دیواروں والے گھر، محبتوں سے خالی
گھر دیواروں سے نہیں، دلوں کے تعلق سے بنتے ہیں، اور جب محبت ختم ہو جائے تو محل بھی ویران ہو جاتے ہیں۔ گھر صرف اینٹ، سیمنٹ، لوہے اور لکڑی سے تعمیر ہونے والی عمارت کا نام نہیں بلکہ یہ محبت، خلوص، احترام اور اپنائیت کا دوسرا نام ہے۔ گھر وہ جگہ ہے جہاں انسان دنیا بھر کی تھکن، پریشانیوں اور مصیبتوں کے بعد سکون تلاش کرتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کے دور میں بے شمار گھر ایسے ہیں جن کی دیواریں تو بلند اور مضبوط ہیں، کمروں میں آسائشوں کی فراوانی ہے، مگر ان گھروں کے مکین محبت، شفقت اور خاندانی رشتوں کی مٹھاس سے محروم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے گھر "دیواروں والے گھر، محبتوں سے خالی" بن چکے ہیں۔
ماضی میں گھروں کی تعمیر سادہ ہوتی تھی۔ کچے مکان، چھوٹے کمرے اور محدود وسائل ہوا کرتے تھے، مگر ان گھروں میں رہنے والے دلوں کے امیر ہوتے تھے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا، بزرگوں کا احترام کرنا، بچوں پر شفقت کرنا اور رشتوں کو نبھانا زندگی کا اہم حصہ تھا۔ غربت کے باوجود سکون اور خوشی کا احساس موجود رہتا تھا کیونکہ محبت اور اخلاص ہر رشتے کی بنیاد ہوا کرتے تھے۔
وقت کے ساتھ ساتھ انسان نے ترقی کی۔ جدید طرز کے مکانات، قیمتی فرنیچر، جدید ٹیکنالوجی اور بے شمار سہولیات زندگی کا حصہ بن گئیں، مگر افسوس کہ اسی ترقی کے ساتھ محبت, خلوص اور اپنائیت کا چراغ مدھم پڑتا گیا۔ آج ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے موبائل فون اور سوشل میڈیا میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھنے کا رواج کم ہوتا جا رہا ہے اور دلوں کے فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔
بہت سے والدین اپنی اولاد کی تمام مادی ضروریات پوری کرنے میں مصروف ہیں، مگر انہیں وقت اور محبت نہیں دے پاتے۔ دوسری طرف بچے بھی جدید مصروفیات میں اس قدر گم ہو چکے ہیں کہ والدین کی خدمت، عزت اور ان کے جذبات کی قدر کم ہوتی جا رہی ہے۔ نتیجتاً ایک ہی گھر کے افراد اجنبیوں کی طرح زندگی گزارنے لگتے ہیں۔ ان کے درمیان رشتے تو موجود ہوتے ہیں مگر رشتوں کی روح یعنی محبت کہیں کھو جاتی ہے۔
مشترکہ خاندانی نظام کا کمزور ہونا بھی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پہلے دادا، دادی، چچا، تایا اور دیگر رشتہ دار ایک ہی چھت کے نیچے رہتے تھے۔ بچوں کی تربیت اجتماعی انداز میں ہوتی تھی اور محبت کا ماحول قائم رہتا تھا۔ آج الگ الگ رہنے کے رجحان نے خاندانی رشتوں کو محدود کر دیا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے قریب رہتے ہوئے بھی دلوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
مادیت پرستی نے بھی معاشرتی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ آج انسان دولت، شہرت اور آسائشوں کے حصول کو کامیابی سمجھتا ہے۔ رشتوں کی قدر و قیمت اکثر مالی حیثیت کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے۔ محبت اور خلوص کی جگہ مفادات نے لے لی ہے۔ جب مفادات ختم ہوتے ہیں تو تعلقات بھی کمزور پڑ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خوبصورت اور پُرتعیش گھروں میں بھی سکون اور خوشی کا فقدان محسوس ہوتا ہے۔
محبت سے خالی گھروں کے اثرات صرف خاندان تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں پرورش پانے والے بچے احساسِ محرومی، تنہائی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ وہ محبت اور احترام کے حقیقی معنی نہیں سیکھ پاتے۔ بعد ازاں یہی بچے معاشرے میں عدم برداشت، خود غرضی اور بے حسی کو فروغ دیتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے گھروں کو صرف رہائش گاہ نہیں بلکہ محبت، احترام اور اخوت کا گہوارہ بنائیں۔ والدین اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر بچوں کے ساتھ بیٹھیں، ان کے مسائل سنیں اور ان کی تربیت پر توجہ دیں۔ بچوں کو بھی چاہیے کہ والدین اور بزرگوں کا احترام کریں اور ان کے ساتھ وقت گزاریں۔ خاندان کے افراد کو ایک دوسرے کے ساتھ کھل کر گفتگو کرنی چاہیے تاکہ دلوں میں پیدا ہونے والے فاصلے ختم ہو سکیں۔
اسی طرح ہمیں سوشل میڈیا اور موبائل فون کے غیر ضروری استعمال کو محدود کرنا ہوگا۔ روزانہ کچھ وقت خاندان کے ساتھ گزارنا، مل کر کھانا کھانا، ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرنا اور خوشی و غم میں شریک ہونا خاندانی محبت کو فروغ دیتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی محبتیں اور خلوص بھرے رویے بڑے بڑے مسائل کا حل بن سکتے ہیں۔
مضبوط دیواریں اور عالی شان عمارتیں گھر کو خوبصورت تو بنا سکتی ہیں، مگر اسے جنت نظیر نہیں بنا سکتیں۔ گھر کی اصل خوبصورتی محبت، احترام، ایثار اور اپنائیت میں پوشیدہ ہے۔ اگر محبت نہ ہو تو محل بھی ویران محسوس ہوتے ہیں، اور اگر محبت موجود ہو تو ایک چھوٹا سا گھر بھی جنت کا منظر پیش کرتا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں کو محبتوں سے آباد کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلیں ایک خوشحال، پُرامن اور بااخلاق معاشرے کی بنیاد رکھ سکیں۔

No comments:
Post a Comment