جب شعر بولے، یادیں مہکیں اور بارش نے داد دی
تحریر: عامر عباس ناصر اعوان
بعض محفلیں محض چند گھنٹوں پر محیط تقریبات نہیں ہوتیں بلکہ وقت کے صحیفے پر ثبت ایسے روشن نقوش بن جاتی ہیں جنہیں برسوں بعد بھی یاد کیا جائے تو دل کے کسی گوشے میں خوشی کی ایک نرم سی لہر دوڑ جاتی ہے۔ ان محفلوں کی رونق صرف شعر و سخن تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ان میں محبت، خلوص، اپنائیت، تہذیب، احترامِ آدمیت اور یادوں کی مہک بھی شامل ہو جاتی ہے۔ دو جون کی شام جلال بابا آڈیٹوریم کے اباسین ہال میں سجی عید ملن مشاعرے کی محفل بھی ایسی ہی ایک یادگار شام تھی، جس میں شعر بھی تھے، شعور بھی تھا، مسکراہٹیں بھی تھیں، جذبات بھی تھے، مرحومین کی یاد میں نم ہوتی آنکھیں بھی تھیں اور آخر میں قدرت کی جانب سے برسنے والی بارش بھی تھی، جو گویا اس پوری محفل پر اپنی مہرِ تصدیق ثبت کر رہی تھی۔
ہم بھی اس خوبصورت محفل کے شرکائے سعادت میں شامل تھے اور سچ تو یہ ہے کہ یہ شام اختتام پذیر ہونے کے باوجود اب تک دل و دماغ کے دریچوں میں جگمگا رہی ہے۔
اس یادگار ادبی اجتماع کے روحِ رواں برادرم آصف فاروقی صاحب تھے، جن کا تعلق بالاکوٹ کی حسین وادی سے ہے۔ حلقۂ اربابِ سخن ہزارہ کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے وہ عرصۂ دراز سے ادب کے چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔ ان کی شخصیت کی سب سے نمایاں خوبی ان کی عاجزی، محبت اور بے لوث ادبی خدمت ہے۔ چند ماہ قبل ہزارہ یونیورسٹی میں ایک عظیم الشان آل پاکستان مشاعرے کے کامیاب انعقاد کے بعد انہوں نے عید کی خوشیوں کو شعر و ادب کی لطافتوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ایک اور یادگار محفل سجانے کا اہتمام کیا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پوری تقریب کے منتظم اور محرک ہونے کے باوجود انہوں نے اپنا کلام پیش کرنے کے بجائے تمام توجہ مہمانوں اور شعرائے کرام کی خدمت اور تقریب کی کامیابی پر مرکوز رکھی۔ یہی وہ وصف ہے جو کسی شخص کو محض منتظم نہیں بلکہ ادب کا حقیقی خادم بناتا ہے۔
اس خوبصورت سفر کا آغاز بھی اپنے اندر ایک دلکش یاد سمیٹے ہوئے ہے۔ مشاعرے میں شرکت کے لیے خاکسار اپنے صاحبزادے شہریار عامر ملک کے ہمراہ روانہ ہوا تو برادرم عبدالوحید بسمل صاحب ازراہِ محبت اپنی گاڑی میں ہمیں ساتھ لے آئے۔ راستے بھر ادب، شاعری، اہلِ قلم، احبابِ سخن اور حالاتِ حاضرہ کے تذکروں کے سنگ سفر رواں دواں رہا۔ گفتگو کے یہ دلنشین سلسلے اتنے خوشگوار تھے کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے منزل سے پہلے ہی ایک مختصر مگر یادگار ادبی نشست سج چکی ہو۔ کبھی شعر و سخن کے بدلتے رجحانات زیرِ بحث آتے، کبھی بزرگ شعرا کی یادیں تازہ ہوتیں اور کبھی معاصر ادب کے حوالے سے گفتگو کے نئے دریچے وا ہوتے۔ بسمل صاحب کی شگفتہ مزاجی، برجستگی اور محبت بھرا انداز سفر کی ہر ساعت کو خوشگوار بناتا رہا اور یوں راستے کی مسافت احساس ہی نہ ہونے دی۔
جلال بابا آڈیٹوریم پہنچنے کے بعد بھی ان کی محبتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ جب خاکسار کو اسٹیج پر اپنا کلام پیش کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تو انہوں نے خصوصی طور پر میرے آبائی شہر تلہ گنگ کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے نہایت محبت اور احترام کے ساتھ تعارف کروایا۔ یہ محض ایک تعارفی جملہ نہ تھا بلکہ اپنے پن، خلوص اور حوصلہ افزائی کا ایسا اظہار تھا جس نے دل کو چھو لیا۔ اس لمحے یوں محسوس ہوا کہ ادب کی اصل خوبصورتی صرف اچھے اشعار میں نہیں بلکہ ان محبتوں اور رشتوں میں بھی پوشیدہ ہے جو اہلِ قلم کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتے ہیں۔
یوں جب بزمِ سخن کا باقاعدہ آغاز ہوا تو دل پہلے ہی محبت، اپنائیت اور خوشگوار توقعات سے لبریز ہو چکا تھا۔
اباسین ہال اس شام حقیقی معنوں میں ایک ادبی گلستان کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ہال میں داخل ہوتے ہی محسوس ہوتا تھا کہ جیسے لفظوں کے مسافر، خیالوں کے راہی اور احساسات کے امین ایک ہی چھت تلے جمع ہو گئے ہوں۔ کہیں بغل گیر ہوتے دوست تھے، کہیں برسوں بعد ہونے والی ملاقاتوں کی خوشی تھی اور کہیں ادب کے مستقبل پر گفتگو جاری تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے مختلف شہروں، مختلف فکر و خیال اور مختلف اسالیب سے تعلق رکھنے والے لوگ کسی ایک مرکز پر جمع ہو گئے ہوں اور وہ مرکز تھا — محبت، ادب اور خلوص۔
محفل کی صدارت حلقۂ اربابِ سخن ہزارہ کے سرپرستِ اعلیٰ، ممتاز شاعر جناب قاضی ناصر بختیار خان صاحب نے فرمائی۔ مہمانانِ خصوصی میں ٹیکسلا سے تشریف لانے والی معروف شاعرہ شفقت حیات شفق صاحبہ اور جناب ضیا شاہد صاحب شامل تھے جبکہ مہمانانِ اعزاز میں احمد ریاض صاحب اور پروفیسر ڈاکٹر اخلاق احمد اعوان صاحب شریک تھے۔
تقریب کی ایک اہم اور خوش آئند ادبی سرگرمی معروف شاعرہ شفقت حیات شفق صاحبہ کے چوتھے شعری مجموعے"حیات دکھ ہے" کی تقسیم بھی تھی ۔ یہ لمحہ محفل کے یادگار ترین لمحات میں سے ایک تھا۔ حاضرین نے شفق صاحبہ کی ادبی خدمات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے نئے شعری مجموعے کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ تاہم جولاٸی کے دوسرے ہفتے محترمہ عذرا عندلیب وفا اور محترمہ شفقت حيات شفق کے اعزاز میں باقاعدہ تقریب رونماٸی و پزیراٸی کاانعقاد کرنے کا ایک پروگرام جناب آصف فاروقی بھاٸی نے ترتیب دیا ہوا ہے
نظامت کے فرائض عبدالوحید بسمل صاحب نے حسبِ روایت اپنے منفرد اور دلنشین انداز میں انجام دیے۔ ان کے جملوں میں شگفتگی تھی، لہجے میں اپنائیت تھی اور گفتگو میں وہ روانی تھی جو سامعین کو مسلسل اپنے حصار میں رکھتی ہے۔ خاص طور پر ڈاکٹر عادل سعید قریشی صاحب کے ساتھ ان کی دوستانہ نوک جھونک نے محفل میں بے ساختہ قہقہوں کی ایسی پھوار برسائی کہ ہال بار بار مسکراہٹوں سے جگمگاتا رہا۔
پھر شعر و سخن کی محفل اپنے جوبن پر آئی اور ایک سے بڑھ کر ایک شاعر اپنا کلام پیش کرنے اسٹیج پر آتا رہا۔ حذیفہ سحر خان، سہیل احمد شاہین، حمزہ طفیل، عثمان خان، روبینہ آصف، محمد کلیم، عمر شہزاد، خرم علی گوہر، نور الحق نور، سید کاشف شاہ، ارم مشتاق، حاجرہ انور، محمد مبشر میئو، حسن سیف، محمد امین صادق، سہیل احمد صمیم، پروفیسر رحمان ساحل بنوی، قمر زمان، محمد اختر نعیم، سچل سائیں، عذرا عندلیب وفا، شکیل اعوان، پروفیسر ناصر داؤد ملک، ڈاکٹر اظہار اعوان اور دیگر شعرائے کرام نے اپنے اپنے رنگ میں محفل کو سجا دیا۔
محفل کے چند لمحات ایسے تھے جنہوں نے حاضرین کے دلوں کو خاص طور پر متاثر کیا۔ معروف شاعرہ روبینہ آصف صاحبہ نے اپنے مرحوم والد کی یاد میں تازہ ترین کلام پیش کیا۔ ان کے اشعار میں عقیدت، محبت اور فراق کے جذبات اس شدت سے موجزن تھے کہ محفل پر ایک خاص کیفیت طاری ہو گئی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ایک بیٹی اپنے دل میں محفوظ یادوں کے چراغ لفظوں کی صورت روشن کر رہی ہو۔
اسی طرح ڈاکٹر اظہار اعوان صاحب نے اپنی مرحومہ والدہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے تازہ کلام سنایا۔ ماں کے ذکر سے وابستہ محبت، احترام اور جدائی کے احساسات نے سامعین کے دلوں کو گہرائی سے متاثر کیا۔ ان کے اشعار میں سوز بھی تھا، خلوص بھی تھا اور دعا کی سی تاثیر بھی۔
ان دونوں شخصیات کے مرحوم والد اور والدہ کے لیے دورانِ تقریب خصوصی دعائے مغفرت بھی کی گئی۔ پورا ہال عقیدت اور احترام کے ساتھ دعا میں شریک ہوا۔ اس لمحے یوں محسوس ہوا کہ ادب صرف الفاظ کا نام نہیں بلکہ محبت، وفا، یاد اور انسان دوستی کا بھی دوسرا نام ہے۔
محفل آگے بڑھتی رہی اور ہر شاعر اپنے ساتھ ایک نیا موسم لے کر آتا رہا۔ کہیں محبت کے چراغ روشن ہوئے، کہیں وطن کی مٹی کی خوشبو مہکی، کہیں سماجی مسائل پر فکری مکالمہ ہوا اور کہیں زندگی کی تلخیوں کو شعری حسن میں ڈھال کر پیش کیا گیا۔ داد و تحسین کا سلسلہ بھی مسلسل جاری رہا۔ کبھی "واہ واہ" کی صدائیں بلند ہوتیں، کبھی "مکرر" کی آوازیں گونجتیں اور کبھی سامعین کی خاموشی خود اس بات کا اعلان کر رہی ہوتی کہ شعر سیدھا دل میں جا اترا ہے۔
محفل کی سرپرستی خالد وحید قریشی صاحب نے کی جبکہ نگرانی کے فرائض عذرا عندلیب وفا صاحبہ نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ پروفیسر ممتاز حیدر، جناب لیاقت علی، ایڈووکیٹ محمد عثمان اور دیگر معززینِ علاقہ کی موجودگی نے محفل کے وقار میں مزید اضافہ کیا۔
جب مشاعرہ اختتام کے قریب پہنچا تو محسوس ہونے لگا کہ وقت نے شاید بہت جلدی کی ہے۔ ابھی تو گفتگو کا سلسلہ جاری تھا، ابھی تو اشعار کی خوشبو فضاؤں میں رچی ہوئی تھی اور ابھی تو دوستوں کی محفلیں پوری طرح آباد تھیں۔
اختتام پر مہمانوں کے لیے کولڈ ڈرنکس، گرما گرم سموسوں اور خستہ پکوڑوں کا اہتمام کیا گیا۔ ادبی محفلوں کی اصل جان بھی یہی غیر رسمی نشستیں ہوتی ہیں جہاں شعر کے بعد شاعر ملتا ہے، تعارف دوستی میں بدل جاتا ہے اور ملاقاتیں یادوں کا سرمایہ بن جاتی ہیں۔
اور پھر قدرت نے بھی اس خوبصورت محفل میں اپنی شمولیت درج کروا دی۔
جیسے ہی مشاعرہ اختتام پذیر ہوا، آسمان پر بادلوں نے ڈیرے جما لیے۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے چلنے لگے اور چند ہی لمحوں بعد رم جھم بارش نے فضا کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ مٹی کی سوندھی خوشبو، بارش کے موتی جیسے قطرے، درختوں کی دھلی ہوئی شاخیں اور دلوں میں گونجتے اشعار...
یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے آسمان بھی اس بزمِ سخن سے متاثر ہو کر اپنی زبان میں داد دے رہا ہو۔
بلاشبہ حلقۂ اربابِ سخن ہزارہ کا یہ عید ملن مشاعرہ محض ایک ادبی تقریب نہیں تھا بلکہ محبت، خلوص، روایت، تہذیب، یاد اور شعر کا ایسا حسین امتزاج تھا جس نے ہر شریکِ محفل کو یادوں کا ایک انمول تحفہ عطا کیا۔
ایسی محفلیں ختم نہیں ہوتیں، صرف دلوں میں منتقل ہو جاتی ہیں... اور پھر برسوں تک وہاں آباد رہتی ہیں۔
بعض محفلیں محض چند گھنٹوں پر محیط تقریبات نہیں ہوتیں بلکہ وقت کے صحیفے پر ثبت ایسے روشن نقوش بن جاتی ہیں جنہیں برسوں بعد بھی یاد کیا جائے تو دل کے کسی گوشے میں خوشی کی ایک نرم سی لہر دوڑ جاتی ہے۔ ان محفلوں کی رونق صرف شعر و سخن تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ان میں محبت، خلوص، اپنائیت، تہذیب، احترامِ آدمیت اور یادوں کی مہک بھی شامل ہو جاتی ہے۔ دو جون کی شام جلال بابا آڈیٹوریم کے اباسین ہال میں سجی عید ملن مشاعرے کی محفل بھی ایسی ہی ایک یادگار شام تھی، جس میں شعر بھی تھے، شعور بھی تھا، مسکراہٹیں بھی تھیں، جذبات بھی تھے، مرحومین کی یاد میں نم ہوتی آنکھیں بھی تھیں اور آخر میں قدرت کی جانب سے برسنے والی بارش بھی تھی، جو گویا اس پوری محفل پر اپنی مہرِ تصدیق ثبت کر رہی تھی۔
ہم بھی اس خوبصورت محفل کے شرکائے سعادت میں شامل تھے اور سچ تو یہ ہے کہ یہ شام اختتام پذیر ہونے کے باوجود اب تک دل و دماغ کے دریچوں میں جگمگا رہی ہے۔
اس یادگار ادبی اجتماع کے روحِ رواں برادرم آصف فاروقی صاحب تھے، جن کا تعلق بالاکوٹ کی حسین وادی سے ہے۔ حلقۂ اربابِ سخن ہزارہ کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے وہ عرصۂ دراز سے ادب کے چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔ ان کی شخصیت کی سب سے نمایاں خوبی ان کی عاجزی، محبت اور بے لوث ادبی خدمت ہے۔ چند ماہ قبل ہزارہ یونیورسٹی میں ایک عظیم الشان آل پاکستان مشاعرے کے کامیاب انعقاد کے بعد انہوں نے عید کی خوشیوں کو شعر و ادب کی لطافتوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ایک اور یادگار محفل سجانے کا اہتمام کیا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پوری تقریب کے منتظم اور محرک ہونے کے باوجود انہوں نے اپنا کلام پیش کرنے کے بجائے تمام توجہ مہمانوں اور شعرائے کرام کی خدمت اور تقریب کی کامیابی پر مرکوز رکھی۔ یہی وہ وصف ہے جو کسی شخص کو محض منتظم نہیں بلکہ ادب کا حقیقی خادم بناتا ہے۔
اس خوبصورت سفر کا آغاز بھی اپنے اندر ایک دلکش یاد سمیٹے ہوئے ہے۔ مشاعرے میں شرکت کے لیے خاکسار اپنے صاحبزادے شہریار عامر ملک کے ہمراہ روانہ ہوا تو برادرم عبدالوحید بسمل صاحب ازراہِ محبت اپنی گاڑی میں ہمیں ساتھ لے آئے۔ راستے بھر ادب، شاعری، اہلِ قلم، احبابِ سخن اور حالاتِ حاضرہ کے تذکروں کے سنگ سفر رواں دواں رہا۔ گفتگو کے یہ دلنشین سلسلے اتنے خوشگوار تھے کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے منزل سے پہلے ہی ایک مختصر مگر یادگار ادبی نشست سج چکی ہو۔ کبھی شعر و سخن کے بدلتے رجحانات زیرِ بحث آتے، کبھی بزرگ شعرا کی یادیں تازہ ہوتیں اور کبھی معاصر ادب کے حوالے سے گفتگو کے نئے دریچے وا ہوتے۔ بسمل صاحب کی شگفتہ مزاجی، برجستگی اور محبت بھرا انداز سفر کی ہر ساعت کو خوشگوار بناتا رہا اور یوں راستے کی مسافت احساس ہی نہ ہونے دی۔
جلال بابا آڈیٹوریم پہنچنے کے بعد بھی ان کی محبتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ جب خاکسار کو اسٹیج پر اپنا کلام پیش کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تو انہوں نے خصوصی طور پر میرے آبائی شہر تلہ گنگ کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے نہایت محبت اور احترام کے ساتھ تعارف کروایا۔ یہ محض ایک تعارفی جملہ نہ تھا بلکہ اپنے پن، خلوص اور حوصلہ افزائی کا ایسا اظہار تھا جس نے دل کو چھو لیا۔ اس لمحے یوں محسوس ہوا کہ ادب کی اصل خوبصورتی صرف اچھے اشعار میں نہیں بلکہ ان محبتوں اور رشتوں میں بھی پوشیدہ ہے جو اہلِ قلم کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتے ہیں۔
یوں جب بزمِ سخن کا باقاعدہ آغاز ہوا تو دل پہلے ہی محبت، اپنائیت اور خوشگوار توقعات سے لبریز ہو چکا تھا۔
اباسین ہال اس شام حقیقی معنوں میں ایک ادبی گلستان کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ہال میں داخل ہوتے ہی محسوس ہوتا تھا کہ جیسے لفظوں کے مسافر، خیالوں کے راہی اور احساسات کے امین ایک ہی چھت تلے جمع ہو گئے ہوں۔ کہیں بغل گیر ہوتے دوست تھے، کہیں برسوں بعد ہونے والی ملاقاتوں کی خوشی تھی اور کہیں ادب کے مستقبل پر گفتگو جاری تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے مختلف شہروں، مختلف فکر و خیال اور مختلف اسالیب سے تعلق رکھنے والے لوگ کسی ایک مرکز پر جمع ہو گئے ہوں اور وہ مرکز تھا — محبت، ادب اور خلوص۔
محفل کی صدارت حلقۂ اربابِ سخن ہزارہ کے سرپرستِ اعلیٰ، ممتاز شاعر جناب قاضی ناصر بختیار خان صاحب نے فرمائی۔ مہمانانِ خصوصی میں ٹیکسلا سے تشریف لانے والی معروف شاعرہ شفقت حیات شفق صاحبہ اور جناب ضیا شاہد صاحب شامل تھے جبکہ مہمانانِ اعزاز میں احمد ریاض صاحب اور پروفیسر ڈاکٹر اخلاق احمد اعوان صاحب شریک تھے۔
تقریب کی ایک اہم اور خوش آئند ادبی سرگرمی معروف شاعرہ شفقت حیات شفق صاحبہ کے چوتھے شعری مجموعے"حیات دکھ ہے" کی تقسیم بھی تھی ۔ یہ لمحہ محفل کے یادگار ترین لمحات میں سے ایک تھا۔ حاضرین نے شفق صاحبہ کی ادبی خدمات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے نئے شعری مجموعے کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ تاہم جولاٸی کے دوسرے ہفتے محترمہ عذرا عندلیب وفا اور محترمہ شفقت حيات شفق کے اعزاز میں باقاعدہ تقریب رونماٸی و پزیراٸی کاانعقاد کرنے کا ایک پروگرام جناب آصف فاروقی بھاٸی نے ترتیب دیا ہوا ہے
نظامت کے فرائض عبدالوحید بسمل صاحب نے حسبِ روایت اپنے منفرد اور دلنشین انداز میں انجام دیے۔ ان کے جملوں میں شگفتگی تھی، لہجے میں اپنائیت تھی اور گفتگو میں وہ روانی تھی جو سامعین کو مسلسل اپنے حصار میں رکھتی ہے۔ خاص طور پر ڈاکٹر عادل سعید قریشی صاحب کے ساتھ ان کی دوستانہ نوک جھونک نے محفل میں بے ساختہ قہقہوں کی ایسی پھوار برسائی کہ ہال بار بار مسکراہٹوں سے جگمگاتا رہا۔
پھر شعر و سخن کی محفل اپنے جوبن پر آئی اور ایک سے بڑھ کر ایک شاعر اپنا کلام پیش کرنے اسٹیج پر آتا رہا۔ حذیفہ سحر خان، سہیل احمد شاہین، حمزہ طفیل، عثمان خان، روبینہ آصف، محمد کلیم، عمر شہزاد، خرم علی گوہر، نور الحق نور، سید کاشف شاہ، ارم مشتاق، حاجرہ انور، محمد مبشر میئو، حسن سیف، محمد امین صادق، سہیل احمد صمیم، پروفیسر رحمان ساحل بنوی، قمر زمان، محمد اختر نعیم، سچل سائیں، عذرا عندلیب وفا، شکیل اعوان، پروفیسر ناصر داؤد ملک، ڈاکٹر اظہار اعوان اور دیگر شعرائے کرام نے اپنے اپنے رنگ میں محفل کو سجا دیا۔
محفل کے چند لمحات ایسے تھے جنہوں نے حاضرین کے دلوں کو خاص طور پر متاثر کیا۔ معروف شاعرہ روبینہ آصف صاحبہ نے اپنے مرحوم والد کی یاد میں تازہ ترین کلام پیش کیا۔ ان کے اشعار میں عقیدت، محبت اور فراق کے جذبات اس شدت سے موجزن تھے کہ محفل پر ایک خاص کیفیت طاری ہو گئی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ایک بیٹی اپنے دل میں محفوظ یادوں کے چراغ لفظوں کی صورت روشن کر رہی ہو۔
اسی طرح ڈاکٹر اظہار اعوان صاحب نے اپنی مرحومہ والدہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے تازہ کلام سنایا۔ ماں کے ذکر سے وابستہ محبت، احترام اور جدائی کے احساسات نے سامعین کے دلوں کو گہرائی سے متاثر کیا۔ ان کے اشعار میں سوز بھی تھا، خلوص بھی تھا اور دعا کی سی تاثیر بھی۔
ان دونوں شخصیات کے مرحوم والد اور والدہ کے لیے دورانِ تقریب خصوصی دعائے مغفرت بھی کی گئی۔ پورا ہال عقیدت اور احترام کے ساتھ دعا میں شریک ہوا۔ اس لمحے یوں محسوس ہوا کہ ادب صرف الفاظ کا نام نہیں بلکہ محبت، وفا، یاد اور انسان دوستی کا بھی دوسرا نام ہے۔
محفل آگے بڑھتی رہی اور ہر شاعر اپنے ساتھ ایک نیا موسم لے کر آتا رہا۔ کہیں محبت کے چراغ روشن ہوئے، کہیں وطن کی مٹی کی خوشبو مہکی، کہیں سماجی مسائل پر فکری مکالمہ ہوا اور کہیں زندگی کی تلخیوں کو شعری حسن میں ڈھال کر پیش کیا گیا۔ داد و تحسین کا سلسلہ بھی مسلسل جاری رہا۔ کبھی "واہ واہ" کی صدائیں بلند ہوتیں، کبھی "مکرر" کی آوازیں گونجتیں اور کبھی سامعین کی خاموشی خود اس بات کا اعلان کر رہی ہوتی کہ شعر سیدھا دل میں جا اترا ہے۔
محفل کی سرپرستی خالد وحید قریشی صاحب نے کی جبکہ نگرانی کے فرائض عذرا عندلیب وفا صاحبہ نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ پروفیسر ممتاز حیدر، جناب لیاقت علی، ایڈووکیٹ محمد عثمان اور دیگر معززینِ علاقہ کی موجودگی نے محفل کے وقار میں مزید اضافہ کیا۔
جب مشاعرہ اختتام کے قریب پہنچا تو محسوس ہونے لگا کہ وقت نے شاید بہت جلدی کی ہے۔ ابھی تو گفتگو کا سلسلہ جاری تھا، ابھی تو اشعار کی خوشبو فضاؤں میں رچی ہوئی تھی اور ابھی تو دوستوں کی محفلیں پوری طرح آباد تھیں۔
اختتام پر مہمانوں کے لیے کولڈ ڈرنکس، گرما گرم سموسوں اور خستہ پکوڑوں کا اہتمام کیا گیا۔ ادبی محفلوں کی اصل جان بھی یہی غیر رسمی نشستیں ہوتی ہیں جہاں شعر کے بعد شاعر ملتا ہے، تعارف دوستی میں بدل جاتا ہے اور ملاقاتیں یادوں کا سرمایہ بن جاتی ہیں۔
اور پھر قدرت نے بھی اس خوبصورت محفل میں اپنی شمولیت درج کروا دی۔
جیسے ہی مشاعرہ اختتام پذیر ہوا، آسمان پر بادلوں نے ڈیرے جما لیے۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے چلنے لگے اور چند ہی لمحوں بعد رم جھم بارش نے فضا کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ مٹی کی سوندھی خوشبو، بارش کے موتی جیسے قطرے، درختوں کی دھلی ہوئی شاخیں اور دلوں میں گونجتے اشعار...
یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے آسمان بھی اس بزمِ سخن سے متاثر ہو کر اپنی زبان میں داد دے رہا ہو۔
بلاشبہ حلقۂ اربابِ سخن ہزارہ کا یہ عید ملن مشاعرہ محض ایک ادبی تقریب نہیں تھا بلکہ محبت، خلوص، روایت، تہذیب، یاد اور شعر کا ایسا حسین امتزاج تھا جس نے ہر شریکِ محفل کو یادوں کا ایک انمول تحفہ عطا کیا۔
ایسی محفلیں ختم نہیں ہوتیں، صرف دلوں میں منتقل ہو جاتی ہیں... اور پھر برسوں تک وہاں آباد رہتی ہیں۔

No comments:
Post a Comment