زندہ دفن بیٹی
![]() |
| علینہ خان کی تحریر "زندہ دفن بیٹی" — ایک دردناک اردو کہانی، صرف ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل پر۔ |
علینہ خان
"تم نے کبھی اپنی ماں کو زندہ دفن ہوتے دیکھا ہے…؟" یہ سوال میں نے پوچھا نہیں تھا، یہ میری روح کے اندر کسی نے چِلّا کر کہا تھا؛ جب امی نے ہنستے ہوئے میری شادی کی تاریخ طے کرنے کی بات کی۔ میرا نام ثمینہ نہیں، راحت ہے اور یہ کہانی میرے نصیب کی دہلیز پر کھڑی ایک ایسی رخصت کی ہے، جس نے مجھے زندہ رہتے ہوئے بھی ختم کر دیا۔
میری بڑی بہن عفت تھی، جسے ہم پیار سے 'بَبّو' کہتے تھے۔ وہ پڑھی لکھی نہیں تھی، جبکہ میں دسویں تک پڑھنے کے بعد گھر بٹھا دی گئی۔ بَبّو کو پڑوس کے لڑکے سلمان سے بے پناہ محبت تھی۔ سلمان بھی اس پر جان چھڑکتا تھا۔ دونوں کا آنا جانا کب کا تھا، لیکن ہمارے سخت گیر ابا کی نظر میں یہ سب گناہ تھا۔ میں ہی ان کی ڈاکیہ تھی؛ محبت بھرے خطوط میں چھپا کر لے جاتی اور عفت کا جواب سلمان کو پہنچا آتی۔ ان کی خفیہ محبت کی گواہ اور رازدار، میں تھی۔
عفت کی شادی جب بڑی مشکل سے سلمان سے طے ہوئی، تو گھر میں جیسے عید کا چاند اترا تھا؛ مگر اس کی رخصتی کے بعد بھی ایک عجیب سنّاٹا رہا۔ ایک ایسا خالی پن، جو بتاتا تھا کہ میری زندگی کا واحد ایڈونچر ختم ہو چکا ہے۔ اب کون آئے گا جس کے لیے میں چھپ کر خط لکھوں؟ وہیں میرے دل میں ایک خواہش نے انگڑائی لی: کاش کوئی مجھے بھی ایسی نظروں سے ڈھونڈتا جو معصوم اور بے چین ہوتی ہیں!
ان دنوں محلے میں ایک نئے کرایہ دار آئے۔ ان کا بیٹا، شہریار، اپنی آنکھوں میں سمندر اور ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے ہر شام گلی میں کھڑا ہوتا تھا۔ پہلی نظر میں اس نے میری طرف دیکھا اور میں نے جان لیا کہ قدرت نے میرا رازدار بھیج دیا ہے۔ بس پھر کیا تھا! گلی کی تنگ سی راہداری ہمارا پوسٹ آفس بن گئی۔ میں کھڑکی سے ایک کاغذ کا ٹکڑا گرا دیتی اور وہ اپنا جواب پتھر میں لپیٹ کر میرے آنگن میں پھینک دیتا۔
لیکن قسمت کو شاید میرا یہ چھوٹا سا جہاں بھی منظور نہیں تھا۔ ایک دن اس کی ماں نے مجھے جھانکتے دیکھ لیا۔ امی کو شکایت ہوئی اور یہ شکایت طوفان بن کر آئی۔ ابا کو پتا چل گیا اور میرے جسم پر بیلٹ کے نشان پڑ گئے۔ گھر کی چار دیواری اور بھی تنگ ہو گئی۔
دو سال گزر گئے۔ شہریار ایک بڑے بینکر کے طور پر واپس آیا، تو میری امی کے دل میں لالچ اور پچھتاوا دونوں جاگے؛ لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس کی شادی کی تقریب کا کارڈ آیا، تو میں نے اسے پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اس کی محفل سجی ہوگی، لوگ رقص کریں گے اور میں اپنی سانسوں کی راکھ چھپائے بیٹھی ہوں گی۔ شہریار صرف ایک لڑکا نہیں تھا، وہ میرا لکھا ہوا وہ آخری خط تھا جو کبھی منزل تک نہ پہنچ سکا۔
اور پھر ایک زلزلہ آیا—بَبّو کا انتقال ہو گیا۔
لوگ کہتے ہیں کہ وہ اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کے وقت بہت زیادہ خون بہہ جانے سے چل بسی؛ مگر میں جانتی ہوں، وہ عنایت جو اسے سلمان نے کبھی نہیں دی، اس کی روح کو رخصت کر گئی۔ اس کی موت کے بعد سلمان بکھر گیا تھا، لیکن صرف دو ہفتے۔ اس کے بعد وہ خود غرضی کے ایسے جزیرے پر چلا گیا جہاں صرف اس کی ضرورتیں بستی تھیں۔ اس کے دو بچے—چار سالہ سہیل اور نومولود علینہ—کو وہ ہمارے دروازے پر پٹخ کر چلا گیا، جیسے یہ بچے نہیں، کوئی فرسودہ سامان ہوں۔
سہیل میری انگلی پکڑ کر سارا گھر گھومتا اور علینہ کو امی نے سنبھالا۔ میں نے ان بچوں کے لیے اپنے آنسوؤں کو اندر ہی کہیں گاڑ دیا۔ دو سال اسی طرح بیت گئے۔ ہر رات بارش کی بوندیں جب میری کھڑکی پر دستک دیتیں، مجھے لگتا شاید آج میری زندگی کا انتظار ختم ہوگا؛ مگر ہر بار صبح کی اذان میرے ٹوٹے خوابوں کے جنازے پر پڑھی جاتی۔
پھر ایک شام، جب چائے کی بھاپ اٹھ رہی تھی، سلمان نے بڑی چالاکی سے امی ابو کے سامنے اپنی چال چلی۔ بچے رونے لگے تو اس نے فوراً انہیں گود میں اٹھا لیا اور روتے ہوئے اداکاری شروع کر دی: "امی! میں ٹوٹ گیا ہوں۔ بچوں کو ماں کا پیار صرف راحت دے سکتی ہے۔ مجھے یہ رشتہ عنایت کر دیں، ورنہ بچے برباد ہو جائیں گے۔"
امی ابو خاموش تھے، لیکن ان کی خاموشی ایک فیصلہ تھی—ان کی آنکھوں میں اپنے نواسوں کا مستقبل بسانے کی خواہش تھی اور میری روح کو اس مستقبل کی قربانی گاہ پر لٹانے کا منصوبہ۔
جب یہ بات میرے کانوں سے ٹکرائی، تو مجھے لگا جیسے کسی نے میرے وجود میں آگ نہیں، برف بھر دی ہے۔ میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے؛ کیونکہ جو آنکھیں مجھے سلمان نے دکھائیں، ان میں غم نہیں، ایک پرانا تعاقب تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے، جب بَبّو کی شادی ہوئی تھی، سلمان کی نگاہوں کی وہ بھٹی جو دولہا بننے کے بعد بھی مجھ پر رینگتی تھی۔ وہ میری چوڑیوں کو چھونے کے بہانے ڈھونڈتا، 'بہن' کہہ کر میری عزت کو للکارتا تھا۔ میں نے بَبّو کو بتانے کی کوشش کی تھی، تو وہ "بہن" کہہ کر ہنس دی تھی۔ اس دن میں نے جان لیا تھا کہ بھروسے کے رشتے کے پیچھے چھپا یہ شخص ایک بھیڑیا ہے، اور میرا نصیب مجھے اسی بھیڑیے کے حوالے کرنے جا رہا تھا۔
میں نے انکار کرنے کی ٹھانی۔ میں بھانجوں کے لیے جان دے سکتی تھی، مگر اپنی عفت نہیں دے سکتی تھی؛ کیونکہ شادی کا بستر وہ مقدس جگہ نہیں، مجھے موت سے بھی بدتر اذیت لگتا تھا۔ میں امی ابو کے پاس گئی، ان کی دہلیز چومی اور منت سماجت کی، میں نے انہیں بتایا: "اس آدمی کی نیت میں کھوٹ ہے، اس کی نظریں مجھے بے لباس کرتی ہیں!"
مگر امی نے وہی کیا جو ہر غریب دل اور کمزور ماں کرتی ہے؛ انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ انہوں نے کہا: "یہ بچے اگر کسی سوتیلی ماں کے ہاتھ لگ گئے، تو ہمارا قصور وار ٹھہرے گا۔ ہم جہنم میں جلیں گے، راحت۔" ابو نے انگلی اٹھائی: "اور سب سے بڑھ کر، لوگ کیا کہیں گے؟ کہ بیٹی نے بھانجوں کو ماں کا پیار نہیں دیا؟ یہ گناہ ہے، راحت، بہت بڑا گناہ!"
میں نے کہا: "لوگوں کی زبان کی خاطر آپ مجھے زندہ دفن کر رہے ہیں۔" ابا نے تھپڑ رسید کر دیا۔ وہ تھپڑ نہیں تھا، وہ میری شخصیت کا جنازہ تھا۔
شادی کے لیے راضی کرنے کے لیے انہوں نے مجھے محبت سے بھوکا رکھنا شروع کر دیا اور کمرے میں بند کر دیا۔ اماں نے کہا: "بیٹی! بچوں کی صورت دیکھ، تیری بہن کی روح بھٹک رہی ہوگی۔"
آہ! میری بہن کی روح! اس ظالم نے میری بہن کو کبھی خوش نہیں رکھا تھا۔ وہ تو ہمیشہ اس کی خاموشی اور سادگی پر ہنستا تھا اور اب مجھے یقین تھا کہ اس نے بَبّو کی موت کے بعد جلد از جلد شادی اس لیے نہیں کی تھی کہ اسے بچوں کی فکر تھی، بلکہ اس لیے کی تھی کیونکہ اس کی شکار کی نگاہیں پہلے دن سے میری گرفت میں تھیں۔
مگر تھک ہار کر، میں نے ہاں کر دی۔ کیونکہ علینہ نے اس رات، جب مجھے کمرے میں بند دیکھا، تو دروازے پر دستک دیتے ہوئے پوچھا تھا: "خالہ! کیا آپ مر گئی ہیں؟" بس، میری سانسوں نے ہار مان لی۔ میں مر تو چکی تھی، اب صرف اپنی لاش کو اس کی محراب میں سجا دینا تھا۔
نکاح کی رات، وہ دولہا بن کر میرے سامنے آیا۔ اس نے میرے دوپٹے کی کور چھوئی اور اس کی انگلیاں کانپ نہیں رہی تھیں، وہ لرزہ خیز حد تک پُراعتماد تھیں۔ میں نے اس لمحے اس کی آنکھوں میں وہی ہوس دیکھی جو برسوں سے میرا پیچھا کر رہی تھی، اور میں جان گئی کہ یہ گھر نہیں، یہ ایک مقبرہ ہے جس میں مجھے ہر رات دفنایا جائے گا۔
پہلی رات جب اس نے میرے کندھے کو چھوا، تو میرے وجود سے ایک چیخ نکلی جو میرے حلق میں ہی مر گئی؛ کیونکہ لفظ مر چکے تھے۔ اس نے کہا: "تم ہمیشہ سے بَبّو سے زیادہ حسین تھیں اور اب میرا نصیب ہو۔" اس جملے نے مجھے بتا دیا کہ میری بہن کو مارنے والی واحد بیماری زچگی نہیں تھی، اس کے ساتھ اس آدمی کی بے وفائی اور روحانی بے حسی بھی تھی۔
اب ہر صبح، میں وہی دہلیز عبور کرتی ہوں جہاں کبھی عفت بیٹھ کر سلمان کا خط پڑھا کرتی تھی؛ لیکن اب اس دہلیز پر خط نہیں، میرے آنسو گرتے ہیں۔ میں علینہ کو سنبھالتی ہوں، سہیل کو کھانا کھلاتی ہوں اور اپنی روح کو روز قتل کر کے مسکراتی ہوں۔ سلمان اب بھی مجھے رات کے اندھیرے میں گھورتا ہے اور میں سوچتی ہوں: کاش ماں باپ نے یہ سوچا ہوتا کہ وہ اپنی بیٹی کو بچوں کا مستقبل دکھا کر جس آدمی کو دے رہے ہیں، وہ اس کا "ماضی" تباہ کر چکا ہے۔
اور نصیب…؟ نصیب تو شاید شہریار کی صورت میں میری اس گلی میں دفن ہے، جہاں اب میرا جانا ممکن نہیں۔
میری بڑی بہن عفت تھی، جسے ہم پیار سے 'بَبّو' کہتے تھے۔ وہ پڑھی لکھی نہیں تھی، جبکہ میں دسویں تک پڑھنے کے بعد گھر بٹھا دی گئی۔ بَبّو کو پڑوس کے لڑکے سلمان سے بے پناہ محبت تھی۔ سلمان بھی اس پر جان چھڑکتا تھا۔ دونوں کا آنا جانا کب کا تھا، لیکن ہمارے سخت گیر ابا کی نظر میں یہ سب گناہ تھا۔ میں ہی ان کی ڈاکیہ تھی؛ محبت بھرے خطوط میں چھپا کر لے جاتی اور عفت کا جواب سلمان کو پہنچا آتی۔ ان کی خفیہ محبت کی گواہ اور رازدار، میں تھی۔
عفت کی شادی جب بڑی مشکل سے سلمان سے طے ہوئی، تو گھر میں جیسے عید کا چاند اترا تھا؛ مگر اس کی رخصتی کے بعد بھی ایک عجیب سنّاٹا رہا۔ ایک ایسا خالی پن، جو بتاتا تھا کہ میری زندگی کا واحد ایڈونچر ختم ہو چکا ہے۔ اب کون آئے گا جس کے لیے میں چھپ کر خط لکھوں؟ وہیں میرے دل میں ایک خواہش نے انگڑائی لی: کاش کوئی مجھے بھی ایسی نظروں سے ڈھونڈتا جو معصوم اور بے چین ہوتی ہیں!
ان دنوں محلے میں ایک نئے کرایہ دار آئے۔ ان کا بیٹا، شہریار، اپنی آنکھوں میں سمندر اور ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے ہر شام گلی میں کھڑا ہوتا تھا۔ پہلی نظر میں اس نے میری طرف دیکھا اور میں نے جان لیا کہ قدرت نے میرا رازدار بھیج دیا ہے۔ بس پھر کیا تھا! گلی کی تنگ سی راہداری ہمارا پوسٹ آفس بن گئی۔ میں کھڑکی سے ایک کاغذ کا ٹکڑا گرا دیتی اور وہ اپنا جواب پتھر میں لپیٹ کر میرے آنگن میں پھینک دیتا۔
لیکن قسمت کو شاید میرا یہ چھوٹا سا جہاں بھی منظور نہیں تھا۔ ایک دن اس کی ماں نے مجھے جھانکتے دیکھ لیا۔ امی کو شکایت ہوئی اور یہ شکایت طوفان بن کر آئی۔ ابا کو پتا چل گیا اور میرے جسم پر بیلٹ کے نشان پڑ گئے۔ گھر کی چار دیواری اور بھی تنگ ہو گئی۔
دو سال گزر گئے۔ شہریار ایک بڑے بینکر کے طور پر واپس آیا، تو میری امی کے دل میں لالچ اور پچھتاوا دونوں جاگے؛ لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس کی شادی کی تقریب کا کارڈ آیا، تو میں نے اسے پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اس کی محفل سجی ہوگی، لوگ رقص کریں گے اور میں اپنی سانسوں کی راکھ چھپائے بیٹھی ہوں گی۔ شہریار صرف ایک لڑکا نہیں تھا، وہ میرا لکھا ہوا وہ آخری خط تھا جو کبھی منزل تک نہ پہنچ سکا۔
اور پھر ایک زلزلہ آیا—بَبّو کا انتقال ہو گیا۔
لوگ کہتے ہیں کہ وہ اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کے وقت بہت زیادہ خون بہہ جانے سے چل بسی؛ مگر میں جانتی ہوں، وہ عنایت جو اسے سلمان نے کبھی نہیں دی، اس کی روح کو رخصت کر گئی۔ اس کی موت کے بعد سلمان بکھر گیا تھا، لیکن صرف دو ہفتے۔ اس کے بعد وہ خود غرضی کے ایسے جزیرے پر چلا گیا جہاں صرف اس کی ضرورتیں بستی تھیں۔ اس کے دو بچے—چار سالہ سہیل اور نومولود علینہ—کو وہ ہمارے دروازے پر پٹخ کر چلا گیا، جیسے یہ بچے نہیں، کوئی فرسودہ سامان ہوں۔
سہیل میری انگلی پکڑ کر سارا گھر گھومتا اور علینہ کو امی نے سنبھالا۔ میں نے ان بچوں کے لیے اپنے آنسوؤں کو اندر ہی کہیں گاڑ دیا۔ دو سال اسی طرح بیت گئے۔ ہر رات بارش کی بوندیں جب میری کھڑکی پر دستک دیتیں، مجھے لگتا شاید آج میری زندگی کا انتظار ختم ہوگا؛ مگر ہر بار صبح کی اذان میرے ٹوٹے خوابوں کے جنازے پر پڑھی جاتی۔
پھر ایک شام، جب چائے کی بھاپ اٹھ رہی تھی، سلمان نے بڑی چالاکی سے امی ابو کے سامنے اپنی چال چلی۔ بچے رونے لگے تو اس نے فوراً انہیں گود میں اٹھا لیا اور روتے ہوئے اداکاری شروع کر دی: "امی! میں ٹوٹ گیا ہوں۔ بچوں کو ماں کا پیار صرف راحت دے سکتی ہے۔ مجھے یہ رشتہ عنایت کر دیں، ورنہ بچے برباد ہو جائیں گے۔"
امی ابو خاموش تھے، لیکن ان کی خاموشی ایک فیصلہ تھی—ان کی آنکھوں میں اپنے نواسوں کا مستقبل بسانے کی خواہش تھی اور میری روح کو اس مستقبل کی قربانی گاہ پر لٹانے کا منصوبہ۔
جب یہ بات میرے کانوں سے ٹکرائی، تو مجھے لگا جیسے کسی نے میرے وجود میں آگ نہیں، برف بھر دی ہے۔ میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے؛ کیونکہ جو آنکھیں مجھے سلمان نے دکھائیں، ان میں غم نہیں، ایک پرانا تعاقب تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے، جب بَبّو کی شادی ہوئی تھی، سلمان کی نگاہوں کی وہ بھٹی جو دولہا بننے کے بعد بھی مجھ پر رینگتی تھی۔ وہ میری چوڑیوں کو چھونے کے بہانے ڈھونڈتا، 'بہن' کہہ کر میری عزت کو للکارتا تھا۔ میں نے بَبّو کو بتانے کی کوشش کی تھی، تو وہ "بہن" کہہ کر ہنس دی تھی۔ اس دن میں نے جان لیا تھا کہ بھروسے کے رشتے کے پیچھے چھپا یہ شخص ایک بھیڑیا ہے، اور میرا نصیب مجھے اسی بھیڑیے کے حوالے کرنے جا رہا تھا۔
میں نے انکار کرنے کی ٹھانی۔ میں بھانجوں کے لیے جان دے سکتی تھی، مگر اپنی عفت نہیں دے سکتی تھی؛ کیونکہ شادی کا بستر وہ مقدس جگہ نہیں، مجھے موت سے بھی بدتر اذیت لگتا تھا۔ میں امی ابو کے پاس گئی، ان کی دہلیز چومی اور منت سماجت کی، میں نے انہیں بتایا: "اس آدمی کی نیت میں کھوٹ ہے، اس کی نظریں مجھے بے لباس کرتی ہیں!"
مگر امی نے وہی کیا جو ہر غریب دل اور کمزور ماں کرتی ہے؛ انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ انہوں نے کہا: "یہ بچے اگر کسی سوتیلی ماں کے ہاتھ لگ گئے، تو ہمارا قصور وار ٹھہرے گا۔ ہم جہنم میں جلیں گے، راحت۔" ابو نے انگلی اٹھائی: "اور سب سے بڑھ کر، لوگ کیا کہیں گے؟ کہ بیٹی نے بھانجوں کو ماں کا پیار نہیں دیا؟ یہ گناہ ہے، راحت، بہت بڑا گناہ!"
میں نے کہا: "لوگوں کی زبان کی خاطر آپ مجھے زندہ دفن کر رہے ہیں۔" ابا نے تھپڑ رسید کر دیا۔ وہ تھپڑ نہیں تھا، وہ میری شخصیت کا جنازہ تھا۔
شادی کے لیے راضی کرنے کے لیے انہوں نے مجھے محبت سے بھوکا رکھنا شروع کر دیا اور کمرے میں بند کر دیا۔ اماں نے کہا: "بیٹی! بچوں کی صورت دیکھ، تیری بہن کی روح بھٹک رہی ہوگی۔"
آہ! میری بہن کی روح! اس ظالم نے میری بہن کو کبھی خوش نہیں رکھا تھا۔ وہ تو ہمیشہ اس کی خاموشی اور سادگی پر ہنستا تھا اور اب مجھے یقین تھا کہ اس نے بَبّو کی موت کے بعد جلد از جلد شادی اس لیے نہیں کی تھی کہ اسے بچوں کی فکر تھی، بلکہ اس لیے کی تھی کیونکہ اس کی شکار کی نگاہیں پہلے دن سے میری گرفت میں تھیں۔
مگر تھک ہار کر، میں نے ہاں کر دی۔ کیونکہ علینہ نے اس رات، جب مجھے کمرے میں بند دیکھا، تو دروازے پر دستک دیتے ہوئے پوچھا تھا: "خالہ! کیا آپ مر گئی ہیں؟" بس، میری سانسوں نے ہار مان لی۔ میں مر تو چکی تھی، اب صرف اپنی لاش کو اس کی محراب میں سجا دینا تھا۔
نکاح کی رات، وہ دولہا بن کر میرے سامنے آیا۔ اس نے میرے دوپٹے کی کور چھوئی اور اس کی انگلیاں کانپ نہیں رہی تھیں، وہ لرزہ خیز حد تک پُراعتماد تھیں۔ میں نے اس لمحے اس کی آنکھوں میں وہی ہوس دیکھی جو برسوں سے میرا پیچھا کر رہی تھی، اور میں جان گئی کہ یہ گھر نہیں، یہ ایک مقبرہ ہے جس میں مجھے ہر رات دفنایا جائے گا۔
پہلی رات جب اس نے میرے کندھے کو چھوا، تو میرے وجود سے ایک چیخ نکلی جو میرے حلق میں ہی مر گئی؛ کیونکہ لفظ مر چکے تھے۔ اس نے کہا: "تم ہمیشہ سے بَبّو سے زیادہ حسین تھیں اور اب میرا نصیب ہو۔" اس جملے نے مجھے بتا دیا کہ میری بہن کو مارنے والی واحد بیماری زچگی نہیں تھی، اس کے ساتھ اس آدمی کی بے وفائی اور روحانی بے حسی بھی تھی۔
اب ہر صبح، میں وہی دہلیز عبور کرتی ہوں جہاں کبھی عفت بیٹھ کر سلمان کا خط پڑھا کرتی تھی؛ لیکن اب اس دہلیز پر خط نہیں، میرے آنسو گرتے ہیں۔ میں علینہ کو سنبھالتی ہوں، سہیل کو کھانا کھلاتی ہوں اور اپنی روح کو روز قتل کر کے مسکراتی ہوں۔ سلمان اب بھی مجھے رات کے اندھیرے میں گھورتا ہے اور میں سوچتی ہوں: کاش ماں باپ نے یہ سوچا ہوتا کہ وہ اپنی بیٹی کو بچوں کا مستقبل دکھا کر جس آدمی کو دے رہے ہیں، وہ اس کا "ماضی" تباہ کر چکا ہے۔
اور نصیب…؟ نصیب تو شاید شہریار کی صورت میں میری اس گلی میں دفن ہے، جہاں اب میرا جانا ممکن نہیں۔

No comments:
Post a Comment