہو۔
شام کو جب گوشت کے پیکٹ بن رہے تھے تو کاشف نے تھکے ہارے لیکن فاتحانہ لہجے میں کہا: "دیکھا! قصائی کے نخرے جھیلنے اور ہزاروں روپے دینے سے تو بچ گئے نا!" اس پر سب سے چھوٹے بھائی فرخ نے اپنے دکھتے ہوئے کندھے پر ہاتھ رکھا، باہر گلی میں لگی محلے داروں کی بھیڑ کی طرف دیکھا اور دھیرے سے بولا: "بھائی جان! قصائی کے پیسے تو بچ گئے، لیکن کاش آج ہم نے اس پورے آپریشن کا یوٹیوب وی لاگ (Vlog) بنا لیا ہوتا... محلے والوں نے جس طرح ہم چاروں بھائیوں کی لائیو کامیڈی دیکھی ہے نا، اگر یہ انٹرنیٹ پر چلی جاتی تو پکا ملین میں ویوز ہٹ کرتی اور ہم راتوں رات وائرل ہو جاتے!"
منڈی کے رولوں سے لے کر یوٹیوب کی اس دیسی سرجری تک، عیدِ قربان کا یہ وہ سحر انگیز سفر تھا جس نے ہمیں سکھا دیا کہ قربانی صرف جانور کی نہیں، بلکہ اپنے صبر، محلے داروں کے سامنے اپنی عزت اور چاروں بھائیوں کی کمر کی بھی کرنی پڑتی ہے!


No comments:
Post a Comment