اسلام آباد کی سیشن عدالت نے چترال کی بیٹی ثنا یوسف کے قاتل عمر حیات کو سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے...
ثنا یوسف قتل کیس کا عدالتی فیصلہ محض ایک مجرم کو سزا
ملنے کا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ اس معاشرتی رویے کے خلاف ایک اہم سنگ میل ہے جہاں
کسی انسان بالخصوص ایک عورت کے انکار کو انا کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے۔
اسلام آباد کی سیشن عدالت کے فاضل جج افضل مجوکہ نے مجرم عمر حیات کو سزائے موت اور مجموعی طور پر بیس سال قید مع جرمانے کی سزا سنا کر قانون کی بالادستی کو قائم کیا ہے یہ فیصلہ اس بات کی گواہی ہے کہ مظلوم کی آواز بھلے ہی دبا دی جائے مگر انصاف کے ایوانوں میں اس کی گونج دیر تک سنائی دیتی ہے۔
چترال کی وادی چوئنج سے تعلق رکھنے والی سترہ سالہ ثنا یوسف جو اپنی مسکراہٹ اور منفرد انداز کی وجہ سے سوشل میڈیا پر لاکھوں دلوں کی دھڑکن تھی دو جون دو ہزار پچیس کو اسلام آباد کے سیکٹر جی تیرہ میں بے رحمی سے قتل کر دی گئی اس کا واحد قصور یہ تھا کہ اس نے اپنی زندگی اپنے فیصلوں اور اپنی آزادی کا تحفظ کرتے ہوئے ایک اجنبی کی اصرار پر مبنی دوستی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
تحقیقات کے مطابق مجرم عمر حیات فیصل آباد سے صرف اپنی انا کی تسکین اور زبردستی اپنی بات منوانے کے لیے اسلام آباد پہنچا تھا ثنا کی سترہویں سالگرہ کا دن جو خوشیوں اور قہقہوں کا ہونا چاہیے تھا اس معصوم لڑکی نے خوف اور اضطراب کے سائے میں گزارا جہاں وہ فون پر ایک جنونی شخص کو ٹالنے کی کوشش کرتی رہی اور بالآخر دو جون کی شام اس وحشت نے ایک ابھرتے ہوئے ستارے کو ہمیشہ کے لیے گل کر دیا۔
اس کیس کے دوران انصاف کا سفر آسان نہیں تھا پولیس نے تین سو سے زائد فون کالز کے تکنیکی تجزیے اور جڑانوالہ و فیصل آباد میں مسلسل چھاپوں کے بعد ملزم کو گرفتار کیا عدالت میں ٹرائل کو طول دینے اور جج پر بے بنیاد الزامات عائد کر کے کیس کو دوسری عدالت منتقل کرنے کی قانونی حربوں کی صورت میں ہر ممکن کوشش کی گئی تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ نے ان رکاوٹوں کو انصاف کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا سب سے دلخراش اور بہادرانہ منظر وہ تھا جب ثنا یو سف کے والدین اور پھوپھو نے عدالت کے روبرو کھڑے ہو کر گواہی دی ایک ماں کے لیے اپنی بیٹی کے قاتل کے سامنے حوصلے سے کھڑے ہونا اور حق کا بیان دینا یقینا ایک مبر مژدہ ہے جس کی بدولت اکتیس میں سے ستائیس اہم گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوئے اور کیس منطقی انجام تک پہنچا۔
عدالتی فیصلے کے بعد ثنا یوسف کی والدہ کے یہ الفاظ کہ ہمیں انصاف مل گیا ہے اور وہ عدالتی فیصلے پر مطمئن ہیں اس طویل قانونی اور اعصابی جنگ کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں مگر اس اطمینان کے باوجود ایک تلخ حقیقت ہمارے سامنے کھڑی ہے ثنا یوسف تو رخصت ہو گئی اور اس کا قاتل اپنے انجام کو پہنچ گیا لیکن یہ کہانی صرف ایک فرد کی نہیں ہے یہ ہمارے اردگرد موجود اس مائنڈ سیٹ کی عکاس ہے جہاں نا سننے کا حوصلہ مفقود ہو چکا ہے۔
معاشرے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی انسان کا انکار اس کا بنیادی حق ہے اور اس حق کا احترام ہر تہذیب کا پہلا اصول ہے قانون نے اپنا فرض نبھا دیا ہے۔ اب باری معاشرے کی ہے کہ وہ ایسے جنونی رویوں کی حوصلہ شکنی کرے تاکہ مستقبل میں کسی اور ثنا یوسف کو محض نا کہنے کی پاداش میں اپنی جان کا نذرانہ نہ دینا پڑے۔
علینہ خان
اسلام آباد کی سیشن عدالت کے فاضل جج افضل مجوکہ نے مجرم عمر حیات کو سزائے موت اور مجموعی طور پر بیس سال قید مع جرمانے کی سزا سنا کر قانون کی بالادستی کو قائم کیا ہے یہ فیصلہ اس بات کی گواہی ہے کہ مظلوم کی آواز بھلے ہی دبا دی جائے مگر انصاف کے ایوانوں میں اس کی گونج دیر تک سنائی دیتی ہے۔
چترال کی وادی چوئنج سے تعلق رکھنے والی سترہ سالہ ثنا یوسف جو اپنی مسکراہٹ اور منفرد انداز کی وجہ سے سوشل میڈیا پر لاکھوں دلوں کی دھڑکن تھی دو جون دو ہزار پچیس کو اسلام آباد کے سیکٹر جی تیرہ میں بے رحمی سے قتل کر دی گئی اس کا واحد قصور یہ تھا کہ اس نے اپنی زندگی اپنے فیصلوں اور اپنی آزادی کا تحفظ کرتے ہوئے ایک اجنبی کی اصرار پر مبنی دوستی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
تحقیقات کے مطابق مجرم عمر حیات فیصل آباد سے صرف اپنی انا کی تسکین اور زبردستی اپنی بات منوانے کے لیے اسلام آباد پہنچا تھا ثنا کی سترہویں سالگرہ کا دن جو خوشیوں اور قہقہوں کا ہونا چاہیے تھا اس معصوم لڑکی نے خوف اور اضطراب کے سائے میں گزارا جہاں وہ فون پر ایک جنونی شخص کو ٹالنے کی کوشش کرتی رہی اور بالآخر دو جون کی شام اس وحشت نے ایک ابھرتے ہوئے ستارے کو ہمیشہ کے لیے گل کر دیا۔
اس کیس کے دوران انصاف کا سفر آسان نہیں تھا پولیس نے تین سو سے زائد فون کالز کے تکنیکی تجزیے اور جڑانوالہ و فیصل آباد میں مسلسل چھاپوں کے بعد ملزم کو گرفتار کیا عدالت میں ٹرائل کو طول دینے اور جج پر بے بنیاد الزامات عائد کر کے کیس کو دوسری عدالت منتقل کرنے کی قانونی حربوں کی صورت میں ہر ممکن کوشش کی گئی تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ نے ان رکاوٹوں کو انصاف کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا سب سے دلخراش اور بہادرانہ منظر وہ تھا جب ثنا یو سف کے والدین اور پھوپھو نے عدالت کے روبرو کھڑے ہو کر گواہی دی ایک ماں کے لیے اپنی بیٹی کے قاتل کے سامنے حوصلے سے کھڑے ہونا اور حق کا بیان دینا یقینا ایک مبر مژدہ ہے جس کی بدولت اکتیس میں سے ستائیس اہم گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوئے اور کیس منطقی انجام تک پہنچا۔
عدالتی فیصلے کے بعد ثنا یوسف کی والدہ کے یہ الفاظ کہ ہمیں انصاف مل گیا ہے اور وہ عدالتی فیصلے پر مطمئن ہیں اس طویل قانونی اور اعصابی جنگ کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں مگر اس اطمینان کے باوجود ایک تلخ حقیقت ہمارے سامنے کھڑی ہے ثنا یوسف تو رخصت ہو گئی اور اس کا قاتل اپنے انجام کو پہنچ گیا لیکن یہ کہانی صرف ایک فرد کی نہیں ہے یہ ہمارے اردگرد موجود اس مائنڈ سیٹ کی عکاس ہے جہاں نا سننے کا حوصلہ مفقود ہو چکا ہے۔
معاشرے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی انسان کا انکار اس کا بنیادی حق ہے اور اس حق کا احترام ہر تہذیب کا پہلا اصول ہے قانون نے اپنا فرض نبھا دیا ہے۔ اب باری معاشرے کی ہے کہ وہ ایسے جنونی رویوں کی حوصلہ شکنی کرے تاکہ مستقبل میں کسی اور ثنا یوسف کو محض نا کہنے کی پاداش میں اپنی جان کا نذرانہ نہ دینا پڑے۔
علینہ خان

No comments:
Post a Comment