Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Monday, June 15, 2026

ناول: اللہ میں تیری رضا میں راضی ہوں (حصہ دوم) از عائشہ تحریم

 

 اللہ میں تیری رضا میں راضی ہوں(حصہ دوم)


عائشہ تحریم ، کمالیہ

اگلی صبح وہ اکیڈمی کے سامنے کھڑی تھی۔ اس نے گہری سانس لی اور اندر داخل ہو گئی۔ اس نے گروہ بنا کر کھڑے کچھ طلبہ سے پرنسپل آفس کا راستہ پوچھا۔ انہوں نے اسے دیکھتے ہی پہچان لیا تھا شاید، اسی لیے ان کی نظروں میں اس نے اپنے لیے ناپسندیدگی محسوس کر لی تھی۔ بہرحال ان میں سے ایک نے ایک طرف جانے کا اشارہ کر دیا۔ وہ اس طرف چل پڑی۔ ایک کمرے کے اوپر پرنسپل آفس کا بورڈ نظر آتے ہی وہ اس طرف بڑھ گئی، دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر داخل ہو گئی۔ پرنسپل نے اسے بیٹھنے کا کہا اور اس کے آنے کی وجہ دریافت کی، اس پر کیتھرین نے اپنے داخلے کی خواہش کا اظہار کیا۔ تھوڑی دیر سکوت چھایا رہا، پھر انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ یہ ہماری اکیڈمی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ کیتھرین کا چہرہ اتر گیا مگر وہ کچھ کہے بغیر اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ دروازے سے دو ہی قدم پیچھے تھی کہ پرنسپل کی آواز سنائی دی تھی، "رکو۔" اس کے قدم وہیں جم گئے۔

"ٹھیک ہے، آپ کا ٹیسٹ لیتے ہیں؛ اگر آپ نے پاس کر لیا تو ہم داخلہ دے سکتے ہیں ورنہ آپ داخلے کو بھول جائیں۔"

وہ مڑی، اس کے چہرے پر خوشگوار مسکراہٹ چھا گئی۔ وہ واپس آ کر کرسی پر بیٹھی؛ غرور اور انا اس کے چہرے سے واضح جھلک رہے تھے۔ مگر یہ غرور خاک میں ملتا گیا جب اس کے دماغ نے اس کا ساتھ نہ دیا۔ جب وہ ٹیسٹ میں ایک لفظ بھی نہ لکھ پائی، اس نے اپنے آپ کو پہلی بار اتنا بے بس محسوس کیا تھا۔ اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا، اس کے ہاتھ کانپنے لگے، یہاں تک کہ اس کے ہاتھ سے قلم زمین پر گر گیا۔ وہ وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی اور پیچھے دیکھے بغیر باہر کی طرف روانہ ہو گئی۔

اسے اتنی شرمندگی پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی جتنی اس وقت ہو رہی تھی۔ وہ فوراً گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی۔ وہ گاڑی سٹارٹ کر رہی تھی مگر اس کا جسم اس کا ساتھ نہیں دے رہا تھا، ہر چیز کانپ رہی تھی مگر وہ وہاں ایک لمحہ بھی نہیں ٹھہر سکتی تھی۔ اسے لگ رہا تھا اس کے جسم سے روح نکل جائے گی۔ کسی طرح اس نے وہاں سے گاڑی نکالی مگر وہ زیادہ دیر ڈرائیو نہ کر پائی، لہذا تھوڑی دور جا کر سڑک کے کنارے گاڑی روک لی۔ پھر اس نے اپنے آپ کو روتے ہوئے اور چیختے ہوئے پایا۔ اس کی چیخیں سن کر کچھ لوگ وہاں اکٹھے ہوئے اور کچھ اسے پاگل سمجھ کر آگے بڑھ گئے۔

اس کے بعد کیا ہوا، اسے کچھ یاد نہیں تھا۔

اس کی جب صبح آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو ایک بستر پر لیٹے پایا۔ اس نے نظریں اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا اور بیٹھ گئی۔ اچانک دروازہ کھلا اور ایک عورت، جس کی عمر لگ بھگ پچپن برس تھی، اندر داخل ہوئی اور نرم لہجے میں بولی: "بیٹا اٹھ گئی؟ اب تم کیسا محسوس کر رہی ہو؟"

کیتھرین کا دماغ سُن تھا۔ اسے لگ رہا تھا جیسے وہ نشے میں ہے، کیونکہ نشہ وہ چیز ہوتی ہے جسے دے کر مریض سُن کیا جاتا ہے تاکہ اسے تکلیف نہ ہو، یا کوئی شخص نشہ اس لیے کرتا ہے تاکہ وہ کچھ لمحوں کے لیے اپنی تلخ یادیں بھول سکے۔ لیکن نشہ وقتی ہوتا ہے؛ یہ نشہ بھی وقتی تھا۔

تلخ مسکراہٹ اس کے چہرے پر ابھری اور وہ بڑبڑائی: "کون کہتا ہے کہ نشہ ہی انسان کو بدحواس کرتا ہے، میرے جیسوں کی تو نشے کے بغیر ہی پاگلوں والی حالت ہوتی ہے۔"

بوڑھی عورت بولی: "تم ٹھیک ہو؟ تم ہمارے گھر کے سامنے سڑک پر گاڑی میں تھی، اچانک پتہ نہیں تمہیں کیا ہوا تم بے ہوش ہو گئی۔ میرے شوہر تمہیں گھر لے آئے۔"

کیتھرین کو فی الحال اس سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے، لہذا وہ صرف بدحواسی کی حالت میں اس عورت کی سن رہی تھی اور اسے گھور رہی تھی۔ اسے گھورتا پا کر وہ عورت اٹھ کھڑی ہوئی اور بولی: "اچھا، جاؤ منہ ہاتھ دھو کر آ جاؤ، ناشتہ کر لو۔"

اس بات پر کیتھرین کو تھوڑا ہوش آیا: "کیا ناشتہ؟ صبح بھی ہو گئی؟ میں یہاں کب سے ہوں؟"

"کل دوپہر سے۔"

"میں اتنی دیر کیسے سوتی رہی؟ میں تو کبھی اتنی دیر نہیں سوئی۔"

دروازے پر دستک ہوئی۔ ایک بوڑھے آدمی نے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔

"جب انسان بہت تکلیف میں ہوتا ہے، اور اسے اپنے اندر دبائے رکھتا ہے تو ایک وقت آتا ہے جب وہ اپنے اوپر قابو نہیں رکھ پاتا۔ پھر وہ بہت روتا ہے، سارا غصہ اپنے اندر سے نکالتا ہے، اس کے بعد جو نیند آتی ہے نہ، سب سے پرسکون اور گہری نیند ہوتی ہے۔ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔"

کیتھرین اس کی طرف ناسمجھی کے انداز میں دیکھتی ہے۔

"میں ہیری ہوں۔ میں ریٹائرڈ پروفیسر ہوں، بچے مجھے کیپٹن بلاتے تھے۔ تم بھی مجھے کیپٹن بلا سکتی ہو۔"

کیپٹن کی عمر ساٹھ برس تھی۔ اس کے سفید بال سلیقے سے پیچھے کیے ہوئے تھے، اس کی داڑھی تھوڑی بڑی ہوئی تھی، اس کی آنکھوں میں گہرائی تھی۔ کیتھرین کو پتہ نہیں کیوں مگر کیپٹن کی باتیں پسند آ رہی تھیں۔

"اوکے۔" وہ ہلکا سا مسکرا دی۔

"اب اپنے گھر والوں کا نمبر دو تاکہ میں انہیں اطلاع کر دوں، وہ کل سے پریشان ہوں گے۔"

کچھ لمحے خاموشی چھائی رہی۔ پھر ان دونوں میاں بیوی کو اپنی طرف دیکھتے پا کر کیتھرین بولی: "میرا کوئی نہیں ہے۔ میرے لیے پریشان ہونے والا کوئی نہیں ہے۔"

یہ سن کر مسز کیپٹن سمجھانے کے انداز میں کہتی ہیں: "ایسا نہیں کہتے بیٹا! ناراضگیاں۔۔۔۔۔۔۔۔"

کیپٹن انہیں ٹوکتے ہوئے بولے: "ٹھیک ہے، آؤ ناشتہ کر لو۔"

"جی ٹھیک، میں منہ ہاتھ دھو کر آتی ہوں۔"

کیتھرین اٹھ کر اٹیچڈ واش روم کی طرف جا چکی تھی۔ یہ کمرہ کیتھرین کے کمرے سے بڑا تھا اور خوبصورت بھی۔

جب کیتھرین کمرے سے باہر آئی تو ٹی وی پر خبریں چل رہی تھیں۔ ایک خبر کیتھرین کی تھی، جس میں کل اکیڈمی والی ویڈیو بار بار چلائی جا رہی تھی، جس میں کیتھرین بھاگتے ہوئے باہر جا رہی تھی۔ مختلف لوگوں نے اپنی رائے دی تھی کہ وہ جھوٹی ہے، وہ چور ہے وغیرہ وغیرہ۔ ٹی وی سکرین پر چلتی اس خبر نے اس کا وقتی سکون چھین لیا تھا، اس کے احساسات واپس لوٹ رہے تھے، بے حسی کا وہ نشہ تیزی سے اترنے لگا تھا۔ ایک بار پھر تکلیف نے اس کے وجود کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا، وہ گھبرا گئی۔

شاید وہ یہ خبر سن کر کیپٹن اور ان کی بیوی کا ردعمل سوچ کر ڈر گئی تھی۔ اس نے واپس کمرے میں آ کر گاڑی کی چابی ڈھونڈنا شروع کی۔

مسز کیپٹن اندر داخل ہوئیں: "کیا ڈھونڈ رہی ہو بیٹا؟"

"میری گاڑی کی چابی کدھر ہے؟ مجھے گھر جانا ہے۔" وہ جیسے التجائی لہجے میں کہہ رہی تھی۔

مسز کیپٹن فوراً باہر گئیں اور تھوڑی دیر بعد چابی کے ساتھ اندر داخل ہوئیں: "یہ لو چابی۔"

چابی لے کر کمرے سے باہر نکلی، تو سامنے کیپٹن کھڑے تھے۔ کیتھرین نے تیزی سے آگے بڑھنے کی کوشش کی، مگر کیپٹن کی دھیمی اور سنجیدہ آواز نے اس کے قدم وہیں جکڑ لیے: "کس کس سے بھاگو گی کیتھرین؟"


کیا کیتھرین کا گھمنڈ خاک میں مل جائے گا؟ جاننے کے لیے تیسری قسط ابھی پڑھیں! 👇

No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages