شمس العلماء علامہ شبلی نعمانی
(169ویں یوم ولادت پر خاص)
(حافظ) افتخاراحمد قادری
مغربی اترپردیش
تین جون1857ء کو اردو تنقید کے بانیوں میں نمایاں عظیم مورخ، عالم دین، سیاسی مفکر اور فارسی شاعر، اپنی تنقیدی کتاب ’شعر العجم‘ کے لئے مشہور شمس العلماء ”علامہ شبلی نعمانی“ کا یوم ولادت ہے۔ آپ کا محمد شبلی تھا اور شبلی تخلص استعمال کیا کرتے تھے۔ موضوع بنڈول ضلع اعظم گڑھ میں تین جون 1857ء کو پیدا ہوئے۔ بڑے بڑے فاضل استادوں سے تعلیم پائی کئی سال تک علی گڑھ کالج میں پروفیسر رہے۔
سر سید احمد خاں، مولانا حالی، مولانا شبلی نعمانی اور شاعر مشرق علامہ اقبال جیسی ادبی شخصیتیں صدیوں میں ایک بار ہی پیدا ہوتی ہیں اور ادب میں اپنے ایسے انمٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں جنھیں کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ جنگ بلقان میں جب ترکوں پر مصیبت آپڑی تو مولانا کے اندر کا انقلابی شاعر جاگ اٹھا اور انہوں نے ایک مرصع نظم لکھی جو بے حد مشہور ہوئی اس نظم کے چند اشعار ملاحظہ کریں
حکومت پر زوال آیا تو پھر نام و نشاں کب تک
چراغ تشنہ محفل سے اٹھے گا دھواں کب تک
یہ جوش انگیزی طوفان بیداد و بلانا کے
یہ لطف اندوزی ہنگامہ آہ و فغاں کب تک
یہ مانا تم کو تلواروں کی تیزی آزمانا ہے
ہماری گردنوں پر ہوگا اس کا امتحاں کب تک
کہاں تک لوگے ہم سے انتقام فتح ایوبی
دکھاؤ گے ہمیں جنگ صلیبی کا سماں کب تک
علامہ شبلی کی شاعری کا دور اگر دیکھا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ یہ وہ دور ہے جس میں ہندوستان اندرونی اور بیرونی طور پر آزمائش اور ابتلاء کے دور سے گزر رہا تھا۔ اسی زمانہ میں آپ کی شاعری پر قومی اور سیاسی شاعری کی چھاپ زیادہ نظر آتی ہے مسلمانوں کے مسائل کے حل میں آپ نے اپنی زندگی وقف کردی اور آپ نے شاعری کے ذریعہ ان مسائل کی اہمیت کو عام لوگوں میں اجاگر کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ سیاسی و سماجی مسائل کے حل میں دیکھا یہ جاتا ہے کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ پہلے سامنے آتا ہے لیکن طبقہ علماء جو قدیم نظام درس سے موسوم کئے جاتے ہیں۔ اگر جائزہ لیا جائے اور حقیقت پسندانہ نظروں سے دیکھا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو استحکام دلانے اور ان کی حیثیت عرفی کو قائم رکھنے میں علماء کا طبقہ ہی پیش پیش ہے۔ بلخصوص علامہ شبلی نعمانی کا نام ان لوگوں میں سرِ فہرست ہے جنہوں نے مسلمانوں کو فرقہ واریت کے دلدل سے باہر نکالا۔ اگر ہم علامہ شبلی کی شاعری کا تنقیدی جائزہ لیں تو نظر آئے گا کہ ان کی چند اصلاحی نظمیں اور اکثر قومی و سیاسی نظموں سے انکی شخصیت کے متعدد پہلو نظر آتے ہیں اور اسی سے ان کے ذہن و فکر کے کئی گوشے ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ علامہ شبلی کی شاعری کے موضوعات میں جذباتیت نہیں نظر آتی اگرچہ یہ موضوعات تقاضہ وقت اور سیاسی منظر نامہ کے حوالے سے ذکر کی گئی ہیں۔ (بحوالہ تنقیدی اشارے از آل احمد سرور:۲۱۶)
جہاں تک شبلی کی شاعری اور اس کی ادبی و فنی قدر و قیمت کا سوال ہے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ محمد حسین آزاد اور خواجہ الطاف حسین حالی کے بعد اردو میں قومی شاعری کو حقیقی جذبات اور شور انگیز طرز ادا فارسی کی نغمگیت اور لطافت سے روشناس کرانے کا سہرا شبلی کے سر ہی جاتا ہے۔ مذہبی اور اخلاقی شاعری کے سلسلے میں بھی ان کا مقام بڑا ہی بلند ہے۔ اسلوب کی رنگینی بحر اور وزن کی ترنم آفرینی ردیف اور قافیے کی شگفتگی یہ سبھی ان کی شاعری کے نمایاں اوصاف ہیں جن کی بدولت ان کی شاعری شادابی اور جاذبیت سے لبریز ہوئی اگر ہم کلام شبلی کا تجزیہ کریں تو ہمیں اس میں جابجا شبلی کے کردار کی معصومیت، سچائی بے ریائی اور کھرے پن کے ثبوت ملتے ہیں مگر جلد ہی ان کے کلام میں ان کے کردار کا دوسرا رخ بھی سامنے آ جاتا ہے جو کہ شبلی کے کمال فن کی دلیل ہے کہ انہوں نے پردہ ادب کے لئے جس رول کا بھی انتخاب کیا اسے بخوبی نبھایا ہی نہیں بلکہ اسے بام عروج تک پہونچا دیا۔ علامہ شبلی نعمانی نے جہاں ایک طرف ایک بلند پایہ عالم دین اور اسلامی غیریت اور حمیت کے علمبردار تھے وہاں وہ مزاجی اعتبار سے نہایت خوش اخلاق، خوش مذاق اور حسن و جمال کے دلدادہ تھے ان کی خوش مذاقی اور حسن و جمال کی دلدادہ ہی غالباً کچھ دوسرے اسباب کے ساتھ ایک چنگاری بنی جو آگے چل کر بمبئی کی نرم و گداز اور رومان پرور فضاؤں میں اچانک دہک اٹھی تھی۔ علامہ شبلی نے فارسی زبان میں جو شاعری پیش کی وہ بہت شائستہ، ذوق و شوق اور فارسی شعرا کے گہرے اور عمیق مطالعہ کی آئینہ دار اور (۱) تنقیدی اشارے:۲۱۹)
شبلی کی شاعری کے کمالات گواہ ہیں کہ شاعری کے رموز و نکات، زبان کی شیرینی اور حلاوت ان کی غزلوں میں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ہویدا ہے۔ خیالات کی ندرت زبان کی شوخی، بندش کی نفاست دل آویزی و دلربائی کو شبلی نے رشتہ اشعار میں پرو دیا ہے۔ شبلی نے فارسی زبان میں غزلوں کے علاوہ دیگر اصناف شاعری پر بھی طبع آزمائی کی ہے لیکن ان کی فارسی غزلیں لطافت و بلاغت میں بے مثال اور بلاشبہ فارسی ادب کا گراں بہا سرمایہ ہیں ان کے چند مشہور تصانیف کے نام ’’شعرالعجم‘‘ (پانچ جلدوں میں) ’’موازنہ انیس و دبیر‘‘ ’’الفاروق‘‘ ’’المامون’’سیرت النعمانی‘‘ ’’الغزالی‘‘ ’’سوانح مولانا روم‘‘’’علمالکلام‘‘ ’’الکلام’’الجزیہ’’فلسفہ اسلام‘‘ ’’سفر نامہ روم و شام و مصر’’حیات خسرو‘‘ ’’سیرت النبی ﷺ ‘‘ ’’دیوان شبلی‘‘ وغیرہ علامہ شبلی اپنی ذات میں ایک مکمل ادبی انجمن تھے۔
انہوں نے 57 برس کی عمر میں تن تنہا ہی ایسے کارنامے انجام دیئے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ان کے ان ہی ادبی کارناموں سے متاثر ہو کر سلطان ترکی نے ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ’’تمغہ مجیدی‘‘ کے پروقار اعزاز سے نوازا شعر العجم پانچ جلدوں میں فارسی شاعروں کی مبسوط تاریخ ہے الماموں، سیرۃ النعمان،سوانح مولانا روم، الغزالی ان کی مشہور تصانیف ہیں نظم شبلی ان کی نظموں کا مختصر سا مجموعہ ہے۔ آپکی سب سے آخری تصنیف سیرۃ النبی ﷺ ہے جو ان کا شاہکار سمجھی جاتی ہے۔
آپکا 18 نومبر 1914ء کو آپ کا انتقال ہوگیا اور آپ آعظم گڑھ اتر پردیش بھارت میں محو خواب ہیں۔ مولانا شبلی نعمانی کی مشہور کتابیں اسلامی تمدن و تہذیب کے متعلق جس قدر بلند پایہ مضامین انہوں نے لکھے وہ رہتی دنیا تک مولانا کے نام کو زندہ رکھیں گے۔

No comments:
Post a Comment